غربت جو چوری کر لی گئی
انگریزی ترجمہ: ہیون جاے ای سیلی/ اردو ترجمہ: مسعود اشعر
اب پھر مجھے سانگ ہون کی حرکت اچھی نہیں لگی۔ میں نے ہانڈی کا ڈھکن اٹھایا تو دوسرے مسالوں کے باوجود ٹوفو کے سلائس پر صرف ایک بڑی سی انچوی مچھلی رکھی دکھائی دی۔ سانگ ہون نے بھی یہ دیکھا۔
’’تم نے اس کم بخت مچھلی کا سر پھینکا کیوں نہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’انچوی مچھلی کی آنکھ دیکھ کر تو کراہت ہوتی ہے۔‘‘ وہ بھنویں سکیڑ کر بڑی نرمی سے بول رہا تھا۔
میں نے اس کی اس بات کو نظرانداز کیا اور محض اسے دکھانے کے لیے اسی وقت مچھلی کے سر کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اپنے منہ میں ڈال لیا۔ پھر مزے لے لے کر چبانے لگی۔ ’’تمہیں معلوم نہیں اس کے سر میں زیادہ غذائیت ہوتی ہے۔‘‘ میں نے اسے چڑایا۔
اگر انچوی بہت زیادہ بڑی بھی ہو تب بھی وہ انچوی ہی ہوتی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس معمولی سی آنکھ کے لیے اتنا ہنگامہ کیوں کر رہا ہے۔ آخر کیوں؟ وہ تو سرسوں کے بیج کے برابر ہی تھی۔ سانگ ہون کی حرکت سے مجھے نہ صرف متلی سی ہونے لگی تھی بلکہ مجھے پریشانی اور بے چینی بھی ہو گئی تھی۔
میں نے اپنی نا پسندیدگی ظاہر کرنے کے لیے اسے گھور کر دیکھا۔ مگر سانگ ہون نے اس کی پروا نہیں کی۔ بلکہ الٹا اس نے مچھلیاں نکال نکال کر کھانا شروع کر دیں۔ وہ ٹوفو کے سلائس اور شلجم کے پتے ایک طرف رکھتا جاتا تھا۔
’’اوہو، کسی بھی انچوی کی آنکھ بند نہیں ہے۔‘‘
’’اس لیے کہ وہ وقت سے پہلے مر گئی تھیں‘‘ میں نے کہا۔
’’اگر ایسا ہوتا تو اعلیٰ قسم کی مچھلیاں جیسے سی بریم یا کوڈ بھی کھلی آنکھوں کے ساتھ ہی مرتیں۔‘‘
’’وہ ایسے ہی مرتی ہیں ۔ خیر چھوڑو، ان کے بارے میں باتیں کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ پھر ہم دونوں ہنسے اور اپنا ناشتہ ختم کیا۔
’’ہوں...... تو تمہیں ایک عورت کے ساتھ رہنا اچھا لگتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہاں ہاں، اچھا لگتا ہے۔ مگر تمہیں اس چھوٹے سے کمرے میں تکلیف نہیں ہوتی؟‘‘
میں نے اسے سمجھایا کہ اس علاقے میں پانچ چھ افراد کا خاندان آسانی سے اتنے بڑے کمرے میں رہ سکتا ہے۔ پھر میں نے ایک ایک چیز کا حساب لگا کر بتایا کہ مل جل کر رہنے سے ہم کتنی رقم بچا لیتے ہیں۔ میں اسے جب بھی یہ بتاتی کہ ہم اس طرح کتنا بچا رہے ہیں تو مجھے بہت ہی خوشی محسوس ہوتی اور لگتا جیسے میں ہوا میں اڑی جا رہی ہوں۔ پہلے تو یہ کہ ہم اپنے سب سے بڑے خرچ یعنی کرائے کی مد میں چار ہزار وان بچا رہے ہیں، پھر ایندھن ، کوئلے، کھانے پینے کی چیزوں اور مسالوں کے خرچ میں بھی بچت ہو رہی ہے۔ اور اگر میں ایک ایک کرکے کم خرچ والی چیزوں کی فہرست بنانا شروع کرتی تو اس کا کوئی حد و حساب ہی نہ ہوتا۔ میں نے بجلی، پانی اور سیوریج کے بلوں میں ہونے والی اس بچت کا ذکر تو کیا جو اکٹھا رہنے کی وجہ سے ہو رہی ہے، مگر میں جان بوجھ کر سب سے اہم بات بالکل ہی گول کر گئی۔ اور وہ بات یہ تھی کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔
یہی وہ سب سے اہم وجہ تھی جس کی بنا پر ہم دونوں ابھی تک اکٹھے رہ رہے تھے۔ مگر میں ہمیشہ اس کا ذکر کرنے سے گریز کرتی تھی۔ دراصل میں اتنی شرمیلی تھی کہ میری زبان پر یہ بات آتی ہی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ میں یہ بھی چاہتی تھی کہ سانگ ہون خود ہی اپنے منہ سے وہ خاص جملہ بولے کہ ’’ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔‘‘ اگرچہ یہ تجویز میری ہی تھی کہ ہم دونوں اکٹھے رہیں، اس کے باوجود میں یہ الفاظ اپنی زبان پر نہ لا سکی تھی۔ میں اتنی ڈھیٹ ضرور تھی کہ میں نے زیادہ سوچ بچار کیے بغیر ہی اس سے کہہ دیا تھا کہ دو کمروں کے بجائے ہم ایک ہی کمرے میں رہیں گے اور کمرہ گرم کرنے والے ایندھن کے چار حصوں کے بجائے دو حصوں پر ہی گزارا کر لیں گے تاکہ ہم روزانہ کوئلے وغیرہ کا آدھا یا ایک حصہ بچا لیں۔ اور پھر ہم ایک ہی کمبل میں ایک دوسرے کے ساتھ چمٹ کر سوئیں گے بھی۔ یہ سب تو میں نے کہہ دیا تھا، مگر وہ خاص فقرہ نہیں بول سکی تھی۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ میں یہ کہنا نہیں چاہتی تھی، بلکہ میں چاہتی تھی کہ پہلے وہ یہ بات کہے ۔ میں اسی لیے خاص لمحے کا انتظار کر رہی تھی۔
میں نے سانگ ہون کے لیے لنچ بکس تیار کیا، اسے کام پر بھیجا اور اس کے بعد جلدی جلدی برتن دھوئے۔ سانگ ہون ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا جو مختلف دھاتوں کی پلیٹیں بناتی تھی۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ اس فیکٹری میں چاندی کی انگوٹھیوں کو نہایت مہارت سے سونے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اور نکل کے چمچوں اور چاپ سٹک کو چاندی میں بدل دیا جاتا ہے۔ میں نے اس سے کہا تھا کہ اصلی اور ملمع کی انگوٹھی میں کافی فرق ہوتا ہو گا۔ لیکن اس نے جواب دیا تھا کہ فیکٹری میں ایسی صفائی سے کام کیا جاتا ہے کہ بظاہر دیکھنے میں اصلی اور نقلی میں تمیز کرنا مشکل ہوتا ہے۔
جب میں نے برتن دھونا شروع کیے تو آس پاس کے چھ کمروں کی عورتیں بھی وہاں آگئیں۔ اور وہ بھی اسی کام میں لگ گئیں۔ سب عورتیں لکڑی کے تنگ سے برآمدے میں لگے شیلفوں پر برتن دھو رہی تھیں۔ یہ شیلف ہر کمرے کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ ایندھن کا چولہا اور برتن، جیسے بالٹیاں اور سوئے ساس کی بوتلیں ہم نے شیلف کے نیچے رکھ دی تھیں۔ اس طرح یہ چھوٹا سا برآمدہ بیک وقت برتنوں کی صفائی اور باورچی خانے دونوں کے کام آتا تھا۔ عمارت کے مالک نے یہ برائے نام کچن کرایہ داروں کے لیے لوہے کے گارڈروں اور دیوار کے درمیان محدود سی جگہ پر بنا رکھا تھا۔ اس سے پہلے جس جگہ سے آسمان کا تھوڑا سا حصہ نظر آتا ہو گا وہ چھپ گیا تھا۔ اس کھلی جگہ کو دیوار اور چھت نے بند کر دیا تھا۔ اسی طرح اس عارضی کچن میں تاریکی اور گھٹن سی پیدا ہو گئی تھی۔ جلتی ہوئی انگیٹھیوں اور کھانے پینے کی اشیاء سے پیدا ہونے والی سڑاند سے دم گھٹنے لگتا تھا۔ نمک او رمرچوں والی اشیاء کی بو اتنی تیز ہوتی تھی کہ اس جگہ گھستے ہی آنکھوں میں پانی آجاتا تھا۔ یہ بدبو کمروں، کپڑوں حتیٰ کہ بستروں میں بھی رچ بس چکی تھی، اور مجھے یقین تھا کہ میرے بدن سے بھی یہ بو آتی ہو گی۔
