’’ڈائن‘‘ کا ایک اور روپ
(اقتباس)
انگریزی ترجمہ، کلپنا بردھن: اردو ترجمہ، مسعود اشعر
گاؤں میں ہمارے گھر سے پورب کی طرف ایک بہت بڑا تالاب تھاجس کے ساتھ اونچے تاڑ کے پیڑ کھڑے تھے۔ تالاب سے 45 زاویہ پر اتر پورب میں سورن ڈائن کا گھر تھا۔ لوگ اسے سورن ڈائن ہی کہتے تھے۔ وہ گھر اس چٹیل میدان کے ایک کنارے پر تھا جس کےایک طرف مچھیروں کے اور دوسری طرح بوری ذات کے اچھوتوں کے جھونپڑے تھے۔ میدان میں ایک بہت بڑا بڑ کا پیڑ تھا جس کے نیچے ڈائن کا گھر تھا۔ اس کے آگے اور کوئی گھر نہیں تھا، بس ریت اور مٹی ہی تھی جو دور تک چلی جاتی تھی۔ گاؤں کے اس کنارے تک کبھی کوئی نہیں جاتا تھا۔ صرف اس چھوٹے سے تالاب تک وہی لوگ جاتے تھے جو اپنے مردوں کے لیے چتا جلایا کرتے تھے۔ اس کے قریب ارتھیوں کے ساتھ لائے جانے والے کپڑوں کے چیتھڑے اور چتا کے لیے استعمال کی جانے والی لکڑیوں کے ادھ جلے ٹکڑے اور مٹی کے برتن بکھرے پڑے ہوتے تھے۔ بڑا چھتنار پیڑ تالاب کے دوسرے کنارے کھڑا تھا۔ وہاں کے لوگ دن کے وقت بھی پیڑ کے قریب جاتے ڈرتے تھے۔ رات کے وقت وہ پیڑ کالے آسمان کے نیچے کھڑا ایک بڑا سا دیو نظر آتا تھا۔
سورن اپنے گھر کے چبوترے پر بیٹھی اس پیڑ کو تکتی رہتی تھی۔
کم سے کم ہم لوگ یہی سمجھتے تھے کہ وہ خالی بیٹھی پیڑ کو تکتی رہتی ہے۔
دھان کے ہرے بھرے کھیت میدان سے باہر اس سے بہت دور تھے۔ ڈائن اپنے قریب ہری بھری چیز بالکل برداشت نہیں کرتی۔
سورن ڈائن سوکھی چھڑی کی طرح دبلی پتلی تھی۔ اس کے منہ میں اوپر نیچے مضبوط دانتوں کی دو قطاریں تھیں اور چھوٹی چھوٹی آنکھوں کی جھریاں تھیں جن کی پتلیوں کا رنگ کتھئی تھا۔ اس کی نظریں ہر قسم کے جذبات سے عاری تھیں اور جب وہ کسی چیز کو دیکھتی تو بس دیکھتی ہی رہ جاتی۔ بالکل سوکھی نظریں جیسے سوکھی ندی کی تہہ میں پڑا سوکھا پتھر۔
یہ اقتباس اس موضوع پر تارا شنکر کی ایک تحریر سے لیا گیا ہے۔ اس کا نام بھی ’’ڈائن‘‘ ہی ہے۔
لوگ کہتے تھے کہ ڈائن کبھی پلک نہیں جھپکتی۔ اس کی نظریں نرم اور ملائم گوشت کے اندر چلی جاتی ہیں اور سندر بدن کو اندر تک کھنگال ڈالتی ہیں۔ وہ نظریں ماں بننے والی لڑکی کے گوشت اور ہڈیوں کے اندر تک اور اس کی کوکھ میں پلنے والی ننھی سی جان تک پہنچ جاتی ہیں۔ پھر وہ گل گوتھنا سا بچہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جا تا ہے۔ اور اس کا گلابی رنگ جھلس جاتا ہے۔ وہ لڑکی بھی اپنی سندرتا کھو بیٹھتی ہے۔ انسان ہی نہیں ڈائن اگر کسی ہرے بھرے پیڑ کو بھی نظر بھر کر دیکھ لے تو وہ بھی کھڑے کھڑے مر جھا جاتا ہے۔
گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں تاڑ کے پیڑ سے چیلوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ اگر غور سے سنو تو ہوا کی شائیں شائیں میں ڈائن کے گانے کی آواز بھی سنائی دیتی ہے۔ وہ اپنی منمناتی آواز میں زور زور سے گاتی ہے۔
