وہ
ترجمہ: ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی( نیوزی لینڈ)
وھیپلس (Whipples) کے لیے زندگی بڑی مشکل تھی۔سب کے لیے کھانا مہیا کرنا مشکل تھا۔ان کے لیے مشکل تھا کہ سرما میں بچوں کے لیے گرم کپڑوں کا انتظام کرسکیں ، اگرچہ سرما کا موسم بہت ہی مختصر ہوتا تھا۔’’خدا جانتا ہےکہ ہمارا کیا ہوتا اگر ہم شمال میں رہتے۔‘‘وہ کہتے ، ”بچوں کو صاف ستھرا رکھنا مشکل تھا۔لگتا ہے قسمت ہم پر کبھی مہربان نہیں ہوگی ۔‘‘مسٹر وھیپل کہتے۔لیکن مسز وھیپل سوچتیں جو کچھ ان کے پاس ہے اچھا ہے،جس طرح سے بھی ہو۔جب پڑوسی حد سماعت میں ہوں ، ’’کوئی ہماری شکایتیں نہ سنے۔‘‘ وہ اپنے شوہر سے کہا کرتی تھیں۔انہیں پسند نہیں تھا کوئی ان پر رحم کرے۔ ’’ نہیں ، بالکل نہیں، اگر ہماری حالت یہ ہو جائے کہ ہم کسی ویگن میں رہنے لگیں اور کھیت میں جا کر کپاس چننے لگیں۔‘‘وہ کہتیں ،’’ کسی کو موقع نہیں دینا چاہیے کہ وہ ہمیں حقارت سے دیکھیں۔‘‘
مسز وھیپل اپنے دوسرے بیٹے کو زیادہ چاہتی تھیں جو ذہنی طور پر کمزور تھا۔دوسرے دونوں بچوں کی بہ نسبت زیادہ۔ وہ ہمیشہ کہتی رہتیں۔اور جب کسی پڑوسی سے بات کرتیں تو اپنے شوہر اور اپنی ماں کے تمام اچھے کاموں کے لیے تعریف کرتیں۔
’’تمہیں اس طرح سے کہتے رہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ مسٹر وھیپل کہتے۔” تم لوگوں کو اس طرح سے سوچنے پر مجبور کرتی ہو ورنہ کسی کے پاس اس کے لیے وہ احساسات نہیں ہیں ، سوائے تمہارے۔‘‘
’’ایک ماں کے لیے یہ قدرتی ہے۔‘‘ مسز وھیپل شوہر کو یاد دلاتیں۔’’ تم خود جانتے ہو کہ یہ ماؤں کے لیے زیادہ قدرتی عمل ہےکہ وہ اسی طرح سے ہوں ۔لوگ عام طور پر باپوں کے تعلق سے ایسے نہیں سوچتے ہیں۔‘‘
پڑوسی پھر بھی آپس میں باتیں کرتے رہتے۔’’ یہ خدا کی رحمت ہوگی اگر وہ مر جائے۔‘‘ لوگوں نے کہا:’’یہ دراصل باپ دادا کے گناہوں کا نتیجہ ہے۔‘‘ وہ آپس میں طے کر لیتے تھے۔” کہیں نہ کہیں ضرور خراب خون اور خراب اعمال ہیں۔‘‘ اور یہ سب وھیپل کے پیچھے کہتے تھے۔ان کے سامنے تو وہ کہا کرتے ’’ وہ اتنا برا نہیں ہے۔وہ ٹھیک ہو جائے گا۔دیکھیں وہ کس طرح سے بڑھ رہا ہے۔‘‘
مسز وھیپل کواس بارے میں بات کرنا قطعی ناپسند تھا۔وہ بہت کوشش کرتیں کہ اپنے ذہن کو بند کر لیں لیکن ہر بار ، جو بھی گھر آتا، اسی مضمون پر بات کرتا اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے بارے میں بات کرنی پڑتی اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور بات شروع کر سکے۔ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کے ذہن کو آرام دیتا تھا۔ ’’ ساری دنیا کچھ بھی کہے لیکن میں اس کو کچھ نہیں ہونے دوں گی۔ لیکن لگتا ہے کہ میں اسے شرارتوں سے دور نہیں رکھ پاؤں گی۔ وہ کافی مضبوط اور توانا ہے ۔ہر کام میں حصہ لیتا ہے۔جب سے اس نے چلنا سیکھا تب ہی سے وہ اتنا ہی سرگرم رہا ہے۔اس کے کرتب بعض اوقات کافی نامعقول ہوتے ہیں۔ایمیلی (Emly) بہت حادثات سے گزر چکی تھی۔ میں اس کے زخموں پر ہمیشہ پٹیاں لگاتی رہی ہوں۔اور ایڈنا (Adna) تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ گرا ہو اور اس کے پیر کی ہڈی نہ ٹوٹی ہو۔لیکن وہ کچھ بھی کرتا رہتا اور اسے کبھی کھر وچ بھی نہیں آتی۔ مبلغ نے بڑی اچھی بات کہی تھی۔اور اس نے جو کچھ بھی کہا تھا میں مرنے تک نہیں بھول سکتی۔” معصوم لوگ خدا کے ساتھ چلتے ہیں ، اسی لیے انہیں کبھی تکلیف نہیں ہوتی۔‘‘ جب بھی مسز وھیپل ان الفاظ کو دہراتیں وہ محسوس کرتیں کہ ان کے سینہ میں کوئی گرم چشمہ بہہ رہا ہو اور ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتیں، اور وہ پھر کوئی اور بات کرنے لگ جاتیں۔
