دشمن اور غدار
ترجمہ: ڈاکٹر اعجاز راہی
ایمسٹرڈیم کی ایک گہری ہوتی شام کے ساتھ موسم خزاں کے جھکڑوں نے جب پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو میں، جو اس شہر میں نووارد تھا اپنے ہوٹل والیرس سٹریٹ کو جانے والا راستہ بھول گیا۔ اب میرے لیے جو بات پریشانی کا باعث تھی وہ مقامی زبان سے ناواقفیت ۔ چنانچہ مجھے ایک ایسے شخص کی تلاش تھی ، جو میرے استفسار پر خالصتاً انڈونیشی لہجے میں مجھے خوش آمدید کہتا۔ ’’یہ راسہ دالیرس سٹریٹ کو ہی جاتا ہے۔‘‘
خاصی تگ و دو کے بعد میں ایک ایسے شخص کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ جس نے انڈونیشی زبان میں میری رہنمائی کی۔ مگر اسے صرف چند قدم تک ہی میرے ساتھ چلنا تھا۔
وہ ڈچ تھا مگر اس کا لہجہ بالکل انڈونیشیوں جیسا تھا۔ اس کا ہاتھ بار بار ہیٹ کو سنبھالنے کے لیے اوپر اٹھتا جو تیز ہوا کے ساتھ اڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ ہیٹ کو آگے کی طرف اس طرح جھکا رہا تھا کہ میں اس کا چہرہ تو ٹھیک سے نہ دیکھ سکا۔ لیکن انداز گفتگو اور لب و لہجہ کے اعتبار سے یہ شخص مجھے پسند آیا۔ دوران سفر اس نے بتایا کہ انقلاب کے دوران انڈونیشیا میں رہ چکا ہے اور اب بھی وہاں کے گزرے دنوں کو نہیں بھلا سکا۔ رخصت ہوتے ہوئے اس نے اپنے گھر آنے کی دعوت دی اور میں نے آنے کا وعدہ کر لیا۔
تیسرے روز میں اداس ویران اور تاریک سیڑھیوں کو طے کرتا ہوا تیسری منزل پر اس کے فلیٹ کے دروازے پر موجود تھا۔ گھنٹی کی آواز سن کر وہ خود باہر نکلا تھا۔ جب میں کمرے میں پہنچا تو جس چیز نے بڑھ کر میرا استقبال کیا وہ سیل کی بو تھی، جو پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تنہائی کے آسیب کی طرح ہر شے پر محیط تھی اور میرا میزبان جو اس فلیٹ میں اکیلا رہتا تھا، اس کے اکیلے پن کا یہ احساس اس کے وجود سے لے کر اس کمرے میں پڑی ہر شے سے جھانک رہا تھا۔ اس کے ڈرائنگ روم میں تین کرسیاں ، ایک میز، کپڑوں کی الماری اور بہت سی پرانی اشیا ء کے علاوہ چاروں طرف کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ میز پر شطرنج کی بساط اسی طرح بچھی تھی جس طرح اسے کھیلنے والے ابھی چھوڑ کر گئے تھے۔ کھڑکی کے قریب ایزل پر ایک نامکمل پینٹنگ، اس کے ساتھ ہی برش اور رنگ کی پیالیاں زمین پر بے ترتیب پڑی تھیں۔
’’تو آپ مصور بھی ہیں‘‘ میں نے کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
’’وقت گزاری کے لیے محض ایک مشغلہ‘‘ اس نے ایک کونے میں سے کرسی کھینچ کر مجھ سے بیٹھنے کو کہا۔ بلب کی زردروشنی میں اس کا چہرہ کسی بچے کی طرح لگ رہا تھا۔ اور اس پر دوڑتے تاثرات میرے خیال کی تائید کر رہے تھے جو میں نے پہلی ملاقات میں اس کے متعلق قائم کیا تھا۔ وہ ایک خوش اخلاق اور غیر روایتی دوست ثابت ہو رہا تھا۔
