لوئس برنارڈو ہوانہ

لوئس برنارڈو ہوانہ

ابو، میں اور سانپ

    ترجمہ، ڈاکٹر اعجاز راہی

    کھانا کھانے کے بعد ابو اخبار پڑھنے کے لیے اپنے کمرے میں جانے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ ہی میز سے اٹھ گیا۔ امی کو کھانے کے بعد دیر تک باتیں کرنے کی عادت سی تھی اور اب میں ان کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتا تھا۔ لیکن جونہی میں اٹھا امی مجھے غور سے دیکھتے ہوئے بولیں۔

    ’’ادھر آؤ....... تمہاری آنکھ سرخ کیوں ہے؟‘‘

    میں خوف بھرے تجسس کے ساتھ ہولے ہولے امی کی طرف بڑھنے لگا کیونکہ جب امی کسی کو بلواتی ہیں، تو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیا سلوک کرنے والی ہیں۔ انہوں نے بڑی انگلی کے ساتھ میری آنکھ کھولی، میرا خیال تھا کہ وہ اب مجھے جانے کے لیے کہیں گی۔ لیکن وہ چپ چاپ کھانا کھاتی رہیں۔ آخری نوالہ چبانے کے بعد انہوں نے ایک بڑی سی ہڈی اٹھائی اور گودا نکالنے کی کوشش کرنے لگیں، پھر ہڈی کو منہ سے لگا کر ایک لمبا سانس کھینچا اور بالآخر گودا نکال لینے میں کامیاب ہو گئیں۔

    ’’تمہاری آنکھ بہت سرخ ہے، تم ان دنوں کمزور کمزور نظر آ رہے ہو، یوں لگتا ہے جیسے تم نے ابھی سے کوئی روگ پا لیا ہے۔‘‘

    جس انداز سے انہوں نے یہ جملے ادا کیے تھے میں اظہار تشکر کے طور پر کہنا چاہتا تھا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں لیکن امی تو پھر ہڈی میں بچے کھچے گودے کی طرف متوجہ ہو گئی تھیں اور سب لوگ آنے والے لمحات کے لیے پرتجسس نظروں کے ساتھ مجھے دیکھ رہے تھے۔ مگر امی  مختلف زاویے بدل بدل کر ہڈی سے گودا نکالنے کی کوشش میں مصروف رہیں۔ پھر ایک آنکھ بند کرکے ہڈی میں جھانکتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوئیں۔

    ’’کل تم ڈاکٹر کے پاس جاؤ گے۔‘‘

    جیسے یہ ان کا فیصلہ تھا، سب نے اطمینان کا سانس لیا اور پھر اپنی اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے اور میں کھانے کے کمرے سے باہر نکل آیا۔

    آج سخت گرمی تھی، دور دور تک کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ پچھلی دیوار کے سائے میں تین بیل ابھی تالاب سے نکل کر آئے تھے اور ویران نظروں سے خلا میں گھور رہے تھے۔ ایک بیل کے سینگوں پر دو کوے چپ چاپ آنکھیں بند کیے سوچ میں گم تھے۔ ان کے اوپر سرخ پتوں والا درخت سورج کی تمازت سے شعلوں میں گھرا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ ہر شے سے آگ سی ابل رہی تھی اور دور دور تک پھیلی کالی سڑک پر جلتا سورج تنہا گدیں مار رہا تھا۔

    سریٹنا دیوار کے سائے میں چٹائی پر بیٹھی دوپہر کا کھانا کھا رہی تھی، وہ آہستہ آہستہ نوالے چباتی ہوئی ان چڑیوں کو ابھی جھٹک دیتی تھی جو کھانے کی امید پر اس کے قریب آنے کی کوشش کرتیں، قدرے توقف کے بعد ایک دلیر چڑیا نے بڑی تیزی کے ساتھ پلیٹ پر جھپٹا مارا اور روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا چونچ میں دبا کر پھر سے اڑ گئی، پھر اس کی تقلید میں دوسری چڑیوں اور مرغی نے بھی حرکت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پلیٹ کی طرف بڑھنا شروع کیا۔

    جب سریٹنا نے مجھے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے اپنی ننگی رانوں کو فراک سے ڈھانپنے لگی۔ میری نظروں کو تعاقب کرتے ہوئے اپنی فراک کو کھینچ کر گھٹنوں تک لے آئی اور اپنے دونوں ہاتھ مضبوطی کے ساتھ گھٹنوں پر ٹیک کر تیکھی نظروں سے مجھے یوں دیکھنے لگی جیسے اسے شک تھا کہ اگر اس نے گھٹنوں سے ہاتھ ہٹائے تو فراک سرک جائے گی اور میں اس کے بدن کے قوسوں کو نظروں کے کٹورے میں بھر لوں گا۔

    ٹوٹو اپنی زبان باہر نکالے ہوئے سریٹنا کی طرف بڑھا۔ اس نے بالٹی میں رکھے ہوئے گوشت پر ایک نظر ڈالی اور واپس دیوار کے سائے میں لوٹ گیا، جہاں وہ اپنے لیے کوئی آرام دہ جگہ ڈھونڈنے لگا۔ جب اسے ایک مناسب جگہ مل گئی تو اپنی خوبصورت دم کو خم دے کر، اپنے پیٹ کو ٹھنڈی زمین پر ٹیک کر بیٹھ گیا اور اپنے دونوں پنجوں کے درمیان سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔

    سریٹنا نے جب کھانا ختم کر لیا تو اس نے میری طرف دیکھا، اور جب اسے یقین ہو گیا کہ میں اس کی طرف نہیں دیکھ رہا ہوں تو اپنے فراک کو بدستور گھٹنے پر کھینچتے ہوئے جست لگا کر کھڑی ہو گئی پھر اپنے مختصر فراک سے جھانکتے کولہوں کو مٹکاتی ہوئی پانی کے ٹب کی طرف چلی گئی۔ جب وہ پانی کے ٹب پر جھکی تو اس کی ٹانگیں دور تک ننگی نظر آنے لگیں، جس کا احساس ہوتے ہی وہ فوراً ٹب کی دوسری طرف چلی گئی جہاں سے اب مجھے دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

    امی کچن کے دروازے میں نمودار ہوئیں۔ ہڈی اب ان کے ہاتھ میں نہ تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ سریٹنا کو میز صاف کرنے کے لیے آواز دیتیں، انہوں نے چاروں طرف یوں نگاہیں دوڑائیں جیسے اطمینان کر لینا چاہتی ہوں کہ ہر شے ان کی مرضی کے مطابق ہی چل رہی ہے، پھر سریٹنا سے کہا:

    ’’ٹوٹو کو کھانا دینا مت بھولنا۔‘‘

    سریٹنا نے سر ہلایا اور اپنی فراک سے گیلے ہاتھ صاف کرتی ہوئی اندر چلی گئی اور جب لوٹی تو اس کے ہاتھوں میں گندی پلیٹوں کا ڈھیر تھا۔ دوسری بار اندر گئی تو اس کے ہاتھوں میں واپسی پر میز کا کپڑا تھا جسے اس نے سیڑھیوں کے قریب ہی جھاڑ دیا اور چاول کے دانے اور روٹی کے ٹکڑے دور تک بکھر گئے۔ جنہیں دیکھ کر چڑیوں کا ایک غول شور مچاتا، ایک دوسرے کو دھکیلتا ہوا روٹی کے ٹکڑوں اور چاول پر ٹوٹ پڑا۔ سریٹنا نے کپڑا تہہ کیا اور پھر اندر چلی گئی۔ اب واپسی پر اس کے ہاتھوں میں ایک المونیم کی پلیٹ میں ٹوٹو کے لیے کھانا تھا جسے اس نے واٹر میٹر کے پکے چبورے پر رکھ دیا لیکن اس نے ٹوٹو کو کھانے کے لیے بلایا نہیں، بلکہ خود کھانے اور چاولوں میں بوٹیاں تلاش کرنے لگی، پھر ادھر ادھر دیکھ کر ندیدے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہی نوالے میں ہڑپ کر گئی۔ بوٹیاں چننے کے بعد ہڈیاں پلیٹ میں رکھ کر ٹوٹو کو دے دیا۔ اب پلیٹ کی چاروں طرف چڑیاں منڈلانے لگی تھیں لیکن ٹوٹو کا خوف انہیں قریب نہیں آنے دے رہا تھا۔

    ٹوٹو نے کھانا ختم کیا اور پلیٹ سے کچھ فاصلے پر دیوار کے سائے میں بیٹھ کر چڑیوں کا نظارہ کرنے لگا، چڑیاں گھبرائی گھبرائی ٹوٹو کی طرف دیکھتی ہوئی پلیٹ تک جاتیں، دوچار دانے اٹھاتیں اور پھر اڑ جاتیں اور ٹوٹو یہ سارا منظر کوئی حرکت کیے بغیر دیکھتا رہا اور اس کی طرف سے یہ عدم مداخلت چڑیوں کے لیے حوصلہ افزائی کے مترادف تھی سو چڑیاں زیادہ جوش و خروش کے ساتھ وحشت ناک ماحول کے باوجود پلیٹ پر ٹوٹ پڑی تھیں اور پھر آہستہ آہستہ ٹوٹو کا خوف ان کے دلوں سے اتر گیا اور وہ اطمینان کے ساتھ چاول چننے لگیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جس کا ٹوٹو کو بڑے صبر آزما لمحات سے گزرنے کے بعد انتظار ہوتا ہے۔ اچانک بھو کہہ کر اس نے چڑیوں پر جست لگا دی اور چڑیاں شور مچا کر چاروں طرف بکھر گئیں، ٹوٹو اس منظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دوبارہ اپنی جگہ آ بیٹھا اور چڑیوں کا انتطار کرنے لگا۔

    دفتر جانے کے لیے ابو کچن والے دروازے سے امی کے ساتھ باہر آرہے تھے۔ ان کے دانتوں میں ٹوتھ پک اور بغل میں اخبار تھا۔ وہ باتیں کرتے ہوئے مرغی خانے کی طرف مڑ گئے۔ وہ میرے قریب سے گزرے تو ابو کہہ رہے تھے۔