وہ بڑا ہوتا رہا بغیر تکلیف کے۔ ایک لکڑی کا تختہ مرغی کے ڈربہ سے اڑ کر اس کے سر پر لگا اور اسے پتہ بھی نہیں چلا۔اس نے کچھ الفاظ سیکھ لیے تھے اور پھر بھول گیا۔وہ کبھی کھانے کے لیے گڑبڑ نہیں کرتا تھا جیسے دوسرے بچے کرتے تھے۔بلکہ اس وقت تک انتظار کرتا تھا جب تک اس کو کھانا دیا جاتا۔ ایک کو نہ میں زمین پر بیٹھ کر مزے لیتے ہوئے اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے کھانا کھا لیتا تھا۔جسم پر کافی چربی جمع ہو گئی تھی۔ بہت زیادہ وزنی لکڑیاں اور پانی ، ایڈنا سے دوگنا لا سکتا تھا۔ایمیلی اکثر سردی کا شکار ہو جاتی تھی۔......” وہ میرے بعد مجھ سے ہی لیتی تھی۔‘‘ مسز وھیپل نے کہا۔اس لیے خراب موسم میں اس کو زائد کمبل اس کے بستر سے نکال کر دینا پڑتا تھا۔اسے سردی سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہو تی تھی۔
مسز وھیپل کی زندگی ایک ذہنی اذیت سے گزر رہی تھی اس خوف کے ساتھ کہ اس کو کہیں کچھ ہو نہ جائے۔وہ درخت پر ایڈنا سے زیادہ بہتر طریقہ سے چڑھ جاتا تھا۔ٹہنیوں پر بندر کی طرح چھلانگیں لگاتا تھا۔بالکل ایک سچ مچ کے بندر کی طرح۔
’’اوہ ، مسز وھیپل آپ کو اسے ایسے نہیں کرنے دینا چاہیے۔ کبھی وہ اپنا توازن کھو سکتا ہے۔وہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ “
مسز وھیپل چلا اٹھتیں وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔وہ بالکل کسی بھی عام بچے کی طرح ہی ہے۔’’نیچے آجاؤ! “ جب وہ نیچے آجاتا تو وہ اس کو پکڑے رکھتی تا کہ لوگ سمجھ لیں وہ اپنے بچے کی کتنی فکر کرتی تھی۔لڑکے کے چہرے پر کھسیانی سی ہنسی نمودار ہوتی اور ماں کے چہرے پر پریشانی۔
’’یہ پڑوسی “ مسز وھیپل نے اپنے شوہر سے کہا۔ ’’میں شدت کے ساتھ امید کرتی ہوں کہ وہ سب ہمارے معاملات سے دور رہیں۔ میں اس کو ہر کام اس ڈر سے نہیں کرنے دے سکتی کہ لوگ دیکھ رہے ہیں۔ دیکھو مکھیاں ابھی بھی ہیں۔ ایڈنا ان لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتا۔وہ اسے بھی ڈنک مارتے ہیں۔میرے پاس وقت نہیں ہے کہ میں سارے کام دیکھوں اور نہ ہی میں اسے ہر کام کروانے کی ہمت کر سکتی ہوں۔اس کو تو اگر ڈنک مارا جائے تو وہ محسوس بھی نہیں کرے گا۔‘‘
’’یہ سب اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس اتنی سمجھ نہیں ہے کہ وہ کسی چیز سے ڈر محسوس کرے۔‘‘ مسٹر وھیپل نے کہا۔
’’تمہیں خود پر شرم آنی چاہیے ۔ “ مسز وھیپل نے کہا۔’’ اپنے بچے کے بارے میں اس طرح کہتے ہوئے۔میں جاننا چاہتی ہوں کہ اس کی ذمہ داری ہم نہیں لیں گے تو اور کون لے گا؟ وہ ساری چیزیں دیکھتا ہے جو اس کے سامنے سے گزرتی ہیں، ہر قسم کی آوازیں سنتا ہے۔ اور جو میں اسے کرنے کے لیے کہتی ہوں وہ کرتا ہے۔ تمہاری اس طرح کی باتیں کہیں کوئی سن نہ لے۔ وہ سمجھیں گے کہ تم دوسرے بچوں کو اس پر فوقیت دیتے ہو۔‘‘
’’ٹھیک ہے ۔اب میں نہیں کروں گی۔ اور تم جانتے ہو ، اس کے لیے اتنی ساری محنت کرنے سے کیا فائدہ ؟ تم تو ہمیشہ ہی ہر چیز کا خراب پہلو ہی دیکھتے ہو۔اس کو چھوڑو ۔وہ ٹھیک ہو جائے گا ۔ اس کے لیے ہمارے پاس کافی غذا اور کپڑے ہیں ، ہیں نا؟ “ مسٹر وھیپل کو کافی تھکن محسوس ہو رہی تھی۔” بہر حال کچھ نہیں کیا جا سکتا اب۔ “
مسز وھیپل بھی بہت تھک چکی تھیں۔ ’’ جو ہو چکا ہے وہ واپس تو نہیں ہو سکتا۔یہ میں بھی اچھی طرح جانتی ہوں کسی عام انسان کی طرح۔لیکن وہ میرا بیٹا ہے۔اور میں نہیں چاہتی کہ لوگ اس کے بارے میں کچھ کہیں۔ میں بیزار ہو چکی ہوں لوگوں کی باتیں سن کر۔‘‘
