محمد تیمور

محمد تیمور

ٹرین

    ترجمہ، رفعت حجازی

    صبح ایسی درخشاں پیشانی والی صبح کہ اداس اور آزردہ دلوں کی تاریکی خودبخود دور ہو جاتی۔ بوڑھے کی جوانی لوٹ آتی، اور ایسے میں خوشگوار بادصبا کے جھونکے دلوں کو نئی تازگی بخشتے، اور روح کو کدورت او رمایوسی سے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے نجات دلاتے، باغ میں درختوں کے پتے دائیں اور بائیں جھومتے ہوئے ایسے جھکتے گویا آج کی اس حسیں صبح کی آمد پر رقصاں ہوں، لوگ سڑک پر رواں دواں تھے، ان کے جسموں میں ایک حرارت تھی کام کرنے کی لیکن آج اس صبح کو میں اپنے آپ سے بیزار و بدگمان کمرے کی کھڑکی سے جھانک رہا تھا، اور اس حسیں منظر کا مشاہدہ کر رہاتھا ، ذرہ ذرہ خوش و خرم تھا، صرف ایک میرا ہی وجود بیزار و بدگمان ، میں نے خود سے اس بیزاری کی وجہ پوچھی، لیکن مجھے اس کا کوئی خاطرخواہ جواب نہ ملا۔

    اپنے جی کو بہلانے کے لیے مطالعہ کرنا چاہا اور اس غرض سے  دیوان ’’موسیہ‘‘ ہاتھ میں لیا اور پڑھنے لگا مگر میں ایسا  بھی نہ کر سکا اور دیوان ’’موسیہ‘‘ طاق پر رکھ دیا، نیچے بیٹھا اور خود کو سوچ کے حوالے کیا، ایسا لگا کہ میں اس قدر بے بس و لاچار ہوں جیسے زمانے کے ظالم بنچوں میں کوئی شکار پھنسا ہو۔

    کچھ دیر اسی کیفیت میں بیٹھا رہا، پھر اچانک کھڑا ہو گیا اور ایک نامعلوم منزل کی طرف چل پڑا مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ میرے قدم مجھے کہاں لے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ میں ’’باب الحدید‘‘ ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا، من بوجھل ، اداس اور اس اداسی کو دور کرنے اور روح کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش میں میں نے گاؤں جانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہاں کے پر فضا مقام پر کچھ سکون پا سکوں، میں نے ایک ٹکٹ خریدا اور ریل کے ایک ڈبے میں کھڑکی کے پاس بیٹھ گیا۔ اتنے میں اخبار بیچنے والے کی آواز سنی، اخبار وادی النیل ، الاہرام، المقطم، میں نے وادی نیل اخبار خریدا اور اسے پڑھنے کی کوشش کی۔ کچھ دیر بعد دورازہ کھلا اور عمامہ پوش بزرگ داخل ہوے، زرد رنگت ، دراز قد ، لاغر جسم، گھنی داڑھی، آنکھیں تھکان سے بوجھل، پپوٹے خود بند ہو جاتے، معلوم ہوتا تھا ان کی نیند ابھی بھی نہیں ٹوٹی ہے، اور وہ تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گئے، اپنے لال رنگت کا جوتا کھولا تاکہ آرام سے پالتی مار کر سیٹ پر بیٹھیں، تین بار زمین پر تھوکا، اور ایک لال رنگ کے رومال سے ہونٹ صاف کیے، رومال سے زیادہ وہ بچے کے نیپ کن (Napkin) کے لیے مناسب تھا۔انہوں نے جیب سے تسبیح نکالی جس میں ایک سو ایک دانے تھے اور اللہ، نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام، صحابہ کبار، اولیا و صالحین کے نام اس پر ورد کرنے لگے، جوں ہی میں نے ان بزرگ سے اپنی نظریں ہٹائیں، میں نے ڈبے میں ایک نوجوان کو پایا ، شاید بزرگ میں میری مشغولیت نے مجھے اس کے داخل ہونے سے بے خبر رکھا۔