اس نے گفتگو کے دوران اپنی وہ تصاویر دکھائیں جو وہ اب تک مکمل کر چکا تھا۔ اس نے کسی ایک خیال یا نظریاتی موضوع کو اپنے لیے منتخب نہیں کیا تھا۔ مختلف رنگوں اور خیال کی تصویروں کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا جیسے کسی ایک موضوع پر اصرار کرنے کی بجائے وہ مختلف تجزیات کی کہکشاں سے گزر رہا ہے۔ ایزل پر موجود نامکمل لینڈ سکیپ چائے کے کھیتوں کا منظر پیش کر رہا تھا جو ایک پہاڑ کے دامن میں ڈھلوان پر تھے۔ اس کی زیادہ تر تصاویر فطری مناظر پر مشتمل تھیں۔
’’میں، مغربی جاوا میں گزارے ہوئے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو رنگوں میں ڈھال کر دائمی زندگی دینا چاہتا ہوں۔ چائے کے ان ہرے بھرے کھیتوں کی جو گیداہ کی پہاڑی کے دامن میں دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کیا میں کبھی پھر نہیں دیکھ سکوں گا۔ کیا کیسیاس اور بائیک میں ملبوس ان سادہ مگر بے حد حسین، خوبصورت عورتوں کے زندگی سے بھرپور قہقہوں اور گیتوں کو سن سکوں گا جو چائے کی پتیاں توڑتے ہوئے فضا میں پھیل جاتے ہیں۔‘‘
وہ جذبات کے سمندر میں ڈوب کر دور بہت دور مغربی جاوا کے سنہری کھیتوں تک چلا گیا تھا۔ جہاں کے ایک منظر کو یاد کی کٹھالی سے گزار کر وہ لفظوں میں ڈھالتا رہا۔
’’میرے خوابوں کی سرزمین، میری روح کو سکون بخشنے والی۔ کیا میں اسے دوبارہ دیکھ سکوں گا۔‘‘
’’کیوں نہیں ......تم ایسا کیوں سوچتے ہو؟‘‘
وہ بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے پاؤں ایک دوسرے پر رکھ کر کراس بنایا، خیالوں کے لامتناہی اندھیروں میں یاد کے جگنو تلاش کرنے لگا۔
’’مجھے تمہارے ملک سے بے پناہ عشق ہے۔ وہ سچ مچ میرے خوابوں کی سرزمین ہے۔ بالکل میرے مادر وطن کی طرح، یہ حیرت انگیز ہے۔ لیکن میں اپنے لفظوں کے وسیلے سے اس کا اظہار نہیں کر سکتا۔‘‘
’’کیا واقعی میرا ملک اس قدر حسین ہے؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’ان پرکشش پہاڑوں کے جادوئی حسن کا اظہار ممکن نہیں، تم جانتے ہو۔ سوئٹرزلینڈ کے قدرتی مناظر دل کشی اور خوبصورتی میں دنیا بھر میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔ لیکن ......لیکن وہ بھی میرے خوابوں کے دیس پر مانگتن سے زیادہ خوبصورت نہیں۔ ‘‘ میں مسکرایا۔ شاید وہ جذبہ مہمان نوازی میں زندہ دلی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ وہ کہتا رہا۔
’’ہمارے معاشرے کے بالکل برعکس وہاں کے رسم و رواج لوگوں کی سادہ اور پر خلوص دیہاتی زندگی سب کچھ ہی تو میرا حصہ بن گیا ہے۔ سب کچھ اور شاید یہی سبب ہے کہ مجھے وہاں کی ہر شے میں ایک انوکھا حسن مؤجزن دکھائی دیتا ہے۔ تم ایک ایسے شخص کی مثال سامنے رکھو جس کے دل میں پیار کا طوفان اٹھا ہوا ہو۔ دور دور تک پھیلے ریگستان کے بنجر اور لق و دق مناظر اسے ایک فرحت بخش اور خیالی حسن کی دنیا آباد نہیں کرنےدیتے ؟‘‘
