وان سوہ پارک

وان سوہ پارک

ڈوبتے سورج کی تصویر

    انگریزی ترجمہ: ہیون جاے ای سیلی/ اردو ترجمہ: مسعود اشعر

    مسٹر چو اور ان کی بیوی گرین بیلٹ میں رہتے تھے۔ سیول کے گردوغبار اور دھوئیں سے دور۔ چونکہ اس علاقے میں نئی عمارت بنانے یا کسی عمارت میں توسیع کرنے کے لیے مشکل سے ہی اجازت ملتی تھی اور پھر وہاں ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی نہیں تھی اس لیے گرین بیلٹ میں مکانوں کی قیمتیں کم تھیں۔

    ہوا صاف ستھری اور تازہ تھی۔ کسی بھی ایسے جوڑے کے لیے یہ نہایت ہی موزوں جگہ تھی جس کا شوہر ریٹائرڈ ہو گیا ہو، اسے وقت پر دفتر جانے اور وقت پر ہی واپس آنے کی اب ضرورت نہ ہو اور بوڑھی بیوی باغبانی کا شوق پورا کرتی ہو۔ کبھی کبھی ہی مسٹر چو یا ان کی بیوی کسی کام سے گھر سے نکلتے تھے اور تھکے ہارے واپس آجاتے تھے۔ بازار جاتے ہوئے انہیں کئی بسیں بدلنا پڑتی تھیں۔ مگر وہ اپنی تھکن کا الزام سیول کی گندی ہوا کو ہی دیتے تھے۔ ان کے گھر سے جو پہاڑی نظر آتی تھی اس کی طرف منہ کرکے وہ گہری گہری سانسیں لیتے تھے ۔ اپنے گھر کے اندر صرف ایک دن ہی انہیں صحت مند کر دیتا تھا۔ انہیں لگتا تھا جیسے ان کے پھیپھڑوں سے سیول کا سارا گردوغبار صاف ہو گیا ہے۔

    مسٹر چو اگلے سال اپنی ساٹھویں سالگرہ منانے والے تھے۔ ان کی بیوی اٹھاون برس کی ہو نے والی تھیں۔ اگرچہ وہ اپنی عمر کے اس حصے میں پہنچ گئے تھے جہاں بڑھاپے کی بیماریاں پریشان کرنے لگتی ہیں لیکن وہ دونوں خوب صحت مند تھے۔ ان کے کالے بال گھنے بھی تھے اور چمک دار بھی۔ کبھی کبھی دونوں میں سے کسی کے سر میں اکا دکا سفید بال نظر آئے تو اسے رنگنے کے بجائے نکال دیتے تھے۔ میاں بیوی کے بال نکالتا اور بیوی میاں کے۔ اردگرد کے لوگ ان پر رشک کرتے تھے۔ یہ لوگ یا تو کسان تھے جو دن رات اپنی زمینوں پر محنت کرے تھے یا غریب مزدور تھے۔ گاؤں کے وہ باشندے جو وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو گئے تھے ان میاں بیوی کی اصل عمر سنتے تو حیران رہ جاتے۔ وہ ان کی صحت دیکھ کر ان سے جلتے بھی تھے۔ لیکن تمام میاں بیوی ان کے بارے میں ایسے جذبات نہیں رکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ دیہات میں آنے کی وجہ سے وہ دوبارہ جوان ہو گئے ہیں۔

    انہیں مالی پریشانی  بھی نہیں تھی۔ مسٹر چو سرکاری دفتر میں کئی عشرے کام کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے تھے۔ انہیں پنشن ملتی تھی۔ ان کے مرنے کے بعد ان کی بیوی اس پنشن کی حق دار تھی۔ کفایت شعاری کے ساتھ زندگی گزارنے والے جوڑے کے لیے یہ پنشن کافی تھی۔ بلکہ اس سے ان کے اندر بڑھاپے میں تحفظ کا احساس رہتا تھا۔ ان کے چار بچے تھے۔ دو لڑکے، دو لڑکیاں۔ یہ بچے ان کے لیے فخر اور خوشی کا باعث تھے۔

    انہیں اپنی زندگی میں اتنا سکون اور اطمینان پہلے کبھی نہیں ملا تھا۔ ریٹائرمنٹ سے پہلے مسٹر چو چھوٹے سے سرکاری افسر تھے۔ اس ملازمت میں انہیں کئی بار بڑے افسروں سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں ملازمت  برقرار رکھنے کے لیے بے عزتی بھی برداشت کرنا پڑی۔ اور یہ مدت کافی طویل ہوتی تھی۔ زیادہ افسوس کی بات یہ تھی کہ اسی زمانے میں انہیں بچوں کی پڑھائی پر بھی رقم خرچ کرنا ہوتی تھی۔ ان کے دو بچے کالج میں پڑھ رہے تھے۔ ایسے ہی  وقت کسی بچے کی شادی ہوتی تو کسی بچے کو کالج میں داخل کرانا ہوتا۔ دو سال کے اندر اندر انہیں اپنا گھر فروخت کرنا پڑ گیا تھا اور وہ ایک چھوٹے سے گھر میں چلے گئے تھے۔ آخر انہیں بچوں کی ضرورتیں بھی پوری کرنا تھیں۔ اور پھر جب سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی ہوئی تو انہیں اپنا چھوٹا مکان فروخت کرکے سیول سے باہر آنا پڑ گیا۔ یہاں آنے کے بعد انہیں سکون میسر آیا۔ اب وہ بچوں کی مالی مدد بھی نہیں کرتے تھے۔ جب یہ مکان خریدا تو مسٹر چو کی ریٹائرمنٹ قریب تھی اس لیے انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ خوش ہوئے کہ دفتر کی جھک جھک سے انہیں نجات ملنے میں چند دن ہی رہ گئے ہیں۔ وہ گھر ان دونوں کے لیے واقعی ایک نعمت تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مسٹر چو کو خالی وقت مل گیا تھا۔ اب انہیں کوئی پریشانی نہیں تھی۔

    مکان بہت پرانا تھا اور خاصے تکلیف دہ انداز میں تعمیر کیا گیا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنا کافی وقت اس کی مرمت میں صرف کیا۔ شروع میں تو مسٹر چو نے جب اس طرف توجہ کی تو انہیں بجلی کا فیوز لگانا بھی نہیں آتا تھا۔ لیکن وقت گزارنے کے ساتھ وہ ہر کام کے ماہر ہو گئے تھے۔

    مسٹر چو ہر کام خوشی خوشی کرتے تھے۔ ان کی بیوی بھی ہشاش بشاش رہتی تھی۔ انہوں نے مجبوری سمجھ کر گھر کی مرمت کا کام شروع کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اندر اور باہر سے گھر کو خوبصورت بنا دیا جائے گا۔ چھت ٹپکتی تھی، انہوں نے اسے ٹھیک کیا۔ اونڈول (کوریا کا روایتی فرش) کے پائپ نکال کر گرم پانی کے پائپ لگائے اور ہر دیوار کو سردی سے بچانے کا انتظام کیا۔ اس کام کے لیے پیشہ ور کاریگر کی ضرورت تھی مگر انہوں نے خود ہی یہ کام بھی کر لیا۔ ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کوریا کے روایتی گھر کا ڈھانچہ تبدیل کرنا تھا۔ شروع میں تو ان کا خیال تھا کہ وہ یہ کام نہیں کر سکیں گے۔ لیکن جب انہیں اندازہ ہو ا کہ وہ تو بڑھئی اور مستری کا کام بھی کر سکتے ہیں تو وہ اپنا کام بڑھاتے گئے۔ وہ جانتے تھے کہ ایک عورت کے لیے کوریا کے روایتی گھر میں رہنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یہ بات انہیں اس وقت معلوم ہوئی تھی جب وہ کوریا کے روایتی گھر سے شہر کے ایک جدید گھر میں منتقل ہوئے تھے اور ان کی بیوی نے اس پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا تھا۔ انہیں یاد تھا کہ ان کی بیوی خوشی سے پاگل ہو گئی تھیں۔ کوریا کے روایتی گھروں کا حال یہ ہے کہ وہ چاہے خوش حال علاقوں میں ہوں یا غریب محلوں میں سب ایک ہی انداز  میں بنائے جاتے ہیں، نسل در نسل ایسے ہی مکان بنتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے نئے مکان کی مرمت کر لی تو انہیں احساس ہوا کہ کوریا کے روایتی گھر نہایت چالاکی کے ساتھ عورتوں کو سزا دینے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ مسٹر چو اپنی بیوی سے محبت کا اظہار زبان سے نہیں کرتے تھے۔ گھر کی مرمت اور اس میں تبدیلیاں کرتے ہوئے وہ یہ سوچتے تھے کہ اگر میری جگہ یہاں میری بیوی ہوتی تو وہ کیسا محسوس کرتی، گھر کی مرمت اور اس کی آرائش کرتے ہوئے وہ اس میں اتنا کھو گئے تھے کہ آخر میں یہ اندازہ کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے زیادہ محبت کرتے ہیں یا اس گھر سے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے اپنی بیوی کو بستر مرگ پر دیکھا تو وہ بھی خوشی خوشی موت کو گلے لگا لیں گے۔ اسی طرح جب وہ یہ سوچتے تھے کہ ان کی زندگی کا یہ آخری مکان ہے، وہ انتہائی سکون محسوس کرتے۔

    مسٹر چو کو مذہب کے ساتھ کوئی خاص لگاؤ تو نہیں تھا لیکن وہ سوچتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد واقعی روح بھٹکتی پھرتی ہے تو چاہیں گے کہ ان کی روح اعراف میں چلی جائے۔ انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ جنت میں جائیں گے۔ انہیں جہنم سے ڈرلگتا تھا اور سوچتے تھے کہ وہاں انہیں خطرناک سزائیں دی جائیں گی۔اپنی ملازمت کے دوران انہوں نے کئی ایسے آدمی دیکھے تھے جو ان سے زیادہ دوسروں کا خیال رکھتے تھے۔ ان کا تعلق ایسے لوگوں سے بھی رہا تھا جو دوسروں کو نقصان پہنچاتے تھے۔ وہ چونکہ ان دونوں طبقوں میں تھے۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو اعراف کا مستحق سمجھتے تھے۔

    مسز چو کیتھولک عیسائی تھیں۔ مسٹر چو نے انہیں عالم برزخ اور اعراف کی دعائیں پڑھتے سنا تھا۔ اس لیے ان کی اپنی خواہش بھی وہیں جانے کی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ مرنے کے بعد وہ اپنی بیوی کی توجہ اور محبت کا مرکز ہی رہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ اپنی بیوی کی دعاؤں کی اور عبادتوں کی وجہ سے انہیں بھی جنت مل جائے۔ جس طرح وہ اپنی روح کے لیے بیچ کا راستہ چاہتے تھے اسی طرح وہ سمجھتے تھے کہ وہ ان کا گھر نہ تو ان کی مالی استطاعت سے اوپر ہے اور نہ نیچے۔ وہ مکان باہر سے تو بدلا ہوا نہیں لگتا تھا لیکن اندر سے وہ جتنا آرام دہ ہو گیا تھا اس سے اس کے مالک کی مہارت ور اس کے لگاؤ کا اظہار ہوتا تھا۔

    اس مکان کی مرمت میں مسٹر چو کا کافی وقت لگا تھا۔ لیکن وہ اس کام سے اکتائے نہیں تھے۔ اور نہ ان کی زندگی بے معنی ہوئی تھی۔ ہر صبح وہ پہاڑی چشمے پر جاتے اور وہاں سے پینے کا پانی لاتے تھے۔ پہاڑی پر چڑھنا ان کے لیے ایک قسم کی ورزش بن گیا تھا۔ آچا گاؤں پہاڑی کی ترائی میں تھا۔ وہ دو بونگ پہاڑی ، کوانک پہاڑی یا پھر کھان پہاڑی کی طرح مشہور تو نہیں تھی مگر آچا پہاڑی پر بھی بہت سے پرانے آثار تھے۔ قریب ترین چوٹی تک جانے والا راستہ بہت ہی خوبصورت تھا۔ اور چوٹی پر سیاحوں کے لیے سہولتیں موجود تھیں۔ وہ چوٹی سب سے اونچی نہیں تھی اور گاؤں سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر تھی۔ مسٹر چو سے بڑی عمر کے لوگ بھی وہاں جا سکتے تھے۔ چھٹی کے دنوں میں سیول سے بھی وہاں لوگ آتے تھے۔ پورے پورے خاندان وہاں آجاتے تھے اور بہار اور جاڑوں کے دنوں میں جب مطلع صاف ہوتا تو وہاں پکنک مناتے تھے۔ ان موقعوں پر ساری وادی بھنے ہوئے گوشت کی خوشبواور گانے بجانے کی آوازوں سے بھر جاتی تھی۔

    تفریح کرنے والے لوگ وہاں سے چلے جاتے تو مسٹر چو ہاتھ میں پلاسٹک کی ٹوکری اور لوہے کی سلاخ لے کر وہاں پہنچ جاتے تھے۔ اور وہ چیزیں اٹھاتے پھرتے جو وہ لوگ وہاں پھینک جاتے تھے۔ وہ یہ کام بلاناغہ کرتے تھے۔ جب سیاحت کا موسم اپنی بہار پر ہوتا تو مسٹر چو کو دن میں کئی بار صفائی کے لیے پہاڑی پر جانا پڑتا تھا۔ لیکن وہ کبھی جلدی میں نہیں ہوتے تھے۔ وہ اطمینان کے ساتھ اپنا کام کرتے تھے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ گاؤں کے دوسرے بزرگ بھی ان کا ہاتھ بٹانے وہاں پہنچ جاتے حالانکہ مسٹر چو ان سے کبھی مدد نہیں مانگتے تھے۔

    مسٹر چو تو چاہتے تھے کہ یہ کام وہ اکیلے ہی کریں۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس کام پر وہ اپنی اجارہ داری چاہتے تھے ، بلکہ اس کا مقصد کچھ اور تھا۔ وہ اپنی مرضی سے اور اپنی رفتار سے یہ کام کرنا چاہتے تھے۔ دوسروں کے ساتھ کام کرنا انہیں اچھا نہیں لگتا تھا۔ کیونکہ اس وقت انہیں ان لوگوں کے مزاج کا بھی خیال رکھنا پڑتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ لوگ بولتے بھی بہت تھے۔ جب بھی وہ زیادہ گندگی دیکھتے تو الٹی سیدھی باتیں شروع کر دیتے۔ وہ سیاحوں کو برا بھلا کہتے ۔ کسی کو حرام زادہ، کسی کو کتے کا بچہ اور کسی کو ٹھگ اور ڈاکو کہتے۔ وہ کہتے ان لوگوں نے تو پہاڑی کو کوڑا گھر بنا دیا ہے۔ یا وہ سمجھتے ہیں یہ ان کا کوڑاگھر ہے۔ وہ کام کرتے جاتے اور بولتے جاتے۔

    ان لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا مسٹر چو کے لیے بہت مشکل تھا۔ ان کی بات سن کر وہ کہہ دیتے۔ ’’میں سمجھ رہا ہوں آپ کیا کہہ رہے ہیں۔‘‘ یا پھر ’’ہاں ہاں، میں نے سن لیا۔‘‘ اپنی ملازمت کے دوران بھی انہوں نے یہی سیکھا تھا۔ دوسروں کو خوش کرنے کا یہی طریقہ تھا۔ لیکن اب وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے وہ دوسروں کا ساتھ بھی پسند نہیں کرتے تھے۔

    ریٹائرمنٹ کے  بعد صرف اپنی بیوی کے ساتھ ہی وہ مطمئن تھے۔ وہ کسی اور کا ساتھ نہیں چاہتے تھے۔ ان کی بیوی اتفاق سے ہی کبھی ان کا سکون برباد کرتی تھیں۔ وہ باورچی خانے میں اپنی بیوی کی مدد کرتے تھے۔ ان کاکام یہ تھا کہ وہ مٹر کی پھلیوں کے ڈنٹھل کاٹتے یا ہری پیاز کا چھلکا اتارتے۔ انہیں رکابیاں دھونے میں بھی مزہ آتا تھا۔ سب سے زیادہ انہیں اپنی بیوی کو پھولوں کی کیاریوں میں کام کرتے دیکھ کر خوشی ہوتی تھی۔ اپنے مطالعے کے کمرے میں بیٹھے وہ گھنٹوں چھوٹی کھڑکی سے اپنی بیوی کو کام کرتے دیکھتے رہتے تھے۔

    جس طرح انہوں نے خود ہی اپنے ذمہ پہاڑی صاف کرنے کی ڈیوٹی لگا لی تھی اس طرح ان کی بیوی پھولوں کی کیاریوں کی دیکھ بھال کرنا اپنا فرض سمجھتی تھیں۔ وہ ایک دوسرے کے کام میں دخل نہیں دیتے تھے، بلکہ وہ تعریف کرتے تھے ایک دوسرے کے کام کی۔

    مکان بریکٹ کی شکل میں بنا ہوا تھا۔ سامنے کے صحن میں جہاں دھوپ آتی تھی وہاں انہوں نے ایک فرش بنایا تھا جہاں سویا بین کے مرتبان رکھے ہوئے تھے۔ باقی مکان سائے میں تھا۔ شہر کے مکان کے مقابلے میں اس مکان میں بیرونی دروازے کے ساتھ زیادہ کھلی جگہ تھی۔ مکان کی رجسٹری کے مطابق اس کا رقبہ 78پیونگ (اندازاً 312 مربع گز) تھا۔ مکان تعمیر شدہ رقبے اور سامنے کے صحن کو چھوڑ کر باقی زمین ، پیچھے سبزیوں کی کیاریاں وغیرہ 40 پیونک (اندازاً 160 مربع گز) سے بھی کم تھی۔ مکان چونکہ گاؤں کے سرے پر تھا اس لیے اس کے سامنے اور کوئی مکان نہیں تھا۔ اس لیے ان کا مکان اصل رقبے سے بھی زیادہ بڑا لگتا تھا۔

    مسٹر چو نے لکڑی کے منڈوے پر گلاب کی بیلیں چڑھائی تھیں جو مکان کے ہر طرف پھیلتی چلی گئی تھیں۔ باہر جوجافری لگی تھی اس کے ساتھ ہی پہاڑی کی چڑھائی شروع ہو جاتی تھی۔ اس سے آگے چوٹی نظر آتی تھی۔ ایک طرف میدان تھا۔ اس سے آگے درختوں کے جھنڈ تھے۔ وہ جب گھر کے باہر کھڑے ہوتے، جہاں کا رخ جنوب کی سمت تھا تو دور تک جھاڑ جھنکارسے بھرا میدان اور پھر ہرے بھرے درختوں کے جھنڈ نظر آتے۔ ایسا لگتا جیسے وہ سب بھی ان کے صحن کا ہی حصہ ہے۔

    موسموں کے ساتھ میدان اور جنگل میں نہایت خوش گوار تبدیلیاں آتی رہتی تھیں۔ یہی خوش نما مناظر دیکھ کر مسٹر چو اور ان کی بیوی نے منہ مانگی قیمت پر یہ مکان خرید لیا تھا۔ حالانکہ لوگوں نے کہا تھا کہ جگہ کے اعتبار سے اور پھر مکان کی اپنی حالت کے حساب سے یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔لیکن ان کا خیال تھا کہ اس علاقے کی خوبصورتی کے لحاظ سے انہیں یہ بہت اچھا مکان مل گیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس میدان اور جنگل کا مالک بھی سمجھتے تھے۔ جہاں وہ اپنی مرضی سے خوب گھومتے پھرتے تھے۔ اس لیے قیمت وغیرہ سب بے معنی بات تھی۔

    ان کے ہاں مہمان آتے تو وہ گھر کے اندر لے جانے سے پہلے انہیں یہ خوبصو رت منظر دکھاتے۔ گھنا جنگل پہاڑی کے چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ جیسے کسی نے ہری بھری باڑھ لگا دی ہو۔ پہاڑی کے کنارے پر تیکھی ڈھلان تھی لیکن وہ تنگ گھاٹی مسٹر چو کے مکان سے دور تھی۔ وہ چوٹی جس کے قریب میٹھے پانی کا چشمہ تھا،مسٹر چو کے مکان سے دور تھی۔ وہ چو ٹی جس کے قریب میٹھے پانی کا چشمہ تھا مسٹر چو کے مکان کے مغرب کی طرف تھی۔ اس وجہ سے ان کے لیے سورج جلدی ڈوب جاتا تھا۔بس یہی ایک خرابی تھی۔ اس کے باوجود مکان کی اہمیت اپنی جگہ تھی۔

    بہار میں پہاڑی پر بے شمار جڑی بوٹیاں نکل آئی تھیں۔ جنہیں مقامی لوگ سبزی ترکاری کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ان جڑی بوٹیوں کے بارے میں مسٹر چو اور ان کی بیوی اتنا نہیں جانتے تھے جتنا مقامی باشندے جانتے تھے۔ مسٹر چو اور ان کی بیوی نے بھی ان لوگوں سے سیکھ کر یہ جڑی بوٹیاں نکالیں اور انہیں پکایا۔ لیکن وہاں کے خوشبودار پھولوں کے بارے میں صرف مسٹر چو ہی جانتے تھے۔ بہار کے موسم میں ان پھولوں سے ساری وادی مہک اٹھتی تھی۔

    ان خوبصورت پھولوں کا تختہ وہ وادی ہی تھی۔ وہ پھول پتوں کے اندر چھپے ہوئے تھے۔ ان چھوٹے چھوٹے سفید پھولوں کے سر نیچے کی طرف جھکے ہوئے تھے پھر بھی ان کی مہک دور دور تک جاتی تھی۔ پہلی بار جب وہ وادی میں گئے تھے تو اس خوشبو نے انہیں اتنا مسحور کر دیا تھا کہ انہیں ڈر لگتا تھا کہ کہیں وہ وہیں نہ رہ جائیں۔

    مسٹر چو جانتے تھے کہ گاؤں کے لوگوں سے ان پھولوں کے بارے میں کچھ پوچھنا بے کار ہے۔ بلکہ ان کا خیال تھا کہ ان لوگوں کو تو علم ہی نہیں ہو گا کہ وہاں وہ پھول بھی ہیں اور اگر انہیں علم بھی ہوا تو وہ ان سے کیا خوش ہوں گے۔ یہ تو مسٹر چو ہی تھے جو ان پر فریفتہ ہو گئے تھے۔ گاؤں والوں کے لیے تو جب تک کوئی پھول دوائی کے  طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اس وقت تک وہ بے کار ہے۔ مسٹر چو نے فیلڈ گائیڈ سے اس پھول کا نام معلوم کیا پھر انہیں پتہ چلا کہ گھنٹی نما اس پھول کا کیا نام ہے۔

    بہار کے آتے ہی سارا جنگل ہرا بھرا ہوجاتا ۔ درختوں کے پتے دھوپ میں چمکنے لگتے تھے۔ اس ہرے بھرے جنگل میں جب جھینگر بولتے تو مسٹر چو کو خالی خالی پن کا احساس اور بھی بڑھ جاتا۔ پھر زندگی کی قدر و قیمت اور چیزوں کے معانی تلاش کرنے کا احساس جیسے رخصت ہو جاتا۔ حالانکہ ساری عمر وہ انہیں معانی پر اعتماد کرتے چلے آئے تھے۔ انہیں لگتا جیسے کوئی ان کا مذاق اڑا رہا ہے۔ جیسے کوئی قہقہے لگا رہا ہے۔

    بڑے بڑے پتوں پر بارش کی بوندوں کے ساتھ جاڑوں کا موسم آجاتا اور اس کے ساتھ اداسی کا احساس بھی۔ اب ہر روز پتوں کا رنگ بدلنا شروع ہو جاتا، جیسے وہ اپنے مرجھانے کا عمل روکنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ اس وقت جنگل اپنی دم بخود کر دینے والی خوبصورتی کی معراج پر ہوتا۔ اس موسم میں پیڑ پوری طرح تبدیل نہیں ہوتے تھے۔

