ایک رات باہر
ترجمہ: ڈاکٹر اعجاز راہی
کافی دیر تک ایک ہی پوزیشن میں چپ بیٹھے رہنے کے بعد میکا نے پہلو بدلا۔ اب اس کی رگوں میں شراب کی مستی سریلے دھنوں میں شہوت کے گیت گانے لگی تھی، مگر وہ خود کو بدستور ناآسودہ محسوس کر رہا تھا، تابہ کہ، اس نے کھنگورا لے کر گلہ صاف کیا اور بمشکل بولا۔
’’تمہارا نام کیا ہے۔‘‘
’’ماما تومینی ......‘‘ (تومینی کی ماں)
اس نے نظریں اٹھا کر میکا کی طرف نہیں دیکھا، تاہم اس نے زمین پر گدا بچھایا اور اس پر بچے کو لٹا دیا۔غیر متوقع طور پر بچہ کھانسنے لگا۔ کھانسی میں شدت آتی گئی اور بچہ ادھ موا سا ہو گیا۔
میکا نے آگے بڑھ کر بچے کو چھوا، اس کی آنکھیں سفید اور ماتھا بخار سے تپ رہا تھا۔
’’کیا تم اس کا علاج نہیں کرا رہی ہو۔‘‘
میکا اپنے اندر کی ندامت سے خود کو آزاد کرانے کے لیے سوال کرنے لگا۔
’’ہماری ڈسپنسری میں تو اسپرین کی ایک گولی تک نہیں ہوتی۔‘‘
اس نے جواب دیا۔
ماں کی بانہوں کی گرمی سے بچہ سیدھا لیٹ گیا۔ اس کی چھاتی سانسوں کی تیزی کے عمل کو ظاہر کر رہی تھی۔ ماما تومینی نے بچے کو خانگاہ (چادر) سے ڈھانپ دیا۔ پھر مچھر مارنے والی کوائل جلا کر بچے کے قریب رکھ دی۔ جس کا آہستہ آہستہ اوپر اٹھتا ہوا دھواں بچے کے گرد پھیلتا گیا۔ بچے نے زور سے جنبش لی اور کچھ بے چین سا ہوا۔ ماں نے نرمی کے ساتھ اسے تھپکی دی۔
’’خداوندکریم تجھے صحت یاب کرے۔‘‘ ماما تومینی نے سادگی سے کہا۔ ’’میرےننھے سپاہی خدا تجھے کبھی کچھ نہ کرے۔‘‘
’’سپاہی کیوں......‘‘ میکا نے سوال کر دیا۔
’’ہاں سپاہی ......سپاہی کبھی بھوکا نہیں رہتا۔ بیمار بھی نہیں ہوتا۔‘‘ ماما تومینی ایسے بول رہی تھی ، جیسے کوئی بچہ سنی سنائی باتوں کو دہراتا ہے۔
’’وہ بھوکے نہیں مرتے، قتل ہو جاتے ہیں۔‘‘
میکا نے شاید طنزاً کہا تھا۔
’’ہاں۔ ہماری زندگیوں جیسی مشکلات میں مبتلا ہونے سے بہتر ہے کہ آدمی مر جائے۔‘‘ ماما تومینی بولی۔ ’’ہماری طرح قسطوں میں آہستہ آہستہ مرنے سے بہتر ہے کہ ایک گولی زندگی کا خاتمہ کر دے۔‘‘
میکا کچھ پسپائی محسوس کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد بولا۔
’’سپاہی بھی بھوک سے مر سکتا ہے۔ جب کھانے کے لیے کچھ نہ ہو تو قسطوں میں موت کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ تمہارے لیے بھی سپاہی کے لیے بھی۔‘‘
ماما تومینی نے شاید میکا کی کوئی بات نہیں سنی تھی۔ یا پھر ان سنی کر دی تھی۔ وہ یوں باتیں کر رہی تھی، جیسے وہ کمرے میں اکیلی ہو۔ وہ تو اپنی سوچوں کی گرفت میں اس قدر شدید تھی، کہ اسے میکا کی کوئی بات سنائی نہیں دے رہی تھی۔ بس وہ بول رہی تھی، جیسے خود سے مخاطب ہو۔
’’تومینی کا باپ بھی ایک سپاہی تھا ......‘‘
’’تھا ...... کیا مطلب ...... اب نہیں ہے؟‘‘ میکا نے سوال کیا۔