    ’’یہ کیسے ممکن ہے، چیزیں اس طرح نہیں جا سکتیں۔‘‘

    میں ان کے پیچھے چل پڑا۔ کچن کی پشت پر وہ اچانک میری طرف مڑیں، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہوں، لیکن پھر کچھ کہے بغیر اس کباڑ کی طرف متوجہ ہو گئیں جہاں ہماری تمام بے کار چیزیں پڑی تھیں، لوہے کے پائپ، سمینٹ کے بلاک، جو پاپا نے انیکسی بنانے کے لیے منگوائے تھے۔ لکڑی کے بڑے بڑے شہتیر اور نہ جانے کیا کیا تھا۔ بسا اوقات مرغیاں ان میں انڈے دے دیتی تھیں۔ لیکن امی پھر بھی ان میں سے ایک ایک کو تلاش کرکے نکال لاتیں۔

    ’’دیکھو میں تمہیں بار بار کہہ رہی ہوں کہ مرغیاں اور انڈے دونوں غائب ہوتے ہیں لیکن تم توجہ ہی نہیں دے رہے۔‘‘

    ’’ٹھیک ہے۔ لیکن میں کیا کر سکتاہوں۔‘‘

    ’’بطخیں اچانک مر جاتی ہیں اور مرغیاں غائب ہو جاتی ہیں، ہم کسی کی آواز بھی نہیں سنتے۔ رات میں اس طرف کوئی آتا بھی نہیں۔ تمہیں بہرطور مرغی چور کو تلاش کرنا ہی پڑے گا۔‘‘

    ’’تم کیا سوچتی ہو، ایسا کیوں ہوتا ہے؟‘‘

    ’’بطخیں مار دی جاتی ہیں اور مرغیاں کھا لی جاتی ہیں۔ تم بھی تو سوچو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟‘‘

    ’’سانپ .......؟ اگر ایسا ہے تو کل میں اسے مار بھگاؤں گا۔ کل اتوار ہے اور لوگ بھی مل جائیں گے۔‘‘

    ’’لیکن کل یہ کام ہونا چاہیے۔ میں اپنے کسی بچے کو اس کا لقمہ نہیں بننے دینا چاہتی۔‘‘

    امی نے کہا لیکن ابو ان کی بات سننے کے لیےوہاں موجود نہ تھے۔ وہ آہستہ آہستہ بڑے دروازے کی طرف جا رہے تھے۔ اور بڑے دروازے نے انہیں سڑک کی آغوش میں دھکیل دیا، تو وہ میری طرف پلٹیں۔

    ’’کیا تمہیں یہ نہیں کہا تھا کہ جب بڑے بات کر رہے ہوں تو تمہیں وہاں نہیں ہونا چاہیے، میرے بچوں کو اس قدر بدتمیز نہ ہونا چاہیے۔ تم کیا سننے ہمارے پیچھے آگئے تھے؟‘‘

    اچانک امی کی نظریں سریٹنا پر پڑیں،جو ان کے پیچھے کھڑی تھی، امی مجھ سے باتیں کرتے کرتے اسی زبان میں برس پڑیں۔ لیکن سریٹنا کے کچھ پلے نہیں پڑا، کیونکہ وہ پرتگالی نہیں سمجھتی تھی۔ مگر وہ ایک دم پیچھے ہٹی اور پھر سے برتن دھونے بیٹھ گئی اور امی میری طرف متوجہ ہو گئیں۔

    ’’اگر تم اس لیے میرے پیچھے ہو کہ تم مجھے بہلا پھسلا کر ایئر گن لے جاؤ گے، تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے، میں تمہیں مرغی خانے میں تنہا چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔ تاکہ تم اپنی من مانی کر سکو۔‘‘

    امی اس وقت شدید غصیلے موڈ میں تھیں اور اسی قسم کا موڈ ہر وقت ان پر طاری رہتا تھا۔ میں نے انہیں ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ ہم دونوں مرغی خانے سے باہر آگئے اور جب ہم سریٹنا کے قریب سے گزر رہے تھے امی اچانک اس پر برس پڑیں۔

    ’’تمہیں بہت گرمی لگ رہی ہے، تمہیں کس نے اجازت دی ہے کہ تم مختصر فراک پہن کر آؤ اور اپنی ننگی ٹانگوں کی نمائش کرتی پھرو۔‘‘

    سریٹنا نے کوئی جواب نہ دیا، اور ٹب کی دوسری جانب جا کر بدستور برتن صاف کرتی رہی، امی اندر چلی گئی اور میں دوبارہ وہیں آن بیٹھا جہاں پہلے بیٹھا تھا، سریٹنا نے ہلکے سروں میں ایک نغمۂ غمگین چھیڑ دیا جو وہ عموماً اس وقت گاتی تھی جب اسے جھاڑ پڑتی یا اداس ہوتی تھی۔

    ٹوٹو نے کھانا کھانے کے بعد اب بطخوں سے کھیلنا شروع کر دیا تھا۔ اور پھر تھوڑی ہی دیر میں واپس اپنی جگہ پر آگیا اور اپنے سر کو پنجوں میں دبا کر لیٹ گیا۔