خزاں کی ابتدا میں مسز وھیپل کے بھائی نے خط بھجوایا کہ وہ اپنی بیوی اور دونوں بچوں کے ساتھ مختصر وقت کے لیے ان کے یہاں آرہے تھے۔اور آخر میں لکھا تھا۔ Put the big pot in the little one ۔ (اچھا اور زیادہ مقدار میں کھانا تیار رکھنا)۔ مسز وھیپل نے خط کے آخری حصہ کو زور سے اور بار بار پڑھا،وہ بڑی خوش تھیں۔اس کا بھائی مزاحیہ جملے لکھنے کے لیے جانا جاتا تھا۔ ”ہم اسے دکھائیں گے کہ وہ کوئی لطیفہ نہیں ہے۔‘‘ ہم ایک چھوٹا خنزیر کاٹ لیں گے۔‘‘
’’یہ فضول خرچی ہے۔اور موجودہ حالات میں جن سے ہم گزر رہے ہیں، میں کوئی فضول خرچی برداشت نہیں کر پاؤں گا۔‘‘ مسٹر وھیپل نے کہا۔” وہ خنزیر سے ہمیں کرسمس کے لیے کچھ پیسے مل سکتے ہیں۔ “
’’یہ شرم کا مقام ہے کہ ہم کبھی کبھار بھی اچھا کھانا نہیں کھا سکتے جبکہ میرے رشتہ دار آرہے ہیں۔‘‘ مسز وھیپل نے کہا۔’’میں نہیں چاہوں گی کہ میرے بھائی کی بیوی واپس جا کر کہے کہ ان کے گھر میں تو کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں تھا۔ مائی گاڈ ! دوکان سے مہنگا گوشت خریدنے کی بجائے یہ بہتر ہے۔وہاں تمہیں پیسے خرچ کرنے پڑتے!‘‘
’’ٹھیک ہے تم خود ہی کر لو۔‘‘ مسٹر وھیپل نے کہا۔” مسیح ! کوئی تعجب نہیں کہ ہم آگے نہ بڑھ پائیں!‘‘
سوال یہ تھا کہ اس خنزیر کو اس کی ماں سے الگ کیسے کیا جائے جو کسی جرسی گائے سے بھی زیادہ لڑاکا تھی ۔ایڈنا تو کوشش بھی نہیں کرے گا۔”وہ خنزیر مجھے مار کر ان کے علاقہ میں پہنچا دے گا‘‘۔’’ ٹھیک ہے ڈرپوک‘‘ مسز وھیپل نے کہا۔ ’’ لیکن وہ نہیں ڈرتا۔دیکھو وہ کیسے کرتا ہے۔‘‘ وہ زور سے ہنسیں جیسے انہوں نے کوئی لطیفہ کہا ہو۔اور اس کو خنزیر کے علاقہ کی طرف دھکیل دیا۔اس نے آہستہ سے اندر جاتے ہوئے خنزیر کو ، جو اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا، چھین لیا۔ اور وہاں سے سرپٹ واپس بھاگا، باڑھ کے اوپر سے باہر جبکہ اس کی ماں دوڑتی ہوئی اس کے بالکل پیچھے آ گئی تھی۔ چھوٹا خنزیر خود کو چھڑانے کی کوشش میں بل کھا رہا تھا۔چیختا جا رہا تھا، غصہ سے اپنے جسم کو اکڑا رہا تھا۔اور بار بار بڑا سا منہ کھول رہا تھا۔مسز وھیپل نے جلدی سے اس کے منہ کو بند کیا اور ایک ہی وار میں اس کا گلا کاٹ دیا۔جب اس نے خون دیکھا تو وہ ایک جھٹکے سے سانس لے کر دور بھاگ کھڑا ہوا۔ ’’ لیکن وہ سب بھول کر ، ہمیشہ کی طرح ، کافی کھالے گا ۔“ مسز وھیپل نے سوچا۔ وہ جب بھی سوچتیں، ہونٹ حرکت میں آکر یہی کہتے ، ’’ وہ کھا لے گا اگر میں نے اسے نہیں روکا۔اگر میں اسے نہ روکوں تو وہ دونوں بچوں کا حصہ بھی کھا جائے گا۔‘‘
مسز وھیپل کو برا بھی لگتا تھا۔وہ صرف دس سال کا تھا ، سب سے چھوٹا ، اور ایڈنا جتنا بڑا لگتا تھا جو چودہ برس کا ہونے جا رہا تھا۔’’ شرم کی بات ہے۔ شرم کی بات ہے۔‘‘ وہ اندر ہی اندر کہتی جارہی تھیں۔” اور ایڈنا اتنا عقلمند!‘‘
وہ بہت ساری باتوں کے بارے میں سوچتی رہتی تھیں کہ وہ صحیح نہیں تھیں۔پہلی بات تو یہ کہ مویشی کو کاٹنے کا کام مرد کا تھا۔مجھے تو کسی خنزیر کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں۔وہ بہت موٹا ، ملائم اور قابل رحم تھا۔شرم کی بات ہے کہ بعض چیزیں بس ہو جاتی ہیں۔جب سب کام ختم ہو گیا تب اس نے خواہش کی کہ اس کا بھائی اسی کے گھر ٹھہرے ۔