رات گئے اگر اس کے گھر کے قریب جاؤ تو عجیب سی دھب دھب اور تھپ تھپ کی آوازیں آتی ہیں۔ اس وقت ڈائن اپنے گھر میں ادھر ادھر گھومتی ہوتی ہے۔ دیوتا جنہیں شراپ دے کر بھوت پریت یا ڈائن بنا دیتے ہیں وہ راتوں کو سو نہیں سکتے۔ وہ رات بھر چکر لگاتے رہتے ہیں۔ آگے پیچھے آگے پیچھے۔ رات بھر وہ یہی کرتے رہتے ہیں۔ کون ایسا سورما ہے جس کا دل ایسی آوازیں سن کر نہیں دہل جائے گا۔
سورن سبزی ترکاری بیچتی تھی۔ وہ سات آٹھ میل دور سے سبزی ترکاری ، کیلے اور کٹھل وغیرہ خرید کر لاتی اور نزدیک کے گاؤں میں انہیں بیچتی۔ ہمارے گاؤں میں نہیں بیچتی تھی۔ اسے ڈر رہتا تھا کہ کہیں اس سے کسی کو نقصان نہ پہنچ جائے۔اس کے سینے میں جو شیطانی بھوک ابلتی رہتی ہے کہیں وہ کسی آدمی یا کسی چیز کو ہڑپ نہ کر لے۔ اگر ایسا ہوا تو سورن شرم سے مر جائے گی۔ اس کے اندر جو چڑیل رہتی تھی اسے اس پر کوئی اختیار نہیں تھا۔ وہ تو خود اس کی داسی تھی۔ اسے تو عمر بھر اس کا حکم ماننا تھا۔ وہ تو اس کی مرضی کے بغیر مر بھی نہیں سکتی۔ سورن اس وقت تک نہیں مر سکتی جب تک اس کے اندر رہنے والی چڑیل اپنے لیے رہنے کو کوئی اور جسم تلاش نہیں کر لیتی۔
لوگ کہتے ہیں کہ سورن کی خالہ ڈائن تھی۔ وہ اکیلی رہتی تھی۔ جب مرنے لگی تو اس نے اپنے رشتے داروں کو بلایا۔ مگر کوئی اس کے پاس نہیں گیا۔ سورن بھی اپنی مرتی ہوئی خالہ کے پاس نہیں گئی کہ کہیں اس کے اندر کی ڈائن سورن کے اندر نہ گھس جائے۔ وہ مر گئی تو سورن یہ سوچ کر وہاں گئی کہ اب تک تو ڈائن اس کے اندر سے چلی گئی ہو گی۔ وہ نہ جاتی تو اس کی خالہ مرتی ہی کیسے۔ وہ وہاں پہنچی تو اس نے دیکھا کہ اس کے تمام رشتے دار وہاں موجود ہیں۔ ان سب نے اس بڑھیا کے سامان کے حصے بخرے کیے اور چلے گئے۔ سورن اس وقت نوجوان ودھوا تھی۔ وہ اس کے چبوترے پر بیٹھی رہی۔ اچانک اس کی خالہ کی پلی ہوئی بلی میاؤں میاؤں کرتی اس کے پاس آئی۔ وہ خر خر کرتی اس کے پیروں کے ساتھ اپنا جسم رگڑنے لگی۔ جیسے کہہ رہی ہو ’’مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔ تمہیں اپنی خالہ کے سامان سے کچھ بھی نہیں ملا ۔اور مجھے بھی کوئی لے کر نہیں گیا۔‘‘
اس نے بلی کو کھانے کو دیا اور اسے اپنے ساتھ لے کر ہی سو گئی۔ پھر وہ جہاں بھی جاتی اس بلی کو اپنے ساتھ لے جاتی۔
ایک دن کیا ہوا کہ برابر کے گاؤں میں ایک بچہ بیمار پڑ گیا۔ وہ درد کے مارے اس طرح چیختا تھا جیسے بلی رو رہی ہو۔ لوگوں نے دیکھا تو ڈر کے مارے ان کا برا حال ہو گیا۔ ’’اوجھا‘‘کو بلایا گیا۔ اس نے کہا کہ اس پر کسی کا سایہ پڑا ہے ۔ اور ہونہ ہو یہ چڑیل کا کام ہے مگر......‘‘
’’مگر کیا؟‘‘
’’وہ چڑیل کون ہے ......‘‘
ابھی اس نے اپنی بات بھی پوری نہیں کی تھی کہ سورن کی بلی وہاں آئی اور میاؤں میاؤں کرتی وہیں بیٹھ گئی۔ ’’ہاں، یہ بلی ہی چڑیل ہے۔‘‘
’’چڑیل بلی ......؟‘‘
’’ہاں، کسی چڑیل نے مرنے سے پہلے اپنی طاقت اس کے اندر ڈال دی ہے۔‘‘
تب انہیں یاد آیا کہ سورن کی خالہ ڈائن تھی۔ اور یہ بلی اسی کی ہے۔ مرتے وقت اس کے پاس یہی ایک جاندار چیز تھی۔ کتنی بھیانک بات تھی!