    گرمی میں شدت آگئی تھی اور میں فیصلہ نہ کر سکا کہ ہر ہفتے کی طرح مجھے شکار کے لیے جانا چاہیے یا مرغی خانے میں جا کر سانپ کو تلاش کرنا چاہیے۔ اسی اثنا  میں امی دوبارہ ایک لکڑی کے ٹکڑے کے ساتھ برآمد ہوئیں، لکڑی کے اس ٹکڑے کو سریٹنا کے قریب رکھ دیا، سریٹنا نے گانا بند کر دیا تھا اور امی کو دیکھ کر زبردستی مسکرانے کی کوشش کرنے لگی۔ امی کے جاتے ہی میدونانا آیا، اس نے پہلے ادھر ادھر دیکھا پھر جب اسے اطمینان ہو گیا کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا تو اس نے اچانک پیچھے سے جا کر سریٹنا کی ران پر زور سے چٹکی لی، سریٹنا تڑپ کر غصیلے انداز میں اس پر جھپٹی اور اس کے بازو پر کاٹ لیا، اور پھر دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے، اسی لمحے نانذیرو جاوزینو، جنالیٹا اور گیتا گیند کے پیچھے بھاگتے ہوئے اس طرف آن نکلے اور احاطے کی طرف چلے گئے، معاً امی بازار جانے کے لیے دوبارہ دروازے پر نظر آئیں، میدونانا انہیں دیکھتے ہی احاطے کی طرف بھاگا اور سریٹنا جلدی سے اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔

    ’’سریٹنا .......اگر کوئی پلیٹ ٹوٹ گئی تو تمہاری خیر نہیں، جلدی کام کرو اور میدونانا کے بچے تم یہاں کیا کر رہے ہو۔ تم اگر شرارتوں سے باز نہ آئے تو آج تمہارے باپ سے شکایت کروں گی۔ ‘‘ چند لمحے توقف کے بعد پرتگالی میں بولیں ’’گہنو،  میرے بعد گھر کا خیال رکھنا، اب تم بچی نہیں ہو۔ مار پیٹ نہ کرنا اور بچوں کو باہر نہ جانے دینا، ٹینا اور لولوٹا اندر ہیں، ان کے کپڑے بدل دو، اور تم سریٹنا‘‘ وہ رونگا میں سریٹنا سے مخاطب ہوئیں ’’تم یہ کام ختم کرکے میدونانا کو بازار بھیج کر ڈبل روٹی منگوا لینا اور بچوں کے لیے چائے کی کیتلی چولہے پر رکھ دینا۔ ہاں سارا مکھن ختم نہ کر دینا۔ گہنو‘‘ وہ اب دوبارہ پرتگالی میں مخاطب ہوئیں۔ ہر چیز کا خیال رکھنا میں خالہ لوسیاتک جارہی ہوں، جلد لوٹ آؤں گی۔‘‘

    امی نے اپنے کپڑے درست کیے، ایک اچٹتی سی نظر چاروں طرف ڈالی اور باہر نکل گئیں۔

    مسٹر کاسترو کا کتا وولف گلی میں ٹوٹو کے پیچھے آرہا تھا، جونہی ٹوٹو کی نظر اس پر پڑی دونوں نے ایک دوسرے پر بھونکنا شروع کر دیا۔ ان کی آواز سن کر ارد گرد کے کتے بھی اکٹھے  ہو گئے اور سب ٹوٹو کے خلاف وولف کا ساتھ دینے لگے۔ ٹوٹو قد میں ان سب میں چھوٹا تھا لیکن غصے کی حالت میں اس کے لمبے لمبے بال بلی کی طرح کھڑے ہو جاتے تھے۔ جس سے خوفزدہ ہو کر دوسرے کتے اس کے قریب نہیں آتے تھے۔

    اب دو کتے سامنے آگئے تھے اور وولف نے آہستہ آہستہ کھسکنا شروع کر دیا تھا۔ ڈاکٹر ریس کے کتے نے اس کے قریب آنے کی کوشش کی تو ٹوٹو کے بھونکنے میں شدت پیدا ہو گئی تھی۔ اور یوں لگتا تھا جیسے ٹوٹو عنقریب اس پر حملہ کر دے گا۔ یہ صورت حال دیکھ کر ڈاکٹر ریس کا کتا بھاگ کھڑا ہوا اور وولف نے ٹوٹو کا ساتھ دیے ہوئے اس کا گھر تک پیچھا کیا، اور پھر ٹوٹو کے قریب آگیا، لیکن اس بار اس کا رویہ دوستانہ تھا اور پھر کچھ ہی دیر میں دونوں نے اکٹھے کھیلنا شروع کر دیا۔

    ناندیتو میرے قریب آ کر بیٹھ گیا اور میرے پوچھے بغیر ہی کہنے لگا کہ وہ گیند کھیلتے کھیلے تھک گیا ہے۔‘‘

    ’’تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘ میں نے ناخوشگوار لہجے میں کہا۔

    ’’کیا تم مجھے پسند نہیں کرتے؟‘‘

    ’’جی نہیں، تم یہاں سے چلے جاؤ۔‘‘

    ’’یہ بات ہے تو میں یہیں بیٹھوں گا۔‘‘

    ’’اچھا تو میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔‘‘ میں کھڑا ہو گیا ۔ وہ بھی میرے ساتھ چلنے لگا۔

    ’’تم کہاں جا رہے ہو، کیا شکار پر جاؤ گے؟‘‘

    ’’جی نہیں‘‘

    ’’تب ٹھیک ہے‘‘

    ’’دیکھو میرا پیچھا نہ کرو، میں بچوں کے ساتھ کھیلنا پسند نہیں کرتا۔‘‘

    ’’تم بھی تو ابھی بچے ہو۔ امی تو اب تک تمہیں مارتی ہیں۔‘‘

    ’’تم نے بکواس بند نہ کی تو تمہارا منہ توڑ دوں گا۔‘‘ میں نے کہا اور مرغی خانے کی طرف چل دیا، وہ بھی میرے پیچھے پیچھے آتے ہوئے کہنے لگا:

    میں نے دروازے کے قریب پڑے لوہے کی پائپوں کو جو سورج کی تمازت سے سرخ ہو رہے تھے ایک کپڑے سے پکڑ کر ہٹانا شروع کیا۔

    ’’تم کیا تلاش کر رہے ہو، کیا میں تمہاری مدد کروں؟‘‘

    میں اب سیمنٹ کے بلاکوں کو وہاں سے ہٹا رہا تھا، ناندیتو نے بھی یہی کرنا  شروع کر دیا، جب میں نے آخری بلاک ہٹایا تو اس کے نیچے گہرے سیاہ رنگ کا ایک بڑا سانپ بیٹھا ہوا تھا، وہ ممبا سانپ تھا، جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ ظاہر ہو گیا ہے تو اس نے اپنی کنڈلی کھول کر اپنا سہ رخا سر اوپر اٹھانا شروع کر دیا، اس کی آنکھوں میں گہری چمک تھی اور زبان بڑی تیزی سے حرکت کر رہی تھی۔

    میں ایک دم پیچھے ہٹا اور زمین پر بیٹھ گیا۔

    ’’ناندیتو تم بڑے ڈرپوک ہو اسی لیے میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں کھلاتا، تم شور مت کرنا۔ یہاں سے جا کر ہم اکٹھے کھیلیں گے، تمہیں کچھ نظر آئے تو خوف مت کھانا، اچھا۔‘‘

    ناندیتو میرے رویے میں اچانک تبدیلی پر حیران کچھ نہ سمجھے میرے قریب ہی آ کر بیٹھ گیا اب سانپ نے دوبارہ اپنا سر کنڈلی پر رکھ لیا تھا مگر وہ تیز چمکیلی آنکھوں کے سامنے مجھے گھور رہا تھا۔

    ’’ناندیتو، مجھ سے باتیں کرو‘‘

    ’’میں تم سے کیا باتیں کروں؟‘‘

    ’’اب تم مجھے کچھ بھی کہو، میں برا نہیں مانوں گا۔‘‘

    ناندیتو بدستور حیران حیران منہ بسورتے ہوئے آنکھیں مل رہا تھا۔

    ’’کیا تم نے کبھی سانپ دیکھا ہے، کیا تم اسے پسند کرتے ہو تم کیا اسے پکڑ سکتے ہو؟ جواب دو۔‘‘

    ’’کہاں ہے سانپ۔‘‘

    اس نے چھلانگ لگائی، اور خوفزدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا۔

    ’’دیکھو ڈرو مت .......بیٹھ جاؤ....... اور مجھ سے باتیں کرو۔‘‘

    ’’کیا یہاں کوئی سانپ ہے؟‘‘

    ’’نہیں .......بس بیٹھ جاؤ اور باتیں کرو۔‘‘

    وہ میرے قریب بیٹھ گیا۔

    ’’میں سانپوں سے ڈر تاہوں۔ امی کہتی ہیں۔ یہاں مت آیا کرو۔ یہاں خطرناک سانپ رہتے ہیں۔ کاٹ لیں تو آدمی مر جاتا ہے، اور سریٹنا کہتی ہے کہ اگر سانپ کاٹ لے اور اگر ہم مرنا نہ چاہیں تو سانپ کو فوراً مار دینا چاہیے۔ وہ کہتی ہے اس نے ایک سانپ کھایا ہے۔ اگر اسے سانپ کاٹ بھی لے تو وہ مر نہیں سکتی۔‘‘

    ’’کیا تم نے سانپ دیکھا ہے.......؟‘‘

    ’’ہاں ہمارے مرغی خانے میں تھا۔ جسے ہمارے نوکر نے مار دیا۔‘‘

    ’’وہ کیسا تھا؟‘‘

    ’’سرخ رنگ کا بڑا سا، اور اس کا منہ مینڈک کی طرح تھا۔‘‘

    ’’کیا تم اس وقت سانپ دیکھنا چاہتے ہو۔‘‘ وہ دوبارہ کھڑا ہو گیا۔

    ’’کیا مرغی خانے میں کوئی سانپ ہے؟ مجھے ڈر لگ رہا ہے، چلو باہر چلیں۔‘‘

    ’’اگر تم جانا چاہتے ہو تو جاؤ۔ میں نے تو تمہیں نہیں بلایا تھا۔‘‘

    ’’میں اکیلا نہیں جاؤں گا۔‘‘

    ’’پھر یہیں بیٹھو۔‘‘ ہم دونوں کچھ دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔

    ٹوٹو اور وولف مرغی خانے کے باہر کھیل رہے تھے۔ پھر وہ مرغی خانے میں داخل ہو کر سائے میں بیٹھ گیا۔ اچانک وولف کی نظر سانپ پر پڑی اس نے بھونکنا شروع کر دیا، گو ٹوٹو نے سانپ کو نہیں دیکھا تھا لیکن اس نے بھی وولف کے ساتھ ساز جوڑ دیا ۔