علی الصبح اتوار کو مسز وھیپل نے ہر کام چھوڑا اور اس کو صاف ستھرا کیا۔ لیکن ایک ہی گھنٹہ میں وہ پھر سے گندہ ہو گیا ...... پازم (possum) کو پکڑنے کے لیے باڑھ کے نیچے سے رینگتے ہوئے، ٹانگیں پھیلا کر کھلیان کی کنڈی کے پاس سے گھاس کے ڈھیر میں انڈوں کو تلاش کرتے ہوئے۔ ’’مائی لارڈ! خود کو دیکھو ، میری تمام کوششوں کے بعد! ایڈنا ایمیلی کو دیکھو کس طرح خاموش بیٹھے ہیں۔وہ شرٹ نکالو اور دوسری پہن لو ، لوگ سمجھیں گے میرے پاس تمہارے لیے کپڑے نہیں ہیں۔‘‘ اور پھر مسز وھیپل نے اس کے سر کے بازو کان کے اوپر مارا۔ اس نے بار بار آنکھیں جھپکائیں اپنے سر کو سہلایا۔اس کے چہرے کے تاثرات نے مسز وھیپل کے احساسات کو زخمی کردیا۔اس کے گھٹنے کپکپانے لگے اور اسے بیٹھ جانا پڑا اس کے شرٹ کے بٹن لگانے کے لیے۔
’’میں تو دن شروع ہونے سے پہلے ہی بری طرح تھک چکی ہوں۔‘‘
بھائی اپنی گداز اور صحت مند بیوی اور دو انتہائی چیخنے والے......بھوکے لڑکوں کے ساتھ آچکا تھا۔بھنا ہوا خنزیر، مسالہ دار آڑو اور بہت سارے سلاد اور مسالہ کے ساتھ میز کے بیچوں بیچ رکھ دیا گیا۔شکرقند شوربہ کے ساتھ دوسرے پیالہ میں رکھا تھا۔
’’لگتا ہے کافی خوشحالی آگئی ہے۔‘‘ بھائی نے کہا۔’’ اتنا سارا کھانا کھا کر تو میں ڈرم بن جاؤں گا اور مجھے لڑکھڑاتے ہوئے گھرلے جانا پڑے گا۔‘‘
ہر شخص زوروں سے ہنس رہا تھا۔بڑا اچھا محسوس ہو رہا تھا میز کے اطراف سارے لوگوں کو ہنستا دیکھ کر۔مسز وھیپل بہت خوش تھیں۔ ’’اوہ، ہمارے یہاں اور چھ ہیں، یہ تو بس بہت ہی چھوٹی سی ضیافت تھی جو ہم نے کی۔تم تو کبھی کبھار ہی آتے ہو۔‘‘
وہ کھانے کے کمرے میں نہیں آیا۔مسز وھیپل نے آسانی سے کہہ دیا۔’’ وہ میرے دونوں بچوں کی بہ نسبت زیادہ شرمیلا ہے۔وہ کچھ دیر آپ کے ساتھ مل جل لے تو ٹھیک رہے گا۔ویسے وہ جلدی کسی سے ملتا نہیں ہے۔آپ تو جانتے ہو کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں، یہاں تک کہ رشتہ داروں سے بھی تکلف کرتے ہیں۔‘‘کسی نے کچھ کہا نہیں۔
’’ یہ میرے آلٹی (Alty) کی طرح “۔ بھائی کی بیوی نے کہا۔’’ کئی بار تو مجھے اسے دھکا دینا پڑتا ہے اپنی نانی سے ہاتھ ملانے کے لیے “
بات چیت یہاں ختم ہو گئی۔مسز وھیپل نے ایک پلیٹ میں بہت سارا کھانا ڈالا۔’’ میں ہمیشہ کہتی ہوں وہ کم نہیں کھاتا، چاہے کسی کے لیے نہ بچے۔‘‘ اور پلیٹ لے کر اس کو دینے کے لیے چلی گئیں۔
’’وہ دروازہ کے اوپر سے دیکھ رہا ہوگا‘‘ایمیلی نے مہمانوں کی مدد کرتے ہوئے کہا۔
’’بہت اچھا ہے۔ اب وہ اچھا ہو رہا ہے‘‘ بھائی نے کہا۔
رات کا کھانا کھا کر وہ چلے گئے۔ مسز وھیپل نے سارے برتن سمیٹے، بچوں کو سونے کے لیے بھیج دیا اور خود بیٹھ کر جوتوں کے تسمے کھولنے لگیں۔’’ دیکھا تم نے؟ “ اس نے مسٹر وھیپل سے کہا۔’’ میرا خاندان اس طرح کا ہے۔ہر چیز کے بارے میں بہت اچھے اور سلجھے ہوئے خیالات رکھتے ہیں۔ اپنے حدود سے باہر کچھ نہیں کہتے۔ ان میں اعلیٰ ظرفی ہے۔لوگوں کے تبصروں سے تو میں بہت بیزار ہو چکی ہوں۔ کیا خنزیر اچھا نہیں تھا ؟‘‘
مسٹر وھیپل نے جواب دیا۔’’ ہاں، تین سو پاؤنڈ کا پورک ختم ہو گیا۔ بس اور کیا۔ جب آپ کسی کے یہاں کھانے پر مدعو ہو تو شائستہ ہونا بہت آسان ہے۔ کون جانے ان کے ذہنوں میں کیا چل رہا تھا سارا وقت۔
’’یہ تمہاری طرح کے لوگ ہوں گے۔‘‘ مسز وھیپل بولیں۔ ’’میں تم سے اس کے علاوہ اور کیا امید کر سکتی ہوں۔اب دوسری بات تم کہہ سکتے ہو کہ میرا بھائی کہتا پھر رہا ہےکہ ہم نے انہیں باورچی خانہ میں کھلایا۔! اوہ مائی گاڈ ! “ اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔اس کے سر میں بہت زیادہ درد ہونے لگا تھا۔ ’’ اب سب ملیامیٹ ہوگیا۔ اور سب کتنا آسان تھا۔ٹھیک ہے ، تم نے انہیں کبھی پسند ہی نہیں کیا ...... ٹھیک ہے وہ پھر جلدی یہاں کبھی نہیں آئیں گے۔کبھی نہیں ۔یاد رکھنا۔لیکن وہ کبھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ ایڈنا سے کم اچھے کپڑوں میں نہیں تھا۔......اوہ ، ایمانداری سے میں چاہتی کہ میں مر ہی جاؤں!‘‘
