پیشگوئی
ترجمہ : رحیم
اگرچہ مجھے یاد نہیں رہا کہ وہ کون سا دن تھا مگر تھا وہ 1816ء کے اگست کا ہی کوئی دن تھا جب غرناطہ کے کپتان جرنیل کے دروازے پر ہردیا نامی ستر سالہ جپسی آیا۔ اس کا پیشہ بھیڑیں مونڈنا تھا۔پھٹے پرانےکپڑے پہنے ہوئے کالے مریل گدھے پر سوار تھا جس کا ساز لے دے کر اک رسی تھی جو اس کی گردن میں پڑی ہوئی تھی۔ گدھے سے اترتے ہی کہنے لگا۔ ’’مجھے کپتان جرنیل سے ملنا ہے۔‘‘
یہ کہنے کی حاجت نہیں کہ اس کی اس جسارت سے پہرہ دار کے دل میں مزاحمت کا جذبہ بیدار ہو گیا۔ اردلی مذاق پر اتر آئے اور اجٹین شش و پنج میں پڑ گئے اور اسے شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ بہرحال غرناطہ کی قدیم سلطنت کے جرنیل حضور والا شان ’ڈان یوجی نی او۔ پورٹو کے ری رو‘ کو اس کی آمد کی اطلاع دے دی گئی اور چونکہ جرنیل بلند مرتبت حلیم الطبع واقع ہوئے تھے اور پہلےہی سے ہر دیا سے واقف تھے جو اپنے کرتبوں، سودابازیوں اور اپنے ہمسایوں کے مال و متاع کو حریصانہ نظروں سے دیکھنے کے لیے مشہور تھا، اس لیے انہوں نے اسےحضور میں آنے کے احکام صادر کر دیے۔
وہ دفتر میں داخل ہوتے ہی دو زانو ہو کر بولا ’’مقدس ترین مریم پر رحمت ہو اور اس دنیائے صغیر کے بادشاہ ولا شان کی عمر دراز!‘‘
نواب نے جھوٹ موٹ تنک کر کہا ’’اس جھک جھک کو چھوڑو اور سیدھے ہو کر جو کہنا ہے کہو!‘‘
ہردیا کے چہرے پر سنجیدگی کے آثار نمایاں ہو گئے۔ ’’تو حضور والا لائیے مجھے ایک ہزار دونیاں عنایت کر دیجیے!‘‘
’’کون سی دونیوں کی بات کر رہے ہو؟‘‘
’’وہی دونیاں، حضور جن کا کچھ دن ہوئے اعلان کیا گیا تھا کہ اس شخص کو بطور انعام دی جائیں گی جو پاروں کی بابت کسی قسم کی اطلاع بہم پہنچائے گا۔‘‘
’’ہاں ہاں، تو کیا تم کچھ خبر لائے ہو اس کی؟‘‘
’’نہیں تو حضور۔‘‘
’’تو پھر ؟‘‘
’’لیکن اب میں اسے جان پہچان گیا ہوں!‘‘
’’وہ کس طرح؟‘‘
’’بڑی سیدھی بات ہے حضور! میں نے اس کا پیچھا کیا، اس سے ملاقات کی اور اب اطلاع کے لیے حاضر خدمت ہو کر انعام کا خواستگار ہوں!‘‘
جرنیل کی دلچسپی شک و شبہ سے دست و گریباں تھی، کہنے لگا۔ ’’لیکن تمہیں یقین بھی ہے کہ تم نے اس سے ملاقات کی تھی۔‘‘
جپسی کھلکھلا کرہنس پڑا۔ ’’صاف دکھائی دے رہا ہے کہ حضور والا دل میں کہہ رہے ہیں ’’لو اک اور جپسی آگیا ہے مجھے دھوکا دینے!‘‘ خدا مجھے غارت کرے اگر جھوٹ عرض کروں۔ میں نے کل ہی پاروں سے ملاقات کی ہے۔‘‘
’’جو کچھ کہہ رہے ہو اس کی اہمیت بھی معلوم ہے تمہیں؟ کیا تمہیں خبر ہے کہ ہم کئی سالوں سے اس بدطینت خونی ڈاکو کے پکڑنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں جسے نہ کسی نے دیکھا ہے اور نہ کوئی پہچانتا ہے ۔ کیا تمہیں خبر ہے کہ کوہستان کے مختلف علاقوں میں وہ ہر روز کئی راہ گیروں کو لوٹتا ہے اور پھر انہیں گولی کا نشانہ بنا ڈالتا ہے کہ اس کا قول ہے: موت کی زبان گنگ ہے۔ انہی طریقوں سے وہ اب تک کیفر کردار کو نہیں پہنچ سکا اور سب سے بڑی بات،کیا تمہیں خبر ہے کہ پاروں سے ملنا موت سے ملنا ہے۔‘‘