’’وہ ایک ارنے بھینسے کی طرح دلیر تھا۔ اس علاقے میں اس کا کوئی ثانی نہیں ۔ ان دنوں ہماری زندگی بڑ ی آسودہ تھی۔ وہ میرا خاوند ہونے کے ساتھ ساتھ باپ جیسی شفقت رکھتا ...... مجھ سے ...... میری ماں سے ...... ہم سب کے لیے وہ شفقت ہی تو تھا ...... اب زندگی ایک سوال بن کر رہ گئی ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ہر ہر چیز کے لیے اپنا خون بیچنا پڑتا ہے...... جسم بھی ...... کاش تومینی کا باپ زندہ ہو۔‘‘
ماما تومینی کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ مگر اس نے جلد ہی خود پر قابو پا لیا۔
’’کیوں ...... کیا وہ مرچکا ہے ......‘‘ میکا کا سوال تجسس سے پر تھا۔ لہجے میں ہمدردی تھی، مگر وہ ایک دکھیاری کے غم کا تدارک نہیں بن سکتی تھی۔
’’میں اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ......خدا را اب اس کے بارے میں کوئی سوال نہ کرنا۔‘‘ اس کی آنکھوں کے آنسو بہتے رہے۔’’وہ یوگینڈا گیا تھا، خدا جانے وہ خانہ جنگی میں کام آگیا ......یا، وہ اب تک زندہ ہے ...... پتہ نہیں ......کچھ پتہ نہیں۔‘‘
میکا کچھ نہیں بولا۔ بچہ بدستور اسی طرح لیٹا تھا۔ ماں کا ہاتھ اس کو تھپک رہا تھا۔ گم سم ...... فکر میں ڈوبی ہوئی ...... کچھ دیر بے حس بیٹھے رہنے کے بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھی۔ اس نے ٹین کا چھوٹا سا لیمپ بجھا دیا اور کمرہ ایک گہرے اندھیرے اور چپ کی زد میں آگیا۔ ماماتومینی نے اندھیرے میں لپٹے ہوئے اپنے جسم کو خاموشی ، ذمہ داری اور کاروباری دیانت کے ساتھ میکا کے سامنے پیش کر دیا۔ میکا فتح مندی کے احساسات میں لپٹا اس کے قریب پہنچا مگر اندر سے ماماتومینی کی طرح وہ بھی کچھ نا آسودہ اور بے چین تھا اور جب وہ اپنے جذبات کے گرداب میں ڈوبا ہوا تھا تو اس وقت بھی ساتھ والے گدے پر لیٹے ہوئے بچے کی سانسوں کی آوازیں اس تک پہنچتی رہی تھیں۔ اسے معلوم نہیں کب اس کے اندر کے سیلاب سے نجات ملی اور کب سویا، مگر جب سو کر اٹھا تو عجیب پینک کا شکار تھا، جیسے اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے اور اس وقت تک وہ کس کیفیت کا شکار ہے۔ جب تک ماما تومینی کے برہنہ جسم سے اس کے ہاتھ نہ ٹکرائے وہ تذبذب میں مبتلا رہا۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ کپڑے پہنے اور سگریٹ سلگا کر مچھروں کی آوازیں سننے لگا، جو کوائل کے جل جانے کے بعد آزادی سے کمرے میں گھوم رہے تھے۔ وہ اندھیرے میں غرق عجب بے چینی سی محسوس کررہا تھا۔ کوئی نہ کوئی ایسی بات اس کمرے میں ضرور تھی، جس نے اس کے اندر اضطراب بھر دیا تھا۔ پھر اچانک اس پر یہ اسرار کھلا کہ اس کے اندر کی بے چینی اصل میں کمرے میں پھیلی اس خاموشی سے جنم لے رہی ہے، جو رات اس وقت نہیں تھی، جب وہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔
اس کی زبان خشک اور سرد رد کر رہا تھا۔ اس نے اپنا سگریٹ بجھایا اور خاموشی سے بچے کے بستر کی طرف بڑھا۔ اور ایک ان جانے خوف کو محسوس کرتے ہوئے، اپنا گرم ہاتھ بچے کے چہرے پر رکھا۔ اسے یوں لگا جیسے بچہ بے حس و حرکت ہو چکا ہو او راس کے سانسوں کی موسیقی جانے کب کی دم توڑ چکی تھی۔ وہ بچے کو دیکھنا چاہتا تھا، مگر اس نے لائٹر جلانے کی جرأت نہیں کی۔ شاید وہ ان حالات کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا، جو حقیقت کا روپ دھار چکے تھے۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھ بچے کے جسم کی طرف بڑھائے، چہرہ، جسم، آنکھیں ......سب کچھ سرد تھا۔
ماما تومینی نے کروٹ لی، کچھ بڑبڑائی اور پھر نیند میں ڈوب گئی۔ میکا کچھ دیر بے حرکت بیٹھا رہا، جب ماما تومینی گہری نیند میں چلی گئی تو وہ دوبارہ اس کے بستر پر بیٹھ گیا۔ جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا اور دوبارہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
کچھ دیر تک وہ یوں ہی بے حس بیٹھا سگریٹ کے کش لیتا رہا اور پھر اس نے اپنے بقیہ کپڑے اٹھائے، پہنے اور تیار ہو کر بچے کے بستر کی طرف دیکھنے لگا، جو اس کے سگریٹ کی روشنی میں بمشکل دکھائی دے رہا تھا۔
اچانک اس نے فیصلہ کیا کہ اسے جلد ہی اس گھر سے نکل جانا چاہیے۔ اسے تدفین میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا موجود پایا جانا شاید گھر والوں کے مفاد میں نہ ہو۔ اب اس کے سامنے کوئی ایسی ذہنی رکاوٹ نہیں تھی، کہ وہ یہاں ٹھہر کر مزید تاخیر کرتا۔ اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ اس کی یہ پریشانی کیوں ہے۔ آخر بچے سے اس کا کیا رشتہ تھا؟ یا اس کی ماں کا اس سے کیا رشتہ ہے؟ اس نے ایسے سوالوں کو ذہن سے جھٹکا اور ایک خودکار مشین کی طرح اس کا ہاتھ جیب میں گیا۔ پرس نکالا اور گنے بغیر ہی کئی نوٹ سٹول پر رکھ کر اس پر لیمپ رکھ دیا۔
اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا ۔ دروازے پر کنڈی نہیں تھی۔ ایک لمحہ کے لیے رکا۔ اس کے کان بدستور ماما تومینی کے بستر پر جمے ہوئے تھے۔ اسی لمحے ماما تومینی کی آواز ابھری۔
’’تم تو جانے کے لیے تیار ہو ......‘‘
’’ہاں ......‘‘
’’اتنی صبح......‘‘
’’ہاں۔ تم جانتی ہو کہ ان دنوں ٹرانسپورٹ کا بڑا مسئلہ ہے اور مجھے ہر صورت پہنچنا ہے۔‘‘
کچھ بھی ہو، اسے آج ہی روانہ ہونا تھا۔ اور ہر صورت شام سے پہلے دارالسلام پہنچنا بھی تھا۔ گزشتہ دو دنوں سے وہ اس چھوٹے سے گاؤں میں پھنس گیا تھا۔ پٹرول کی قلت نے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ پیدا کر دیا اور بہت سے سیاح اور دیگر لوگ اس گاؤں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ گزشتہ روز وہ کسی سواری کی تلاش میں پورے گاؤں میں پھرتا رہا تھا، جب کچھ بھی نہ ملا ، تو اس نے اس گاؤں میں قیام اور ساتھ ہی اس شام کو ایک شاندار شام میں بدلنے کا فیصلہ بھی کیا۔ ایک موٹیل میں کمرہ لے کر سامان وہاں رکھا اور وہسکی کی تلاش شروع کی، یہی ایک چیز تھی جو اس کی شام کو بامعنی بنا سکتی تھی۔ بیئر اس کی مرغوب شے تھی، مگر بیئر کی طلب میں سارا گاؤں چھان مارنےکے باوجود ناکامی رہی۔ اگرچہ پب کے مالک نے کہا تھا کہ بیئر ایک ٹرک پر آرہی ہے، جو قریب ہی کے ایک پل پر کھڑا ہے اور شام تک آجائے گا، مگر میکا جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔
یہ گاؤں کیا تھا۔ گردوغبار ،تنگ گلیاں او رغلاظت سے بھرا ہوا۔ وہ ان تمام گلیوں میں گھومتا رہا تھا، مگر اس کی قسمت نے یاوری نہیں کی چنانچہ اسے مقامی طور پر تیار وہسکی سے اپنا پیٹ بھرنا پڑا۔ جوآہستہ آہستہ اس کی رگوں میں دوڑتے لہو کو گرمانے لگی۔ اس شام کو مزید رنگین بنانے کے لیے اس نے پب کی ایک ایسی میز کا انتخاب کیا تھا جہاں زیادہ تعداد مقامی لوگوں کی تھی۔ جو رات کے ڈوبنے پر آہستہ آہستہ اپنے گھروں کو جاتے رہے اور آخر کار وہ بھی ایک مقامی شخص کی مدد سے ماما تومینی کے گھر پہنچ گیا۔
وہ ماما تومینی کے گھر کب پہنچا اور پھر اس نے ہوٹل میں کمرہ بک کرانے کے باوجود ماما تومینی کے گھر رہنے کو کیوں ترجیح دی؟ کیا وہ اکیلا رات نہ گزارنا چاہتا تھا۔ اس نے محض پیسوں کا نقصان کیا تھا؟ دروازے میں کھڑے کھڑے کئی سوال اس کے ذہن میں منڈلا رہے تھے۔
ماماتومینی کہہ رہی تھی
’’چلو، تمہیں جلدی ہی جانا ہے۔ مگر کیا اتنا بھی نہیں رک سکتے کہ میں تمہارے لیے ایک پیالہ چائے بنا سکوں ......؟‘‘
اس وقت ایک پیالہ چائے اس کی سب سے بڑی طلب تھی۔ وہ خاموش ہو گیا۔ ماما تومینی اٹھی۔ اس نے سب سے پہلے اپنے بچے کی طرف قدم اٹھایا تو میکا ایک دم بول پڑا۔
’’نہیں ...... نہیں ...... ماماتومینی۔ ہوٹل میں انتظام ہے۔ میں وہیں جا کر چائے پی لوں گا۔ تم فکر نہ کرو۔ مجھے چلنا چاہیے۔‘‘
’’جیسے تمہاری مرضی۔‘‘
ماما تومینی نے کہا اور پھر مڑ کر اس کے قریب آئی اور اسے خداحافظ کہنے لگی۔
اس نے ماماتومینی کا شکریہ ادا کیا اور ایک عجیب احساسِ جرم کے ساتھ اس نے بتایا کہ اس کے پیسے سٹول پر پڑے ہیں۔ ماماتومینی نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی پیسے گنے کہ وہ پورے بھی تھے یا نہیں۔ میکا نے دروازہ کھولا اور جلدی سے باہر نکل گیا۔ اس کے اٹھتے ہوئے قدموں میں اعتماد یا استحکام کی کمی تھی۔ روشنی آسمان سے پھوٹنے لگی تھی اور کہیں کہیں گھروں کی چمنیوں سے دھواں بھی نکل رہا تھا۔ جو اس بات کی دلیل تھی، کہ اس گھر کے لوگ جلدی اٹھتے ہیں۔ گھروں سے اٹھنے والی کھانوں کی خوشبو اس بات کا اعلان نامہ تھی کہ اب ایک نیا دن شروع ہو چکا تھا۔ ایک ایسا دن جو ماما تومینی کے گھر اور میکا کے دل پر ایک جیسا غم بن کر ٹوٹ گیا تھا۔