    میں نے نوجوان کو بغور دیکھا اور ایک دم میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہونا چاہیے یہ طالب علم جو امتحان سے فارغ ہوا ہے، اور اپنی چھٹیاں اپنے افرادخانہ اور گاؤں والوں کے ساتھ گزارنے آیا ہے، جتنی دیر میں نوجوان کو دیکھتا رہا وہ بھی میرا اور بزرگ کا جائز ہ لیتا رہا، اس کے بعد نوجوان نے لوک کہانیوں کا ایک مجموعہ اپنے جھولے میں سے نکالا اور اسے پڑھنے لگا۔

    میں نے اپنی گھڑی دیکھی اس ارادے سے کہ کاش چوتھا مسافر داخل ہونے سے پہلے ہی ٹرین چل دیتی، میراسوچنا کہ ایک اور مسافر ہمارے ڈبے میں داخل ہوا، روشن چہرہ، خوش پوش، سمارٹ، چال میں اتراہٹ اور گانا گا رہا تھا، جسے اکثر میں نے مولی، گاجر بیچنے والوں کو گاتے سنا ہے، یہ خوش پوش آدمی ایک ٹانگ پر دوسری رکھ کر مسکرایا اور ہم سب کو سلام کیا، ہم نے بھی اجنبیوں کی طرح سلام کا جواب دیا۔

    ڈبے میں سکوت چھایا ہوا تھا، طالب علم کہانیاں پڑھنے میں مشغول تھا، بزرگ تسبیح میں اپنے آس پاس کے ماحول سے بے خبر، جیسے اس کا وجود ہی وہاں سے غائب تھا، وہ خوش پوش آدمی ایک نظر اپنے لباس کو دیکھتا خوش ہوتا، اور ایک نظر ہم سب پر ڈالتا، اور میں اخبار وادی نیل پڑھے جا رہا تھااس امید میں کہ کاش پانچویں مسافر کے آنے سے پہلے ٹرین چل دیتی۔

    سکوت برابر طاری تھا، جیسے ہم سب کو کسی کی آمد کا انتظار تھا، جیسے ہم کسی کی آہٹ سننے کے لیے ہی خاموش تھے، اور ہوا کچھ ایسا ہی کہ قدموں کی آہٹ کے ساتھ ہی دروازہ کھلا اور ایک ساٹھ برس کے معمر شخص اندر آئے ، سرخ رنگت، چمکتی آنکھیں اور یہ سرخ رنگت اس بات کی ترجمانی کرتی تھی کہ وہ پوربی خطے کے رہنے والے ہیں اور اصل شرکسی نسل کے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں چھتری تھی اتنی پرانی اور ٹوٹی ہوئی کہ لگتا تھا سارے زمانے نے اسی چھتری کو کھایا اور پیا ہو، ان کے ٹوپی کے کنارے ان کی کنپٹیوں تک پہنچ رہے تھے، وہ بالکل میرے سامنے بیٹھے، ہم سفروں کے چہرے پڑھنے لگے گویا پوچھ رہے ہوں ، تم کہاں سے آئے ہو اور کہاں جا رہے ہو، اتنے میں ٹرین کی سیٹی بجی لوگوں کو متنبہ کرتی ہوئی کہ بس اب تو سفر شروع ہونے والا ہے اور ٹرین مسافروں کو وہاں لے جا رہی ہے جس نے جہاں جانے کا ارادہ کیا ہو۔

    سب خاموش تھے جیسے زبانوں پر تالے پڑے ہوں اور سر پر پرندہ ہو یہاں تک کہ ٹرین شبرا سٹیشن پہنچی، پوربی خطے سے آیا شخص مجھے گھور رہا تھا اور پھر کہہ ہی دیا۔