اس نے دونوں ٹانگوں کو پھیلا دیا، پائپ کا ایک لمبا کش لیا۔
’’میں انقلاب انڈونیشیا کے دوران ڈچ شاہی افواج میں سارجنٹ تھا، بعد میں مجھے محض اس بنا پر قید کر دیا تھا کہ میں نے ان معصوم لوگوں پر مزید گولی چلانے سے انکار کر دیا تھا جو آزادی کے ساتھ زندہ رہنے کی خواہش کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ کیا آپ سگریٹ پیتے ہیں؟‘‘
’’جی نہیں‘‘ میں نے اس کی گفتگو میں صرف اتنی مداخلت کی۔
’’میں نے بھی ابھی تمباکو شروع کیا ہے۔‘‘ اس نے دوبارہ پائپ بھرا، پہلی راکھ ایش ٹرے میں جھاڑی اور اپنی بات کو وہیں سے شروع کر دیا۔ ’’میں زیادہ تر اپنی مسلح افواج کا ساتھ نہ دے سکا، کوئی حساس شخص ایسا نہیں کر سکتا۔ میں دیر تک اس کے خلاف نفرت محسوس کررہا تھا۔مجھ سے آگے آگے چند ڈچ سپاہی بھی گشت کر رہے تھے۔ اسی اثنا میں ایک بچہ چھوٹی سی سائیکل پر سوار سڑک عبور کرنے لگا۔ اچانک ڈچ فوجیوں نے اسے آواز دی۔ جب بچہ آیا، تو ایک سپاہی نے اسے بجلی کے کھمبے کے ساتھ باندھ دیا۔ تب دوسرے سپاہی نے بغیر کسی وجہ کے تلوار کے ایک ہی وار سے بچہ کو دو ٹکڑے کر دیا، بچے کا قصور اس کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا کہ وہ ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتا تھا جو نو آبادیاتی تسلط کے خلاف جدوجہد کر رہی تھی۔ بچے کی روح انتہائی کرب کے عالم میں اس کے جسم کا ساتھ تو چھوڑ گئی مگر میرے اندر موجود روح نے بھی یہ سب کچھ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔‘‘
وان بورن (اس نے اپنا نام یہی بتایا تھا) اپنی کہانی بڑے پرسکون انداز میں سناتے ہوئے وقفے وقفے سے اپنے پائپ کی راکھ فرش پر جھاڑ دیتا، کش پہ کش لگاتا رہا۔
’’تب میں اپنی ہی فوج کا قیدی بننے کے لیے تیار ہو گیا۔‘‘
اسی لمحے دروازے پر گھنٹی کی آواز ابھری، وان اپنی بات ادھوری چھوڑ کر دروازہ کھولنے لگا اور جب وہ واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا۔ نووارد انڈونیشی تھا۔ اس نے گہرے نیلے رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا۔ اس کا قد چھوٹا اور سر گنجا تھا۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی اور دیدے ہمہ وقت حرکت میں رہتے۔ اس کی پیشانی غیر معمولی کشادہ اور حرکات و سکنات میں گھبراہٹ مترشح اور گفتگو کا انداز غیرفطری تھا۔ وہ اپنی مشکوک شخصیت کو چھپانے کے لیے خود کو بدمزاج اور مغرور ظاہر کر رہا تھا۔ اس نے وان سے بات چیت کی اور مجھ سے علیک سلیک کیے بغیر باہر چلا گیا۔
’’میرا پرانا ملنے والا تھا۔‘‘ وان نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ یہ ابھی چند روز قبل ہی انڈونیشیا سے واپس آیا ہے۔ میں اس شخص کو بالکل پسند نہیں کرتا۔‘‘