    ’’بھائی .......کیا مرغی خانے میں سانپ ہوتے ہیں؟‘‘

    ’’نہیں‘‘

    ’’کیا اب یہاں کوئی سانپ ہے؟‘‘

    ’’ہاں .......‘‘

    ’’پھر تم باہر کیوں نہیں جاتے۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘

    ’’تم جاؤ.......‘‘

    وولف نے سانپ کی طرف بڑھنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ بھونکنے میں شدت آگئی تھی وولف ٹوٹو کی پشت پر تھا۔ ٹوٹو نے گردن گھما کر دیکھنے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ سمجھ سکا کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔ وولف کے پیروں میں لرزش پیدا ہو گئی تھی وہ فرطِ جذبات سے زمین پر پنجے ما ررہا تھا اور میری طرف یوں دیکھنے لگا جیسے وہ مجھے عمل کی دعوت دے رہا ہو اور حیران ہو کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھ رہا۔

    ’’یہ اس طرح کیوں بھونک رہا ہے؟‘‘

    ’’اس نے سانپ کو دیکھ لیا ہے۔‘‘

    ممبا سانپ نے خود کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن اس کا سرابھی تک کھلے میں تھا۔ اب اس کا جسم حرکت نہیں کر رہا تھا اور آنکھوں سے شعلے ابل رہے تھے۔

    وولف کی اپیل اب عاجزانہ انداز میں شدت اختیار کر گئی تھی۔ اس کی گردن کے بال کھڑے تھے اور مرغی خانے کی باڑھ کے دوسری طرف میدونانا، ٹینا اور لولوا بڑی تشویش ناک نظروں سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔

    ’’وہ سانپ کو مارتے کیوں نہیں؟‘‘

    ناندیتو کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے اور اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ سانپ اور کتے میں فاصلہ اب پانچ فٹ سے بھی کم رہ گیا تھا۔ سانپ نے اپنی دم خالی جگہ میں پھیلائی اور اس کی کنڈلی آہستہ آہستہ کھلنے لگی اور وہ پھن کو لہرا کر آگے لے آیا۔ اسی لمحے اچانک وولف اپنے انجام سے بے خبر ہو کر بھونکنے میں شدت پیدا کر کے پیچھے ہٹنے کی کوشش کرنے لگا۔اب ٹوٹو بھی اس کے ساتھ تھا۔ پھر آن واحد میں سانپ نے خود کو دوہرا کیا اور اپنے پھن کو پیچھے کی طرف لے جاتا گیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنا سر زمین پر رکھ دیا اور پھر غیرمعمولی رفتار کے ساتھ جو نظروں کی گرفت سے آزاد تھی، آگے بڑھا، ٹھیک اسی وقت وولف نے بکری کی طرح اپنے اگلے پیر اٹھائے تھے کہ سانپ نے اس کی چھاتی پر حملہ کیا، اور بغیر کسی مدد کے اس نے اپنی دم کو کوڑے کی طرح ہوا میں لہرایا اور ایک خوفزدہ کر دینے والی آواز پیدا کی۔ وولف احساس شکست کے ساتھ پیچھے ہٹا اور اپنے لرزیدہ پاؤں کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھا۔ سانپ نے اپنا سر عجیب سرمستی کے عالم میں لہرایا اور پائپوں کے ڈھیر میں غائب ہو گیا۔

    ’’اونوکا .......‘‘

    سریٹنا چیخی .......اور ناندیتو مجھے چھوڑ کر بھاگا، اور میدونانا کی باہوں میں جھول گیا، مسٹر کاسترو کا کتا وولف گھر کی طرف دوڑتا ہی نظروں سے غائب ہو گیا تھا۔

    اب بچوں نے چیخنا شروع کر دیا تھا۔ سریٹنا ناندیتو کو اندر لے گئی۔ وہ خوف کے مارے مسلسل چیخ رہا تھا، تمام لوگوں کے جانے کے بعد مجھے ایک بار پھر سانپ کو تلاش کرنے کی سوجھی۔ میں نے سوچا میدونانا کو بھی بلانا چاہیے۔ اسی لمحے میدونانا ململ کے پتلے کپڑے کا ایک ٹکڑا لے کر نمودار ہوا اورپھر دونوں نے مل کر ایک چھڑی سے پائپ ہٹانا شروع کر دیے، ابھی چند پائپ ہٹائے تھے کہ ان کے نیچے سےممبا ایک بار پھر پھن پھیلائے ہمارے سامنے تھا۔ لیکن اس سے قبل کہ وہ حرکت کرنا میدونانا نے کپڑے کا ٹکڑا اس پر پھینک دیا اور میں نے ہاتھ میں پکڑی لکڑی کے ساتھ بے تحاشا مارنا شروع کر دیا۔

    شام کو ابو گھر لوٹے تو ناندیتو بدستور خوفزدہ انداز میں رو رہا تھا۔ امی نے اب تک سانپ نہیں دیکھا تھا۔ وہ ابو کے ساتھ مرغی خانے گئیں۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ابو نے سانپ کو چھڑی سے اٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چھوٹا سا بچہ اس خوفناک سانپ کو مار سکتا ہے۔‘‘ وہ فخریہ انداز میں بولے۔ ’’کس قدر تکلیف دہ بات ہے کہ یہ چھ فٹ کا سانپ ہماری ہی مرغیوں پر پلتا رہا ہے۔‘‘