    ’’جی آج کے اخبار میں کوئی نئی خبر ہے کیا؟‘‘

    اخبار میرے ہاتھ میں تھا اور میں نے جواب دیا’’ویسے تو کوئی خبر نہیں ہے جسے نئی کہیں البتہ ایک خبر ہے وزار ت تعلیم کی طرف سے کہ تعلیم کو عام کرنا ہے اور ناخواندگی کو دور کرنا ہے۔‘‘ میں نے اپنی بات ابھی مکمل نہ کی تھی کہ اس نے میرے ہاتھ سے اخبار چھینا اور جلدی جلدی اسے پڑھنے لگا۔ ویسے تومجھے بے حد غصہ آتا مگر مجھے اس کی حرکت پر اس لیے تعجب نہ ہوا کیونکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ پوربی خطے والے کیسے بدتہذیب ہوتے ہیں۔

    شبرا سٹیشن پر ایک اور شخص ہمارا ہم سفر بنا، القلیوب گاؤں کا سرپنچ، موٹا جسم، گھنی مونچھیں، چپٹی ناک، چہرے پر چیچک کے داغ جن سے اس کی بدمزاجی اور جہالت کا پتہ چلتا تھا۔ سرپنچ نے پہلے سورۂ فاتحہ پڑھی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور میرے پاس بیٹھ گیا، اور اب ٹرین قلیوب گاؤں کی اور جانے لگی۔

    پوربی خطے والے شخص نے دیر تک مجھ سے زبردسی چھینا ہوا اخبار پڑھا، پھر یکایک اخبار کو تہ کرکے ایسے زمین پر پٹک دیا کہ جیسے درد سے آگ بگولہ ہو رہا ہو اور بولا:

    ’’حکومت تعلیم کو عام کرنا چاہتی ہے، ناخواندگی دور کرنا چاہتی ہے، کسانوں کوتعلیم دینا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے  آقاؤں کے صفوں میں شامل ہو جائیں...... ارے میں کہتا ہوں انہیں ہرگز ایسا گناہ نہیں کرنا چاہیے ......گناہ کیا ...... جرم ہے، یہ بہت بڑا جرم ہے......

    ’’کیسا جرم ‘‘ میں نے پوچھا۔

    ’’تم ابھی جوان ہو، تمہاری سمجھ میں ابھی یہ باتیں نہیں آئیں گی، تم نہیں جانتے کسان کو تعلیم یافتہ کیسے بنایا جا سکے؟ ...... اس کا کیا علاج ہے۔‘‘

    ’’کس علاج کی بات کر رہے ہیں آپ؟ کیا کوئی علاج ہے جسے تعلیم میں کامیابی مل سکتی ہے۔‘‘

    ’’ہاں ایک علاج ہے اس کے لیے ...... یہ کہتے ہوئے پوربی خطے والے شخص نے بھوئیں چڑھا لیں۔

     

    ’’اور وہ کیا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا۔

    اس پر اتنی زور سے چیخا کہ بزرگ شخص کی نیند ٹوٹ گئی اور کہا:

    ’’کوڑا، تازیانہ، حکومت کے لیے کم خرچ اور بالانشیں والا نسخہ اور تعلیم کے لیے تو لاکھوں روپے خرچ ہوں گے اور یاد رکھو کسان تب تک حکم بجا نہیں لائے گا جب تک اسے کوڑے نہ پڑیں، وہ صرف مار کی زبان سمجھتا ہے، گہوارے سے قبر تک اس کے نصیب میں مار ہی مار ہے۔‘‘

    میں نے پوربی خطے والے شخص کو جواب دینا چاہا، لیکن بھلا ہو سرپنچ جی کا جو آڑے وقت میں میرے کام آئے، انہوں نے پوربی خطے والے سے مسکراتے ہوئے جواب دیا:

    ’’خوب فرمایا آپ نے جناب خوب، اگر آپ گاؤں کے رہنے والے ہوتے تو اس سے بڑھ کر بولتے، ہم نے کسان کی برائی کی، اسے قابل نفرت سمجھا ہے تو اس کی بدعادتوں کی وجہ سے۔‘‘