جپسی پھر ہنس پڑا۔ کہنے لگا: ’’کیا حضور کو خبر ہے کہ جو کام جپسی سے نہ ہوا وہ اس دنیا جہاں میں کسی سے بھی نہ ہو گا۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ہم سچے طور پر کب روتے ہیں اور کب ہنستے ہیں؟ کیا حضور کے علم میں کوئی ایسی لومڑی ہے جو ہم سے مکار ہو۔ سو حضرت عالی میں پھر عرض کیے دیتا ہوں کہ یہی نہیں کہ میں اسے ملا ہوں ، بلکہ اس سے گفتگو بھی کی ہے!‘‘
’’کس جگہ؟‘‘
’’طوزار کو جانے والی سڑک پر۔‘‘
’’کوئی ثبوت ؟‘‘
’’میں عرض کرتا ہوں، حضور عالی! اس بات کو کل سویرے سے ایک ہفتہ گزرے گا کہ میں اور میرا گدھا چند لٹیروں کے ہاتھوں میں پھنس گئے۔ انہوں نے مجھے کس کر باندھ دیا اور حیران پریشان کر دینے والی غاروں اورکھوؤں سے گزرتے گزارتے اک میدان میں لے آئے جہاں انہوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ مجھے اک خوفناک شبہ ہوا۔ یہ کہیں پاروں کے آدمی تو نہیں ہیں۔ اگر واقعی اسی کے آدمی ہیں تو پھر زندہ بچ نکلنے کی کوئی امید نہیں کہ اس ملعون کا قول ہے : جن آنکھوں نے میرا منہ دیکھا وہ کسی اور کا چہرہ نہیں دیکھ سکیں۔
’’میں اپنی سوچ میں غرق تھا کہ ایک آدمی میری طرف بڑھا۔ اس نے عجیب و غریب مگر شان دار کپڑےپہن رکھے تھے۔ میرے کندھےکو تھپک کر کہنے لگا ’’دوست! میں پاروں ہوں۔‘‘
’’اس بات کو سننا اوردھم سے زمین پر آرہنا ایک ہی چیز تھی۔ لٹیرے نے بے اختیار ہنسنا شروع کر دیا۔
’’میں کانپتے کانپتے اٹھا اوردوزانو ہو کر جس رنگ کی بھی آواز حلق سے نکل سکتی تھی،نکال کرکہنے لگا:
’’حضور کی روح پر رحمت ہو، اے لوگوں کے بادشاہ! کون ہے جو حضور کو اس شاہانہ وجاہت سے پہچان نہیں سکتا جو خدا نے آپ کو بخش رکھی ہے۔ خدا کرے مائیں حضور جیسے اور سپوت جنیں! اجازت دیجیے میرے بیٹے! کہ میں آپ کو چوم لوں۔ خدا اس غریب جپسی کابیڑا غرق کر دے اگر اس کی آرزو نہ رہی ہو کہ آپ کے درشن کرے۔ آپ کو قسمت کا حال بتائے اور آپ کے شاہانہ ہاتھوں کو بوسہ دے! آپ مجھے ہمیشہ اپنی خدمت میں کمربستہ پائیں گے۔ کیا آپ معلوم کرنا پسند کریں گے کہ مردہ گدھوں کو کس طرح جیتے جاگتے گدھوں کے بدلےفروخت کر دیا جاتا ہے اور کس طرح بوڑھے گھوڑوں کو جوان گھوڑوں کی قیمت پر بیچا جاتا ہے اور خچروں کو کس طرح فرانسیسی پڑھائی جاتی ہے؟‘‘
نواب مان ٹی جو ہنسے بغیر رہ نہ سکا، پوچھنے لگا: ’’تو پاروں نے ان ساری باتوں کا کیا جواب دیا۔ کیا کیا اس نے بھلا؟‘‘
’’جو حضور کر رہے ہیں، وہی اس نے بھی کیا۔ خوب دل کھول کر ہنسا۔‘‘
’’اور تم نے کیا کیا؟‘‘
’’اور حضور میں اتنا ہنسا، اتنا ہنسا کہ نارنجی جتنے بڑے بڑے آنسو آنکھوں سے بہنے لگے۔‘‘
’’تو پھر؟‘‘
’’تو پھر اس نے تھوڑی دیر بعد میری طرف اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔‘‘
’’جتنے آدمی اب تک میری طاقت کے آگے سرنگوں ہوئے ہیں دوست! صرف ایک تم ہو جو ان سب سے ہشیار نکلے ہو! سبھی اپنے بھونڈے مذاق کو چیخ وپکار اور واویلا اور اسی طرح کے خرافات کی صورت میں ظاہر کرتے رہے اور اس سے میں اور بھی چڑ جاتا رہا! صرف ایک تمہی ہو جس نے مجھے ہنسنے کا موقع دیا اور اگر یہ آنسو نہ بہتے تو ......‘‘