اس دن کے بعد میں کئی بار اسے وان بورن کے گھر دیکھ چکا ہوں مگر ہر بار میرے ساتھ اس کا رویہ زیادہ ’’اجنبیت اور خفیہ پن‘‘ کا جاری رہا۔ اس میں اخلاق کی ذرا بھی گنجائش نہ تھی۔ ایک شام وان نے مجھے ٹیلی فون پر کھانے کی دعوت دی، اس دن وان شیری کی ایک بوتل بھی کہیں سے لے کر آیا تھا اور وہ مجھے اس میں شریک کرنا چاہتا تھا۔ اس شام میں نے اس کے ساتھ دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔
وان کی بنائی ہوئی تصویریں خوبصورت تھیں، قدرت نے اس کے قلم میں بڑی زندگی بخشی تھی، فطری مناظر پر اس کو بڑی گرفت حاصل تھی۔
’’کیا تم نے یہ مناظر دیکھے ہیں؟ شیری گلاسوں میں ڈالتے ہوئے وان نے سوال کیا۔
’’ہاں یہ شہر نجی پلنار خوفناک اور طاقت ور آتش فشاں پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔‘‘
’’ہاں ......بالکل درست کہا آپ نے۔‘‘ اس نے اپنا گلاس میرے گلاس سے ٹکراتے ہوئے ، میری صحت کا جام تجویز کیا ہے۔
’’آپ کی صحت کے لیے۔‘‘ میں نے جواباً کہا اور ایک لمبا گھونٹ لیا۔
’’کیا آپ وہاں کے رہنے والوں سے واقف ہیں۔ یقینا ہوں گے۔‘‘
’’نہیں۔ میں تو جب بھی کار کے ذریعے بنڈونگ گیا ہوں تو مجھے وہاں سے گزرنا پڑا۔ یہ ممکن ہے آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہوں۔‘‘
’’آزادی کے بعد اب ان کے شب و روز کیسے گزر رہے ہیں۔‘‘
’’میرا خیال ہے وہ لوگ اب پہلے سے بہتر ہیں۔‘‘
’’خدا کا شکرہے ۔ مگر‘‘ وہ چند لمحے سوچتا رہا پھر بولا ’’بہتر سے تمہاری کیا مراد ہے؟‘‘
میں نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا، وہ توقف کے بعد خود ہی بولا: ’’میں وہاں کے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں ۔ ان میں کچھ کسان ہیں۔ کچھ محکمہ جنگلات اور چائے کے باغات میں ملازم ہیں۔ کیا آپ کو زندہ رہنے کے لیے ضروریات زندگی حاصل ہوں گی۔ میں نے سنا ہے اب بھی وہ لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں، اب بھی انہیں ضروریات زندگی میسر نہیں۔ تم جانتے ہو ایک ایسے شخص کے لیے جس نے آزادی کے لیے قربانی دی ہو، یہ خبر کتنی اذیت کا سبب بنتی ہو گی۔‘‘
اس سے قبل کہ میں جواب دیتا کال بیل بجنے لگی۔
’’اس وقت زمین پر کون اتر آیا۔ ‘‘ اس نے گلاس میز پر رکھتے ہوئے خوشدلی سے کہا اور دروازہ کھولنے لگا۔ مگر دروازہ کھلنے کے باوجود کوئی اندر نہیں آیا۔بلکہ وان بھی دروازے سے غائب ہو گیا اور ایک گہری چپ چاروں اور پھیل گئی پھر سیڑھیوں میں تیز تیز آوازیں سنائی دینے لگیں اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا، وان اکیلا کمرے میں داخل ہوا۔
’’وہ نہایت ہی بے عزت آدمی ہے۔ اخلاق سے یکسر عادی، بدکردار، بے اصول، موقع پرست‘‘ میں فوراً سمجھ گیا کہ وان کا روئے سخن مشکوک انڈونیشی ہے جسے میں یہیں دیکھ چکا تھا۔