    اس لمحے مسٹر کاسترو کی کار ہمارے بڑے دروازے کے سامنے آ کر رکی۔ ابو کار کی طرف بڑھے اور امی سریٹنا سے باتیں کرنے لگیں اور میں ابو کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ ابو نے اسے سلام کیا۔

    ’’سنو .......‘‘ وہ سلام کو نظرانداز کرتے ہوئے بولا۔ ’’مجھے ابھی معلوم ہوا ہے کہ میرا کتا مر گیا ہے اور اس کی چھاتی سوجی ہوئی ہے۔ میرے گھر والوں نے بتایا کہ وہ مرنے سے قبل تمہارے گھر سے آیا تھا۔  میں زیادہ باتیں نہیں جانتا، لیکن یہ طے ہے کہ تمہیں اس کا معاوضہ ادا کرنا پڑے گا، یا میں حکام سے تمہاری شکایت کروں گا۔ وہ میرا بہترین کتا تھا۔‘‘

    ’’مسٹر کاسترو، میں تو ابھی دفتر سے لوٹا ہوں۔ مجھے کچھ بھی معلوم نہیں۔‘‘

    ’’میں نہیں جانتا، مجھ سے بحث نہ کرو۔ کیا تم پیسے ادا کرنے کے لیے تیار ہو یا نہیں۔‘‘

    ’’لیکن مسٹر کاسترو .......‘‘

    ’’کاسترو، واسترو کچھ نہیں، اس کی قیمت آٹھ پاؤنڈ تھی اور یہ بہتر ہے کہ یہ معاملہ یہیں طے ہو جائے ورنہ تم جانتے ہو تمہارے اور میرے درمیان مقدمے کا فیصلہ عدالت کیا کرے گی۔‘‘

    ’’جیسی آپ کی مرضی لیکن اس وقت تو میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔‘‘

    ’’ٹھیک ہے۔ یہ بعد میں ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر تم نے تنخواہ پر ادائیگی نہ کی تو تمہارے لیے اچھا نہ ہو گا۔‘‘

    ’’مسٹر کاسترو۔ ہم ایک دوسرے کو عرصۂ دراز سے جانتے ہیں مگر .......‘‘

    ’’تعلقات کیا ہوتے ہیں مسٹر .......اور میرے تمہارے تعلقا ت.......‘‘

    مسٹر کاسترو نے نفرت سے دیکھا اور کار آگے بڑھا کر لے گیا۔

    ’’حرامی ....... ‘‘

    میں ابو کےپیچھے تھا۔ ان کے کوٹ کا کونا پکڑ کر میں نے کہا۔

    ’’ابو آپ نے یہ مسٹر کاسترو کے منہ پر کیوں نہ کہا۔‘‘

    انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور امی سے مخاطب ہو گئے۔

    سریٹنا سے کہو کہ وہ میز جلدی سے صاف کر دے آج ہم بائبل نہیں پڑھیں گے، صرف دعا مانگیں گے۔‘‘

    ابو رونگا میں باتیں کر رہے تھے۔ اس لیے میں نے اپنا سوال نہیں دہرایا۔ سریٹنا نے میز صاف کر دی اور ابو مخصوص انداز میں دعا مانگنے لگے۔

    تا نانا .......کاکوڈ میا سوزی یا ٹیلونی مسابا‘‘ ابو نے سر اٹھایا تو ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔

    اے شخص اے شخص

    امی کھڑی ہو گئیں۔ ’’جب کوئی بات نہیں ہوئی تو مسٹر کاسترو کیا چاہتے تھے؟‘‘

    ’’چھوڑو زیادہ اہم بات  نہیں تھی۔‘‘

    ’’اچھا ٹھیک ہے۔ اس پر ہم اپنے کمرے میں بات کریں گے، ہاں گہنو کل دوا ضرور لے کر آنا۔‘‘

    جب سب چلے گئے تو میں نے ابو سے پوچھا۔

    ’’ابو جب آپ اداس ہوتے ہیں تو دعا کیوں مانگتے ہیں؟‘‘

    ’’کیونکہ خدا میرا بہترین مددگار ہے۔‘‘

    ’’تو اس نے آج آپ کی کیا مدد کی ہے۔‘‘

    ’’اس نے میری مدد تو نہیں کی، لیکن اس نے مصائب برداشت کرنے کا حوصلہ ضرور دیا ہے۔‘‘

    ’’ابو کیا آپ اس پر بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں؟‘‘

    ابو نے پہلی بار نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا، جیسے کوئی ہمدرد کے آنے پر دیکھنے لگے۔ وہ پھوٹ پڑے۔