’’تو گویا یہ خوشی کے آنسو تھے میرے اچھے حضور؟‘‘
’’یقیناً! اور ابلیس ہی جانتا ہے کہ چھ سات سالوں میں آج پہلی بار ہنسنا نصیب ہوا ہے مجھے لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ میں رویابھی تو نہیں۔ اچھا تو اب کام شروع کریں، ارے لڑکو!‘‘
پاروں کااتنا کہنا تھا کہ میں آنکھ جھپکنے سے پیشتر بندوقوں کی باڑ میں گھر گیا۔ میں الحاح و زاری سے کہنے لگا: ’’حضور! رحم کیجیے مجھ پر رحم!‘‘
پاروں نے چلاکر کہا: ’’رک جاؤ ذرا۔ ابھی نہیں! میں نے تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ معلوم کروں کہ اس سے کیا کیا وصول کیا ہے تم نے؟‘‘
’’محض کھال میں منڈھاہوا اک گدھاحضور!‘‘
’’کوئی روپیہ ،پیسہ؟‘‘
’’تین ڈورو اور ستر دونیاں عالی جاہ!‘‘
’’تخلیہ!‘‘ ......اور وہ سب چلے گئے۔
لٹیرے نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھاکر کہا: ’’اچھا تو مجھے قسمت کا حال بتاؤ۔‘‘ ہاتھ پکڑ کر میں لمحہ بھر کے لیے سوچ میں پڑ گیا۔ یہ بدیہی امر تھا کہ مجھے بات کھل کر کہنے کا موقع مل گیا ہے۔ اس لیے میں نے پورے دلی وثوق سے کہا:
’’پاروں آپ مجھے زندہ چھوڑ دیں یا مار ڈالیں مگر یہ کہے بغیر رہ نہیں سکتا کہ زود یا بدیر آپ کی موت پھانسی کے تختے پر واقع ہو گی۔‘‘
اس نے کمال سکون سے جواب دیا: ’’یہ مجھے پہلے ہی معلوم ہے۔ اچھا بتاؤ کب؟‘‘
میں نے دل میں سوچنا شروع کر دیا۔ ’’آج یہ مجھے آزاد کر دے گا۔ کل میں غرناطہ پہنچ کر اطلاع دے دوں گا۔ تیسرے روز اسے گرفتار کر لیں گے اور مقدمہ شروع ہو جائے گا۔‘‘ پھر میں نے بلند آواز میں کہا: ’’آپ پوچھتے ہیں کہ کب؟ تو گرہ میں باندھ لیجیے حضور کہ اگلےہی مہینے میں!‘‘ ادھر پاروں لرز گیا اور ادھر میں خوف کے مارے لرز اٹھا کہ قسمت کے حال بتانے کا شوق میری جان لے کے رہے گا۔ پاروں نے غور و فکر کے ساتھ بولتے ہوئے جواب دیا:
’’سنو جپسی! تم میری قوتِ گرفت میں رہو گے۔ اگر انہوں نے اگلے مہینے کے آخر تک مجھے پھانسی نہ دی، تو میں تمہیں پھانسی دے ڈالوں گا۔ جس قدر یہ امریقینی ہے کہ انہوں نے میرے باپ کو پھانسی دے دی تھی، اس بات کو بھی اتنا ہی یقینی سمجھو!! اگر اس وقت تک میرا خاتمہ ہو گیا توتم آزاد ہو جاؤ گے!‘‘
میں نے جی میں کہا: ’’بڑی عنایت ہے اس کی کہ مجھے موت کے بعد معاف کر رہا ہے۔ مجھے اس بات کا افسوس ہو رہا تھا کہ اس مدت کو اتنا قلیل کیوں رکھا بہرحال ہم کچھ عرصہ مذکورہ بالا کیمپ میں ٹھہرے رہے۔ بعدہ‘ مجھے ایک کھوہ میں مقفل کر دیا گیا اور پاروں گھوڑے پر سوار ہو کر گھنی جھاڑیوں میں سے اپنی راہ پر ہو لیا۔
نواب کہنے لگا: ’’اچھا، میں سمجھ گیا۔ پاروں مر گیاہے اور تم آزاد ہو اور اس لیے تم اس کے ٹھور ٹھکانے سے واقف ہو۔‘‘