’’میرے خیال سے تم اسے تھوڑا سا چھوڑ دو۔‘‘مسٹر وھیپل نے کہا۔’’یہ جو کچھ ہے ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
بہت سخت سرما تھا۔مسز وھیپل کو لگتا تھا سوائے مشکل وقت کے وہ اور کچھ نہیں جانتی تھیں۔اور ان سب کے اوپر اب یہ اس طرح کا موسم سرما۔ فصل ابھی بس آدھی تیار ہوئی تھی اور اس بار جو کپاس آئے گی اور جوآمدنی ہوگی وہ صرف کرانہ سامان کے لیے ہی کافی ہو سکتی تھی۔انہوں نے ایک گھوڑا کسی سے تبدیل کیا تھا، لیکن دھوکا ہو گیا۔ نیا گھوڑا جلد ہی مر گیا۔مسز وھیپل ہر وقت سوچتی رہتیں کہ یہ کتنی تکلیف دہ بات تھی کہ ایک آدمی تمہارے ساتھ تھا، لیکن تم اس پر بھروسا نہیں کرسکتی تھیں اور اس طرح کا دھوکا ہو جاتا۔بہت ساری چیزوں میں وہ کٹوتی کرتے رہتے تھے، لیکن مسز وھیپل کہتیں کچھ ضرورتیں ہوتی ہیں جن میں کٹوتی نہیں کی جا سکتی ، اور ان پر پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ ایڈنا اور ایمیلی کے لیے گرم کپڑے چاہئیں۔ انہیں اس کول کے لیے چار میل دور جانا ہو تا تھا۔’’ وہ آتش دان کے پاس بیٹھ جاتا ہے اس لیے اس کو اتنی ضرورت نہیں تھی۔‘‘ مسٹر وھیپل نے کہا۔
’’ایسا ہے‘‘ مسز وھیپل کہہ اٹھیں۔’’ اور جب وہ باہر کے کام کرتا ہے تو کیا تمہارا کوٹ پہن کر کرے گا ؟ میں ایسے نہیں کرسکتی۔بس۔‘‘
فروری میں وہ بیمار ہو گیا۔اپنے آپ کو موڑ کر کمبل کے اندر کر لیا۔ چہرہ نیلا ہو چکا تھا۔ اور لگ رہا تھا کہ اس کی سانس رکی جارہی ہو۔مسٹر اور مسز وھیپل نے دو دن تک اپنی سی ہر کوشش کر لی۔ پھر وہ ڈر گئے اور ڈاکٹر کو بلوایا۔ڈاکٹر نے کہا کہ اس کو گرم رکھنا چاہیے اور بہت سارا دودھ اور انڈے کھانے کے لیے دیے جائیں ۔” وہ اتنا صحت مند نہیں ہے جتنا دکھائی دیتا ہے ، مجھے ڈر ہے “ ڈاکٹر نے کہا۔’’ آپ کو ایسے بچوں کی زیادہ پرواہ کرنی چاہیے۔ انہیں بہت زیادہ گرم رکھنا ہو تا ہے۔اس لیے اس کو زیادہ کمبل اوڑھائیں۔‘‘
’’میں نے اس کا بڑا کمبل دھونے کے لیے نکالا تھا۔‘‘ مسز وھیپل نے شرمندگی سے کہا ’’ مجھے گندگی پسند نہیں ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے “ ڈاکٹر نے کہا۔” بہتر ہے کہ جیسے ہی کمبل سوکھے ، اس کو اوڑھادیں۔ ورنہ اسے نمونیا ہو جائے گا۔‘‘
مسٹر اور مسز وھیپل نے اپنے بستر سے کمبل نکال کر اس کو دے دی اور اس کا پلنگ آتش دان کے قریب کردیا۔’’ وہ ایسا نہیں کہہ سکتے کہ ہم اس کے لیے کچھ نہیں کرتے۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’یہاں تک کہ ہم اس کے لیے سردی میں سو جائیں گے۔‘‘
جب سرما ختم ہونے لگا ، وہ بھی ٹھیک ہونے لگا۔لیکن جب وہ چلتا تو لگ رہا تھا کہ اس کے پیر میں تکلیف تھی۔پھر بھی وہ کپاس کے کھیت میں بھاگتا رہتا تھا۔
’’میں نے جم فرگیوسن (Jim Ferguson ) سے گائے کی افزائش نسل کے لیے سب کچھ طے کر لیا ہے۔‘‘ مسٹر وھیپل نے کہا۔ ’’ میں اس گرما میں بیل کو تیار کرکے جم کو دے دوں گا، اور کچھ چارہ بھی۔ پیسے ادا کرنے سے یہ بہتر ہے۔‘‘
’’امید ہے کہ ایسی بات تم نے جم فرگیوسن سے نہیں کی ہوگی۔‘‘ مسز وھیپل نے کہا ،’’ تمہیں اسے معلوم نہیں ہونے دینا چاہیے کہ ہم معاشی طور پر ٹھیک نہیں ہیں۔‘‘
’’خدا سب کا مالک! اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کمزور ہیں۔ آدمی کو کبھی کبھی آگے بھی دیکھنا چاہیے۔ وہ بیل کو لے جائے گا ، اور مجھے ایڈنا کی ضرورت ہے وہاں ۔‘‘
پہلے تو مسز وھیپل کو آسان لگا کہ اس کو بیل کے ساتھ بھجوادیں۔ایڈنا زیادہ ہمت والا نہیں ہے۔اس پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔آپ کو مویشیوں کے ساتھ ہمت والا انسان چاہیے۔جب وہ چلا گیا ، مسز وھیپل سوچ میں پڑ گئیں۔لیکن تھوڑی دیر بعد ہی ان کا اپنا کیا ہوا فیصلہ، ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا۔وہ آگے جا کر راستہ پر کھڑی ہو گئیں۔اور اس کو دیکھنے لگیں۔تقر یباً تین میل کا فاصلہ طے کرنا تھا اور وہ بھی اس قدر گرمی میں۔اس کو اتنے لانبے راستہ پر جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ مسز وھیپل نے اپنی آنکھوں پر ہاتھوں سے سایہ کر کے اس کو اس وقت تک دیکھتی رہیں جب تک کہ ان کی آنکھوں میں رنگین بلبلے تیرنے لگے۔یہ حسب معمول ان کی زندگی میں ہونے والی کوئی نئی بات نہیں تھی۔وہ ہمیشہ ہی پریشان رہتی تھیں۔کبھی ایک پل کے لیے بھی انہیں سکون میسر نہیں تھا۔کافی دیر بعد وہ لنگڑا تا ہوا بازو کے راستہ پر مڑ گیا۔ایک بڑے سے ، بھاری بھرکم جانور کو لے کر جس کی ناک میں چھلہ لگا تھا ، وہ بہت آہستہ چل رہا تھا ، چھوٹی سی لکڑی ہلاتے ہوئے ، نہ پیچھے دیکھتا نہ بازو۔آنکھیں آدھی بند ، جیسے نیند میں چل رہا ہو ۔
مسز وھیپل بیلوں سے بہت ڈرتی تھیں۔انہوں نے کچھ کہانیاں سن رکھی تھیں۔کیسے ایک مرتبہ کسی بیل نے ایک لڑکے کے پیچھے آہستہ سے چلتے ہوئے اس پر اچانک حملہ کر دیا اور لڑکے کو مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کسی بھی لمحہ وہ کالا حیوان اس پر حملہ نہ کردے۔مائی گاڈ ، اس میں اتنی سمجھ بھی نہیں کہ وہ خود کو بچانے کے لیے بھاگ جائے۔
مسز وھیپل کو چاہیے تھا کہ نہ وہ کوئی آواز کرے اور نہ ہی حرکت۔جس سے بیل بھڑک جائے۔بیل نے اپنا سر ایک طرف موڑ دیا۔لوگوں کو چوکنا کرنے کے لیے اڑان لگائی۔مسز وھیپل کی آواز چیخ بن کر نکل پڑی۔وہ چیخیں کہ وہ آجائے، خدا کے لیے۔لیکن اس نے شاید ماں کی چیخ نہیں سنی۔وہ اسی طرح اپنی لکڑی گھماتے ہوئے اور لنگڑاتے ہوئے چلتا رہا۔اور بیل اس کے پیچھے ، بچھڑے کی طرح ، آہستہ آہستہ چلنے لگا۔ مسز وھیپل نے پکارنا بند کیا ، اور گھر کے اندر بھاگیں، دعائیں کرتی ہوئی۔” اے خدا! اس کو کچھ نہ ہو۔ اے خدا! تو جانتا ہے لوگ کہیں گے ہمیں اس کو نہیں بھجوانا چاہیے تھا۔ تو جانتا ہے لوگ کہیں گے ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ اوہ! گھر آجاؤ۔محفوظ گھر، محفوظ گھر، اور میں اس کی اچھی دیکھ بھال کروں گی ! آمین۔‘‘
وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی رہیں اس وقت تک جب تک اس نے مویشی کو کھلیان میں لے جا کر باندھ دیا۔اس کو جاری رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں تھا۔مسز وھیپل اس سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔وہ اپنے ایپرن کو سر پر ڈال کر روتے ہوئے وہیں بیٹھ گئیں۔
ہر سال وھیپلس غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے تھے۔ ان کے پیروں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہو نے لگی، چاہے جتنی محنت کر لیں۔” چیزیں ہمارے اختیار سے باہر نکلتی جا رہی ہیں ۔‘‘ مسز وھیپل نے کہا ’’ہم دوسرے لوگوں کی طرح بہترین مواقع کیوں نہیں دیکھ پاتے ؟ لوگ ہمیں غریب گھٹیا سفید فام کہنے لگیں گے۔‘‘
’’میں جیسے ہی سولہ سال کا ہو جاؤں گا، میں یہ چھوڑ دوں گا “۔ ایڈنا نے کہا ۔’’ میں پاول (Powell) کی کرانہ کی دکان پر کام کر لوں گا۔اس میں پیسہ بھی ہے۔اب کوئی کھیتوں کے کام مجھے نہیں کرنے ہیں۔‘‘
’’میں تو سکول ٹیچر بن جاؤں گی “۔ ایمیلی نے کہا۔” لیکن مجھے کسی طرح آٹھویں جماعت مکمل کرنی ہوگی۔ پھر میں شہر جا کر رہوں گی۔ یہاں پر کوئی مواقع نہیں ہیں۔‘‘
’’ایمیلی میرے خاندان کی ذمہ داری سنبھال لے گی۔‘‘ مسز وھیپل نے کہا۔’’ہر آخری بچہ کسی سے کم نہیں ہوتا، بلکہ زیادہ حوصلہ مند ہوتا ہے۔‘‘
خزاں کے آتے آتے ایمیلی کو ریل روڈ کے ہوٹل میں ویٹریس کا کام مل گیا ۔اس کام کو قبول نہ کرنا کوئی عقلمندی کا فیصلہ نہیں ہوتا۔جبکہ تنخواہ اچھی تھی اور اس کو کھانا بھی مل جاتا تھا۔لہٰذا مسز وھیپل نے طے کیا کہ اس کو کام کرنے دے گی۔اور سکول کے بارے میں ، اگلے سیشن تک ، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔” تمہارے پاس کافی وقت ہے۔ “ انہوں نے کہا۔’’ تم ابھی کم عمر بھی ہو اور ذہین بھی۔‘‘
ایڈنا بھی چلا گیا۔ مسٹر وھیپل اکیلے صرف اس کی مدد سے کھیت کو سنبھال رہے تھے۔وہ اچھا جا رہا تھا۔ اس کا اپنا کام ، اور انجانے میں ہی ، ایڈنا کا کام بھی کر رہا تھا۔کرسمس تک وہ اچھا کام کر رہے تھے۔ ایک دن کھلیان سے آتے ہوئے وہ برف پر پھسل گیا۔اپنے آپ کو زخمی کرتے ہوئے وہ گھومتا رہا۔ اور جب مسٹر وھیپل نے اسے سنبھالا ، وہ ایک قسم کے دورے سے متاثر ہو گیا۔
وہ اسے اندر لے آئے اور اس کو بٹھانے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ سسکیاں لینے لگا اور پھر چکرا گیا۔ انہوں نے اسے بستر پر لٹا دیا اور مسٹر وھیپل ڈاکٹر کو لینے چلے گئے۔ سارا راستہ وہ اس بارے میں پریشان تھے کہ پیسے کہاں سے آئیں گے۔ یقیناً اس نے ساری تکلیفیں جھیل لی تھیں جو وہ جھیل سکتا تھا۔
اور تب سے وہ بستر پر ہی رہا۔اس کے پیر سوج چکے تھے۔ اور وہ دورے (fits) تو آتے ہی رہے۔ چار مہینوں کے بعد ڈاکٹر نے کہا۔ ’’یہ سب بیکار ہے۔ میرے خیال سے آپ اسے سیدھے کاؤنٹی ہوم (County Home) میں شریک کروا دیں۔اس کے علاج کے لیے میں اسے دیکھتا رہوں گا۔ وہاں پر اس کی اچھی دیکھ بھال ہوگی۔اور آپ کے ہاتھوں سے بھی نکل جائے گا۔‘‘
’’ہم اس کی دیکھ بھال میں کوئی کمی نہیں رکھتے۔اور میں اسے اپنی نظروں سے دور نہیں کرنا چاہتی۔‘‘مسز وھیپل نے کہا۔ ’’میں نہیں چاہتی کہ لوگ کہیں بیمار بچہ کو غیروں کے حوالے کر دیا۔‘‘ ’’میں جانتا ہوں آپ کے احساسات کو۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔’’ آپ مجھے اس بارے میں کچھ نہ کہیں، مسز وھیپل ۔ میرا بھی ایک بیٹا ہے۔ آپ میری بات سنیں ۔یہ سچائی ہے کہ میں اس سے زیادہ اس کے لیے اور کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘
مسٹر اور مسز وھیپل اس رات کافی دیر تک بات کرتے رہے۔” یہ خیرات ہے۔‘‘ مسز وھیپل نے کہا۔’’ اب ہم اس سطح پر آگئے ہیں ! خیرات! میں نے ہر گز بھی ایسا کبھی نہیں سوچا تھا۔‘‘
’’ہر شہری کی طرح ہم بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں ان جگوئں کے لیے۔ “ مسٹر وھیپل نے کہا۔’’ اور میں اس کو خیرات لینا نہیں کہتا۔ یہ تو بڑا اچھا ہوگا کہ ہم اس کو وہاں رکھیں جہاں ہر چیز بہترین ملے۔ اس کے علاوہ میں اس طرح ڈاکٹر کی فیس دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘‘
’’اسی لیے تو ڈاکٹر چاہتا ہے کہ ہم اس کو بھجوادیں ...... اس کو ڈر ہے کہ اس کی فیس ملے گی بھی یا نہیں۔ “ مسز وھیپل نے کہا۔
’’اس طرح کی باتیں نہ کرو “۔ مسٹر وھیپل نے بیزار ہو تے ہوئے کہا۔’’ یا ہم اسے نہیں بھجوا سکتے۔‘‘
’’اوہ ! لیکن ہم اسے بہت عرصہ کے لیے وہاں نہیں رکھیں گے ۔‘‘ مسز وھیپل بولیں ۔’’جیسے ہی وہ بہتر ہو گا ، ہم اسے واپس گھر لے آئیں گے۔‘‘