    پوربی خطے والے نے سرپنچ کو شک آمیز نگاہوں سے دیکھا اور مخاطب ہوا۔

    ’’جناب کا تعلق کیا گاؤں سے ہے؟‘‘

    ’’جی میں گاؤں میں پیدا ہوا ہوں۔‘‘

    ’’ما شاء اللہ‘‘

    یہ گفتگو بھی چلی مگر بزرگ نیند کے عالم میں ڈوبے تھے اور خوش پوش شخص اپنے لباس کو دیکھتا اور ایک نظر ہم کو دیکھتا اور ہنستا، مگر طالب علم کے چہرے پر ملال اور نا پسندیدگی کے اثرات تھے، اس نے کئی بار بولنے کی کوشش کی مگر اس کی کم سنی اور اس کے حیا نے اسے روکے رکھا، پوربی خطے والے شخص کی دھماکہ خیز تقریر کے بعد ابھی خاموشی چھا جانے بھی نہ پائی تھی کہ میں نے اسے کہا۔

    ’’جناب آپ کو نہیں لگتا کہ کسان ہماری طرح ایک انسان ہے ، اور کتنا برا ہے کہ انسان اپنے بھائی کے ساتھ برا معاملہ کرے۔‘‘ اس پر سرپنچ میری طرف لپکا جیسے میں نے اس سے بات کی ہو اور کہا۔

    ’’میں جانتا ہوں کسانوں کو، اور مجھے شرف حاصل ہے گاؤں کا سرپنچ ہونے کا جس میں قریب ایک ہزار کسان رہتے ہیں، اگر آپ کو ان کے بارے میں جانکاری کا شوق ہے ، میں آپ کو بتاتا ہوں ۔ میرے بھائی، کسان کو مار کے سوا کچھ پلے پڑتا ہی نہیں، ان صاحب نے جو فرمایا بالکل صحیح فرمایا ہے۔‘‘ انہوں نے اشارے سے پوربی خطے والے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا:

    ’’آپ کو کسانوں کے بارے میں اس قدر صحیح اطلاع کوئی واقف کار ہی دے سکتا ہے۔‘‘

    طالب علم ان باتوں سے تلملا اٹھا، اس کا وجود لرز رہا تھا اور وہ بولا: ’’کسان نمبردار صاحب ......‘‘

    لیکن سر پنچ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا: ’’مجھے سرپنچ کہو کیونکہ یہ دوسرا رتبہ مجھے بیس سال پہلے ملا ہے۔‘‘

    لیکن طالب علم نے پھر کہا ’’کسان نمبردار صاحب آپ کا کہنا نہیں مانتا سوائے مار کے وہ اس لیے کہ تم نے اس کو مار کے سوا دیا ہی کیا؟ اگر تم نے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا ہوتا وہ بھی تمہارا حکم بجا لاتا اور تم نے اس میں ایک شفیق بھائی پایا ہوتا، وہ تمہارا ساتھی اور مددگار ہوتا، لیکن افسوس تم نے اسے ہمیشہ تکلیف دی اور وہ بھی واپس تم کو تکلیف پہنچانے کی تاک میں رہا، صرف اس لیے کہ تمہاری اذیت رسانی سے کیسے بچے۔‘‘

    اس پر سرپنچ نے سر ہلایا اور پوربی خطے والے شخص سے کہا:’’یہ ہے پڑھائی کا نتیجہ‘‘ اور پوربی خطے والا جواب میں بولا ’’ذرا قلم پکڑنا آگیا بن گیا افسر لاٹ صاحب‘‘ لیکن وہ خوش پوش شخص زور کی ہنسی ہنسا اور تالی بجا کر طالب علم سے بولا۔