’’معاملہ تو اس کے برعکس ہے حضور عالی! پاروں زندہ ہے اور یہیں سے میری کہانی کے نہایت تاریک پہلو کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک ہفتہ گزر گیا مگر کپتان نے ادھر کا رخ نہ کیا اور جہاں تک مجھے معلوم ہواہے وہ آس پاس کہیں بھی دیکھنےمیں نہ آیا تھا۔ خصوصاً اس شام سے قطعاً غائب تھا جب میں نے اسے قسمت کا حال بتایا تھا، لیکن میرےمحافظوں کا کہنا تھا کہ یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ تم جانو، وہ اکثر اوقات جانے کہاں جہنم رسید ہو جاتا ہے اور جب وہ موقع محل مناسب سمجھتا ہے تو آ موجود ہوتا ہے! سچ بات تو یہ ہے کہ وہ جو اتنی اتنی دیر غائب رہتا ہے تو ہمیں اس کے متعلق خاک بھی پتا نہیں ہوتا۔ کچھ منت سماجت سے اور کچھ رسالے کے سارے گروہ کی قسمت کا حال بتانے سے اور کچھ یہ پیش گوئی کرنے سے کہ سبھی پھانسی کے پاس بھی نہ پھٹکیں گے اور سبھوں کا بڑھاپا سکھ چین سے گزرے گا میں انہیں کم از کم اتنا رضامند کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ وہ مجھے شام کو کھوہ سے باہر نکال لیا کریں اور درخت سے باندھ دیا کریں کہ میں کھوہ کی ہمس اور گرمی سے مرا جاتا تھا۔ یہ بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ دو محافظ ہر وقت میرے پہلو میں موجود رہتے تھے۔
ایک دن شام کے چھ بج رہے ہوں گے کہ وہ ڈاکو جو پاروں کے لیفٹیننٹ کے حکم کے ماتحت ’ڈیوٹی‘ پر تھے۔ کیمپ میں آئے اور ساتھ میں کوئی چالیس پچاس سال کے لگ بھگ کی عمرکا خستہ حال، فصل کاٹنے والا مرد بھی لیتے آئے۔ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور رہ رہ کر یوں روتا چلاتا تھا کہ کلیجہ پھٹا جاتا تھا۔ وہ کہتا جاتا تھا ’’خدا کے لیے میرے بیس ڈورو مجھے واپس کر دو! کاش تمہیں معلوم ہو جائے کہ میں نے کس محنت سے انہیں حاصل کیا ہے! گرمیوں کے سارے موسم میں کڑکتی دھوپ کو خاطر میں نہ لایا اور برابر فصل کاٹتا رہا، جب کہیں ان کا منہ دیکھنا نصیب ہوا۔ گرمیوں کے سارے موسم میں ان روز کے لیے بھی بیوی بچوں کی شکل نہ دیکھی اور برابر کام میں جٹارہا۔ سخت محنت کے ساتھ فاقہ کشی کرکرکے پائی پائی جوڑی اور پائی پائی جوڑ کر بیس ڈورو پلے باندھے! اور یہ سب کچھ صرف اس لیے کہ سردیوں میں موت ہم سے دور رہےاور میں ان کو جا سینے لگاؤں اور ان کے وہ قرضے صاف کر دوں جو انہوں نے موت سے بچنے کے لیے ادھر ادھر سے مانگ رکھے تھے! اب خدا کے لیے کوئی اللہ کا بندہ کہاں دے کہ کہاں تک جائز ہو گا اگر میں یہ بیس ڈورو کھو دوں۔ یہ بیس ڈورو جو مرے لیے قارون کے خزانے کے برابر ہیں! مجھ پر رحم کھاؤ صاحبو اور سب سے پاک مریم کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ مجھے میرے بیس ڈورو واپس دے دو!‘‘
لٹیرے اس کی آہ و زاری کےجواب میں ہنس ہنس کر اس کا مذاق اڑارہے تھے ! میں درخت سے بندھا ہوا دہشت سے کانپ جاتا تھا کہ آخر جپسیوں کےبھی بال بچے ہوتے ہیں۔
ایک لٹیرا اس کی طرف بڑھا اور کہنے لگا: ’’ابے احمق نہ بنو! تمہیں تو اس وقت زر و دولت سے کہیں زیادہ اہم چیز کی بابت سوچنا چاہیے تھا!‘‘
’’وہ چیز ؟ کون سی ہے وہ چیز؟‘‘ فصل کاٹنے والے کے نزدیک سب سے بڑی بدقسمتی یہی تھی کہ بال بچے بھوکوں مریں۔
’’تم اس وقت پاروں کے ہاتھوں میں پھنسے ہوئےہو؟‘‘
’’پاروں۔ کون پاروں؟ میں تو اسے نہیں جانتا اور نہ ہی کبھی اس کی بابت سنا کچھ! میں آلی کاٹتے کا رہنے والا ہوں اور سے ولے میں محنت مزدوری کرتا ہوں!‘‘