یہ سن کر وہاں کھڑے ایک نوجوان کو اتنا غصہ آیا کہ اس نے ڈنڈا اٹھا کر پوری طاقت سے بلی کے سر پر دے مارا۔ اس کا سر پاش پاش ہو گیا۔ مگر بلی مری نہیں۔ اس کی دم ہلتی رہی۔ اس کی دم ہلتی رہی اور اس کے پنجے فرش کو کھرچتے رہے۔
’’خبردار‘‘ اوجھا بولا۔ ’’اس کے قریب کوئی نہ جائے۔ وہ اپنے اثر کسی دوسرے کے اندر داخل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے بغیر یہ نہیں مر سکتی۔‘‘
اس نے اپنے آپ کو اس سے بچانے کے لیے اس پر منتر پڑھ کر پھونکا۔ پھر بلی کی دم پکڑی، اسے اٹھایا اور گاؤں سے دور لے جا کر پھینک دیا۔
سورن اس وقت اپنے گھر تھی۔ اس نے وہیں سنا کہ اس کی بلی کے ساتھ کیا ہوا۔ وہ ڈر گئی۔ لوگ اس کے پاس آئے اور اسے خوب برا بھلا کہا کہ اس لعنت کو وہ گاؤں میں کیوں لے کر آئی تھی۔
تیسرے پہر کو کچھ لڑکوں نے اسے آ کر بتایا کہ اس کی بلی ابھی تک مری نہیں ہے اور وہ اسی طرح کراہ رہی ہے۔ وہ اس سے باتیں کر رہے تھے تو اس وقت بھی ان پر کپکپی طاری تھی۔ سورن وہاں پہنچ گئی۔ وہ اپنی مرتی ہوئی بلی سے بھلا دور کیسے رہ سکتی تھی۔ اس نے دیکھا کہ اس کے سفید جھبری بلی لال لال خون میں لتھڑی ہوئی ہے۔ اس کی چیخیں دل پھاڑے دے رہی تھیں۔ آہستہ آہستہ ایک ایک قدم بڑھاتی وہ اس کے پاس گئی۔ نرمی سے اس نے بلی کی ناک کو چھوا اور بلی مر گئی۔
اچانک سورن کے دیکھنے کا انداز ہی بدل گیا۔ اب وہ ایسی چیزیں بھی دیکھ رہی تھی جنہیں وہ پہلے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ سامنے جو بکری گھاس چر رہی تھی، سورن نے دیکھا اس کے پیٹ میں دو بچے ہیں۔ سامنے کیلے کا پیڑ تھا اس کے تنے میں اس نے کیلے دیکھ لیے تھے جو ابھی پھول بھی نہیں بنے تھے۔ وہ ان کا سالن بنانے کی سوچنے لگی۔ اس کی زبان جیسے زندہ کیڑا بن گئی۔ اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ بھگوان ، یہ اسے کیا ہو رہا ہے؟
یہ وہ جاتک کہانی ہے جو لوگ سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سورن اس طرح ڈائن بنی تھی۔
اب اسے بھی مرنے سے پہلے کسی ایسے انسان کی تلاش تھی جس پر اپنا اثر منتقل کر سکے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پاش پاش سر والی بلی کی طرح وہ بھی ہمیشہ درد سے تڑپتی رہے گی کہ اس کی جان لے لے اور موت اسے جواب دے گی کہ وہ اس وقت تک اسے اس عذاب سے نہیں بچا سکتی جب تک وہ اپنا اثر کسی اور کو نہ دے دے۔
سورن کو اپنے اندر بسنے والی ڈائن پر کوئی اختیار نہیں تھا اس لیے وہ گاؤں کے کسی گھر کے اندر قدم نہیں رکھ سکتی تھی۔ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتی تھی۔
سورن وہاں بہت زمانے رہی۔ میں جب بڑا ہوا تو میں اسے چاچی کہتا تھا۔ ادھر سے جب گزرتا تو میں اسے اندھیری جھونپڑی میں چپ چاپ بیٹھا دیکھتا۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔ ادھر سے کوئی گزرنے والا اگر اس سے بات کرتا تو مختصر سا جواب دیتی اور اپنی جھونپڑی کے اندر گھس جاتی۔
میں جب بیس بائیس سال کا ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ اس عورت کی زندگی کتنی درد ناک ہے۔ وہ خود بھی یہی سمجھتی ہے کہ وہ ڈائن ہے۔ اگر کسی کے لیے اس کے دل میں پیار ابھرتا ہے تو ڈر کے مارے خود ہی اسے دبا لیتی ہے۔ اگر اسے کوئی اچھا لگتا ہے تو فوراً اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ اگر کسی کو پیار کرنے کو اس کا دل چاہتا ہے تو وہ ڈرتی ہے کہ اس کے اندر کی ڈائن کہیں اسے کھا نہ جائے۔ اسے یقین تھا کہ اس کی ڈائنوں والی طاقت نے اس کے پیار میں بھی زہر گھول دیا ہے اور اس کا پیار زہر میں بجھا وہ تیر بن گیا ہے جو ہر انسان کے سینے میں اتر جائے گا جس سے وہ پیار کرے گی۔
دن رات وہ دعا کرتی کہ بھگوان اسے اس شراپ سے مکتی دلائے، اسے اس بھیانک جیون سے مکتی دلائے۔ جب وہ روتی تو جلد سے اپنے آنسو پونچھ ڈالتی کہ چڑیل کے آنسو زمین پر گرنے سے دھرتی ماتا کا ممتا بھرا سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