    ’’میرے بیٹے، میرے بچے، میرے لاڈلے، ایک امید زندہ رہنی چاہیے۔ زندہ رہنے کے لیے صرف ایک امید، جب ہم دن کو رات کے اندھیروں میں دھکیلتے ہیں تو یہ امید ہمارے ذہن میں موجود ہوتی ہے ، کل ایک صبح نمودار ہو گی۔ بالکل آج ایسی دراصل ہم ایک حوصلہ کو ایک امید پر قائم کر لیتے ہیں۔ دن بھر کے سارے مصائب کو غیر اہم قرار دے کر خود کو بہ زعم خود ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ بہرطور ہمیں صلے یا انعام کے لیے ایک دن کا یقین کر ہی لینا چاہیے۔ خواہ وہ موت کا دن ہی کیوں نہ ہو۔ کیا تم نے خود نہیں دیکھا، مسٹر کاسترو نے میری توہین کی۔ یہ حادثہ آج کے دن کا ہی حصہ ہے کیونکہ بے شمار ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھ سکتے۔ نہیں میرے بچے ایک امید کو ضرور زندہ رہنا چاہیے، ہم محکوم لوگوں کے لیے اسے برقرار رہنا چاہیے۔ یہاں تک کہ تمام واقعات اس کی نفی کر دیں اسے پھر بھی باقی رہناچاہیے۔‘‘

    ابو اچانک چپ ہو گئے اور مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے گویا ہوئے:

    ’’غریب آدمی کے پاس کچھ تو ہونا چاہیے۔ خواہ وہ ایک امید ہی کیوں نہ ہو۔ خواہ یہ امید ایک سراب ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

    ’’ابو۔ میں کاسترو کے کتے کو سانپ کے ڈسنے سے بچا سکتا تھا مگر .......‘‘

    ابو نے بڑی توجہ سے میری طرف دیکھا اور میری بات کاٹ کر بولے۔

    ’’یہ کوئی مسئلہ نہیں، اچھا ہوا کہ سانپ نے کتے کو ڈس لیا۔‘‘

    اسی اثناء میں امی دوبارہ کمرے میں داخل ہوئیں۔

    ’’کیا تم بچوں کو سونے کے لیے نہیں بھیجو گے؟‘‘

    میں نے ابو کی طرف دیکھا اور معاً مسٹر کاسترو کے خیال سے ہم دونوں ہنس پڑے جسے امی نہ سمجھ سکیں۔

    ’’کیا تم دونوں دیوانے ہو گئے ہو؟‘‘

    ’’ہاں یہی لمحات ہمارے دیوانے ہونے کے ہیں۔‘‘

    ابو نے مسکرا کر کہا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیے لیکن میں نے پورا زور لگا کر اور چیخ کر کہا۔

    ’’ابو .......کسی وقت .......کبھی کبھی میں سوچتا ہوں،میں آپ سے نفرت کرتا ہوں۔‘‘

    امی نے مجھے جھڑک دیا۔

    ’’کیا تم جانتے ہو میرے بچے۔‘‘ انہوں نے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہنا شروع کیا۔ ’’کسی انسان کے لیے وہ لمحہ ناقابل برداشت بن جاتا ہے جب اسے اپنے کھوکھلے پن کا احساس ہو جائے۔ تب اس کی ذات ٹوٹ پھوٹ کر اسے ناقابل تلافی نقصان کے سپرد کر دیتی ہے، بہت بڑے نقصان کے سپرد میرے بچے۔ ایک بند بوتل میں کوئی ارتقاء کے عمل سے گزرے گا تو اس کی آواز بوتل سے باہر کیسے نکل سکے  گی؟‘‘ امی نے کچھ کہنا چاہا لیکن ابو نے ان کا شانہ دبا کر خاموش کر دیا۔

    ’’بیگم .......ہمارا بچہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جو لوگ وحشی، جنگلی، گھوڑے پر سواری نہیں کرتے، اور اسے سدھارنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ سدھائے ہوئے فرمانبردار گھوڑے روزانہ چپ چاپ مر جاتے ہیں۔ کسی کو کوئی خبر نہیں ہوتی ....... وہ اس وقت تک کھڑے رہتے ہیں۔ جب تک ان کی ٹانگوں میں سکت ہوتی ہے۔‘‘

    امی نے قہر آلود نظروں سے مجھے گھورا۔

    ’’کیا تم جانتی ہو۔ مجھے یہ یقین کر لینے میں ہچکچاہٹ ہے کہ یہ سچ ہے، لیکن میں اسے یہ بھی نہیں کہنا چاہتا کہ یہ سب کچھ جھوٹ ہے ....... وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اس نے آج بھی خود دیکھا ہے اور میری خواہش ہے کہ مجھے یہ یقین ہو جائے کہ میرے بچے چیزوں کو کیسے شناخت کرتے ہیں۔‘‘

    امی اور ابو اپنے کمرے میں چلے گئے، میں اب ان کی باتیں نہیں سن سکتا لیکن اب میرے کانوں میں امی کا کہا ہوا جملہ گونج رہا تھا ’’تم صبح دوا لے آنا۔ اس سے تم ٹھیک ہو جاؤ گے ۔ میں تمہارے باپ کی طرح نہیں ہوں جو اپنی ذات کے خول میں بند ہو کر رہ گیا ہے۔‘‘

    میرا بستر چاند کی روپہلی کرنوں میں ڈوبا ہوا تھا، اور اس کی ٹھنڈی لہریں میرے ننگے بدن پر عجیب طمانیت پیدا کر رہی تھیں۔ معاً ذہن کے کسی ویران گوشے سے سریٹنا کے بدن کا لمس ابھر کر میرے سامنے آ کھڑا ہوا اور میں اس کے نرم و نازک بدن پر زندگی کے نشان تلاش کرتاخوابوں کی دنیا میں ڈوبتا چلا گیا، جہاں نہ سانپ تھے، نہ کتے۔