’’لیکن دوست! پاروں کا مطلب ہے موت! جو بھی ہمارے جال میں پھنس جائے، مرے بغیر چھٹکارا نہیں پا سکتا! اس لیے پہلے دو منٹوں میں وصیت کی سوچ لو اور دوسرے دو منٹوں میں خدا کے یہاں پہنچنے کا دھیان کر لو! ہو جاؤ تیار! ابھی چار منٹ باقی ہیں اور پھر موت!‘‘
’’میں ان کا پورا پورا فائدہ اٹھاؤں گا۔ خدا کے لیے مجھ پر رحم کرو اور میری سن لو!‘‘
’’بولو!‘‘
’’میرے چھ بچے ہیں اور ایک قسمت کی ماری بیوہ۔ بیوہ ہی کہوں گا کہ ابھی مجھے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا، تمہاری آنکھوں میں صاف لکھا نظر آرہا ہے کہ وحشی درندوں سے بھی بدتر ہو۔ ہاں ہاں بدتر ہو کہ ایک ہی نسل کے درندے کو موت کے گھاٹ نہیں اتارتے! لیکن خدا کے لیے مجھے معاف کر دو کہ مجھے ہوش نہیں کہ میں کیا بک رہا ہوں۔ صاحبو! آخر تم میں کوئی نہ کوئی تو باپ ہو گا۔ کیا تم میں کوئی ایسا نہیں جو باپ ہو؟ کیا تم کو معلوم ہے کہ ساری سردیاں بھوکوں مرنا کیا ہوا کرتا ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے کہ کیا حال ہوتا ہے اس ماں کا جو اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھتی ہے۔ وہ جگر کے ٹکڑے جو چلا چلا کر کہہ رہے ہوں ’’ماں ہم بھوک سے مرے جا رہے ہیں۔ ماں ہم سردی سے مرے جا رہے ہیں۔‘‘ صاحبو! میں ان کے بغیر زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ ان کے بغیر زندگی ہو گی بھی کیا۔ فاقوں کی زنجیر! اگر مجھے جینا ہے تو محض اپنے بچوں کی خاطر جینا ہے! ہائے میرے بچے۔ ہائے مرے جگر کے ٹکڑے!‘‘
وہ زمین پرلوٹ لوٹ گیا ......اور لوٹتے لوٹتے چہرہ جو چوروں کی طرف کیا تو ہائے وہ چہرہ! وہ چہرہ اس ولی کا چہرہ تھا جسے پادریوں کے قول کے مطابق نیرو نے شیروں کے آگے ڈال دیا تھا! کوئی شے ان کے سینوں میں ابھر رہی تھی۔ سب نے ایک دوسرے کو دیکھا اور یہ دیکھتے ہوئے کہ سب متفق ہیں۔ایک نے جرأت سے کام لے کر کہہ دیا۔
نواب کہانی سے بے حد متاثر ہو رہا تھا۔ بے ساختہ کہہ اٹھا: ’’کیا کہہ دیا اس نے؟‘‘
اس نے کہا: ’’بھائیو! جو کچھ ہم نے کرنے کی ٹھانی ہے۔ اس کی بھنک تک پاروں کے کانوں میں نہ پہنچنے پائے!‘‘
سب بولے: ’’ہرگز نہ پہنچے گی!‘‘
ایک نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا: ’’بھلے میاں! اب تم اپنے گھر کی راہ لو!‘‘
ادھر میں نے بھی اسے اشاروں اشاروں میں سمجھا دیا کہ فوراً سے پیشتر دفع ہو جائے!
سبھوں نے کہا: ’’تیز قدم!‘‘ ......اور انہوں نے اس کی طرف پیٹھ کر لی!
فصل کاٹنے والا اپنے ہاتھ کو لجاجت کے ساتھ پھیلائے ہوئے تھا!
’’ارے اب بھی تسلی نہیں ہوئی تمہاری!‘‘ ایک نے غرا کر کہا۔ ’’اپنی رقم بھی مانگتے ہو کیا؟ جاؤ بھئی جاؤ، ہمارے صبر کا امتحان نہ لو!‘‘
وہ روتے روتے جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
ڈاکوؤں نے اس معاملے کو راز میں رکھنے کے لیے ایک د وسرے کے سامنے قسمیں کھانی شروع کر دیں اور قسمیں کھانے کھلانےمیں شاید آدھ گھنٹہ ہی گزرا ہو گا کہ کیا دیکھتے ہیں کہ سان نہ گماں، پاروں آرہا ہے اور اس کی گھوڑی کے پہلو بہ پہلو فصل کاٹنے والابھی موجود ہے!