    ’’بریوو نوجوان، بریوو، بریوو۔‘‘

    پوربی خطے والے نے خوش پوش شخص کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا، اسے اس قدر غصہ آرہا تھا کہ سانس لینا بھی اس کے لیے محال ہو گیا اور اسے کہا ’’اور آپ کی تعریف‘‘۔

    ’’قسمت کا بیٹا ہوں میں اور اے انسان میں بھی انسان ہوں‘‘ خوش پوش شخص نے جواب دیا اور زور کا قہقہہ لگایا کئی بار۔

    اب پوربی خطے والے شخص کی کمان کے سارے تیر ختم ہو گئے اور اب کی بار کبھی زمین پر تھوکا، کبھی نیند میں ڈوبے بزرگ پر اور کبھی سرپنچ کے جوتوں پر۔

    اس کے بعد سب چپ چاپ بیٹھے رہے اور ابھی طوفان تھمنے بھی نہ پایا تھا کہ سرپنچ جی نے بزرگ کو بیدار کرتے ہوئے کہا :’’آپ اچھے جج ہیں، ہمارے بزرگ آپ ہمارے اس مسئلے میں ہماری رہنمائی کیجیے۔‘‘ بزرگ نے سر ہلایا ، کھنکارا اور زمین پر تھوکتے ہوئے کہا: ’’کون سا مسئلہ ہے جس میں آپ چاہتے ہیں میں خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ سناؤں۔‘‘

    ’’کیا تعلیم کسان کے لیے زیادہ مفید ہے یا مار۔‘‘ تو بزرگ نے کہا ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ ’’رذیل بچوں کو تعلیم مت دلاؤ‘‘۔

    ١ یہ حدیث من گھڑت اور موضوع ہے۔ رفع حجازی

    یہ کہہ کر بزرگ نے پھر سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور وہ نیند میں ڈوب گئے، اور طالب علم خوب ہنسا اور کہا۔’’کیا واہیا بات کی آپ نے بزرگ امیر و غریب دونون طبقوں میں اچھے اور برے لوگ پائے جاتے ہیں۔‘‘ یہ سن کر بزرگ نیند سے بیدار ہوئے اور کہا:

    ’’برا ہو اس دن کا جس دن تم کو بات کرنے کا سلیقہ آیا، سلیقہ کیا، تمہاری مت ماری گئی! تمہارے اخلاق نے اسی دن بغاوت کی اور تم نے دین کے احکام بھلا دیے اورتم لوگوں میں سے بعض نے کبر کیا، او رجو من میں آیا بولا، خالق کے وجود تک سے انکار کیا۔‘‘

    بزرگ نے یہ سب کہا اور پوربی خطے والا شخص اور سرپنج نے یک زبان ہو کر کہا:’’واہ بزرگ کیا بات کی آپ نے’’سبحان اللہ‘‘ اور پوربی خطے والے نے مزید فرمایا۔’’کل تک بیٹا باپ کے سامنے کھانے سے ڈرتا تھا اور آج اس کے جی میں آتا ہے کہ باپ کو گالی سنائے اور اس کے گال پر تھپڑ بھی رسید کرلے۔‘‘

    اور سرپنچ نے اس کی بات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے کہا: ’’کل تک بیٹے نے اپنی پھوپھی کا چہرہ تک بھی نہ دیکھا تھا اور آج وہ بے تکلفی سے اپنی بھابھی کے ساتھ مذاق کر رہا ہے۔‘‘

    اور ٹرین قلیوب اسٹیشن پر رک گئی، میں نے سب کو سلام کہا اور ٹرین سے نیچے آیا اور اس گاؤں کی اور چل پڑا جہاں کا میں نے ارادہ کیا تھا، ٹرین پھر چل دی سرسبز و شاداب کھیتوں میں سے گزرتی ہوئی لیکن میں نے نہ ٹرین کا شور سنا نہ سیٹی، کیونکہ جو گفتگو ہمارے ڈبے میں چل رہی تھی اس کی بازگشت ابھی بھی میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