    آدھی رات کو ہلکی سی ہوا بھی یہ پتے شاخ سے جدا کر دیتی۔ پتے گرنے کی آواز سے ایسا لگتا جیسے جنگل بین کر رہا ہو۔ یہ آواز سن کر مسٹر چو بستر پر کروٹیں بدلنے لگتے۔ سوتے میں پیشاب کر دینے والے بچے کی طرح ان کے اندر بھی اپنی تنہائی اور ننگا ہونے کا احساس بڑھ جاتا۔ اس وقت وہ اپنی بیوی کے کمرے میں چلے جاتے اور اس کے مرجھائے ہوئے سینے پر سر رکھ کر لیٹ جاتے۔ کافی دیر اس طرح پڑے رہتے اور اس کے گرم گرم جسم سے گرمی حاصل کرتے رہتے۔

    اب جاڑے آنے والے تھے۔ ایک بار برف باری جلدی میں ہو چکی تھی۔ اس نے شاخوں سے پتے گرنے کا عمل تیز کر دیا تھا۔ اس کی پرشور سانس نے کھڑکیوں کے پٹ ہلا دیے تھے۔ اور لوگوں کو خبردار کر دیا تھا کہ آنے والے جاڑوں کے لیے تیاری کر لیں۔ اس سانس کے جاتے ہی پہلی بارف باری ہو گئی تھی۔ ہر ننگی شاخ کی اپنی ہی شکل تھی، ڈھیلی ڈھالی، سخت، آسمان کی طرف اٹھی ہوئی یا زمین کی طرف جھکی ہوئی۔ بہت بڑے جال کی طرح ننگی شاخوں نے میدان، جنگل اور گھاٹی کو عریاں کر دیا تھا۔

    شاندار خزاں کی تمکنت سے پتوں کا رنگ کتھئی ہو گیا تھا اور وہ خاموشی کے ساتھ زمین پر گرنے لگتے تھے۔ حیرت ہوتی تھی کہ کس طرح اس عظیم الشان طریقے سے تمام پیڑ عریاں ہو جاتے ہیں۔ جاڑوں کے ان پیڑوں سے مسٹر چو  بھی بہت متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ننھے منے پھولوں کے پودے پیڑوں سے گرنے والے پتوں کے ڈھیر تلے دب گئے ہیں۔ ان کے پاس وقت ہی وقت تھا۔ وہ اپنے کمرے میں لیٹے لیٹے یا بیٹھ کر پڑھتے رہتے تھے۔ معلوم نہیں یہ ان کے فالتو وقت کی وجہ سے تھا یا ان کے مزاج کی وجہ سے انہیں جاڑوں کے موسم کے پیڑوں سے خاص لگاؤ پیدا ہو گیا۔ وہ خالی وقت میں وہ پیڑ دیکھتے رہتے۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ ہر موسم میں ان کے پاس وقت ہی وقت تھا۔

    اچانک پہاڑی نے وادی پر حملہ کر دیا۔ اس کے سائے نے جنگل اور دریا کے اس کنارے کو گھیر لیا جدھر دھوپ پڑتی تھی۔ ان کی بیوی شادی پر جانے سے پہلے ہدایت کر گئی تھیں کہ ٹیلی فون کی گھنٹی کا خیال رکھنا۔ اس کے بعد سے وہ ہر آواز پر چونک جاتے تھے۔ ایک لمحہ پہلے گھنٹے نے صرف تین بجائے تھے۔ پھر بھی سورج ڈوبنے لگا تھا۔ اگر یہ موسم نہ ہوتا تو ابھی سورج سر پر ہی ہوتا۔

    پہاڑی کا سایہ کسی منحوس گھڑی کی طرح تیزی سے پھیلتا گیا تھا۔ مسٹر چو نے چار بجنے کی آواز نہیں سنی تھی۔ اس لیے وہ ڈرائنگ روم میں گئے اور چار بجنے کی آواز کا انتظار کرنے لگے۔ انہوں نے اپنے مطالعہ کے کمرے کو دنیاوی آلائشوں سے پاک رکھا تھا۔ وہاں ٹیلی فون، ریڈیو یا گھڑی تک نہیں تھی۔ اب اگر وہ اپنی بیوی کو بتاتے کہ دن بھر کوئی ٹیلی فون نہیں آیا تو وہ بالکل اعتبار نہ کرتی۔ پھر بھی وہ بے چین تھے۔ شاید وہ گھنٹے کی آواز نہیں سن سکے تھے۔ ہو سکتا ہے انہوں نے ٹیلی فون کی گھنٹی بھی نہ سنی ہو۔ جیسے کوئی بچہ ہوم ورک نہ کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے اور ایسی دلیلیں دیتا ہے جن پر اس کے سوا اور کوئی اعتبار نہیں کر سکتا ویسے ہی مسٹر چو بھی بیوی کی غیرموجودگی میں اپنے آپ کو سمجھاتے رہے کہ ان کے کان تو اسی طرف لگے تھے کسی کا ٹیلی فون ہی نہیں آیا۔ اگر گھنٹی بجتی تو وہ ضرور سنتے۔

    اچانک چڑیوں کا ایک جھنڈ درختوں سے اڑا اور آسمان کی طرف اڑتا چلا گیا۔ کیا یہ گوریاں تھیں؟ ان کا رنگ سوکھے پتوں کا سا تھا؟ کیا اس خالی، ٹھنڈی اور پتلی شفاف برف کے اندر کشش ثقل نے اپنے آپ کو چھپا رکھا ہے؟ ان کے خیال میں چڑیاں اپنے پر پھڑپھڑائے بغیر ایسے اڑتی چلی گئی تھیں جیسے گھڑیال کا پنڈولم چلتے چلتے اپنی جگہ سے اکھڑ کر اڑ گیا ہو۔ پھر خلا میں بے قابو رفتار کے ساتھ ایسے غائب ہو گئیں جیسے ہوا کے ان دیکھے قالین پر بیٹھی ہوں۔

    مسٹر چوجنگل اور پیڑوں کے بارے میں  تو بہت کچھ جان گئے تھے مگر انہوں نے کسی پیڑ پر گھونسلا نہیں دیکھا تھا۔ بلکہ انہوں نے کوئی چڑیا بھی نہیں دیکھی تھی۔ شاید یہ چڑیا دانے دنکے کی تلاش میں کہیں اور سے یہاں آگئی ہوں گی؟ انہوں نے سوچا۔ یا پھر یہ موسم کے ساتھ اپنے رنگ  بدلتی رہتی ہیں؟ بہار میں ہرا، خزاں میں سوکھے پتوں کی طرح اور جاڑوں میں برف جیسا سفید تاکہ وہ آسانی سے پیڑوں کے پتوں میں چھپ سکیں۔ اب وہ کہاں چلی گئیں؟ کھلے آسمان میں ان کا نشان تک نظر نہیں آرہا ہے۔

    چڑیوں کے جھنڈ کو اڑتا دیکھ کر مسٹر چو کے دل پر خوف سا چھا گیا جو کافی دیر برقرار رہا۔ سکون  اور اطمینان کے اس عرصے میں بھی مسٹر چو کو بدشگونی کے آثار نظر آرہے تھے۔ جیسے چڑیوں کا اچانک اس طرح اڑنا۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہی چڑیاں اچانک زمین کے اندر سے نکلیں اور ان کی طرف اڑتی ہوئی آجائیں۔ بے بس ہو کر وہ اپنے خیالوں میں کھو گئے۔

    مسٹر چو کو ڈرائنگ روم سے گھنٹہ بجنے کی آواز آئی۔ یہ چار تھے۔ یہ وقت ان کی بیوی کے واپس آنے کا  ۔ وہ شادی میں گئی تھیں جو بارہ بجے ہونے والی تھی۔

    ’’شادی کے بعد میں بازار جاؤں گی۔ واپسی پر کھانا پکانے کے لیے کافی وقت ہو گا۔ اس لیے مہربانی کرکے خود نہ پکانے لگنا۔ اگر لوگوں نے تمہیں باورچی خانے میں دیکھ لیا تو باتیں بنائیں گے۔‘‘ ان کی بیوی نے جانے سے پہلے ان سے کہا تھا۔

    ’’تم کن لوگوں کی بات کر رہی ہو؟‘‘ انہوں نے سوال کیا تھا۔

    ان کی بیوی اس بات سے خوش ہوتی تھیں کہ مسٹر چو ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔ لیکن وہ انہیں اکیلا باورچی خانے میں کام کرتے نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔ بیوی کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اجنبی لوگوں کی نظر میں قابل رحم معلوم ہوں گے۔ مگر مسٹر چو کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس گھر میں انہیں کون دیکھ سکتا ہے جہاں صرف وہ دونوں ہی رہتے ہیں۔ کن لوگوں کی بات کر رہی ہو؟ لیکن کبھی کبھی انہیں یہ بھی خیال آتا کہ شاید لوگ انہیں دیکھ لیں۔ اور ان کے بارے میں باتیں کریں۔

    ان کی بیوی واپس آئیں تو انہوں نے آرام کرنے کے بجائے فوراً ہی کھانا پکایا اور اپنے شوہر کو کھلایا۔ انہوں نے یہ طے کر رکھا تھا کہ برتن اور باورچی خانہ صاف کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ اس دوران بیوی اپنے کمرے میں بیٹھی اخبار پڑھتی رہتیں۔ وہیں سے وہ آواز لگاتیں۔ ’’پلیز ، میرے لیے کافی کا ایک کپ بھی بنا دیجیے۔‘‘

    مسٹر چوسہ پہر کو کافی نہیں پیتے تھے۔ البتہ رات کے کھانے کے بعد وہ دونوں مل کر کافی پیتے تھے۔ اگر وہ برتن بھی دھوتے ہوتے تو بیوی کی آواز پر سب کچھ چھوڑ دیتے۔ کبھی کبھی وہ طعنہ بھی دیتے کہ وہ بیوی کے لیے خاص کافی بنا کر لائے ہیں۔ وہ مذاق کرتے کہ اگر لوگ دیکھ لیں تو سمجھیں گے کہ تم کمائی کرکے لاتی ہو۔ اس پر وہ سوال کرتیں۔’’کن لوگوں کی بات کرتے ہو؟‘‘

    گھنٹے نے چار بجائے تو مسٹر چو گھبرا گئے کہ بیوی واپس آتی ہو گی۔ اس عمر میں بھی ان کی بیوی اونچی ایڑی کے پمپ پہنتی تھیں۔ وہ چلتیں تو ان کے جوتوں سے ایسی آواز آتی جیسے نوجوان لڑکی چل رہی ہو۔ مسٹر چو کا کمرہ بیرونی لان کے رخ پر تھا۔ لان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک حصے میں پھول لگے تھے اور دوسرے حصے میں ترکاریاں۔ وہاں کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ صرف گل داؤدی کے پودے رہ گئے تھے جو شروع کی برف باری میں بھی زندہ رہتے تھے۔

    پورا لان خالی تھا صرف وہ پتھر نظرآتے تھے جو راستہ چلنے کے لیے لگائے گئے تھے۔ یہ پتھر پھولوں اور ترکاریوں کی کیاریوں کے درمیان لگے تھے۔ مسٹر چو نے جب بوائلر سسٹم لگایا تھا تو پرانا سسٹم بے کار ہو گیا تھا۔ اس لیے انہوں نے وہ پتھر یہاں لگا لیے تھے۔ یہ پتھر صرف آنکھوں کو ہی اچھے نہیں لگتے تھے بلکہ ان پر چلنے کی آواز کانوں کو بھی بھلی لگتی تھی۔

    جب ان کی بیوی ان پر چلتیں تو ان کی چاپ بہت اچھی لگتی تھی۔ ان کی چال ابھی تک ویسی ہی تھی جیسی بیس سال کی عمر میں تھی۔ اپنے ہنی مون کے دوران بھی وہ ایلیمنٹری سکول میں پڑھاتی رہی تھیں۔

    وہ تھیں تو نئے زمانے کی مگر جب وہ ساتھ ساتھ کہیں جاتے تو وہ پرانے زمانے کی عورتوں کی طرح ان سے چند قدم پیچھے چلتی تھیں۔ پیچھے چلنے والی بیوی کے قدم، فخریہ، آزادانہ اور مضبوط ہوتے تھے ۔ وہ فرماں بردار بیوی کے قدم نہیں ہوتے تھے۔

    اب بھی ان کی بیوی کے قدموں کی چاپ بڑی پراعتماد  ہوتی تھی۔ یہ چاپ انہیں بہت پسند تھی۔ پرانے زمانے کے سکالر کی طرح جو اپنے گھر کے سامنے پولیوناپیڑ لگاتے تھے تاکہ وہ اس کے پتوں پر پڑنے والی بوندوں کی رم جھم سن سکیں۔

    اگر وہ مسٹر چو کے اس شوق کا سنتے تو وہ ان کا مذاق اڑاتے کہ انہوں نے اپنے لان میں پتھر اس لیے لگائے ہیں کہ اپنی بیوی کی اونچی ایڑی کی چاپ سن سکیں۔ ان کی بیوی باہر سے واپس آتیں تو مسٹر چو ان کے جوتوں کی آواز سن کر خوش ہو جاتے۔ وہ کھڑکی کے سلائیڈنگ پٹ کھولتے اور اپنی بیوی کے جسم کا اوپر کا حصہ دیکھتے۔

    مسز چو فخر کے ساتھ سر اونچا کیے ہوئے چلتیں جیسے کوئی ان دیکھی ڈور پیچھے سے ان کے کان کھینچ رہی ہے۔ وہ فطری طور پر سر اونچا کرکے ایسے چلتی تھیں جیسے پر اعتماد ماڈل۔ مسٹر چو کے لیے یہ نہایت فخر کی بات تھی کہ ان کی بیوی لباس کی پروا کیے بغیرہی ایسی بااعتماد نظر آتی تھیں کہ انہیں  دیکھ کر خوشی ہوتی تھی۔

    اپنی بیوی کے قدموں کی چاپ سن کر مسٹر چو کا سر بھی فخر سے اونچا ہو جاتا اور وہ سوچتے کہ انہوں نے انہیں اتنا آرام اور ایسی آسائش مہیا نہیں کیں جس کی وہ حق دار تھیں۔ ان کی بیوی نے بھی کبھی ان سے زیادہ فرمائش نہیں کی۔ ابھی پچھلے دنوں ہی انہیں احساس ہوا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو خوش رکھنے کے لیے تمام سہولتیں مہیا نہیں کر سکے۔ ان کے لیے یہ خیال سوہان روح بن گیا تھا کہ ان کی بیوی کی زندگی میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جن کے ذمہ دار وہ نہیں ہیں۔

    چڑیاں ابھی واپس نہیں آئی تھیں۔ کیا وہ اپنی مرضی سے اڑتی ہیں؟ ہو سکتا ہے کوئی خطرناک جانور انہیں ڈراتا ہو اور وہ اس کے ڈر سے اڑ جاتی ہوں۔ مگر پھر یہ خیال انہوں نے جھٹک دیا۔ وہ جنگل اور اس کے پیڑوں کو خوب جانتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ بھیڑیا تو دور کی بات ہے وہاں تو انہوں نے کبھی خرگوش تک نہیں دیکھا ۔ اگر وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اگلے لمحے ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے تو وہ چڑیوں کی زندگی کے بارے میں کیسے کہہ سکتے ہیں۔

    مسٹر چو کے گھر میں کئی بیڈ روم تھے۔ بلکہ اصل میں تو تین ہی تھے۔ ماسٹر بیڈ روم، دوسرا بیڈ روم اور فالتو بیڈ روم مسٹر چو نے اندر کی دیوار گرا دی تھی جس سے ایک بڑا کمرہ بن گیا تھا جسے انہوں نے اپنے مطالعے کا کمرہ بنا لیا تھا۔ اس تبدیلی سے ان کی بیوی کو غصہ آگیا تھا۔ وہ بھی ایک الگ کمرہ چاہتی تھیں۔

    اگر مطالعے کا کمرہ شوہر کا کمرہ ہے تو اصل بیڈ روم بیوی کا کمرہ ہے۔ مسٹر چو نے یہ دلیل پیش کی۔ لیکن مسز چو کا کچھ اور ہی خیال تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل بیڈ روم پورے خاندان کے لیے ہوتا ہے۔ یہ بات مسٹر چو کی سمجھ میں آگئی۔ مسٹر چو نے اپنے گھر کے سب سے گرم حصے میں وہ دیوان رکھا تھا جو انہیں ان کی بیٹی نے تحفے میں دیا تھا۔ یہ دیوان انہیں بہت پسند تھا۔ وہ دن کا بیشتر حصہ اس پر ہی گزارتے تھے۔ اپنے کمرے میں وہ اتفاق سے ہی سوتے تھے۔ اصل کمرے میں سونے سے ان کی طبیعت بحال ہو جاتی تھی اور وہ صبح کو خوش خوش اٹھتے تھے۔ وہ اپنے کپڑے بھی بڑے کمرے میں ہی بدلتے تھے۔ جب انہوں نے اپنا باورچی خانہ بنایا تھا تو وہاں ناشتے کی میز بھی لگا دی تھی۔ لیکن انہیں اور ان کی بیوی کو اونچے سٹول پر بیٹھ کر کھانے کی عادت نہیں تھی۔ وہ چھوٹی تپائی بڑے کمرے میں لے آئے جہاں وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔

    کوئی بہت ہی ضروری کام ہوتا تو مسز چو اپنے شوہر کے کمرے میں جاتی تھیں۔ اگر وہ ان کے لیے جاپانی پھل یا جن سینگ بھی لے کر جاتیں تو پہلے سلائیڈنگ دروازے کے پاس کھڑے ہو کر اپنے آنے کی اطلاع دیتیں۔ لیکن مسٹر چو کی مرضی تھی وہ جب بھی چاہتے اور جہاں بھی چاہتے آزادی کے ساتھ آتے جاتے تھے۔ وہ بڑے کمرے کو صرف اپنی بیوی کے لیے مخصوص نہیں سمجھتے تھے۔ کوئی ان کا خیال تبدیل بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے ان کی بیوی نے فیصلہ کیا کہ انہیں بس اپنے لیے ایک کمرہ مخصوص کرنا چاہیے خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا سا کمرہ ہو، اس کمرے میں ان کے شوہر کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

    دوسرا کمرہ کسی کا نہیں تھا۔ وہ دراصل مہمانوں کا کمرہ تھا۔ مگر ان کے ہاں اتفاق سے ہی کوئی مہمان آتا تھا۔ ان کے بچے اپنے گھر رہتے تھے۔ لیکن وہ کمرہ ہر وقت تیار رہتا تھا کہ شاید ان میں سے کوئی آجائے۔ اب ان کے بچے ان کے معزز مہمان بن گئے تھے۔

    مسز چو مہمانوں کا کمرہ ہر وقت صاف ستھرا رکھتیں۔ وہ اپنے بچوں کے لیے کلوزٹ میں ساٹن کی چادریں رکھتیں۔ شادی سے پہلے ان کے بچوں کو جو بھی چیزیں پسند تھیں، جیسے ان کی کتابیں اور کھیلوں کی چیزیں وہ سب حفاظت کے ساتھ رکھی گئی تھیں۔ حتیٰ کہ بچوں نے جو چیزیں پھینک دی تھیں وہ بھی سنبھال کر رکھ لی گئی تھیں۔ ہر چیز اپنی اپنی جگہ سنبھال کر رکھی گئی تھی۔ بچوں سے ان کی محبت کا ثبوت یہ تھا کہ وہ کمرہ اور اس کی تمام چیزیں ہر روز صاف کی جاتی تھیں۔

    اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے مسٹر چو کو ایک اور کمرہ بنانا پڑا تھا۔ وہ صرف بیوی کے لیے تھا۔ خوش قسمتی سے باورچی خانہ ان کی ضرورت سے بھی بڑا تھا۔ یہ مکان اس وقت بنایا گیا تھا جب لوگ قریب کی پہاڑی سے ایندھن کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرتے تھے۔ اس لیے باورچی خانے کا ایک حصہ لکڑیاں رکھنے کے لیے تھا۔ مسٹر چو نے اس جگہ کو بھی چھوٹے سے کمرے میں تبدیل کر دیا تھا۔ بیوی کے کہنے پر انہوں نے وہاں دروازہ بھی لگا دیا تھا کہ اندر آنے سے پہلے دستک دی جائے۔ اندھیرا دور کرنے کے لیے اس کمرے میں ایک کھڑکی بھی لگا دی گئی تھی جو پچھلے صحن کی طرف کھلتی تھی، یہ کمرہ واقعی بہت چھوٹا تھا۔

    جب سے انہوں نے بیوی کے لیے یہ کمرہ بنایا تھا انہیں اس کا دروازہ کھٹ کھٹانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی تھی۔ انہیں بیوی سے کوئی کام ہوتا تو وہ اپنے کمرے میں ہی نہیں ہوتی  تھیں۔ مسٹر چو کو شبہ تھا کہ ان کی بیوی نے اپنے کمرے کے لیے اس لیے ضد کی تھی کہ مسٹر چو نے اپنے لیے الگ کمرہ بنایا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ بیوی کو اس کمرے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ ایک دن بیوی گھر سے باہر تھیں تو مسٹر  چو نے ان کے کمرے کا دروازہ سرکایا۔ ان کا خیال اندر جھانکنے کا نہیں تھا۔ وہ تو یہ دیکھ رہے تھے کہ دروازہ پر تالا پڑا ہوا ہے یا نہیں۔ ان کی بیوی نے جب اپنے کمرے کا دروازہ لگانے کی فرمائش کی تھی تو انہوں نے دروازے پر ایسا قفل لگادیا تھا جسے اندر اور باہر سے کھولا اور بند کیا جا سکے۔

    دروازہ آرام سے کھل گیا۔ کمرہ بہت ہی سادہ اور اجڑا اجڑاسا تھا۔ دروازے کے ساتھ والی کھڑکی پرپردہ بھی نہیں تھا۔ کھڑکی سے ان کا پچھلا صحن اور ہمسائے کے گھر کی دیوارکا بیرونی حصہ اندھیرے میں گھرا ہوا نظر آ رہا تھا۔

    کمرے میں فرنیچر کے نام پر صرف کپڑوں کی ایک بدشکل چھوٹی سی الماری تھی۔  الماری کے ساتھ دیوار پر صلیب لٹکی ہوئی تھی اور الماری کے اوپر بائیبل اور حضرت مریم کا چھوٹا سا مجسمہ رکھا ہوا تھا۔ ان کی بیوی کچھ زیادہ مذہبی نہیں تھیں۔ کئی سال پہلے ان کے ایک دوست نے انہیں بپتسمہ دلایا تھا مگر وہ کبھی کبھی ہی چرچ جاتی تھیں۔ مسٹر چو کو ان باتوں کا کوئی شوق نہیں تھا۔ وہ اپنی بیوی کا مذاق اڑاتے کہ اگر چرچ نہ جانا تھا تو بپتسمہ ہی کیوں لیا۔

    مسز چو کے بپتسمہ لینے پر ان کی گاڈ مدر نے تحفے میں حضرت مریم کا مجسمہ دیا تھا جو کمرے میں رکھ دیا گیا تھا۔ مسٹر چو نے اپنی بیوی کو ان کی عبادت کرتے کبھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے سوچا کہ ان کی بیوی کو آرائش کے لیے کچھ چیزیں چاہئیں تھیں اور انہوں نے یہ یہاں رکھ لیں۔ یہ سوچ کر انہیں بیوی پر ترس آیا۔ ان کا ارادہ کمرے میں جانے کا نہیں تھا ۔ لیکن ابھی وہ دروازہ بند ہی کر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک عجیب سی چیز پر پڑی اور وہ چونک گئے۔ صندق پر دو موم بتیاں رکھی تھیں اور وہ ہولڈر پر نہیں تھیں۔

    یہ موم بتیاں اس سال ایسٹر پر لگائی گئی تھیں۔ طویل عرصے بعد ان کی بیوی چرچ گئی تھیں، وہ وہاں سے لائی تھیں۔ اور اپنے ہینڈ بیگ سے عبادت کی شال نکالی تھی۔ وہ اپنے ساتھ ایک بڑا سا بنڈل بھی لائی تھیں۔ اس وقت مسٹر چو کو بھوک لگ رہی تھی ۔وہ سمجھے ان کی بیوی کھانے کی کوئی چیز لائی ہیں اسی لیے انہوں نے وہ بنڈل کھول کر دیکھا تھا۔ مگر اس میں سے دو اتنی موٹی موٹی  موم بتیاں نکلی تھیں جیسے کسی بچے کا بازو۔

    ’’انہوں نے تمہیں موم بتیوں کی جگہ کھانے کی کوئی چیز نہیں دی؟‘‘ انہوں نے کہا تھا۔

    ’’کیا مطلب ہے تمہارا، یہ میں نے خریدی ہیں۔ تمہارے کھانے کے لیے یہ ہے۔‘‘ ان کی بیوی نے کہا تھا۔

    ان کی بیوی نے چاندی کی پنی میں لپٹا ہوا ایک پیکٹ نکالا۔ اس میں انڈے تھے۔

    ’’تم نے موم بتیاں کیوں خریدیں؟ اب تو پہلے کی طرح بجلی بھی نہیں جاتی۔ کتنا خرچ کر دیا ان پر؟‘‘

    ’’ایک موم بتی کے ایک ہزار وان۔‘‘ ان کی بیوی نے کہا۔

    ’’بہت مہنگی ہیں۔‘‘

    ’’چرچ فروخت کر رہا تھا۔ مجھے یقین ہے اس سے جو منافع ہو گا وہ نیک کام پر ہی صرف ہو گا۔‘‘

    ’’یہ انڈے بھی تم نے ہی خریدے ہوں گے؟‘‘

    ’’ہاں میں نے ہی خریدے ہیں۔ پاگل ہو گئے ہو۔ آج کل مفت کیا ملتا ہے۔‘‘

    ان کی بیوی نے آہستہ آہستہ موم بتیاں نکالتے ہوئے کہا تھا۔

    صندوق پر رکھی ہوئی موم بتیوں کی یہ تاریخ تھی۔

    بیوی نے تو نہیں بتایا تھا لیکن مسٹر چو جانتے تھے کہ یہ موم بتیاں متبرک ہیں۔ اس لیے انہیں یہ دیکھ کر کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ وہ صلیب کے نیچے حضرت مریم کے مجسمے کے سامنے رکھی ہوئی تھیں۔ انہیں علم نہیں تھا کہ وہ موم بتیاں کب جلائی گئیں۔ لیکن وہ انگوٹھے برابر رہ گئی تھیں۔ وہ انہیں دیکھ کر گھبرا گئے جیسے وہ اپنی بیوی کی نجی زندگی میں مخل ہو رہے ہوں۔ شرم سے ان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ لیکن وہ معلوم کرنے کو بے چین تھے کہ ان کی بیوی بند کمرے میں ان بتیوں کے ساتھ کیا کرتی ہے۔

    اس کے بعد مسٹر چو اپنی بیوی کی ایک ایک حرکت کی نگرانی کرنے لگے۔ ایک رات انہوں نے پچھلے صحن سے بیوی کے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو ان کی بیوی فرش پر جھکی بیٹھی تھیں اور خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں مانگ رہی تھیں۔ دونوں موم بتیاں جل رہی تھیں۔ باہر اندھیرا  تھا اس لیے انہیں چھپنے کی ضرورت نہیں تھی۔ انہیں اس لڑکی کی تصویر یاد آگئی جو انہوں نے شہر میں چلنے والی بسوں پر دیکھی تھی اور جس پر لکھا ہوتا تھا:

    ’’سب کی حفاظت‘‘۔ وہ لڑکی بھی عبادت کر رہی ہوتی تھی۔ انہوں نے مختلف زاویوں سے اپنی بیوی کو دیکھا اور سوچا کہ خواہ کسی انداز سے کوئی انسان عبادت کر رہا ہو وہ خوبصورت لگتا ہے۔

    ان کی بیوی نہ تو مسکرا رہی تھیں اور نہ رو رہی تھیں۔ وہ بہت ہی اذیت میں نظر آرہی تھیں۔ وہ نہایت بے رحمی کے ساتھ پھاڑی ہوئی تصویر کا حصہ معلوم ہو رہی تھیں۔ وہ اس وقت حلم و انکسار کا مکمل نمونہ بنی ہوئی تھیں۔

    آخر ان سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوا ہے جو وہ اتنی عقیدت کے ساتھ عبادت میں کھوئی ہوئی ہیں؟ انہیں مریم کا مجمسہ یا صلیب تو نظر نہیں آرہی تھیں مگر انہیں یقین تھا کہ ان کی بیوی کا یہ انہماک دیکھ کر خدا نے بھی اپنی نظریں چرا لی ہوں گی۔

    بیوی کا غمزدہ چہرہ دیکھ کر انہیں خیال آیا کہ شاید وہ مالی پریشانیوں کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہو۔ یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی نوجوان کے ساتھ پھنس گئی ہوں۔ اور اب وہ انہیں بلیک میل کر رہا ہو۔

    اس رات مسٹر چو ایک منٹ کے لیے نہیں سوئے۔ صبح کو بھی ان کے دماغ پر اپنی بیوی کا غمزدہ چہرہ ہی چھایا رہا۔ اور وہ پریشان رہے۔ انہیں یہ بھی عجیب سا لگا کہ صبح کو ان کی بیوی کا چہرہ اپنی اصلی حالت میں آگیا تھا۔

    مسٹر چو اپنی بیوی کی یہ دوہری شخصیت برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ آخر موقع پا کر انہوں نے سگریٹ سلگایا۔ ان کی بیوی ان کی سگریٹ نوشی بالکل پسند نہیں کرتی تھیں۔ پہلے وہ ایک دن میں پورا پیکٹ پی جاتے تھے۔ اب بیوی کے اصرار پر انہوں نے دن میں صرف پانچ سگریٹ پینا شروع کر دیے تھے۔ وہ ڈرتے تھے کہ وہ ان کے سگریٹ بالکل ہی چھڑوا دیں گی۔ جب بھی وہ سگریٹ پیتے ان کی بیوی کھانسناکھنکارنا شروع کر دیتیں۔

    ’’تم اپنے الگ کمرہ کے لیے ضد کرتی تھیں۔ اب دیکھو وہ کمرہ تو استعمال ہی نہیں کرتیں۔ میں اگر اسے اپنے سگریٹ پینے کے لیے استعمال کرلوں تو تمہارا کیا خیال ہے؟ ‘‘مسٹر چو نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے شرارتاً کہا۔

    ’’خبردار ، میرا کمرہ سگریٹ پینے کے لیے استعمال نہ کرنا اور تم نے یہ کیسے سوچا کہ میں وہ کمرہ استعمال نہیں کرتی۔ وہ میرا عبادت کا کمرہ ہے۔‘‘ بیوی نے کہا۔

    ’’عبادت کا کمرہ؟ یعنی تم عبادت کرتی ہو؟ تم ، جو مہینے میں ایک بار ہی چرچ جاتی ہو؟‘‘

    ’’تمہیں حیرت کیوں ہوئی میری عبادت پر؟‘‘

    مسٹر چو کو خیال نہیں تھا کہ ان کی بیوی اپنی عبادت چھپانے کے بجائے اس طرح کھلم کھلا اس کا اعلان کر رہی ہیں۔ بہرحال مسٹر چو چاہتے تھے کہ اپنی بیوی کی عبادت کے بارے میں اور بھی معلومات حاصل کریں۔ انہوں نے پہلے سے سوچ رکھا تھا کہ وہ ان موم بتیوں کا راز معلوم کریں گے جو اب انگوٹھے برابر رہ گئی تھیں۔

    ’’وہ تم نے ایسٹر پر خریدی تھیں نا؟ اس کا مطلب ہے کہ تم انہیں جلاتی رہی ہو جس سے وہ اتنی سی رہ گئی ہیں۔‘‘

    ’’ہاں، ایسا ہی ہے۔‘‘

    مسٹر چو کو کچھ پریشانی سی ہوئی۔ بیوی کے چہرے پر کوئی پریشانی نہیں تھی۔ ’’تم کاہے کے لیے دعائیں مانگتی ہو؟ تمہیں تکلیف کیا ہے؟ کیا تم مجھے نہیں بتاؤ گی؟ میں تمہارا شوہر ہوں۔‘‘

    ’’موت اور زندگی انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔‘‘ بیوی نے کہا۔

    ’’کیا عجیب بات کی ہے۔ تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ ہم میں سے کسی کو ناقابل علاج بیماری ہے؟ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘

    ’’نہیں، میرا یہ مطلب نہیں ہے۔ میری دعائیں صرف میری ایک خواہش کے لیے ہوتی ہیں۔ میں دعا کرتی ہوں کہ میرے خاندان کے لوگ اپنی عمر کے حساب سے مریں۔‘‘

    ’’عمر کے حساب سے؟‘‘ مسٹر چو بولے۔

    ’’ہاں، میں دعا کرتی ہوں اپنے بچوں کے لیے، اور ان کے بچوں کے لیے کہ انہیں اپنی عمر کے حساب سے موت آئے۔ تم اندازہ نہیں کر سکتے کہ میں کتنا گڑگڑا کر دعائیں مانگتی ہوں۔ میں نے اور کچھ کبھی نہیں مانگا۔ میں یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی کہ میں بہت لالچی ہوں۔ میں دعا مانگتی ہوں۔ خدا کی خوشامد کرتی ہوں۔ اسے راضی کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘‘

    اس کا مطلب ہے کہ مسٹر چو نے بیوی کے کمرے میں جو دیکھا وہ کوئی خفیہ چیز نہیں تھی۔ وہ ان سے کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتی تھیں۔ بیوی کی زندگی میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جو چھپی ہوئی ہو البتہ مسٹر چو جو آرام دہ زندگی گزار رہے تھے اس کی وجہ سے ان کی نظر ادھر نہیں گئی تھی۔ وہ اس عبادت کا مقصد نہیں سمجھ سکتے تھے۔

    جب ان کی شادی ہوئی تو ان کی بیوی کے خاندانوں میں سب بوڑھے بوڑھے ہی تھے۔ ان کے جوان بیٹے اور بیٹیاں مر چکی تھیں اس لیے جوان بہوئیں گھر بیٹھی تھیں۔ انہیں بتایا گیاتھا کہ ان کے سسر کا انتقال جاپانی قبضے کے آخری دنوں میں ہوا تھا جب ان کے گاؤں پر بمباری ہوئی تھی۔ ان کا سالا جو فوج میں تھا کوریا کی جنگ میں مر گیا تھا۔ جو بوڑھے لوگ بچے تھے ان میں ان کی بیوی کے دادا دادی تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹوں اور پوتوں کو باہر بھیج دیا تھا۔ ان کی ساس اور سالے کی بیوی دونوں بیوہ تھے۔

    سالے کی بیوی اپنی شادی کی پہلی سالگرہ منانے سے پہلے ہی بیوہ ہو گئی تھی۔ وہ مسٹر چو کی بیوی کی ہی عمر کی تھی۔ شوہر کی موت کے بعد اس کے بیٹا پیدا ہوا تھا۔ مسٹر چو کی بیوی جب بھی اپنی بھابھی کی جوانی دیکھتیں تو انہیں بہت صدمہ ہوتا۔جنگ کے دوران اکثر بوڑھے لوگ اپنے بیٹوں اور پوتوں سے محروم ہو گئے تھے۔ یہ اچانک ہوا تھا اور اس صورت حال کو سب نے قبول کر لیا تھا۔

    البتہ مسز چو پر اس کا بہت برا اثر ہوا تھا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی ان کے خاندان میں اچانک موتیں ہوتی رہیں۔ ان کی ساس کا اس وقت انتقال ہوا جب وہ ابھی پچاس سال کی بھی نہیں تھیں۔ دوسرے سال مسز چو کے دادا اپنی اسی سالگرہ پر انتقال کر گئے۔

    مسز چو اپنی ماں کے اچانک انتقال پر ایسی خاموش اور پر سکون تھیں کہ لوگ حیران رہ گئے تھے۔ ہاں، وہ اپنے نانا کے انتقال پر خوب روئی تھیں۔ وہ رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں ’’نانا، اگر آپ ایک سال پہلے انتقال کرتے تو اچھا ہوتا۔ اب آپ ہمیں کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟‘‘

    یہ کیسے بیہودہ بین ہیں؟ مسٹر چو واقعی پریشان ہو گئے تھے، اپنی بیوی کے اس طرح کے بین پر انہیں فکر بھی ہو گئی تھی۔ خاص طورسے انہیں اس بات پر حیرت تھی کہ ان کی بیوی کی پریشانی یہ ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے انتقال کے بعد ایک سال زندہ رہے۔ اس وقت تو مسٹر چو بہت حیران ہوئے تھے لیکن اب انہیں خیال آیا کہ دراصل ان کی بیوی کی پریشانی یہ تھی کہ ان کے خاندان کے لوگ  اپنی عمر کے حساب سے نہیں مرے۔ اب انہیں اپنی بیوی سے ہمدردی ہوئی اور ان پر ترس آیا۔

    اس کے بعد عمر کے حساب کے بغیر موت نے ان کی بیوی کے خاندان کے دروازے پر دستک نہیں دی۔ ان کا بھتیجا جو باپ کی موت کے بعد پیدا ہوا تھا، اب ایک بہت ہی کامیاب انسان تھا اور اس نے ہی سارے خاندان کو اکٹھا کر رکھا تھا۔ مسٹر چو کا خیال تھا کہ صرف ان کی بیوی ہی ہیں جو ابھی تک ماضی کے صدموں سے چور ہیں۔ کبھی کبھی وہ پرانا کپڑا یا بدھ کی وہ مورتی نکالتیں جو انہوں نے اپنے سکولوں کے زمانے میں بنائی تھی۔ جب بھی وہ اپنے بچپن کی چیزیں دیکھتیں افسردہ ہو جاتیں۔ اور پرانی یادوں میں کھو جاتیں اور اپنے اردگرد سے بے نیاز ہو جاتیں۔ اس وقت مسٹر چو انہیں اکیلا چھوڑ دیتے۔ وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنی بیوی کی اس دلی تکلیف کے ذمہ دار نہیں ہیں اور نہ وہ اسے دور کر سکتے ہیں۔ وہ صرف ترس ہی کھا سکتے تھے۔

    وہ اپنے خیالوں سے باہر آئے جب انہوں نے باہر پتھروں پر اپنی بیوی کے جوتوں کی کھٹ پٹ سنی۔ بچے کی طرح خوش ہو کر انہوں نے اپنا دروازہ کھولا۔ وہ صحت مند نظر آرہی تھیں، اگرچہ وہ ظاہر یہ کر رہی تھیں کہ وہ بہت تھکی ہوئی ہیں۔ یہ ان کی عادت تھی کہ جب بھی بازار سے آتیں تو تھکی تھکی دکھائی دیتیں۔

    ’’مجھے کیا دیکھ رہے ہو۔ یہاں آ کر تھیلا پکڑو‘‘ انہوں نے کہا۔ مسٹر چو فوراً کھڑے ہو گئے اور صحن میں جا کر کپڑے کا تھیلا اٹھا لیا۔

    ’’اتنی بہت سی چیزیں خرید لائیں؟‘‘ مسٹر چو نے کہا۔ ’’میری کچھ دوست مارکیٹ جا رہی تھیں، میں بھی ان کے ساتھ چلی گئی۔ میں نے کچھ پھل، مچھلی اور تازہ جین سن خریدا ہے۔ بازار بہت ہی بڑا ہے۔ میں وہاں  بیس ’’لی‘‘ تو پیدل چلی ہوں گی۔‘‘

    ’??