’’آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا کہیں گے جو اپنی قوم کی بجائے دوسروں کا ہو؟ 1947 ء میں ڈچ مسلح افواج نے اپنا پہلا ’’آپریشن پولیس ایکشن‘‘ انڈونیشی حریت پسندوں کے خلاف شروع کیا تو اس شخص سے میری ملاقات ہوئی۔ اس وقت میں بینٹن شہر میں تھا۔ اور اس کی ملاقات کے ٹھیک ایک ہفتے بعد جیل ڈال دیا گیا۔ وہ مجھے جیل میں بھی ملنے آیا ۔ جہاں اس نے اپنی ان اعلیٰ صلاحیتوں کا تذکرہ کیا جو وہ اپنی قوم کے لیے سر انجام دے رہا تھا اور جب اس نے اپنی کہانی ختم کی تو مجھے معلوم ہوا ہے کہ قومی خدمات سے اس کی کیا مراد ہے۔ اس نے شیری کے پے در پے کئی گھونٹ لیے جیسے وہ اپنے لہجے کی تلخی کو شیری کے ذائقے میں دبا دینا چاہتا ہو۔ اس کی ’’َقومی خدمات‘‘ کے نتیجے میں ایک پورا گاؤں راکھ کا ڈھیر بن گیا تھا، اور وہ پندرہ گوریلے جو میلوں چل کر اس گاؤں تک پہنچے تھے، پھر آگے نہ جا سکے۔ بالکل ٹھیک وقت پر قوم پرست گوریلوں کو چاروں طرف سے گھیر کر اچانک حملہ کر کے سب کو شہید کر دیا گیا۔ کوئی بھی فرار نہ ہو سکا۔ مخبری ہی اس مشکوک شخص کی ’’َقومی خدمت‘‘ تھی......‘‘
اس نے پائپ خالی کیا۔ دوبارہ بھرا، ماچس کی تیلی سلگا کر لمبے کش لینے لگا۔ پھر شیری کے نئے بیگ بنائے، اپنے پاؤں کو خالی کرسی پر پھیلا دیا۔
’’اور تم جانتے ہو ...... چند ساعتوں کی خاموشی کے بعد بولا ...... ’’وہ ایک بار پھر میرے پاس آیا۔ اس نے بتایا کہ ایک اور ’’قومی خدمت‘‘ کے سلسلے میں اسے عنقریب بڑا عہدہ ملنے والا ہے۔ میں نے اس بات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا، جسے سن کر بڑی تکلیف ہوتی تھی .....‘‘ وان جذباتی ہو گیا۔ اس نے خود پر قابو پانے کے لیے گلاس کو ایک ہی سانس میں خالی کر دیا اور پائپ کے لمبے لمبے کش لیتا رہا۔
’’کچھ دیر پہلے وہ آپ سے کیا کہہ رہا تھا ......‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کل رات وہ مجھے لینڈر پیلس کے قریب ایک چھوٹے سے ہوٹل میں ملا تھا۔ حسب معمول ڈینگیں مار رہا تھا۔ کبھی اپنی سیاسی فتوحات اور کبھی اپنے معاشقوں کی داستانوں سے مجھے بور کر رہا تھا۔ میں بہت عرصے سے اس کی جھوٹی باتیں سن کر تنگ آگیا تھا۔ چنانچہ کل شام کو ملاقات میں میں نے اس سے صاف صاف کہہ دیا کہ اس کی ساری باتیں جھوٹی ہیں۔ اور میرے نزدیک اس کی حیثیت ایک ٹیڈی پیسے کی بھی نہیں۔ جواباً وہ بہت برہم ہوا اور ابھی کچھ دیر پہلے وہ یہی کہنے آیا تھا کہ میں نے اس کے بارے میں بڑی گھٹیا رائے قائم کی ہے۔ جبکہ دوسرے لوگ اور اس کی قوم اسے قابل احترام اور عزت مآب سمجھتے ہیں۔ اس کے ثبوت میں اس نے ایک تار دکھایا جو آج ہی جکارتہ سے موصول ہوا ہے۔ ایک اذیت ناک تار۔ اس نے یہ تار ایک عجیب تکبر اور نخوت سے دکھایا تھا اور میں نے اس سے بھی بدتر سلوک اس کے ساتھ کیا جو کل رات کر چکا ہوں، میں نے اسے اندر بھی داخل نہیں ہونے دیا۔ بے غیرت۔‘‘
’’وہ کس بات پر اترا رہا تھا......؟‘‘
’’تار کی موصولی پر......‘‘
’’لیکن اس تار میں آخر کیا تھا......؟‘‘ میرا تجسس بڑھ گیا......