بہرحال میں نے اس بو سے نفرت کرنا یا شرم محسوس کرنا چھوڑ دیا تھا۔ البتہ میرے ماں باپ اور دو بڑے بھائی اس بدبو سے نفرت کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ بدبو برداشت کرنے سے تو مر جانا ہی بہتر ہے۔ اور آخر وہ مر گئے، اور مجھے تنہا چھوڑ گئے۔ میرے ماں باپ اور بھائی جو مجھے اکیلا چھوڑ گئے تھے ان کی اس افسوس ناک موت کا انتقام لینے کے لیے ہی میں نے یہ کوشش کی کہ میں اس بدبو کی عادی ہو جاؤں۔
میں خوب سمجھتی تھی کہ یہ سب عورتیں برتن دھوتے ہوئے مجھ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ وہ اس نوجوان کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین نظر آتیں جسے میں اپنے کمرے میں لے آئی تھی۔ مگر ان کی نیت بری نہیں معلوم ہوتی تھی۔ البتہ، ہماری قطار کے آخری کمرے میں رہنے والی بوڑھی عورت جس طرح باتیں بناتی تھی اور مجھے گھور گھور کر دیکھتی تھی اس سے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ مجھ سے کہنا چاہتی ہے کہ میں شادی کر لوں ، چاہے بہت سادگی سے ہی کروں ۔ مگر میں نے اس کی باتوں پر توجہ نہیں دی تھی۔ یوں تو میں شادی کی تقریب سے متعلق ان کی یہ تشویش بآسانی دور کر سکتی تھی۔ اور اس تقریب میں ان چھ آنٹیوں کو نوڈلز سوپ بھی پیش کر سکتی تھی، لیکن جب تک سانگ ہون یہ نہ کہے کہ وہ مجھے پسند کرتا ہے اس وقت تک یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ میں برتن دھو رہی تھی اور زور زور سے گا رہی تھی کہ کہیں وہ عورتیں مجھ سے باتیں نہ کرنے لگیں۔ مگر صرف دو آدمیوں کی پلیٹیں دھونے میں اتنا وقت بھی نہیں لگتا جتنا ’’ہرے بھرے میدان میں بنے ہوئے گھر کی تصویر‘‘ والے گیت کا ایک بول گانے میں۔ میری طرح دوسری کرایہ دار عورتوں نے بھی جلدی جلدی پلیٹیں دھو ڈالیں۔ انہیں کارخانوں یا ان ملازمتوں کی طرف بھاگنا تھا جو حکومت نے بے روزگار یا بے آسرا لوگوں کو دے رکھی تھیں۔
یہ ایک یخ بستہ صبح تھی اور سرد ہوا جسم میں چاقو کی طرح اتر رہی تھی۔ یہ ہوا سڑکوں کو ایسے چاٹ رہی تھی جیسے اس کی صفائی کر رہی ہو۔ ہوا کے تیز جھونکے انگیٹھیوں کی راکھ اور دوسرا کوڑا کرکٹ سڑک کنارے ڈھیر کی صورت میں اکٹھا کر دیتے تھے۔ یہ ڈھیر بگولے بن کر اڑ رہا تھا اور گردوغبار ہوا میں اڑ کر چاروں طرف پھیل رہا تھا۔ تیز ہوا سے میرے گال چٹخ رہے تھے اور ریت اور دھول میں سب کچھ دھندلا دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔ پہاڑی کی ڈھلان پر بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے مکانوں کی چھتوں پر لگی ٹین کی چادریں ہوا کے جھونکوں میں ایسے کھڑکھڑا رہی تھیں جیسے مڑی جا رہی ہوں۔
حالانکہ لوگوں نے اپنے چہرے مفلروں سے خوب ڈھانک رکھے تھے جس سے وہ خول میں چھپے کچھوے دکھائی دے رہے تھے، اور آنکھوں کے سوا ان کے چہرے کا کوئی بھی حصہ نظر نہیں آرہا تھا، جس سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ چور ہوں، پھر بھی وہ سب ایک دوسرے کو پہچان رہے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر روز سڑک پر اسی وقت ان کی ایک دوسرے کے ساتھ مڈبھیر ہوتی تھی۔ ایک عورت نے، جس کے ہاتھ میں بیلچہ تھا، میرے اوپر فقرہ کسا ’’سنا ہے تم آج کل خوب مزے اڑا رہی ہو!‘‘ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ پھٹے پرانے کپڑوں کی دبیز تہہ میں چھپی ہوئی تھی پھر بھی اس کے جسم سے جنسی لذت کی بو آرہی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے میں نے بچپن میں ایک جانور کو اس حالت میں دیکھا تھا۔ میں نے اس عورت کے بارے میں شرم، نفرت اور تجسس کے ملے جلے جذبات محسوس کیے۔ پھر مجھے یہ سوچ کر بے چینی سی ہونے لگی کہ سانگ ہون کے ساتھ میرے جو تعلقات ہیں ان کی وضاحت کیسے کی جا سکتی ہے۔ میں اس کے ساتھ رہتی ہوں، اس کے ساتھ سوتی ہوں۔ اس کا جواز صرف یہی پیش کیا جا سکتا ہے کہ اس طرح کوئلوں وغیرہ کی بچت ہو جاتی ہے۔
سردیوں کی اس صبح ہر چیز منجمد تھی، پھر بھی اس پہاڑی گاؤں کی ہر گلی میں تیز تیز چلنے پھرنے والے لوگ نظر آرہے تھے۔ ہر شخص پھرتیلا معلوم ہو رہا تھا جیسے بہار میں اگنے والے پودے جو زندگی کی توانائیوں سے بھرپور اوپر ہی اوپر بڑھتے چلے جارہے ہوں۔ میری ماں ان لوگوں کے اس عجیب سے پھرتیلے پن سے سخت نفرت کرتی تھی جو غربت کے پنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں پھر بھی جیے جا رہے ہیں۔ اپنی شکست مانتے ہی نہیں۔ ماں اکثر کہا کرتی تھی کہ یہ لوگ جس طرح معاشرے کو برا بھلا کہتے ہیں اور پھر بھی اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں، اس سے وہ تنگ آ چکی ہے۔ لیکن ماں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ یہ با ت زبان پر بھی لے آتی۔ اس نے اپنے شوہر اور بیٹوں کے دلوں میں بھی ایسی زندگی سے اتنی شدید نفرت بھر دی تھی کہ آخر انہوں نے بھی اس کے ساتھ ہی خودکشی کرلی۔ اور یوں انہوں نے اپنی غریبی ، اپنی بدنما موت کا منظر اور اس کی بدبو میرے اوپر مسلط کر دی۔ مرنے کے بعد ان کی آنکھیں بھی ایسے ہی کھلی ہوئی تھیں جیسے سالن میں پکی ہوئی انچوی مچھلی کی آنکھیں۔ لیکن میں نے اس غربت سے اپنائیت اور قربت محسوس کی جسے میرے ماں باپ اور بھائیوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور موت کو ترجیح دی تھی۔ اگرچہ میرا دل زخمی تھا اس کے باوجود مجھے زندگی کی مسرتوں کے احساس نے اپنے بازوؤں میں بھر رکھا تھا۔ میرے ماں باپ اور بھائی ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ وہ غربت سے نفرت کرتے ہیں مگر میں جانتی تھی کہ اصل میں وہ اس سے ڈرتے ہیں۔ جیسے جب میں بچی تھی تو میں نے بہادری دکھانے کی کوشش کی تھی۔ میں نے اپنا سینہ پھلایاتھا اور سیدھی پہاڑی کی ڈھلان سے دوڑتی ہوئی اترتی چلی گئی تھی۔