چوروں کی سٹی گم ہو گئی اور گھبرا کر پیچھے کو ہٹے! پاروں بڑے اطمینان کے ساتھ گھوڑی سے اترا۔ دونالی بندوق کو کندھے سے اتارا اور ساتھیوں کا نشانہ باندھتے ہوئے بولا: ’’احمقو! ہونقو! مجھے تعجب ہے کہ تم میں سے ہر ایک کو میں گولی کا نشانہ کیوں نہیں بنا رہا! چلو جلدی کرواور اس آدمی سے جوبیس ڈورو لیے تھے اسے فوراً لوٹا دو!‘‘ چوروں نے اس رقم کو فصل کاٹنے والےکی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ وہ فوراً پاروں کے قدموں پر گر گیا کہ اس کا دل کس قدر رحم سے بھرا ہوا تھا۔ پاروں نے اس سے کہا۔
’’جاؤ میاں! خدا کی رحمت تمہارے ساتھ ہو! تمہارے سمجھانے کے بغیر میں بھلا کب ان تک پہنچ سکتا تھا۔ اب دیکھ لیا نا تم نے کہ تم نہ دلیل نہ وجہ مجھ پر اعتبار کرتے ہوئے ڈرتے تھے! میں نے اپنے وعدہ کو نبھادیا اور تم نے اپنی رقم وصول کر لی قصہ ہوا پاک۔ اب یہاں سے چلتے بنو!‘‘
فصل کاٹنے والا بار بار پاروں کے پاؤں چومتا تھا، وہ خوشی خوشی اپنی راہ پر ہو لیا۔ ابھی بمشکل پچاس قدم ہی گیاہو گا کہ اس کے مربی نے پیچھے سے آواز دی۔ غریب فوراً ہی الٹے پاؤں بھاگا آیا! ’’کیا حکم ہے آپ کا؟‘‘ اور اس کی خدمت بجا لانے کے لیے بیتاب تھا جس نے اس کے خاندان کو خوشیوں سے بھر دیا تھا۔
’’تم پاروں کو جانتے ہو؟‘‘ اس نے خود ہی پوچھا۔
’’نہیں تو۔‘‘
وہ ہکا بکا کھڑا تھا۔ پاروں نے اپنی دونالی بندوق اس کے کلوں پر رکھ کر داغ دی!وہ گر پڑا۔ خاک و خون میں لوٹ پوٹ ہو رہا تھا!
’’تم پرلعنت ہو خدا کی! ......‘‘صرف یہی تھے وہ الفاظ جو وہ کہہ سکا۔
مارے دہشت کے مجھے کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا! مجھے یوں محسوس ہوا کہ جس درخت کے ساتھ بندھا ہوں وہ ہلکے سے ہلاہے اور میرے بندھن ڈھیلے پڑ گئے ہیں۔ ایک گولی فصل کاٹنے والے کو زخمی کرکے سیدھی اس رسی کے آلگی جس سے میں بندھا ہوا تھا اور اس کو کاٹ کے رکھ دیا۔ میں نے اس آزادی کو چھپائے رکھا اور بھاگ نکلنے کے موقع کے انتظار میں رہا۔ اس اثنا میں پاروں فصل کاٹنے والے کی طرف اشارہ کرکے اپنے آدمیوں سے مخاطب ہوا: ’’اب تم اسے لوٹ سکتےہو! حماقت کے پشتارو؟ بیوقوفی کے پلندو! وہ شاہراہ پر چیختا چلاتا چلا جا رہا تھا اور تم نے آزاد بھی اسی لیے کیا تھا اسے؟ وہ تو کچھ مقدر بھلے تھے جو مجھی سے مڈبھیڑ ہو گئی اور جس طرح وقوع کی تفصیل سے مجھے آگاہ کرکے یہاں لے آیا تھا اگر فوجیوں کو بھی لے آتا تو ہم سب جیل کی ہوا کھا رہے ہوتے اب تک ! لوٹ کے بعد قتل نہ کرنے کا نتیجہ دیکھ لیا تم نے؟ خیر، بہترا وعظ ہو چکا۔ اب اسے دفن کر دو کہ سڑنے نہ پائے!‘‘
ڈاکو تو قبر کھود رہےتھے اور پاروں میری طرف پیٹھ کیے کچھ کھا رہا تھا۔ میں نے ہولے ہولے درخت سے ہٹنا شروع کیا اور کھسکتے کھسکتے ایک قریبی کھوہ میں گھس گیا۔ رات ہو چکی تھی اور میں تاریکی کے پردے میں انتہائی تیزی سے چل پڑا۔ مجھے تاروں کی روشنی میں اپنا گدھا نظر آگیا جو چپ چاپ گھاس پر منہ مار رہا تھا اور آش کے درخت سے بندھا ہوا تھا۔ میں اس پر سوار ہو گیا اور راہ میں کہیں نہیں ٹھہرا اور بھاگم بھاگ یہاں آپہنچا۔ اب حضور اعلیٰ مجھے ایک ہزار دونیاں عنایت فرما دیں اور میں آپ کو پاروں کی کھوج میں رواں کر دوں۔ جس نے یونہی یاد آگیا، میرے ساڑھے تین ڈورو بھی دبا رکھےہیں!‘‘
جپسی نے پاروں کا پورا پورا حلیہ بتانے کے بعد موعودہ انعام حاصل کر لیا اور دفتر سے باہر نکل آیا۔ اس کے جانے پر نواب اور اک اور شخص جس نے مجھے اس کہانی کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے، قطعاً حیران و ششدر بیٹھے رہ گئے!