’’تم یقین نہیں کرو گے۔ تار اس کی سیاسی پارٹی نے اسے بھیجا تھا۔ جس میں اسے اطلاع دی گئی تھی کہ اسے پارلیمنٹ کے انتخابات میں امیدوار نامزد کر دیا گیا ہے۔‘‘
’’او ......‘‘
’’کیا یہ قابل اعتماد بات ہے ......‘‘
مجھے ایک شدید ذہنی جھٹکا محسوس ہوا۔ کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔ وان اور میں دونوں ہی سوچ کے لا متناہی سلسلوں میں ڈوب گئے۔ بہت دیر بعد وہ بڑی آہستگی سے مری ہوئی آواز میں بولا:
’’کیا تمہارا ملک تمام آفات سے محفوظ رہ سکا ہے۔ جس کا سبب ایسے لوگ بنتے ہیں۔ آفات سے محفوظ ۔ تمہارے عوام کے تحفظ اور عوام کی خوشحالی کے لیے۔‘‘ وہ پھر سوچ کے زاویے بنانے لگا ۔ ’’ ......اور خاص طور پر میرے بیٹے کے لیے۔‘‘
’’تمہارے بیٹے کے لیے ...... کیا مطلب؟‘‘
’’کیا تم شادی شدہ ہو ......‘‘
’’ہاں ...... میں ایک بیٹے جوزف کا باپ ہوں جسے تمہارے لوگ یوسف کہتے ہیں۔ جانے اب وہ زندہ بھی ہو گا۔ اور ......یقین ہے وہ اب بھی زندہ ہو گا اور ...... اور ......‘‘ اس نے پھر پائپ کے کئی کش لیے اور میں حیرت سے اسے بٹ بٹ تکتا رہا۔
’’اس کی ماں جس کا نام ستی تھا۔ سیدھی سادی دیہاتی لڑکی، شریف ان پڑھ سادہ لوح، پہاڑوں پر چڑھنے والی دوسری لڑکیوں کی طرح چائے کے باغات میں کام کرتی تھی، اسے بم مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔‘‘
’’ ......اوہو‘‘
’’اسے کتے کی طرح مار دیا گیا۔ اس پر جاسوسہ ہونے کا الزام لگایا گیا۔ میں اس وقت ڈچ فوجوں کی قید میں تھا۔ جہاں سے مجھے واپس وطن بھیج دیا گیا۔ اور اسے ۔‘‘ اس نے ایک ہی سانس میں ایک بار پھر پورا گلاس خالی کر دیا۔ اس کی آنکھوں میں ویران جنگلوں جیسی خاموشی رقص کرنے لگی تھی۔ اس کی نظریں ایزل پر نا مکمل لینڈ سکیپ پر جمی ہوئی تھیں۔ منظر میں دور بہت دور پھیلے چائے کے کھیتوں میں لڑکیاں چائے کی پتیاں چن رہی تھیں، جانے ان میں ستی کون تھی۔ جس نے وان کو آبدیدہ کر دیا تھا۔ تب جنگلوں کی سی سرد ویرانی سیلاب کے شور میں ڈوبنے لگی اور وان یادوں کے سمندر سے لفظوں کی سیپیاں چن چن کر میرے سامنے بکھیرتا رہا ......
’’کیا تمہیں یقین ہے ‘‘......اس کی آواز لرز گئی تھی، جیسے کوئی بہت پرانا پلر زلزلے کے جھٹکوں سے لرزنے لگے۔ وہاں کی عورتیں سیاست کے انقلاب کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتیں، کچھ بھی نہیں، ستی میری بیوی تھی۔ محض بیوی ...... وہ پارلیمنٹ کی قطعی امیدوار نہ تھی۔ کیا وہ تھی‘‘ اس کی آواز کے ساتھ اس کے ہونٹ بھی لرزنے لگے تھے۔ ’’ہاں ...... مگر میں یہ بات بھول جاتا ہوں کہ اس کا ایک بیٹا بھی تھا اور وہ میرا بیٹا تھا ...... دشمن کا بیٹا۔‘‘