’’ڈاکٹر بار بار کہہ چکا ہے ، اس کی حالت اب بہتر نہیں ہوگی۔اور تم اس بارے میں بات کرنا بند کردو۔‘‘ مسٹر وھیپل نے کہا۔
’’ڈاکٹر ہر بات نہیں جانتے۔‘‘ مسز وھیپل خوشی کے ساتھ کہنے لگیں۔” ایمیلی بہرحال گرما میں چھٹی پر آرہی ہے۔ اور ایڈنا ہر اتوار کو آسکتا ہے۔ ہم سب مل کر کام کریں گے اور پھر سے اپنے قدم جما ئیں گے۔اور بچے محسوس کریں گے کہ کوئی جگہ ہے جہاں وہ آسکتے ہیں۔‘‘
اچانک مسز وھیپل نے دیکھا کہ گرما کا موسم چل رہا تھا۔ باغ ہرے بھرے ہو گئے تھے۔ نیا رولر (Roller) آچکا تھا۔ ایڈنا اور ایمیلی گھر آگئے تھے۔زندگی سے بھرے ہوئے، تمام لوگ ایک ساتھ پھر سے خوش تھے۔اوہ! کاش ایسا ہو۔ ان سب کے لیے آسانیاں ہوں۔
وہ اس کے سامنے بات نہیں کرتے تھے۔لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کتنا سمجھتا تھا۔آخر ڈاکٹر نے اس کو ہسپتال میں داخل کرنے کا دن طے کرلیا۔اور پڑوسی جس کے پاس بڑی کار تھی، انہیں لے جانے کی پیشکش کی۔ہسپتال سے ایمبولینس بھجوائی جا سکتی تھی۔ لیکن مسز وھیپل نہیں چاہتی تھیں کہ وہ گھر سے ایسے جائے جیسے وہ بہت بیمار ہو۔ انہوں نے اسے بہت سارے کمبلوں میں لپیٹ دیا۔پڑوسی اور مسٹر وھیپل نے مل کر اسے اٹھا کر کار کی پچھلی سیٹ پر مسز وھیپل کے ساتھ بٹھا دیا۔مسز وھیپل نے اچھا سا شرٹ پہن رکھا تھا۔وہ دکھانا نہیں چاہتی تھیں کہ وہ لوگ کسی خیراتی ہسپتال جارہے ہیں۔
’’تم ٹھیک رہو گی۔میں گھر پر رہتا ہوں۔‘‘ مسٹر وھیپل نے کہا۔’’ یہ کچھ اچھا نہیں لگے گا کہ سب گھر چھوڑ کر چلے جائیں۔‘‘
’’اس کے علاوہ، وہ وہاں ہمیشہ کے لیے تھوڑی جا رہا ہے۔‘‘ مسز وھیپل نے پڑوسی سے کہا ،’’ بہت کم وقت کے لیے جا رہا ہے۔‘‘
پڑوسی نے کار چلانی شروع کردی۔ مسز وھیپل کمبل کے کناروں کو پکڑے رہیں کہیں وہ بازو میں گر نہ جائے۔وہ وہاں پلکیں جھپکاتے ہوئے بیٹھا رہا۔پھر اس نے کمبل سے اپنے ہاتھ باہر نکالے اور انگلیوں کے جوڑوں سے ناک کو گھسنے لگا اور پھر کمبل کے ایک سرے سے۔مسز وھیپل کو یقین نہیں ہو پا رہا تھا جو وہ دیکھ رہی تھیں۔وہ اپنے آنسو صاف کر رہا تھا جو مسلسل بہے جارہے تھے۔وہ سسکیوں کے ساتھ رو رہا تھا۔کوئی چیز جیسے اس کے حلق میں اٹک گئی ہو اور برقت وہ اسے نگل رہا تھا۔مسز وھیپل کہتی جارہی تھیں۔” میرے اچھے بیٹے ، تمہیں اتنا برا محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔تم کچھ برا محسوس نہیں کرتے۔ ہے نا؟‘‘ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی ماں کو کسی بات کے لیے موردالزام ٹھہرا رہا ہو۔ہو سکتا ہے کہ اسے یاد ہو جب اس کی ماں نے اس کے سر پر مارا تھا۔یا پھر وہ دن یاد کر رہا ہو جب وہ بیل کے ساتھ تھا اور ڈر رہا تھا ، ہو سکتا ہے کہ وہ سردی میں سوتا رہا، لیکن اپنی ماں کو نہیں بتا سکا تھا۔ہو سکتا ہے کہ وہ یہ جانتا تھا کہ وہ لوگ اس لیے اسے دور بھجوا رہے تھے، کیونکہ وہ اپنی غریبی کی وجہ سے اس کا خرچ برداشت نہیں کر پاتے تھے۔ وہ جو کچھ بھی ہو سکتا تھا ، مسز وھیپل اس بارے میں اپنی سوچ کو برداشت نہیں کر سکتی تھیں اور خوف سے رونا شروع کردیا۔اس کو اپنی بانہوں میں مضبوطی سے بھر لیا۔اس کا سر مسز وھیپل کے کندھے پر گر گیا۔انہوں نے اس بچہ سے بہت محبت کی تھی ، اتنی جتنی کہ وہ کر سکتی تھیں، جبکہ وہاں ایڈنا اور ایمیلی بھی تھے جن کے بارے میں بھی انہیں سوچنا تھا۔ان کے پاس ایسا کچھ نہیں تھا جو اس کی زندگی کی کمی کو پورا کر سکتا۔اوہ ، کتنا جان لیوا افسوس......وہ پیدا ہی کیوں ہوا۔
وہ ہسپتال کے قریب پہنچ گئے۔ پڑوسی کافی تیز رفتار سے کار چلا رہا تھا ،پیچھے دیکھنے کی ہمت کیے بغیر۔