میں جس کارخانے میں کام کرتی تھی وہ محض نام کا کارخانہ تھا۔ کیونکہ وہ صرف ایک چھوٹا سا 36 مربع فٹ کا گرم فرش والا کمرہ تھا۔ وہاں مختلف سائز کے کپڑے کی کترنوں کا ڈھیر فرش پر پڑا ہوتا تھا۔ کھڑکی کے پاس تین سلائی مشینیں رکھی ہوئی تھیں۔ کارخانے کی مالکن نے کپڑے کے اوپر کپڑا رکھا، پھر اس پر ڈیزائن رکھا اور کاٹ دیا۔ پھر اس نے کٹائی بند کی، آنکھیں اٹھا کر مجھے دیکھا اور مسکرائی۔ میں نے اسے کپڑے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹتے دیکھا تو میرے دل کو کچھ ہونے لگا۔ لیکن بہرحال ایک گڑیا کو بھی کپڑوں کی ضرورت تو ہوتی ہے۔ ہمیں ان کے لیے نیکر، سکرٹ، بلاؤز اور بریزیئر تیار کرنا ہوتے تھے۔ گڑیا کے لباس پر بھی، جیبیں، اور بٹن لگانا اور کڑھائی کا کام کرنا ہوتا تھا۔ سکرٹ کے کناروں پر لیس لگانا بھی ضروری تھی۔ اور چونکہ یہ کام مختلف عورتوں میں تقسیم تھا اس لیے ایک گڑیا کا چھوٹا سا وارڈ روب تیار کرنے میں کئی ہاتھ لگتے تھے۔ میرے ذمے یہ کام تھا کہ آنٹی میرے لیے جو پیٹرن کاٹتی تھیں ان کی سلائی کردوں۔ میں نے لگاتار گڑیوں کے اتنے لباس سئے تھے کہ میں اپنے آپ کو کپڑے سینے والی وہ کنیز سمجھنے لگی تھی جسے بونوں کے دیس میں قید کر دیا گیا ہو۔
مالکن شام کو کام کرتے کرتے تھک جاتی تو مجھ سے اپنے کندھے دبواتی۔ پھر وہ ان فضول گڑیوں کو کوسنے دیتی جو ان کپڑوں کے لائق بھی نہیں تھیں۔ لیکن ہم جانتے تھے کہ جس دن گڑیاں یہ لباس پہننا بند کر دیں گی، او ر وہ کارخانے سے ننگی باہر جائیں گی ، تو اس دن کارخانہ کی مالکن کے ساتھ ہماری روزی بھی بند ہو جائے گی۔
سلائی کرتے ہوئے میں خواب دیکھا کرتی تھی کہ ایک دن میں بھی ڈریس ڈیزائننگ کا فن سیکھ جاؤں گی۔ میں سوچا کرتی تھی کہ ایک دن میں فرسٹ کلاس ڈریس میکر بن جاؤں گی اور کسی اول درجے کے بڑے فیشن سیلون میں اپنا مقام بنا لوں گی۔ جاگتی آنکھوں کے ان خوابوں نے روزمرہ کے اس کام کو میرے لیے کم مشکل بنا دیا تھا۔
لیکن اگر میں فرسٹ کلاس ڈریس میکر بن گئی اور سانگ ہون یونہی دھاتوں کی پلیٹیں بنانے والی فیکٹری کا مزدور بنا رہا تو پھر کیا ہو گا؟ یہ سوچ کر کچھ پریشان ہو جاتی تھی۔ اگرچہ مہارت کے ساتھ چاندی کو سونے میں تبدیل کرنا بھی ایک حیرت انگیز کام تھا، مگر میں یہ سوچتی تھی یہ لوگ بہت ہی چالاک ہیں اور وہ کام کر رہے ہیں جو ٹھگ اور جرائم پیشہ لوگ کرتے ہیں۔ مگر سانگ ہون کا کہنا تھا کہ وہ دکاندار جو تھوک میں یہ انگوٹھیاں خریدتے ہیں وہ اپنے گاہکوں کو یہ کہہ کر کبھی دھوکا نہیں دیتے کہ یہ اصلی سونے کی ہیں۔ ویسے ان کے گاہک بھی اصلی سونے کی انگوٹھیاں ہی پسند کرتے ہیں مگر وہ اتنے غریب ہیں کہ انہیں خرید نہیں سکتے۔ وہ دکاندار انہیں سستے داموں انگوٹھیاں دیتے تھے۔ اس کی باتوں سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ لوگ واقعی اچھا کام کر رہے ہیں۔ اگریہ سچ ہے تو مجھے بھی ویسی ہی انگوٹھی چاہیے۔
کسی دن سانگ ہون مجھ سے ضرور کہے گا کہ وہ مجھے پسند کرتا ہے۔ یہ میں جانتی تھی۔ اگر وہ میری انگلی میں ملمع والی انگوٹھی ڈالتے ہوئے یہ کہے تو کتنا اچھا ہو۔ میں کسی کو یہ نہیں بتاؤں گی کہ انگوٹھی اصلی سونے کی نہیں ہے۔ یہ خوش کن خواب دیکھتے ہوئے میں ہمیشہ مسکرانے لگتی تھی۔
بھلا کارخانے کی مالکن کہاں سمجھ سکتی تھی کہ میں کیوں خوش ہو رہی ہوں، اس لیے اس نے یہ کہہ کر میری خوشی پر پانی پھیر دیا ۔ ’’چچ چچ چچ ...... تمہاری ماں کو تو مر جانا چاہیے تھا۔ وہ ٹھیک ہی مری!‘‘ وہ بڑبڑائی۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اس نے یہ کیوں کہا۔ آخر اس نے ایسی بیہودہ بات کیوں کی۔
وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ میری ماں چند مہینے پہلے ہی مری ہے۔ اس کے باوجود اس نے اس کے بارے میں ایسی فضول بات کی۔ یہی آنٹی میری ماں کی موت کا سن کے سب سے پہلے وہاں پہنچی تھیں۔ اس وقت بھی انہوں نے لرزتے ہوئے کہا تھا:’’ اس مظلوم عورت کو دیکھو، اسے مر جانا ہی چاہیے تھا۔‘‘
یہ آنٹی میری ماں کی واحد سہیلی رہ گئی تھیں۔ جب ہم انتہائی غریب ہو گئے تھے تب بھی وہ ہمارے گھر آتی تھیں۔ یہی ایک ایسی دوست تھیں جو کسی حد تک میری ماں کی غیرت اور ان کی اونچی ناک کو سمجھتی تھیں۔ جب وہ کمپنی جس میں میرے باپ کام کرتے تھے دیوالیہ ہو گئی اور بڑھاپے میں بے روزگار ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں ریٹائرمنٹ کے فوائد بھی نہ ملے تو میری ماں کی واحد سہیلی یہ آنٹی ہی تھیں جن سے میری ماں نے اپنے مستقبل کے بارے میں مشورہ کیا تھا۔ یہ آنٹی بھری جوانی میں بیوہ ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگانی کا بوجھ خود ہی اٹھایا ۔
جب انہیں پتہ چلا کہ اس عرصے میں ہم انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارتے رہے ہیں تو آنٹی حیران رہ گئیں، پھر انہوں نے ماں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ’’یہ بتاؤ تم نے اس اکٹھی رقم کا کیا کیا جو میں نے تمہیں کیلاسیونگ کلب سے کئی بار دلوائی تھی۔ (کیلا سیونگ کلب جان پہچان والی عورتوں کی بچت کا کلب تھا)۔
ماں نے بہانہ تراشنے کی کوشش کی ’’تم ایک تنخواہ دار گھرانے کی زندگی کے بارے میں نہیں جانتیں۔ ہر مہینے ہمارے پیسے جلدی ختم ہو جاتے ہیں اور میں یہ کمی اسی رقم سے دور کرتی ہوں۔‘‘
آنٹی بولیں ’’تو پھر تم اسی لائق ہو کہ تکلیف میں زندگی گزارو۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اپنے گھر کا ایک کمرہ کرائے پر دے دو اور کرائے کی رقم سے پنساری کی دکان کھول لو۔ خوش قسمتی سے تمہارے گھر کی لوکیشن بھی بہت اچھی ہے، اور میں شرطیہ کہہ سکتی ہوں کہ اگر تم اور تمہارا شوہر محنت سے کام کریں تو اس دکان کی آمدنی سے تم اچھی زندگی گزار سکتی ہو۔‘‘
مگر ماں نے اپنی سہیلی کے مشورہ پر عمل نہیں کیا۔ ’’میں ایک چھوٹی سی دکان کیوں کھولوں۔ میری سہیلیوں کے شوہروں نے تو خوب دنیا کمائی ہے اور اب وہ بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ مجھے تو دکان کرتے شرم آتی ہے!‘‘
بھرپور زندگی گزارنے کے لیے انسان کے پاس بلند خیال اور جوش و جذبہ ہونا چاہیے۔ اسے یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ موقع سے فائدہ کیسے اٹھایا جاتا ہے۔ اور اس وقت اس کے باپ کے لیے وہی موقع تھا فائدہ اٹھانے کا۔ مگر میری ماں نے میرے باپ کو اس طرح نہیں جانے دیا۔ حتیٰ کہ جب میرے باپ ایک کمپنی میں کام کر رہے تھے اور ان کی آمدنی بھی معقول تھی تو میری ماں باہر کی سیر سے واپس آنے کے بعد میرے باپ کو مسلسل کچوکے دیتی رہتی تھی۔ وہ شکایت کرتی تھی کہ دوسرے لو گ تو خوب اچھی زندگی گزارنے کا سلیقہ جانتے ہیں اور ان کے اثاثے بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں مگر ہمارا گھرانہ بدستور بدحالی کی زندگی گزار رہا ہے۔ ہم ایک ہی جگہ کھڑے ہیں۔ وہ میرے باپ کو ایسے ڈانٹتی جیسے کوئی مالک اپنے ملازم کو ڈانٹتا ہے۔ اس نے میرے باپ کی زندگی جہنم بنا دی تھی۔ ایسی تھی میری ماں۔ اس کا خیال تھا کہ چونکہ اس کے شوہر کی ملازمت ختم ہو گئی ہے اور اسے معمولی تنخواہ والی نوکری سے نجات مل گئی ہے تو اب اس کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ بڑے بڑے خطرے مول لینے والا کاروباری بن جائے۔
ماں اپنی ایک ایسی سہیلی کے پاس گئی جو لکھ پتی ہونے کا دعویٰ کرتی تھی اور بالآخر اس کے پاس اپنا گھر گروی رکھ کر ایک بڑی رقم حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ ماں کے اس بے باکانہ اقدام کی وجہ سے میرے باپ نے ایک دفتر کرائے پر لیا۔ وہاں ٹیلی فون لگوائے، ایک ریوالونگ چیئر خریدی، ایک فیشن ایبل لڑکی بھی ملازم رکھی اور کمپنی کے صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ ماں اس بات سے بہت خوش ہوتی تھی کہ وہ دن میں کئی کئی بار باپ کو فون کرے اور اس کی سیکرٹری سے کہے ۔ ’’اوہ مس چوئے؟ میں صدر کی بیوی بول رہی ہوں۔ پلیز میری صدر سے بات کرا دو۔‘‘ ماں کو جب موقع ملتا وہ یہی الفاظ دہراتی۔ یہ الفاظ دہرائے بغیر ان کا کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا۔
افسوس! اس سے قبل کہ ماں صدر کی اہلیہ کا لہجہ اچھی طرح اختیار کر لیتی، میرے والد کی کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔ اور یوں دفتر،گھر اور گھر کی ہر چیز ہم سے چھن گئی۔ سود تو دور کی بات ہے ہم اصل رقم کی ایک پائی بھی ادا کرنے کے قابل نہیں تھے۔ ماں نے گھر گروی رکھ کر جو اصل رقم حاصل کی تھی وہ بھی ادا نہ کی جا سکی۔ ہمیں گھر کی ملکیت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ اور ہمیں وہاں سے نکال باہر کیا گیا۔
اس سے بھی بدتر بات یہ ہوئی کہ میری ماں گاہے بگاہے جو چھوٹی چھوٹی رقم ادھار لیتی رہی تھی اسے ادا کرنے کے لیے گھر کی جو چیز بھی فروخت ہو سکتی تھی وہ بھی ہم سے چھن گئی۔ ماں نے اپنی دولت مند سہیلی کے سامنے بہت آنسو بہائے اور شکوہ کیا کہ ’’میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ تم اتنی ظالم ہو سکتی ہو۔‘‘ بعد میں اس سہیلی کے ساتھ ماں کی خوب تو تو میں میں ہوئی۔ آخر میں تمام مال و متاع اس سہیلی کے قبضے میں چلا گیا۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب اس معزز خاتون نے کسی بھی قسم کا لحاظ کیے بغیر ہماری ہر چیز پر قبضہ کر لیا تھا۔
البتہ اس ساری صورت حال کے باوجود ماں کی اس سہیلی نے ہمیں سڑک پر نہیں پھینکا، بلکہ اس نے ایک کمرہ ہمیں کرائے پر دے دیا۔
’’تم تو اسی قابل ہو کہ ایسی مصیبتیں بھگتو، مگر مجھے تمہارے بچوں پر رحم آتا ہے۔ اس لیے میں یہ مہربانی کر رہی ہوں۔‘‘
ماں کی دونوں سہیلیوں ، یعنی دونوں آنٹیوں نے ، ایک وہ جو گڑیوں کے ملبوسات تیار کرتی تھی اور دوسری وہ جو لکھ پتی تھی اور جس نے قرضہ دیا تھا ، یہ تو کہا کہ تم اسی لائق ہو کہ سختیاں جھیلو، لیکن ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا تھا کہ تمہیں مر ہی جانا چاہیے۔‘‘
جب ماں کے پاس کرائے کے کمرے میں رہنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھاتب بھی اس نے یہ ماننے سے صاف انکار کر دیا تھا کہ اب وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے قابل نہیں رہی۔ وہ بالکل بچوں کی طرح ضد کرتی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم بچوں کو کالج نہ بھیجیں۔ وہ انسان تھی، کتا یا سور تو نہیں تھی۔ ماں اور باپ دونوں کے پاس ایک پائی تک کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا مگر ان کی ایک ہی رٹ تھی ’’پڑھو، پڑھو اور پڑھو‘‘۔انہوں نے وہ جمع پونجی بھی ایک تھرڈ کلاس یونیورسٹی میں میرے بھائیوں کی پڑھائی اور ہائی سکول میں میری پڑھائی کی نذر کر دی جو مکان کی گروی چھڑانے کے لیے رکھی تھی۔ اور یوں ہمیں کرائے کے ایک کمرے میں منتقل ہونا پڑا۔ یہ کرایہ ہمیں ہر مہینے ادا کرنا ہوتا تھا۔ اس سے ہماری رہی سہی بچت بھی ختم ہو گئی۔
پھر وہ دن بھی آگیا جب ہمیں نہ صرف سکول، بلکہ بعض دیگر چیزیں بھی چھوڑنا پڑیں۔ آخر ہم نے نواحی علاقے میں پہاڑی پر ایک کمرہ کرائے پر لیا۔ اس طرح بچت کرنے کے بجائے ہر مہینے ہمیں چار ہزار وان کرایہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ اس وقت تک بھی ماں یہ ماننے کو تیار نہ تھی کہ ہم بالکل قلاش ہو چکے ہیں۔ غربت کے تعفن سے بیزار ہو کر وہ کانپنے لگتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس پر دورہ پڑ گیا ہے۔ وہ غریبوں کو غلیظ اور بدبودار سمجھتی تھی اس لیے ان کے ساتھ اس نے کبھی کوئی تعلق نہیں رکھا۔ وہ غریبوں کے اس ناقابل شکست جذبے پر ہمیشہ ناراض رہتی تھی کہ وہ ہرقیمت پر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ وہ انہیں بہت ہی حقیر جانتی تھی اور حیران ہو تی تھی کہ وہ صفائی کی سہولتوں سے محروم اپنے کھولی نما کمروں میں کیسے زندہ رہتے ہیں۔ یہ لوگ جو نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، افلاس زدہ ہیں، اپنی ناقابل برداشت تعفن زدہ دنیا میں زندہ ہیں اور صرف کہنے کو ہی انسان ہیں۔
اپنے ان جذبات سے قطع نظر جب میری ماں کو گھرداری کرناپڑی تو صورت حال اور بھی خراب ہو گئی۔ ہمارے کمرے سے ملحقہ چوبی برآمدے میں ہر وقت گندے برتنوں کا ڈھیر لگا رہتا تھا۔ یہ برتن اگلے کھانے تک یونہی پڑے رہتے تھے اور اردگرد کے علاقے کی مکھیاں سارا دن ان پر بھنبھناتی رہتیں۔ یہ تھی میری ماں کی ڈھٹائی کہ وہ اب بھی اپنی غریبی کا اعتراف کرنے کو تیار نہ تھی۔
گڑیوں کے ملبوسات تیار کرنے والی آنٹی نے کئی بار ماں کو مشورہ دیا کہ وہ اس کے ساتھ کام کر لے تاکہ اس کے بچے بھوک سے بچ جائیں۔ لیکن ماں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ آخر آنٹی نے مجھے کام پر لگا کر کسی حد تک یہ مسئلہ حل کیا۔ میں نے خوشی خوشی یہ کام قبول کر لیا اور ننھے منے لباسوں کی سلائی سیکھنے کےلیے وہاں چلی گئی۔ اگر آپ کو سلائی مشین چلانا آتی ہو تو یہ کوئی ایسا کام نہیں ہے جس میں مہارت حاصل کرنا مشکل ہو۔ آنٹی نے کئی دن میرا کام دیکھنے کے بعد مجھ سے کہا کہ وہ مجھے دس ہزا روان مہینے دیا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ میرے ساتھ خصوصی سلوک اس لیے کر رہی ہیں کیونکہ اس خطیر رقم سے وہ میرے گھرانے کو فاقوں سے بچا لیں گی۔
میں اس دن چھلانگیں مارتی گھر پہنچی کہ اپنے گھر والوں کو یہ خوشخبری سناؤں۔ مگر دس ہزار وان تو جیب خرچ کے لیے ہی کافی ہو سکتے تھے۔ کمرے کا کرایہ ادا کرنے کے بعد باقی رقم سے پانچ افراد کے کنبے کے لیے مہینے بھر کے چاول بھی نہیں خریدے جا سکتے تھے۔ بہرحال ، میں نے، جو گھر میں سب سے چھوٹی تھی، یہ ثابت کر دیا کہ میں دس ہزار وان کما سکتی ہوں۔ اور یہ بھی جتلا دیا کہ گھر کا ہر فرد اگر اپنے جھوٹے پندارکا مکھوٹا اتار کر اور اپنی نام نہاد انا کا دکھاوا چھوڑ کر محنت کرنے پر تیار ہو جائے تو کم سے کم دس ہزار وان ضرور کما سکتا ہے۔
’’اگر ہم دل سے ایک ہو جائیں تو ہم یہ کام کر سکتے ہیں۔ اس علاقے کا ہر گھرانہ اسی طرح کمائی کرتا ہے اس لیے آپ کو شرمسار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جوان، بچے اور بوڑھے سب پیسے کما رہے ہیں، وہ کتوں کی طرح کام کرتے ہیں مگر شاہانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ کچھ گھروں میں تو ٹیلی وژن بھی ہے۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ہر دو تین دن بعد بھنا ہوا گوشت کھاتے ہیں۔ وہ ہنستے کھیلتے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہم بھی اس طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔ ہمارے گھر میں تو کوئی بوڑھا یا بچہ بھی نہیں ہے، ہم سب کمائی کر سکتے ہیں۔ ایک ہی فرد پر انحصار کرنے کے بجائے اگر ہم سب کام کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اچھی طرح گزر اوقات نہ کر سکیں۔‘‘ میں نے اس طرح اپنے خاندان کو قائل کرنے کی کوشش کی۔
’’اچھا تو تم اس بات سے ڈرتی ہو کہ کہیں ہم تمہارے سر نہ پڑ جائیں ؟ ہرگز نہیں! تم انتظار کرو اور دیکھو‘‘ ماں نے کہا۔ اور اگلے دن جب میں کام سے گھر واپس آئی تو میرا پورا کنبہ مر چکا تھا۔ گلابی جاڑوں کے اس دن انہوں نے چھوٹے سے کمرے میں کوئلوں کی انگیٹھیاں دہکائی تھیں او رکمرے کا ایک ایک سوراخ بند کر دیا تھا۔ اور وہ چاروں، ایک دوسرے کے پہلو میں مردہ پائے گئے۔ سب مر گئے، سوائے میرے۔
اس کے بعد میں نے سانگ ہون کے ساتھ رہنا شروع کر دیا۔ میں نے یہ عادت بنا لی تھی کہ کام سے واپسی پر بازار ضرور جاتی ، چاہے کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو رہی ہو۔ اس دن میں نے خاص طور پر مچھلیوں کے سٹال پر کوڈ اور سی بریم مچھلیاں دیکھیں۔ اگرچہ میں نے اس صبح بڑے اعتماد سے سانگ ہون سے کہا تھا کہ کوئی مچھلی چاہے کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہو جب وہ مرتی ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں، مگر پھر بھی میں اس کا پورا یقین کر لینا چاہتی تھی۔ واقعی یہ سچی بات تھی ، وہاں پڑی ہر مچھلی کی آنکھیں پوری کھلی ہوئی تھیں۔ یہ سوچ کر میری بے ساختہ ہنسی نکل گئی کہ مچھلی کا تو سرے سے پپوٹا ہی نہیں ہوتا۔
میں نے نمک لگی میکرل مچھلی خریدی۔ اس مچھلی میں چونکہ کافی چکنائی ہوتی ہے اس لیے اگر اسے کوئلے کی انگیٹھی پر بھونا جائے گا تو اس سے صرف دھواں ہی نہیں اٹھے گا ، بلکہ اس سے بدبو بھی بہت آئے گی۔ مچھلی کی تیز بساند عمارت کے اس سرنگ نما باورچی خانے میں پھیل جائے گی جسے چھ گھرانے استعمال کرتے ہیں۔ فتح مندی کے احساس کے ساتھ میں جلدی جلدی پہاڑی کے علاقے میں پہنچ گئی۔ سانگ ہونگ کمرے میں تھا، اور کوئی کام کیے بغیر ہی چت لیٹا ہوا تھا۔
’’تم بھول گئے کہ ہم نے یہ طے کیا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو بھی پہلے آئے گا وہ چاول پکائے گا؟‘‘
سانگ ہون نے جیسے سنا ہی نہیں۔ اس نے کاہلی سے سگریٹ سلگایا اور کش لینے لگا۔
’’اچھا۔ تو تم اب یہ کرو گے؟ اگر تم چاہتے ہو کہ میں ہی کام کروں ، تو کیا تم میری اتنی سی مدد بھی نہیں کر سکتے؟ ہم اس لیے تو اکٹھے نہیں رہ رہے ہیں کہ ایک کام کرے اور دوسرا اس سے فائدہ اٹھائے۔‘‘
ہم دونوں نے برابر کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ حتیٰ کہ روزانہ کا خرچ بھی برابر برابر تقسیم کیا جاتا تھا۔ اس لیے ہم نے گھر کے کام کاج بھی بانٹ رکھے تھے۔ بلاشبہ مجھے یہ بھی محسوس ہوتا تھا کہ میں اپنے طے شدہ حصے سے زیادہ کام کرتی ہوں اور مجھے اس پر غصہ بھی آتا تھا۔
’’پلیز آج مجھے تنہا چھوڑ دو۔‘‘ سانگ ہون پریشان سا نظر آرہا تھا۔ لگتا تھا جیسے وہ کوئی غم چھپا رہا ہے۔
’’کیا آج ورکشاپ میں کچھ ہو گیا؟‘‘ فوراً میرا دل پسیج گیا۔
’’آج مان سک کو کام کرتے ہوئے خون کی الٹی آگئی‘‘ سانگ ہون نے کہا۔
’’اوہ، میرے خدایا! اس کا مطلب ہے اسے ٹی بی ہے! اس کے بعد کیا ہوا؟‘‘
میں مان سک سے نہیں ملی تھی، لیکن سانگ ہون سے معلوم ہوا تھا کہ وہ ایک زرد رنگت والا آدمی ہے جو ہر وقت بری طرح کھانستا رہتا ہے۔ اس نے کہا تھا کہ شاید مان سک کو ٹی بی ہے۔ اور شکایت کی کہ کھانے کے وقفے میں جب وہ اکٹھے تھے تو اس نے بہت ہی برا وقت گزارا۔
’’اچانک اس نے خون تھوکا اور بے ہوش ہو کر گر گیا۔ مالک گھبرا گیا کہ شاید وہ مر گیا ہے ، اور اب اسے ہی سب کچھ بھگتنا پڑے گا۔وہ ہم غریبوں پر چیخا کہ مان سک کو فوراً اٹھاؤ اور اس کے گھر لے جاؤ۔ ہم نے اس کے حکم پر عمل کیا۔ اسے وہ رقم بھی دی جو مالک نے دی تھی اور واپس آگئے۔‘‘
’’مالک نے اسے کتنی رقم دی؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کتنی رقم؟ وہی جو ایک دن پہلے دی تھی۔‘‘
’’کنجوس کہیں کا۔ اور تم لوگ خاموش کھڑے دیکھتے رہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’اور کرتے بھی کیا۔‘‘
’’یعنی تم یہ کہہ رہے ہو کہ تمہارا ایک ساتھی مصیبت میں تھا اور تم اسے یونہی کھڑے دیکھتے رہے؟ گویا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ اس کے بعد تم سکون سے بیٹھ گئے! یہ کوئی مناسب بات تو نہیں ہے۔ لوگ چاہے کچھ بھی کہیں لیکن اچھی بات تو یہ ہے کہ ضرورت مند لوگوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیے۔ ہم ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ ضرورت مندوں کو نظرانداز کرنا اچھا نہیں ہے۔‘‘
میں نے اپنی بات ختم کی تو مجھے محسوس ہوا کہ سانگ ہون میری بات سمجھ ہی نہیں سکا ہے۔ وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھا۔ سانگ ہون جب ایسی حالت میں ہوتا تھا تو وہ بہت ہی بے وقوف سا دکھائی دیتا تھا۔ اپنی اچھی شکل و صورت کی وجہ سے وہ غریب و نادار نظر نہیں آتا تھا مگر سیدھا سادہ ضرور معلوم ہوتا تھا۔ مجھے سانگ ہون کے اس رویے سے شدید نفرت تھی۔ اس لیے میں اس سے ناراض ہو جاتی تھی۔ میں نے اس سے پھر کہا کہ ہم غریبوں کو ایک دوسرے کو اس طرح اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ میں نے کہا ہمیں بیمار کے لیے چندہ جمع کرنا چاہیے۔ اور اس کے گھر والوں کو تسلی دینا چاہیے۔ میں نے مان سک کے ساتھ جھوٹ بولنے پر سانگ ہون کو برا بھلا کہا۔ میں نے اس سے کہا کہ مان سک سے کہو، وہ کسی بات کی پروا نہ کرے اور اپنا خیال رکھے۔ میں مان سک کی موت تک سانگ ہون کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتی رہی۔ میں نے جو کہا کہ ’’موت تک‘‘ تو اس سے لگتا ہے جیسے اس کی موت میں بہت عرصہ لگا ہو، حالانکہ جب کسی آدمی کو خون کی قے آجائے تو بھلا وہ کتنے دن زندہ رہ سکتا ہے۔ میں نے غصے میں اس کا اندازہ بھی لگا لیا تھا۔
ہم نے رات کا کھانا اٹھایا اور بیزاری کے ساتھ بیٹھ گئے۔پھر بستر پر چلے گئے۔ ہمارے لیے یہی بہتر تھا کہ بستر پر چلے جائیں کیونکہ ہمارا کمرہ یخ بستہ ہوا سے محفوظ نہیں تھا۔ ہوا اتنی ٹھنڈی تھی کہ اگر ہماری ناک کمبل سے باہر نکل آتی تو سردی سے جم جاتی۔ اس سے بھی زیادہ خرابی یہ تھی کہ فرش برائے نام ہی گرم تھا۔ وہ اتنا گرم نہیں تھا کہ کمرے کو ٹھنڈ سے بچا سکے۔ اس لیے ہمارے پاس سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ ایک دوسرے کے ساتھ چمٹ کر لیٹ جائیں۔ اور جب ہم نے وہ کیا جو عام طور پر ایک ہی کمبل میں لیٹے ہوئے عورت اور مرد کرتے ہیں تو میں نے سوچا ...... ایسے نہیں۔ اس طرح نہیں۔ اس خیال کاتعلق اس پریشانی سے نہیں تھا جو ہم دونوں کے اناڑی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ اس طرح کچھ حرارت پیدا ہو اور کچھ تسکین ملے۔ لیکن ہمیشہ اس کے برعکس ہی ہوتا تھا۔ میں اس وقت رونا چاہتی تھی مگر میں نے یہ خواہش دل میں ہی دبا لی۔ عام طور پر میں بہت روتی تھی حتیٰ کہ خوشی کے موقع پر بھی رو پڑتی تھی۔اور مجھے یہ اچھا لگتا تھا کہ خوب رونے کے بعد دل کا غبار نکل جاتا ہے۔ لیکن اس وقت میں رونا نہیں چاہتی تھی۔
دوسرے دن میں نے اپنی مشترکہ پاس بک سانگ ہون کو دی اور کہا کہ جو آدمی چندہ جمع کرے سب سے پہلے اسے خود ہی رقم دینا چاہیے۔ اس کے بعد وہ دوسروں سے چندہ لے۔ اس طرح کام آسان ہو جائے گا۔ میں نے اس سے بار بار کہا تھا کہ جیسے ہی رقم جمع ہو، اور جتنی بھی جمع ہو، اسے بیمار آدمی کو جا کر دے دینا۔ اس دن میں اپنے کام پر بھی دن بھر مطمئن رہی کہ میں ایک اچھا کام کر رہی ہوں۔ مجھے اس بات پر فخر تھا کہ میں زندہ ہوں اور کسی کی مدد کر رہی ہوں۔
لیکن شام کو گھر آئی تو یہ دیکھ کر صدمے سے بیہوش ہوتے ہوتے رہ گئی کہ سیونگ اکاؤنٹ میں ایک پائی بھی نہیں بچی تھی۔ سانگ ہون نے ایک ایک پائی نکال کر مان سک کو دے دی تھی۔ یہ کام کوئی اسی وقت کرسکتا ہے جب وہ بالکل ہی پاگل یا عقل سے عاری ہو جائے۔
’’معاف کرنا‘‘ اس نے کہا۔ ’’میں جانتا تھا کہ تم یہ بات نہیں سمجھ سکو گی۔ آخر میں کس سے چندہ لیتا؟ وہ تو سب کے سب غریب ہیں۔‘‘
’’کیا ......؟‘‘ میں نے کہا۔ ’’وہ سب غریب ہیں ! تو ہم کیا ہیں؟ امیر؟ ہم امیر ہیں؟‘‘
میں نے غصے میں اس کی قمیص کا کالر پکڑا اور کھینچ کر اس کا سر دیوار پر مارا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ تیس ہزار وان میں سے آدھی سے بھی زیادہ رقم اس کی تھی مگر لگتا تھا کہ سانگ ہون کو اس کی پروا ہی نہیں ہے۔ میں یہ بھی جانتی تھی کہ اسے ٹی بی کے مریض سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ اسے مریض یا رقم دونوں میں سے کسی کی بھی پروا نہیں تھی۔ اور یہی اصل معاملہ تھا۔ کچھ لوگ مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنی دولت خرچ کرنا نہیں چاہتے۔ وہ یہ بحث کرنے کے لیے جیب سے رقم نکالتے ہیں کہ دو ہزار وان دیے جائیں یا تین ہزار؟ اور پھر واپس رکھ لیتے ہیں۔ اور پھر ایک ہزار کے فرق پر پریشان ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ گھنٹوں انصاف پسندی اور خودغرضی کے جھمیلوں میں پھنسے رہتے ہیں اور یہ سوچتے ہی رہتے ہیں کہ انہیں کتنی رقم دینا چاہیے۔ اس قسم کی دل دوز سوچ بچار کے بغیر ہی سانگ ہون نے میرے تیس ہزار ایسے پھینک دیے تھے جیسے پھٹا ہوا جوتا پھینکتے ہیں۔ میں یہ سوچ کر لرز گئی۔
’’تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو؟ تم ہو کیا؟ تم دولت مند آدمی ہو؟ امیر ہو؟‘‘ میں چیخی۔ سانگ ہون خاموش بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ میں بہت ہی تھک گئی تھی مگر مجھے بالکل نیند نہیں آئی۔ مگر وہ فوراً ہی سو گیا۔ میں نے بیس واٹ کے دودھیا بلب کی مدھم روشنی میں اس کا سویا ہوا چہرہ غور سے دیکھا۔ بتاؤ تو سہی تم کیا ہو؟ تم کیسے آدمی ہو کہ پھٹے جوتے کی طرح تیس ہزار وان پھینک کر اتنے آرام سے سو رہے ہو؟ ٹھیک ہے، میں یہ برداشت کر سکتی ہوں کہ تمہارے جذبات صحیح ہیں۔ لیکن تمہارے جذبات دوسرے غریب لوگوں سے مختلف ہیں۔ وہ بہادر ہیں، اپنے معاملات میں اٹل اور تازہ دم۔اور تم بالکل ہی مختلف ہو۔ میں خوف سے تھرا گئی۔
میں پہلی بار سانگ ہون سے ایک خوانچہ فروش کی ریڑھی کے پاس ملی تھی۔ وہ خوانچہ فروش پانچ وان کا سستا کیک بیچتا تھا۔ پہلی نظر میں وہ ان گھریلو سامان بنانے والی فیکٹریوں کا کوئی مکینک معلوم ہوتا تھا جو وہاں قطار در قطار موجود تھے۔ بہرحال ، وہ جس طرح کیک کھا رہا تھا میں اسے زیادہ دیر دیکھنا برداشت نہ کر سکی۔ اسے اپنے ہاتھوں کا کچھ زیادہ ہی خیال تھا، کیونکہ وہ خالی ہاتھ سے کیک نہیں کھا رہا تھا بلکہ اس نے پھولدار ٹشو پیپر میں کیک اٹھا رکھا تھا۔ کیک کھا لیا تو اس نے بڑے سلیقے سے ٹشو سے اپنے ہونٹ صاف کیے۔
اگرچہ اس نے پانچ وان کا وہی کیک ٹشو پیپر میں رکھ کر کھایا تھا جو دوسرے مزدور بھی کھا رہے تھے، مگر وہ فیکٹری کے بھوکے ننگے اور تھکے ماندہ مزدوروں سے اپنے آپ کو برتر سمجھ رہا تھا۔ اس کی برتری کی یہ نمائش دیکھ کر مجھے تکلیف ہوئی۔ میں اپنا لنچ نہیں لا سکی تھی اس لیے اتنی بھوکی تھی کہ ایک کے بعد ایک کیک ٹھونسے چلی جا رہی تھی۔ اس طرح کیک ٹھونسنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ جو بیہودہ آدمی ٹشو میں رکھ کر کیک کھا رہا تھا وہ برابر مجھے دیکھے جا رہا ہے۔
’’اس طرح جلدی جلدی کیک کھانے کے بعد تمہیں پیاس نہیں لگ رہی ہے؟‘‘ اس نے مجھ سے پوچھا۔ ’’کیا میں تمہارے لیے چائے کا کپ خرید سکتا ہوں؟‘‘
اس کی اس پیش کش پر میں ہنس پڑی۔ اور ہنستے ہنستے مجھے پھندا لگ گیا۔
’’یہ جملہ تم نے کہیں اور سنا ہو گا۔ یہ تو ایک احمق بھی جانتا ہے کہ چائے خانے میں چائے پلانے کی دعوت دے کر کسی لڑکی کو کیسے رجھایا جاسکتا ہے۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ واقعی یہ مسخرہ پن ہی نظر آرہا تھا۔ ’’میں نے اور تم نے نہایت میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ اور کھانے میں یہ سستے کیک کھا رہے ہیں۔‘‘
چائے خانہ ہماری استطاعت سے باہر تھا۔ پھر بھی میں اس سیدھے سادے آدمی کے پھندے میں آگئی۔ پھر ایک دن میں نے اسے اس خوانچہ فروش کے پاس نہ دیکھا تو میرا دل بیٹھنے لگا، جیسے میرا سارا دن کسی مقصد کے بغیر ہی گزر گیا ہو۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ اکیلا ہی رہتا ہے تو میں سمجھی کہ میری طرح اس کے بھی ماں باپ نہیں ہیں۔ چنانچہ میں نے اسے راضی کر لیا کہ میرے ساتھ رہا کرے۔ یہ ہے ساری کہانی کہ، میں سانگ ہون سے کیسے ملی، اور اس وقت سے ہم اکٹھے کیوں رہ رہے ہیں۔
ٹی بی کے مریض کے واقعے کے بعد بھی ہم ساتھ ہی رہتے رہے، حالانکہ کبھی کبھی تنگ آ کر میں سانگ ہون سے لڑ بھی لیتی تھی۔ ظاہر یہی کرتی تھی کہ میں تیس ہزار وان کی وجہ سے ناراض ہوں مگر اصل میں یہ بات نہیں تھی۔ وہ جس لا ابالی پن سے زندگی گزار رہا تھا اور ٹی بی کے مریض کی بالکل پروا نہیں کرتا تھا اس سے میرا دماغ جھنا جاتا تھا اور میں پریشان ہو جاتی تھی۔
ایک دن کچھ بتائے بغیر ہی سانگ ہون گھر نہیں آیا۔ اس کے دوسرے دن اور اس کے بعد تیسرے دن بھی نہیں آیا۔ میں برابر انتظار کرتی رہی۔ پھر ایک دن اپنی بے عزتی کی پروا کیے بغیر میں اس کے ورکشاپ پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ اس نے وہاں بھی کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ مالک نے مجھے اور بھی ڈرا دیا۔ اس نے کہا کہ کہیں کوئی خوفناک حادثہ ہو گیا ہو گا۔ اگر کوئی آدمی کہیں اور جاتا ہے تو وہ عام طور پر اگلے دن کی مزدوری سے پیشگی رقم ادھار مانگ لیتا ہے۔ بلکہ اس پر علاقے کی دکانوں کا قرض بھی ہوا ہے۔ لیکن سانگ ہون نے تو اپنی مزدوری بھی نہیں مانگی۔ اس لیے معلوم ہوا کہ کسی کار سے اس کی ٹکر ہوئی ہے اور وہ مر گیا ہے، یا پھر کسی غنڈے نے اس کے چھرا گھونپ دیا ہے۔ اس کے اس طرح غائب ہونے کی یہی دو وجہ ہو سکتی ہیں۔
میں نے ان ہولناک واقعات پر غور کیا تو سوچتی ہی چلی گئی حتیٰ کہ میری نیند اڑ گئی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کیا کروں اور اس تک کیسے پہنچوں۔ میں نے سیول جیسے شہر کی وسعت کے بارے میں سوچا تو میرا خوف اور بھی بڑھ گیا۔ اتنے بڑے شہر میں اسے کہاں ڈھونڈتی۔ ہر رات میں پیر سکیڑ کر سوتی اور سوتے میں رات بھر روتی رہتی۔ لیکن صبح کو کام پر ضرور جاتی۔ کھانے پینے کے لیے کام کرنا بھی تو ضروری تھا۔ مجھے یہ خیال تسلی دیتا تھا کہ میں کام سے واپس آؤں گی تو وہ آچکا ہو گا۔ میں اس یقین کے ساتھ کام کرتی رہی کہ وہ آگیا ہو گا۔ کام کے بعد سیدھی ڈھلان پر میں پاگلوں کی طرح بھاگتی دوڑتی جاتی اور سوچتی کہ اب میرے کمرے میں ضرور روشنی ہو گی۔ اس روشن توقع پر میں ہر دن پورے جوش و خروش کے ساتھ کام پر جاتی تھی۔
مجھے دھندلا سا خیال تھا کہ معجزے ہمیشہ اچانک ہی رونما ہوجاتے ہیں۔ کسی کو اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہ سوچ کر میں روزانہ اپنا کمرہ خالی چھوڑ کر جاتی کہ میرے پیچھے معجزہ رونما ہو جائے گا۔ حالانکہ یہ توقع بے کار ہی ثابت ہو رہی تھی۔ اس کے باوجود میرے دل میں امید کی ایک کرن جگمگاتی رہتی تھی۔ میں اور کیا کرتی، انتظار ہی کر سکتی تھی۔
آخر ایک دن میرے کمرے میں روشنی نظر آئی۔ سانگ ہون سچ مچ آگیا تھا۔ اس نے کسی گرم جوشی کے بغیر میرا استقبال کیا۔ وہ اچھے کپڑے پہنے تھا اور سر سے پیر تک صاف ستھرا دکھائی دے رہا تھا۔ اس وجہ سے وہ میرے کمرے میں بیٹھا غیر حقیقی سا نظر آرہا تھا۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ اتنا شاندار انسان بن کر واپس آئے گا۔ میں تو یہ سوچتی تھی کہ وہ برے حالوں میں لوٹے گا۔ میں تو اسے دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔ میرا جی چاہا کہ کچھ دیر کے لیے میں وہاں سے بھاگ جاؤں، اور پھر واپس آؤں۔ اس طرح میں حالات پر قابو پا لوں گی۔
’’کیا ہوا تھا؟‘‘ میں اتنا ہی پوچھ پائی۔ میری آواز بھرا گئی تھی جیسے میرے گلے میں بلغم اٹک گیا ہو۔خود میرے کانوں کو بھی میری آواز اجنبی لگ رہی تھی۔
’’اوہو ......میں تمہارے پیسے واپس کرنے آیا ہوں۔ کتنے تھے وہ ؟ تیس ہزار وان یا اس کے قریب؟‘‘ اس نے بڑا مہربان بن کر یہ کہا۔ اس کا لہجہ کسی بینک والے کا، یا کسی تاجر کا تھا۔ ایک دم مجھے لگا کہ میرے دل میں اس کے لیے پیار کا جذبہ تھا وہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ میں عجیب سی الجھن میں پھنس گئی۔
اچانک اس کے کوٹ کے کالر پر چمکتی ہوئی کالج کی پن پر میری نظر پڑی۔ میز پر ایک موٹی سی کتاب بھی رکھی ہوئی تھی جو اس کی ہی معلوم ہوتی تھی۔ میرے دماغ میں روشنی کا جھماکا سا ہوا۔
’’کیا واقعی تم پاگل ہو گئے ہو؟ تم نے چوری بھی شروع کر دی ہے؟ تم اپنے آپ کو کالج کا طالب علم ظاہر کر رہے ہو! پاگل تو نہیں ہو گئے ہو؟‘‘ میں اس پر دھاڑی۔
میں سمجھی کہ یہ سب کچھ اس نے میرے لیے کیا ہے، میں تیس ہزار وان کے لیے اسے ہر وقت پریشان کرتی رہتی تھی نا۔ میں ڈر گئی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی میرے دل کو کچھ ہوا اور وہ زورزور سے دھڑکنے لگا۔ اب میں پھوٹ پھوٹ کر رونے اور اس کے بازوؤں میں گرنے ہی والی تھی۔ مگر اس نے نرمی سے مجھے پیچھے ہٹا دیا۔
’’ٹھہرو ٹھہرو، یہ نہ کرو۔ اپنے آپ کو سنبھالو اور میں جو کچھ کہنے والا ہوں اسے غور سے سنو۔ میں پاگل نہیں ہوں اور نہ چور ہوں۔ میں ایک دولت مند آدمی کا لاڈلا بیٹا ہوں۔ اور کالج کا طالب علم ہوں، جیسے تم دیکھ رہی ہو۔ میرے باپ کچھ سنکی سے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا زندگی کی مشکلیں اور کٹھنائیاں جانے بغیر بڑا نہ ہو، اس لیے انہوں نے سکول کی چھٹیوں میں مجھے ایک پیسہ دیے بغیر ہی گھر سے نکال دیا ۔ تاکہ میں برا وقت بھی دیکھ لوں اور دولت کی قدر بھی پہچان لوں۔ تم سمجھیں؟‘‘
میں بھلا کیسے سمجھ سکتی تھی۔ میری ماں دوسروں کو یہ دکھا کر ہی خوش ہوجاتی تھی کہ دولت مند کس عیش و عشرت سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ میں نے ماں کو یہ کہتے ہوئے تو سنا تھا کہ پیسہ بولتا ہے، پیسہ ہو تو آدمی دنیا میں کوئی بھی کام کر سکتا ہے اور دولت سے ہر عیش و آرام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ البتہ میں نے یہ کبھی نہیں سنا تھا کہ کوئی دولت مند اپنے آپ کو غریب ظاہر کرنے کا کھیل بھی کھیلے گا۔
’’میرے باپ حیرت انگیز انسان ہیں۔ وہ اتنے اچھے آدمی ہیں کہ اس زمانے میں ان جیسا انسان ملنا مشکل ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے بچے صرف عیش و عشرت ہی نہ دیکھیں بلکہ تکلیفوں اور مصیبتوں کی زندگی کا تجربہ بھی کریں۔ میں نے سکول کی چھٹیوں میں واقعی نہایت قیمتی تجربے حاصل کیے ہیں۔ اور اس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ یہ اتنا بیش قیمت تجربہ ہے جسے کسی بھی دولت سے نہیں خریدا جا سکتا۔‘‘
ہاں، اس پر مجھے کچھ یاد آگیا۔ گڑیوں کے کپڑے بنانے والی آنٹی نے ایک واقعہ سنایا تھا جو انہوں نے ٹی وی پر سنا تھا۔ ایک بہت بڑے سرمایہ دار کے بیٹے