اب یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے کہ پاروں کے متعلق ہردیا کی پیش گوئی کا اندازہ ممکن حدتک صحیح نکلا تھا۔
جو واقعہ ابھی ابھی بیان ہو چکا ہے، اس کے پندرہ روز بعد صبح کے قریباً نو بجے بے فکروں کا جم غفیر غرناطہ کے سان جو آن، اور ’سان فی لائپ‘ کے بازاروں میں دو فوجی دستوں کے اجتماع کو دیکھنے کے لیے ٹھہر گیا۔ نواب نے پاروں کی ذات، اس کی جائے پناہ اور ساتھیوں کا حلیہ مشتہر کر دیا تھا اور ان فوجیوں کو گھنٹہ کے بعد اس کی تلاش میں ادھر چل نکلنے کاحکم موصول ہو چکاتھا۔اہالیان غرناطہ اک غیر معمولی دلچسپی اور جوش و خروش کا اظہار کر رہےتھے۔ لیکن غرناطہ کی قدیم سلطنت میں پاروں نے کچھ اس قسم کا خوف اور دبدبہ طاری کر رکھا تھا کہ فوجی اس اہم معرکےپر روانہ ہونے سے پیشتر نہایت متانت اور خموشی کے ساتھ اپنے دوستوں اور گھر والوں سے مل مل کر رخصت ہو رہے تھے۔
ایک فوجی نے اپنے ساتھی سے کہا: ’’معلوم ہوتا ہے ابھی قطار میں کھڑے ہونے والےہیں ہم! مگر دفعدار لوپے ز دکھائی نہیں دے رہا کہیں!‘‘
’’بڑی عجیب سی بات ہے۔ جب بھی پاروں کو ڈھونڈ نکالنے کا تذکرہ ہوتا تھا تو یہ شخص ہمیشہ پیش پیش تھا۔ اسے پاروں سے شدید نفرت تھی۔‘‘
ایک تیسرا گفتگو میں شریک ہوتے ہوئے بولا: ’’تمہیں نہیں معلوم کیا ہوا ہے؟‘‘
’’ہیلو! یہ ہمارے نو آمد بھائی ہوں گے، کہو بھئی پسند آیا ہمارا دستہ؟‘‘
’’جی ہاں! واقعی بہت پسند آیا ہے تم لوگوں کا دستہ ‘‘...... مخاطب نے جواب دیا جو پیلےچہرے اور خوبصورت جسم کا جوان تھا اور جسم کو وردی نے قدرے چھپا رکھاتھا۔
’’کیا کہہ رہے تھے تم؟‘‘ پہلے نے پوچھا۔
پیلے چہرے والے نے جواب دیا:’’تو ہاں بیچارہ دفعدار لوپے ز تو مر گیا ہے۔‘‘
یہ کیا کہہ رہے ہو ارے مینوال! توبہ کرو بھائی۔ مجھے تو یقین نہیں اس بات کا۔ میں نے تو اسے صبح دیکھا ہے۔ بالکل جس طرح تمہیں اب دیکھ رہا ہوں!‘‘
جس فوجی کو مینوال کے نام سے پکارتے تھے اس نے نہایت سکون سے کہا: ’’آدھا گھنٹہ ہوا کہ پاروں نے اسے مار ڈالا ہے!‘‘
’’پاروں۔ وہ کہاں ہے؟‘‘
’’وہ یہیں ہے۔ عین غرناطہ میں۔ کوہ سگ پر لوپے ز کی لاش ملی ہے!‘‘
سب خموش تھے مگر مینوال تھا کہ محب وطن کی شان کے ساتھ سیٹی بجا رہاتھا۔
ایک سارجنٹ بولا: ’’چھ دنوں میں گیارہ فوجی فنا ہو گئے تواس کا مطلب یہ ہوا کہ پاروں ہمیں نیست و نابود کرنے کی ٹھانے ہوئے ہے۔ لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ وہ غرناطہ میں موجود ہے۔ اور ہم ہیں کہ اسے لوجا کی پہاڑیوں میں تلاش کرنے جا رہے ہیں۔‘‘
مینوال نے سیٹی بند کر دی اور حسب معمول لاپروائی کے انداز سے کہنے لگا: ’’اک بڑی بی نے اعلان دیکھا تو کہنے لگی، جب لوپے ز کو اس نے مار ڈالاہے تو یہ جو اس سے ملنے جائیں گے تو امید ہے مل کے بڑے خوش ہوں گے!‘‘
’’ارے بھائی ، اس کا ذکر اتنی تحقیر سے کرنے میں تم کچھ ضرورت سے زیادہ ہی جرأت سے کام لے رہے ہو!‘‘
مینوال نے کندھے اچکا کر کہا: ’’پاروں آدمی ہی تو ہے اور تو کچھ نہیں نا؟‘‘
عین اس وقت قطار بندی کا حکم ہوا اور فوجی دستوں کی حاضری شروع ہو گئی۔
اتفاق کہیے کہ ادھر سے ہردیا بھی گزر رہا تھا اور دوسرے راہگیروں کی طرح وہ بھی فوجیوں کو بنظر تحسین دیکھنے کے لیے دم بھرکو ٹھہر گیا۔
نو آمد فوجی، مینوال کی نظر جو اس پر پڑی تو چونک اٹھا اور چند قدم پیچھے ہٹا کہ اپنے ساتھیوں کے پیچھے چھپ جائے اور جب ہردیا نے اسے دیکھا تو اک چیخ ماری اور یوں اچھل پڑا گویا کسی زہریلے ناگ پر پاؤں آ پڑا ہو اور چھوٹتے ہی ’سان جے ری نی مو‘ بازار کی طرف بھاگنے لگ پڑا۔
اتنے میں مینوال نے اپنی بندوق اٹھائی اور جپسی کا نشانہ باندھا مگر اک اور فوجی نے بڑی پھرتی سے اس کی بندوق کو یوں دھکا دیا کہ نشانہ ہوا میں خطا ہو گیا۔
تماشائیوں کی طرف سے پیہم آوازیں آرہی تھیں ’’ارے پگلا ہے پگلا ...... دیوانہ ہو گیا ہے۔ ہوش حواس غائب ہوگئےہیں اس کے!‘‘ اور افسر، سارجنٹ اور شہری اس پر پل پڑے۔ اس نےبچ کر بھاگ نکلنے کی کوشش تو کی مگر سب نے اسے زیر کرلیا اورسوالوں، لعنتوں اور بے عزتیوں کی بوچھاڑ کر دی! وہ سب کچھ خاموشی سے سہتا رہا!
اس دوران میں لوگوں نے جو بندوق چلنے کی آواز سنی اور ساتھ ہی ہردیا کو بھاگتے دیکھا اور وہ سمجھے کہ کوئی بدمعاش مجرم ہے اور اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
جپسی بولا: ’’مجھے جرنیل کے پاس لے چلو، مجھے ان سے کچھ کہنا ہے۔‘‘
لوگ بولے: ’’کیا بات ہے تمہاری! کہنا بھی ہے تو جرنیل سے! پہلے یہ تو کہو قتل کسے کیا ہے تم نے؟ لو وہ رہے سپاہی ! وہی تمہارا بندوبست کریں گے!‘‘
ہردیا نے کہا: ’’بندوبست تو ہو ہی رہےگا مگر دیکھنا کہیں پاروں مجھے مار نہ ڈالے!‘‘
’’ارے پاروں کہاں؟ کیسی باتیں کر رہے ہو تم۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں!‘‘
’’جو ساتھ چلے آؤ گے تو سب پتہ چل جائے گا۔‘‘ اور لوگ اسے فوجی سردار کے پاس لے آئے۔ جپسی نے مینوال کی طرف اشارہ کرکے کہا: ’’حضور! یہی پاروں ہے اور میں ہوں وہ جپسی جس نے دو ہفتے قبل جرنیل کی خدمت میں اس کا حلیہ عرض کیا تھا۔‘‘
لوگ چلا چلا کر کہہ رہے تھے: ’’پاروں پکڑا گیا۔ پاروں پکڑا گیا۔ پاروں فوجی کے بھیس میں پکڑا گیا۔‘‘
فوجی سردار نے جرنیل کے موصولہ احکام کو پڑھتے ہوئے کہا: ’’اب شک شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم نہایت احمق ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن بھلا کون مائی کا لال ایسا تھا جسے یہ سوجھتی کہ خود چوروں کا سردار ہی ان فوجیوں میں شامل ہو گیاہے جو اسی کو تلاش کرنے جا رہے ہیں۔‘‘
پاروں جپسی کو زخمی شیر کی طرح تک رہا تھا اور دل میں کہتا تھا: ’’بڑا ہی ہونق نکلا میں! اک یہی تھا جسے جیتے جی چھوڑ دیا! جو کچھ ہوا ہے میں ہوں ہی اسی لائق!‘‘
ایک ہفتے کے بعد پاروں کو پھانسی دے دی گئی اور یوں جپسی کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی!