عجیب و غریب بچے
انگریزی ترجمہ، کلپنا بردھن: اردو ترجمہ، مسعود اشعر
اس علاقے کا نام لوھری ہے۔ یہ سرکاری طور پر رانچی کا حصہ ہے مگر وہ بہار کے تین اضلاع رانچی، سرگوجا اور پلاماؤ کو ملانے والے تراہے پر واقع ہے۔ وہ اس علاقے کا حصہ نظر نہیں آتا ، بلکہ وہ اس سنسار کا ہی حصہ دکھائی نہیں دیتا۔ سارا علاقہ آگ میں جھلسی ہوئی وادی سا معلوم ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہاں زمین کی سطح کے نیچے ٹمپریچر بہت ہی زیادہ ہے۔ پیڑ چھوٹے چھوٹے اور مرجھائے ہوئے ہیں اور ندیوں کی تہہ ایسی سوکھی جیسے شمشان بھومی۔ گاؤں دھوئیں اور دھوانلی گرمی کے کفن میں لپٹے ہوئے۔ مٹی عجیب و غریب گہرے تانبے کے رنگ کی۔ اس پورے علاقے میں اور کہیں ایسی گہری گلابی اور سرخ زمین نظر نہیں آتی۔ یہ بے جان اور بے روح لال رنگ ہے، سوکھے خون کا رنگ۔
خدا کے پچھواڑے واقع اس گاؤں لوھری پہنچنے کے لیے ریلیف افسر اپنے آخری پڑاؤ پر تھا اور اسے ایک رات ٹھہر کر آگے جانا تھا۔ یہاں اسے اس علاقے کے بارے میں ہدایات دی جا رہی تھیں۔ وہ ایماندار اور نرم دل افسر مانا جاتا تھا۔ اس علاقے کے لیے خاص طور سے اس کا انتخاب کیا گیا تھا اور اسے پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا کہ جس علاقے میں وہ جا رہا ہے وہ خاصا دشوار علاقہ ہے۔ اسے ایک بار پھر آگاہ کیا جا رہا تھا کہ ’’وہاں کے لوگ ایمانداری سے روزی روٹی نہیں کماتے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’اول تو یہ کہ وہ کھیتی باڑی نہیں کرے۔‘‘
’’کیوں؟ ان کے پاس زمین نہیں ہے؟‘‘
جو شخص اس کے ساتھ باتیں کر رہا تھا وہ بلاک ڈویلپمنٹ افسر تھا اور یہ باتیں اس کے بنگلے میں ہو رہی تھیں۔ باہر ابھی تک گرمی تھی۔ چوکیدار سے کہا گیا تھا کہ جب رات زیادہ ہو جائے تو اس کے لیے بان کی چارپائی بنگلے کے احاطے میں ڈال دے۔ یہاں کوئی بھی کمروں کے اندر نہیں سوتا کیونکہ بہت گرمی ہوتی ہے۔
ریلیف افسر کو صرف تین مہینے کے لیے یہاں ڈیپوٹیشن پر بھیجا گیا تھا۔ اس کا تعلق محکمہ خوراک سے تھا۔ اس نے ایسا بے جان اور روکھا علاقہ اور کہیں نہیں دیکھا تھا۔ پہلے پہل جو لوگ امدادی سامان لینے وہاں آئے انہیں دیکھ کر بھی وہ ایسا خوش نہیں ہوا۔ وہ قریب قریب ننگے اور سوکھے کانٹے تھے۔ ان کے پیٹ کیڑوں اور بڑھی ہوئی تلی کی وجہ سے پھولے ہوئے تھے۔ آدی باسیوں کے بارے میں اس کا تصور یہ تو تھا کہ وہاں مرد بانسریاں بجاتے ہوں گے اور عورتیں گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے بال بنائے بانسری کی دھنوں پر ناچتی ہوں گی۔جانے کیوں اس نے ان کے بارے میں جب بھی سوچا انہیں ناچتا گاتا اور پہاڑوں میں دوڑتا بھاگتا ہی سوچا۔
جب وہ نیچے جیپ چھوڑ کر گاؤں تک جانے کے لیے پہاڑی ڈھلان پر چلا تو اسے محسوس ہوا کہ ان پہاڑیوں پر دوڑنا تو ممکن ہی نہیں ہے۔ چلتے چلتے اس کا سانس پھول گیا۔ وہ سوچتا تھا کہ گانا تو قبائلی زندگی کا لازمی حصہ ہو گا۔ اسے دور سے گانے کی آواز آرہی تھی۔ مگر وہ گانا بے سرا سا تھا جیسے گھو ڑا ہنہنا رہا ہو یا جیسے کسی بیابان جنگل میں چڑیل بین کر رہی ہو۔ اسے بہت مایوسی ہوئی۔ اس نے قبائلی زندگی کے بارے میں جو تصور قائم کیا تھا وہ فلموں بالخصوص ہندی فلموں کا بنایا ہوا تھا۔ اگر یہ ان کا گاناہے تو ان کا ماتم اور ان کے بین کیسے ہوتے ہوں گے؟اس علاقے کے پہلے ہی ذائقے نے اس کے منہ کا مزہ خراب کر دیا ۔ وہ پریشان ہو گیا۔
’’یہ ہر وقت رونے والے گانے کیوں گاتے رہتے ہیں؟‘‘
’’اس لیے کہ یہ آدی باسی لوگ بہت جنگلی ہیں، یہاں جو بھی کوئی خرابی ہوتی ہے یہ سمجھتے ہیں وہ بدروح کی کارستانی ہے۔ ان شیطانی روحوں کو دور بھگانے کے لیے یہ ایسے گانے گاتے ہیں۔‘‘
بلاک ڈویلپمنٹ افسر نے محسوس کیا کہ روحوں کے نام پر ریلیف افسرتھوڑا سا جھجکا ہے، وہ مسکرایا اور پوچھا: ’’آپ ڈر گئے؟‘‘
’’بالکل نہیں۔‘‘
’’ان کے لیے تو سوکھا اور قحط بھی ان شیطانی روحوں کے شراپ کی وجہ سے ہے۔ کسی بھی اچھی ہندو آبادی میں مہابیر جی کا مندر ہوتا ہے جس پر پوتر بھگوا لہرا رہا ہوتا ہے۔ مگر یہاں ایسا نہیں ہے۔ میں تو یہاں سے ٹرانسفر کے لیے بے چین ہوں۔ مجھے تو یہاں سے کبھی بھی بھیج دیا جائے میں خوش رہوں گا۔‘‘
’’کل مجھے کہاں جانا ہو گا؟‘‘
’’لوھری۔ وہاں کے لوگ تو بالکل ہی بھوت پریت معلوم ہوتے ہیں۔ اگر آپ انہیں زمین دے دیں تو وہ اسے مہاجن کے ہاتھ بیچ دیں گے۔ پھر وہ خالی خالی نظروں سے آپ کی طرف دیکھیں گے اور پوچھیں گے: ’’پانی کہاں ہے؟ بیج کہاں ہے؟ ہل کہاں ہے؟‘‘ اگر آپ یہ سب چیزیں بھی انہیں دے دیں تو وہ بھی مہاجن کے ہاتھ بیچ دیں گے اور پھر آپ سے بحث کریں گے ۔ ’’فصل کی تیاری تک ہم کہاں سے کھاتے؟ ہمیں قرض تو لینا ہی پڑتا ہے اور پھر قرضے میں زمین چلی جاتی۔‘‘
’’مجھے یہاں کب تک رہنا ہے؟‘‘
’’آپ کو یہاں امدادی کیمپ لگانا ہے۔ جب تک کیمپ پوری طرح کام نہ کرنے لگے اس وقت تک تو رہنا ہے۔ آپ فکر نہ کریں میں آپ کا ہاتھ بٹانے کے لیے آدمی بھیج دوں گا۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
’’ڈرنے کی کیا بات ہے؟‘‘
’’چوری۔‘‘
’’ہاں۔ جب بھی یہاں امدادی سامان بھیجا گیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں چھوٹے بچے آئے اور چوری کرکے لے گئے۔ دو دو بوریاں اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ چاول، گڑ، نمک جو بھی ان کے ہاتھ لگتا ہے اٹھا لیتے ہیں۔‘‘
’’چھوٹے بچے؟‘‘
’’ہاں! چھوٹے بچے۔ ہے نا تعجب کی بات؟ انہیں کوئی پکڑ بھی نہیں سکتا۔ لوگوں نے انہیں دیکھا بھی ہے۔ میں نے خود انہیں دیکھا ہے۔ میرے پاس بندوق بھی تھی مگر ......‘‘
’’آپ اپنے پاس بندوق بھی رکھتے ہیں؟‘‘
’’میرے پاس اس کا لائسنس ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ لوھری بڑا نٹ کھٹ علاقہ ہے ۔ آج سے دس بارہ برس پہلے یہاں بہت سے لوگ مارے گئے تھے۔ بڑا ہنگامہ ہو اتھا۔ سارا علاقہ اس کی لپیٹ میں آگیا تھا۔ پولیس نے ایک گاؤں کو تو آگ لگا دی تھی۔‘‘
بلاک ڈویلپمنٹ افسر نے بتایا یہ واقعہ اس کے یہاں آنے سے پہلے ہوا تھا۔ وہ تھوڑا ٹھہرا پھر ریلیف افسر سے پوچھنے لگا کہ اس نے لوھری کے بارے میں داستان سنی ہے؟ ریلیف افسر نے ایسی کوئی داستان نہیں سنی تھی اور اسے سننے کی تمنا بھی نہیں تھی۔ وہ تو رانچی کی روشنیاں اور دلچسپیاں چھوڑ کر اس خوفناک علاقے میں اس لیے آیا تھا کہ اس کا یہاں تقرر کیا گیا تھا۔ ورنہ یہاں کون آتا ہے۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا مگر بلاک افسر پھر بھی وہ کہانی سنانے لگا۔
’’جو لوگ یہاں رہتے ہیں، میرا مطلب ہے وہاں رہتے ہیں وہ اگاریا کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ کسی زمانے میں لوہار تھے، کہتے ہیں یہ لوگ ان راکھشسوں کی اولاد ہیں جو پاتال میں رہتے ہیں۔ ان کا کام یہ تھا کہ زمین سے لوہا نکالتے اور اپنی بھٹیوں میں اسے پگھلا کر اس سے چیزیں بناتے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ آگ ہی کھاتے تھے اور آگ ہی میں نہاتے تھے۔ لوھری ان کا گاؤں تھا۔ ان کے راجہ کا نام لوکنڈی تھا۔ راکھشس صرف اگاریا لوگوں کو ہی پاتال میں اترنے اورکچا لوہا حاصل کرنے کی اجازت دیتے تھے۔ راجہ لوکنڈی کے بارہ بھائی تھے۔ ان کی پتنی ایک ہی تھی۔‘‘
’’پھر تو درد پدی سے زیادہ مزے دار ہو گی وہ؟‘‘ ریلیف افسر بولا۔
’’راجہ لوکنڈی بہت مغرور ہو گیا۔ وہ اپنے آپ کو سورج سے بھی زیادہ طاقتور سمجھنے لگا ۔ اس پر سورج کو غصہ آگیا اور اس نے لوھری پر اپنی آگ برسا دی۔ راجہ اور اس کے سارے بھائی جل مرے اور لوھری کے ساتھ تمام چیزیں بھسم ہو گئیں۔ ان سب کی مشترکہ پتنی اس وقت کسی دوسرے گاؤں میں تھی اس لیے وہ بچ گئی۔ گرمی اور تپش اس تک پہنچی تو وہ گوالے کے گھر کی طرف بھاگی اور گھی کے مٹکے میں جا چھپی۔ بعد میں اس نے ایک پیڑ کے نیچے ایک بچے کو جنم دیا جس کا نام جوالا مکھی رکھا۔ جوالا مکھی بڑا ہوا تو اس نے سورج کو للکارا کہ آ میرے ساتھ کشتی لڑ لے۔ جس میدان میں ان دونوں نے کشتی لڑی وہ گرمی سے بالکل جل گیا۔ کشتی کے بعد جوالا مکھی نے سورج کو شراپ دیا کہ وہ پورنما کی رات کے سوا اپنی چاند پتنی سے کبھی ملاپ نہیں کر سکے گا۔ سورج نے جوالا مکھی کو یہ شراپ دیا کہ اگاریا لوگوں نے لوہار کے کام سے جو دھن دولت جمع کی ہے وہ سب آگ میں بھسم ہو جائے گی او راکھ بن کر اڑ جائے گی۔ اس کے بعد سے اگاریا غریب ہو گئے۔ یہ کتھا بہت ہی پرانی ہے۔‘‘
’’ظاہر ہے بہت پرانی ہو گی۔‘‘
’’اس کے بعد آج تک اگاریا لوگ عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ وہ لوہار کا پیشہ جانے کب کا چھوڑ چکے ہیں اور انہیں کھیتی باڑی آتی نہیں۔ میرا خیال ہے یہ ملچھ ہو گئے ہیں۔ اس لیے لوہے کا راکھشس انہیں لوہا نہیں دیتا، کوئلے کا راکھشس انہیں کوئلہ نہیں دیتا اور آگ کا راکھشس انہیں صحیح قسم کی آگ نہیں دیتا۔ ویسے انہیں بھی وشواش ہے کہ ان کی قسمت پھرے گی اور ان کے دن پھر آئیں گے۔‘‘
اس واقعہ کے بارے میں بتائیے جو آپ کہہ رہے تھے کہ بہت سے لوگ مارے گئے تھے۔
’’بارہ چودہ برس پہلے بھارت سرکار نے لوھری کے علاقے میں کچا لوہا تلاش کرنے کے لیے ایک جماعت بھیجی۔ اگاریا کے کوانامی گاؤں کے لوگوں نے سب سے زیادہ ہنگامہ کیا۔ وہ کہتے تھے کہ ان کے تین راکھشس دیوتا پہاڑوں کے اندر رہتے ہیں۔ اس لیے وہ کسی کو زمین کھودنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پنجابی افسر اور مدراسی ماہر ارضیات ان کی باتوں کا کیسے اعتبار کرتے۔ وہ وہاں گئے اور پہاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا۔ پھر کوا گاؤں کے لوگ رات کے اندھیرے میں ان کے خیموں میں آئے اور افسروں کو مار ڈالا۔ اس کے بعد وہ سب جنگل کی طرف بھاگ گئے اور پھر ان کا پتہ ہی نہیں چلا۔‘‘
’’یعنی وہ غائب ہو گئے؟‘‘
’’ہاں، ذرا سوچئے مسٹر سنگھ، وہ جنگل میں گئے اور غائب ہو گئے۔ لگتا ہے جیسے انہوں نے کوئی اور جون بدل لی۔ اس کے بعد انہیں کسی نے نہیں دیکھا۔ ایک سو سے ڈیڑھ سو تک انسان چھومنتر ہو گئے۔ کہیں پتہ ہی نہیں چلا ان کا۔‘‘
’’کمال ہے۔‘‘
’’یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کہاں چلےگئے۔‘‘
’’سرکار نے کھوج نہیں لگائی؟‘‘
بہت کھوج لگانے کی کوشش کی ۔ سارے جنگل کو ایسے چھان مارا جیسے بوڑھی براہمن عورت چاولوں میں گھن تلاش کرے۔ کوا گاؤں کے سوا کسی اور گاؤں سے کوئی آدمی غائب نہیں تھا۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ ان میں اور کوئی بھی شامل نہیں ہے۔ جب تفتیش مکمل ہو گئی اور اس گاؤں کا کوئی بھی آدمی نہیں ملا تو پولیس نے سارے گاؤں کو ہی پھونک دیا۔ اس طرح ان کے زخموں پر نمک چھڑکا او رچلی گئی۔ دوسرے گاؤں کے لوگوں کو سبق سکھانے کے لیے پولیس نے اور بھی کام کیے۔ وہاں کے لوگوں کو مارا پیٹا اور ان کی چیزیں چھین لیں۔
’’غائب ہونے والے لوگوں کی آج تک کوئی خبر نہیں ملی؟‘‘
’’کوئی خبر نہیں ملی۔‘‘
’’کہاں جا سکتے ہیں وہ؟‘‘
’’آپ جانتے ہیں جنگل میں بہت سی گھپائیں اور پہاڑیاں ہیں۔‘‘
’’آپ لوھری جاتے ہیں تو بندوق کیوں ساتھ رکھتے ہیں؟‘‘
’’مجھے اس علاقے سے ڈر لگتا ہے۔ اتنے لوگ غائب ہیں۔ کون جانتا ہے وہ کہاں چھپے ہوں۔ وہ کہیں سے بھی حملے کر سکتے ہیں۔‘‘
’’صرف یہی وجہ ہے؟‘‘
’’نہیں تو۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’جب بھی وہاں امدادی سامان بھیجا جاتا ہے۔ اس میں چوری ہو جاتی ہے۔ پہلے چار پانچ بوریاں چرا لی جاتی تھیں ، پچھلے چند برسوں سے دو تین ضرور چوری ہو جاتی ہیں۔ ویسے یہ جگہ ہی بہت خطرناک ہے۔ پتہ نہیں اس زمین کون سی ایسی بات ہے۔ یہاں کچھ اگتا بھی نہیں۔ میرے بھتیجے نے یہاں فصل بونے کی کوشش کی تھی مگر کچھ اگا ہی نہیں۔ اس زمین میں دھان، گیہوں، مکئی اور باجرہ بھی نہیں اگتا۔ ہل کا پھل ہی زمین کے اندر نہیں جاتا۔ زمین کی تہہ میں لوہا ہی لوہا ہے۔ اس زمین پر تو کسی کا شراپ ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجیے، آپ کو خود ہی یقین آجائے گا۔‘‘
’’چوریاں اب بھی ہوتی ہیں؟‘‘
’’ہاں، لوگ بتاتے ہیں ، عجیب شکلوں والے چھوٹے چھوے بچے اندھیری رات میں چوری کرنے آتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں امدادی سامان کی رکھوالی کرنے والے خود ہی چوری کر لیتے ہوں گے۔ وہ چوری کرتے ہیں اور بازار میں بیچ دیتے ہیں۔ سرکار ان کا کچھ نہیں کر سکتی۔ ہر گرمیوں میں اور ہر سردیوں میں اس علاقے کے لوگوں کی امداد کے لیے کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ کپڑے اور کمبل بھی بھیجے جاتے ہیں۔ یہاں کے آدمی بھلا کمبلوں کا کیا کریں گے، یا شکر اور کپڑے ان کے کسی کام آئیں گے۔ کیا وہ ماچسوں، ٹارچوں یا آئینے کے لیے انہیں بیچ دیں گے؟ امدادی کام کرنے والے خود ہی ایسا کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ‘‘
’’مگر بری بات تو ہے۔‘‘
’’ایسی بری باتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔ بنگلہ دیش کی جنگ کے زمانے میں کلکتہ سے جو امدادی سامان بھیجا جاتا تھا آپ کو اس کے بارے میں معلوم نہیں؟ دنیا بھر سے کپڑے، کمبل، جوتے، برتن، چولہے اور نہ جانے کیا کیا آتا تھا۔ کیا وہ رانچی کے بازار میں نہیں جاتا تھا؟ اور کیا ہم اسے نہیں خریدتے تھے؟‘‘
’’ہاں، بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
’’خیر ، میں تو سمجھتا ہوں کہ وہ آپ ہی چرا لیتے ہیں اور بچوں کا نام لگا دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ تو میں خود بیس ہزار روپے کے امدادی سامان کے ساتھ وہاں گیا تھا۔ میرے ساتھ مسلح گارڈ بھی تھے۔ امدادی کیمپ لوھری میں لگایا جانا تھا جہاں آس پاس کے لوگ آ کر اپنا راشن حاصل کرتے۔ رات کالے بالوں کی طرح گھور کالی تھی، گرمی بھی بہت تھی۔ میں باہر سو رہا تھا۔ اچانک ایک عجیب سی آواز سے میری آنکھ کھل گی۔ ہوا میں اتنا گرد و غبار تھا کہ آسمان پر تارے بھی مدھم ہو گئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ چھو ٹے چھوٹے قد کے لوگ بوریاں اٹھائے بھاگ رہے ہیں۔ شاید وہ بڑے آدمی ہی ہوں۔‘‘
’’آپ نے کیا کیا؟‘‘
’’میں نے ہوا میں فائر کیا۔ بچوں کو تو نہیں مار سکا تھا نا! وہ بھاگ گئے۔ وہ ننگے تھے۔ بچے ہی ہوں گے، میں انہیں کیسے مارتا؟ لیکن......‘‘
بلاک افسر نے کچھ سوچا اور اندھیرے میں ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ اندھیرا بہت گہرا تھا اور گرمی بھی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی چیز پگھل کر نیچے گر رہی ہے، وہ ہر چیز کا گلا گھونٹ رہی ہے اور تمام دروازے بند کر رہی ہے تاکہ کہیں سے بھی روشنی کی کوئی کرن نیچے نہ آجائے۔ اس رات چاند بھی دیر سے نکلا۔
تھوڑی دیر بعد بلاک افسر نے اپنی بات پھر شروع کی جیسے جو چیز اسے بات کہنے سے روک رہی تھی اس پر اس نے قابو پا لیا ہے۔ ’’میں نے ایک بات کسی کو نہیں بتائی۔ آپ وشواس کے آدمی ہیں اس لیے بتا رہا ہوں۔ آپ کے چاچا صوبے میں وزیر بھی ہیں۔ میں نے کسی کو یہ نہیں بتایا۔ میں آپ کو اس لیے بتا رہا ہوں کہ آپ ہوشیار رہیں۔‘‘
’’کون سی بات؟‘‘
’’آپ جانتے ہیں مسٹر سنگھ، اس علاقے کے بارے میں بہت سی باتیں مشہور ہیں۔ راکھشس، روحیں، بھوت پریت اور پتہ نہیں کیا کیا۔ اس رات میں نے اپنی آنکھوں سے ان بچوں کو بوریاں اٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا تھا۔‘‘
’’آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟‘‘
’’ان کے ہاتھ پاؤں ہمارے جیسے نہیں تھے۔ وہ اور ہی طرح کے تھے۔‘‘
’’اور کس طرح کے ؟‘‘
’’میں بتا نہیں سکتا۔ ان کے لمبے لمبے بال تھے جو بچوں کے نہیں ہوتے، وہ جب بھاگے تو مجھے دیکھ کر انہوں نے عجیب سی ہنسی کی آواز نکالی۔‘‘
’’اب تو مجھے بھی ڈر لگ رہا ہے۔‘‘
’’ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو یہ بتانے کے لیے ہی میں آج رات یہاں ٹھہر گیا ورنہ مجھے تہد جانا تھا۔ آپ کے چاچا صوبے کے وزیر ہیں۔ اس لیے آپ کی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔ میرے پاس مہابیر جی کا پرساد ہے۔ آپ لے لیجیے۔ اسے اپنی جیب میں رکھ لیں۔ جب تک وہ آپ کے پاس ہے آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘
’’مگر میرے پاس بندوق نہیں ہے۔‘‘
’’کوئی بات نہیں۔آپ کے ساتھ آدمی رہیں گے۔‘‘
’’اگر مجھے مسلح گارڈ مل جائے؟ یا کوئی پولیس والا؟...... ‘‘
’’اب تو ملنا مشکل ہے۔ کل صبح آپ جا رہے ہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ بعد میں آپ کے پاس جو لوگ آرہے ہیں ان کے ساتھ پولیس بھی بھیج دوں۔‘‘
’’اب ہم کھانا نہ کھا لیں؟ سویرے جلدی جانا ہے۔‘‘
’’پہلے آپ اشنان کر یں گے؟‘‘
ریلیف افسر نے پہلے کنویں کے ٹھنڈے پانی سے اشنان کیا پھرکھانے کے لیے آیا۔ چونکہ اس کے چاچا صوبے میں وزیر تھے اس لیے میز پر بہترین قسم کا کھانا موجود تھا۔ چاولوں میں تازہ مٹر پڑے تھے۔ گوشت تھا، اچار تھا۔ اور کھانے کے بعد رس بھری گلاب جامنیں تھیں۔
اس کی چارپائی احاطے میں تیار تھی۔ کچے صحن میں پانی چھڑکا ہوا تھا۔
مگر نیند تھی کہ آتی ہی نہیں تھی۔ کبھی اندھیرے میں بھالے کی چمک نظر آتی اور کبھی چاروں طرف لاشیں ہی لاشیں پڑی دکھائی دیتیں۔ پھر بوڑھی براہمن عورت دکھائی دیتی جو دن بھر چاولوں سےگھن نکالتی رہتی ہے۔ وہ دیکھتا کہ پولیس جنگل میں ان لوگوں کو تلاش کرتی پھر رہی ہے۔ امدادی کیمپ، بچے، جو انسانوں جیسے نہیں ہیں، پیٹھ پر بوریاں لادے بھاگتے ہوئے۔ یہ سارے چہرے اس کے دماغ میں طوفان مچا رہے تھے۔ جب اسے اپنے چہرے پر گرمی محسوس ہوئی تو خیال آیا کہ وہ رات بھر سوتا رہا ہے۔ سورج اس کے منہ پر پڑ رہا تھا۔
(2)
سویرے سویرے ریلیف افسر روانہ ہو گیا۔ امدادی سامان اور خیمے ٹرک میں روانہ ہوئے۔ بلاک ڈویلپمنٹ افسر تہد چلا گیا۔
تھوڑی ہی دور پرکچی سڑک شروع ہو گئی۔ گرمیاں تھیں اس لیے وہاں سے گاڑیاں جا سکتی تھیں برسات میں تو یہ ممکن ہی نہ ہوتا۔وہ ایک کیمپ کے پاس سے گزرے جو عیسائی مشنریوں نے بنایا تھا۔ وہاں ادھر ادھر لوگ پھر رہے تھے۔ وہ سب کالے اور دبلے پتلے تھے۔
جیپ کے ڈرائیور نے انہیں دیکھا تو تھوک دیا۔ ’’یہ تو جانور ہیں۔ جب سوکھا پڑتا ہے تو یہ اپنے بچے مشن کے دروازے پر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ......گورے مشنری انہیں کرسٹان بنا لیتے ہیں۔ ان کا دھرم بھرشٹ ہو جاتا ہے۔ اور یہ لوگ جنگلی ہیں ، کرسٹان تو بن جاتے ہیں مگر اپنی مورتیوں، روحوں او ر راکھشسوں کی پوجا کرتے رہتے ہیں۔‘‘
’’مشنریوں کو اس کا پتہ نہیں ہوا؟‘‘
’’وہ جانتے ہیں ، پھر بھی وہ انہیں دوائیں دیتے ہیں، ان کا علاج کرتے ہیں۔ لال لال گالوں والی عورتیں ان جانوروں کے بچے اپنی گود میں لیتی ہیں۔ ان کے گندے منہ پر پیار کرتی ہیں۔ وہ انہیں لوریاں دیتی ہیں۔ بابو جی ذرا اندازہ لگاؤ، اتنی بری حالت میں کوئی گانا بھی گا سکتا ہے؟‘‘
آس پاس کے جنگلوں اور پہاڑیوں سے ان کے بے سرے گانے کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ یہ آوازیں لہروں کی طرح آرہی تھیں اور چلتی جیپ میں بیٹھے ان لوگوں کے کانوں سے ٹکرا رہی تھیں۔
’’یہ کیوں گا رہے ہیں؟‘‘
’’یہ عجیب لوگ ہیں۔ جو لوگ چل پھر سکتے ہیں وہ امدادی سامان لینے ریلیف کیمپ چلے جاتے ہیں۔ اور جو چل پھر نہیں سکتے جیسے بوڑھے اور بیمار وہ گول گھیرا بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور اس طرح گاتے رہتے ہیں۔ وہ گائے جا تے ہیں پھر وہ مر جاتے ہیں۔ ایک گاؤں میں گانا شروع ہوتا ہے تو دوسرے گاؤں کی بوڑھی عورتیں اپنے جوانوں کو ریلیف کیمپ بھیج دیتی ہیں اور اکٹھی ہو کرخود بھی گانا شروع کر دیتی ہیں۔
ریلیف افسر کو محسوس ہوا جیسے وہ گہرے پانی میں ڈوبا جا رہا ہے۔ اسے رانچی، روشنیاں، ٹیکسی اور موٹر کاریں یاد آئیں۔ وہاں زندگی کی چمک دمک جاری ہے اور وہ اس بھیانک علاقے میں گھوم رہا ہے۔ جہاں وحشی بچے گھوڑوں کی طرح ہنہناتے ہیں اور اپنا امدادی سامان چوری کرکے بھاگتے ہیں۔ یہاں دور دور تک دھول اڑتی نظر آرہی ہے اور جہاں تک نظر جاتی ہے وہاں تک بیابان ہی بیابان ہے۔ یہاں بوڑھی عورتیں بیمار ہوتی ہیں تو علاج کرنے کے بجائے بیٹھ کر بین کرنا شروع کر دیتی ہیں اور اس وقت تک بین کرتی رہتی ہیں جب تک انہیں موت نہیں آ لیتی۔
’’کیا بہت لوگ مر چکے ہیں؟‘‘
’’بہت مرے ہیں۔ وہ گدھ اور چیلیں دیکھ رہے ہیں آپ جو سامنے اڑ رہے ہیں؟ بہت سے لوگوں کو تو گدھ زندہ ہی کھا جاتے ہیں۔ یہ تو بہت ہی ہیبت ناک علاقہ ہے۔‘‘
’’لوھری کتنی دور ہے یہاں سے؟‘‘
’’ہم پہنچنے والے ہیں۔ چاروں طرف یہ عجیب سا تانبے کا رنگ دیکھئے۔ زمین پر، پہاڑوں پر اور پیڑوں پر ایک ہی رنگ ہے۔ یہاں کی تو زمین میں ہی زہر ہے۔‘‘
سامنے کچھ پہاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ ڈرائیور نے بتایا کہ وہاں امدادی کیمپ لگایا جائے گا۔ تھوڑی خاموشی کے بعد ڈرائیور بولا: ’’بابو جی میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ برا نہ مانیے، پتہ نہیں لوھری میں کیا بات ہے مگر ہم جب بھی وہاں جاتے ہیں ہمیں ڈر لگتا ہے۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو ہم شراب پی لیا کریں، کیمپ کے قریب ہی رہیں گے۔ بہادر یہاں پاگل ہو گیا تھا۔ اس کے بعد سے ہمیں بہت ہی ڈر لگتا ہے صاحب۔‘‘
’’بہادر کون ہے؟‘‘
’’پہلا ڈرائیور صاحب، بڑے بابو نے آپ کو بتایا نہیں؟‘‘
’’نہیں مجھے تو نہیں بتایا۔‘‘
’’اچھا ...... بتانا چاہیے تھا۔‘‘
’’کیا ہوا تھا اسے؟‘‘
’’ٹھیک سے پتہ نہیں۔ اسے کیا ہوا تھا۔ مگر اس کے ساتھ جو لوگ تھے وہ کہتے ہیں ایک رات وہ گہری نیند سویا ہوا تھا کہ اچانک اس نے چور چور پکارنا شروع کر دیا۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ وہ کسی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ پھر وہ گھپ اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ جو لوگ اسے تلاش کرنے گئے انہوں نے اندھیرے میں عجیب ڈراؤنا قہقہہ سنا تو وہ ڈر کر بھاگ آئے۔ دوسری صبح انہوں نے بہادر کو بے ہوش پڑا پایا۔ اسے ہوش آگیا مگر پھر وہ ٹھیک نہیں رہ سکا۔ پاگل ہو گیا۔‘‘
’’پھر کیا ہوا؟‘‘
’’وہ پاگلوں کی طرح چیخیں مارتا تھا۔ اب بھی وہ رانچی کے پاگل خانے میں ہے۔ لیجیے ہم اپنےپڑاؤ پر آگئے۔ ساری جگہ صاف کر دی گئی تھی۔ علاقے کا نمبردار وہاں موجود تھا۔ وہ ایک جھونپڑے سے نکلا اور ریلیف افسر سے چائے کا پوچھا۔ پھر کہنے لگا اگر آپ نہانا چاہیں تو میں نے ایک جگہ پانی بھر رکھا ہے۔ یہاں آدھ میل دور سے پانی لانا پڑتا ہے۔
’’اس ٹینک سے؟‘‘ ڈرائیور نے سوال کیا۔
’’ہاں اس سے ۔‘‘ نمبردار نے کہا۔
ریلیف افسر کے چہرے پر حیرت دیکھ کر نمبردار بولا۔ کوا کے واقعہ کے بعد پہاڑیوں کو بارود سے اڑا دیا گیا تھا اس سے وہاں بہت بڑا گڑھا بن گیا ہے۔ برسات کے موسم میں وہاں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ وہ پانی ہم سال بھر استعمال کرتے ہیں۔
چائے کے بعد نمبردار نے خیمہ لگایا اور امدادی سامان ایک جگہ رکھا۔ پھر احتیاط کے ساتھ بوریوں کی گنتی کی۔ ’’میں ہمیشہ اسی طرح گن لیتا ہوں‘‘ اس نے وضاحت کی۔ ’’میں نے تو ان گاؤں کی فہرست بھی بنا رکھی ہے جہاں یہ سامان بانٹنا ہے۔ ہم صبح دس بجے سے چار بجے تک یہ چیزیں بانٹتے ہیں۔ اس کے بعد کام ختم کر دیتے ہیں۔‘‘
’’کیا خیال ہے ایک دن میں کتنے لوگ آجائیں گے؟‘‘
’’ایک ہزار، دو ہزار کہا نہیں جا سکتا۔ اس برس کتنے لوگ آئیں گے۔‘‘
’’اس مرتبہ دوائیاں بانٹنے کے لیے بھی لوگ آئیں گے۔ انہیں بھی ایک خیمے کی ضرورت ہو گی۔ ادھر خیمہ ان کے لیے لگا دینا۔‘‘
’’بہت اچھا بابو جی، مگر کیابات ہے۔ پہلے تو وہ لوگ کبھی نہیں آئے؟‘‘
’’پہلے یہ جنتا سرکار نہیں تھی۔ اور پہلے سپیشل ریلیف افسر بھی یہاں کبھی نہیں آیا تھا۔‘‘
’’سور کا بچہ! ٹیکس کلکٹر نے سوچا ، مگر کہا ’’جیسی آپ کی اچھا۔‘‘
’’جو لوگ سرودھا مشن سے آئے ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ کام کریں گے۔‘‘
’’وہ بھی؟‘‘
’’ہاں، کیونکہ ان کے پاس نرسیں اور ڈاکٹر ہیں۔‘‘
’’بہت اچھا صاحب۔‘‘
’’ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہو گی جو پانی لائیں ، کیمپ کی صفائی کریں اور جو کھانے پینے کے برتن دھو لیا کریں۔ گاؤں سے دس نوجوان لے آؤ۔ ان کے نام لکھ لو وہ یہاں کام کریں گے۔ انہیں کھانا ملے گا اور ایک روپیہ روز۔‘‘
’’صاحب، وہ تو صرف کھانے پر کام کرتے ہیں۔‘‘
’’تم مجھے سکھانے آئے ہو؟جو میں کہتا ہوں وہی کرو۔ یہ کیمپ میں چلا رہا ہوں۔مگر تم ہر روز ایک مرتبہ یہاں ضرور آیا کرو گے۔‘‘
’’ایک مہینہ کے قریب ، ایک بات اور ہے۔ میں کیمپ میں سامان کے ساتھ سوؤں گا۔ کیونکہ یہ میری اپنی ذمہ داری ہے۔‘‘
’’یہ تو ٹھیک ہے صاحب، مگر مجھے کوئی سو روپے بھی دے تو میں سامان کے ساتھ کبھی نہ سوؤں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’راتوں کو چوریاں ہوتی ہیں اور جو لوگ چوری کرنے آتے ہیں وہ انسان نہیں ہیں۔‘‘
’’بھول جاؤ ایسی باتوں کو۔ کالج کے لڑکے یہاں کام کرنے آرہے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو ان کے گھر پر جا کر سامان دیں گے جو یہاں تک نہیں آ سکتے۔ گاؤں کے لوگوں سے کہہ دو کہ ان کے بوڑھوں کو موت کا گانا گانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ نمبردار حیران کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ وہ ہر سال سامان چوری کرکے اپنا گھر بھرتا تھا۔ وہ انتہائی بے ایمان آدمی تھا مگر اتنا ہی اپنے کام میں تیز بھی تھا۔ اس نے فوراً ہی دس اگاریا نوجوان گاؤں سے پکڑے اور انہیں کیمپ میں کام پر لگا دیا۔
دوسرے دن دو چوکیداروں کے سامنے اس نے پیڑ کے نیچے امدادی سامان اکٹھا کیا۔ پہلے دن خشک چیزیں ہی دینا تھیں۔ اس کے بعد ہر آدمی کو بھات اور بچوں کو دودھ بانٹنا تھا۔
نمبردار نے ریلیف افسر کو بتایا کہ سامان والے خیمے کے ساتھ رات کو اگاریا لڑکے سویا کریں گے۔ وہ چوکیداری کریں گے۔
ریلیف افسر کی پریشانی دور ہوئی۔ کیمپ میں صحیح وقت پر کام شروع ہوا اور باقاعدگی کے ساتھ جاری رہا۔ دو دن کھچڑی پکائی گئی اور بانٹی گئی۔ ڈاکٹروں نے ہیضہ اور ٹائیفائیڈ کے ٹیکے لگائے۔ کیمپ کے آس پاس ہر وقت گہما گہمی رہتی۔
لوگ دور دور سے آ رہے تھے۔ رات کے وقت بھی کیمپ کی طرف چھوٹی چھوٹی سی روشنیاں جلتی نظر آتی تھی۔ دن کو بہت گرمی ہوتی تھی اس لیے بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر رات کو آتے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں مشعل یا مٹی کے تیل میں بھیگے ہوئے گودڑ ہوتے۔
نمبردار بھی اس کام سے بہت متاثر تھا۔ وہ بولا اگر اس طرح سلیقے سے کام جاری رہا توجو لوگ اپنی زندگی سے مایوس ہو گئے ہیں انہیں بھی جینے کی امید مل جائے گی۔ پہلے بوڑھے لوگوں کو یقین ہوتا تھا کہ وہ جلد ہی مر جائیں گے اس لیے وہ مو ت کا گانا گانے لگتے تھے۔ اب وہ گانے بند ہو گئے ......وہ کہنے لگا۔ ’’اب گاؤں والوں کے پاس سامان پہنچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیمپ کے اندر اتنا اچھا کام چل رہا ہے کہ اب ہم ہٹے کٹے لڑکوں سے کہہ سکتے ہیں کہ اپنے بوڑھے لوگوں کو پیٹھ پر لاد کر لے آیا کریں۔‘‘
’’نہیں، بالکل نہیں۔ بھوک انسان کو کٹھور بنا دیتی ہے۔ جسے بھی وہ ساتھ نہیں لائیں گے وہ مر جائے گا۔ پھر یہ بھی ہے کہ وہ اتنی دور انہیں اٹھا کر کیسے لائیں گے۔ وہ اتنے کمزور ہیں۔ ان میں سے کچھ تو یہاں آتے ہی مر جائیں گے۔‘‘
ریلیف افسر اپنے کام میں پوری طرح منہمک ہو چکا تھا۔ ایک مستعد افسر کی حیثیت سے اسے صرف اپنے کام سے غرض تھی۔ وہ علاقہ جو پہلے دھول اور جھلسی ہوئی مٹی میں اٹا ہوا معلوم ہوتا تھا اور جس کے جنگل میں بغیر پتوں کے مرجھائے ہوئے چھوٹے چھوٹے پیڑ نظر آتے تھے اور جس کی لال لال پہاڑیاں ڈراؤنی دکھائی دیتی تھیں اب اتنا بھیانک معلوم نہیں ہوتا تھا۔ نوجوان ڈاکٹر ٹیکے لگانے کے بعد چلا گیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ مشنریوں کی مدد بھی کرے گا۔ اسے صرف ہیضہ اور ٹائیفائیڈ کے ٹیکے ہی لگانے کی اجازت تھی لیکن اس نے رانچی سے اینٹی بائیوٹک دوائیں، زخموں کے لیے مرہم اور بچوں کی غذائیں بھی منگا لیں۔ حتیٰ کہ اس نے نٹری نگٹ کے پیکٹ بھی منگا لیے۔
(3)
دس اگاریا لڑکے ہر وقت اس کے ساتھ ساتھ ہی رہتے۔ البتہ جب وہ بارود سے اڑائی ہوئی پہاڑی کے اندر نہانے جاتا تو وہ اس کے ساتھ نہیں جاتے کیونکہ انہیں وہاں جانے سے منع کر دیا گیا تھا۔ ان کے بڑے نہیں چاہتے تھے کہ وہ وہاں جائیں۔ وہ اسے لوھری ندی کے ایک پوشیدہ چشمے پر لے گئے۔ یہ لوگ اس چشمے کا پانی استعمال کرتے تھے۔ اس چشمے کے ٹھنڈے پانی میں نہاتے ہوئے اس نے ان لڑکوں کی ٹوٹی پھوٹی زبان سے سورج اور جوالا مکھی کی کشتی کی کہانی سنی۔ جوالا مکھی ان کا ہیرو تھا حالانکہ اس کی وجہ سے آج وہ غریب تھے۔ مگر اس کے شراپ کی وجہ سے سورج پورنما کے سوا ااپنی چاند پتنی سے ملاپ نہیں کر سکتا تھا۔ یہ جوالامکھی کی طاقت ہی تھی۔ اگاریالوگ اس لیے مصیبت میں پھنسے ہوئے تھے کہ لوہے، کوئلے اور آگ کے دیوتاؤں نے اپنی اشیرواد روک لی تھی۔ وہ شام کو ان لڑکوں کے ساتھ نہا کر واپس آیا۔
اس رات سامان والے خیمے کے سامنے اپنی چارپائی پر لیٹے لیٹے وہ بہت کچھ سوچتا رہا۔ اس نے سوچا اپنی چوری چھپانے کے لیے ذمہ دار لوگوں نے بچوں کے شکل کے بھوتوں کی کہانیاں پھیلائی ہیں حالانکہ وہ خود چوری کرکے لے جاتے ہیں۔ یہ سوچنے لگا کہ لوھری کے اگاریا لوگوں کی حالت کیسے بدلی جا سکتی ہے۔ یہاں ایک ایماندار اور نرم دل انسان کی ضرورت ہے جو انہیں کھیتی باڑی پر لگائے۔ رانچی جا کر وہ ضرور اس بارے میں سرکار کو نوٹ لکھے گا۔ ہر سال ان لوگوں کو امدادی سامان بھیج کر انہیں زندہ رکھنا کافی نہیں ہے۔ انہیں ان کے پیروں پرکھڑا کرنا چاہیے۔ یہ سوچتے سوچے وہ سو گیا۔ اگاریا لڑکے بھی اس کے ساتھ ہی سو رہے تھے۔ وہ اسے دیوتا کہتے تھے جس سے اس کا سینہ فخر سے پھول جاتا تھا۔ اس علاقے کے لوگ جو باہر کے کسی آدمی پر وشواش نہیں کرتے اسے دیوتا کہہ رہے تھے۔ کسی ایماندار اور مستعد افسر کے لیے اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہو سکتی ہے۔
مگر وہ دس اگاریا لڑکے نہیں سوئے تھے۔ وہ جاگ رہے تھے، ہوشیار تھے اور ہر آہٹ پر ان کے کان لگے تھے۔ اس بار کیمپ بہت بڑا تھا۔ لوگ بھی زیادہ تھے اور شور و شغب بھی زیادہ تھا۔ اس لیے انہیں وہ سنائی نہیں دے رہا تھا جو وہ سننا چاہتے تھے۔
لیکن اس رات انہوں نے قدموں کی وہ چاپ سن لی۔ بہت سے لوگ رات کے وقت حملہ کرنے والے جانوروں کی طرح آہستہ آہستہ قدم رکھتے آرہے تھے۔ سیٹی کی ہلکی سی آواز آئی۔ اس کے جواب میں بھی اسی طرح سیٹی بجائی گئی۔ وہ لڑکے اٹھ بیٹھے اور انہوں نے خیمے کی رسیاں ڈھیلی کر دیں۔ پھر چپکے چپکے بھاگنے دوڑنے کی آوازیں آنے لگیں۔ لڑکوں نے خیمے کا کپڑا اٹھایا۔ آدھی رات کے بعد چاند نکل رہا تھا۔ بہت سے ننھے ہاتھوں نے ایک بوری چاول کی اور ایک نمک کی اٹھا ئی۔
اس وقت ریلیف افسر کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے اٹھ کر ٹارچ جلائی۔ دیکھا کہ اگاریا لڑکے غائب ہیں۔ وہ جلدی سے خیمے کی دوسری طرف گیا۔ اس نے دیکھا وہ لڑکے کھونٹے سے خیمے کی رسیاں باندھ رہے ہیں۔ خیمے کا کپڑا کیوں اٹھایا گیا تھا؟ اسے لڑکوں کی بے ایمانی پر شدید صدمہ ہوا۔ اس نے ان کے چہروں کی طرف دیکھا تو بالکل ہی اجنبی اور عجیب و غریب چہرے نظر آئے حالانکہ وہ وہی لڑکے تھے۔ اس کی آنکھوں میں جو سوال تھے انہوں نے ان لڑکوں کے اندر کوئی تاثر پیدا نہیں کیا۔ ان کی آنکھوں میں بھی کوئی تاثر نہیں تھا۔ پھر اچانک ان لڑکوں نے زور کا قہقہہ لگایا اور جنگل کی طرف بھاگ نکلے۔ ریلیف افسر فوراً خیمے کے اندر گیا تو دو بوریاں غائب تھیں ۔ وہ ان کے پیچھے بھاگا۔
وہ اپنے آگے اندھیرے میں چھوٹے چھوٹے قدموں کی آواز سن رہا تھا۔ جنگل میں ایک جگہ سے بوریاں نظر آئیں جو آگے بھاگی جا رہی تھیں۔ یہ انسان ہی تھے یہ بھوت پریت نہیں تھے۔ بوریاں جتنی اونچی دکھائی دے رہی تھیں ان سے اس نے اندازہ لگایا کہ چور چھوٹے قد کے ہیں۔ ہو سکتا ہے بچے ہی ہوں۔
یہ لوگ امدادی سامان خود ہی حاصل کرتے ہیں پھر اپنے دس دس بارہ بارہ سال کے بچوں کو چوری کرنے کیوں بھیجتے ہیں؟ کمال کی بات ہے سرکاری رپورٹ کہتی ہے کہ اگاریا لوگ کبھی جھوٹ نہیں بولتے، کبھی چوری نہیں کرتے اور کبھی ماردھاڑ نہیں کرتے۔ اسے غصہ آگیا۔ اس کا چہرہ تمتمانے لگا۔ وہ ایک ایماندار آدمی ہے جو کبھی رشوت نہیں لیتا اور ان آدی باسیوں سے ہمدردی رکھتا ہے۔ اس نے ان کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے۔ اس نے تو ان کے لیے ایسی تجویزیں بھی سوچی ہیں کہ سال کے سال امدادی سامان انہیں ملنے کے بجائے ان کے مسئلوں کا مستقل حل ہی نکل آئے گا۔ میری ہمدردی کا یہ جواب ہے؟ بچوں کو بھیج کر چوریاں کرائی جا رہی ہیں؟ وہ انہیں ضرور پکڑے گا اور ہمیشہ کے لیے اس چوری کا خاتمہ کرائے گا۔
وہ ڈھٹائی کے ساتھ جنگل میں سنائی دینے والے ان قدموں کا پیچھا کرتا گیا۔ آہستہ آہستہ پیڑ چھدرے ہوتے گئے اور سوکھی گھاس پیروں میں آنے لگی۔ سامنے چٹیل میدان تھا۔ ہو سکتا ہے اسی میدان میں جوالا مکھی نے سورج سے کشتی لڑی ہو؟وہ بچے وہاں پہنچے تو انہوں نے بوریاں نیچے رکھ دیں۔
شاید وہ تھک گئے ہیں؟ ریلیف افسر نے سوچا۔ وہ ان کے قریب گیا۔ وہ بوریوں کے گرد غصے میں بھرے کھڑے تھے۔ ان کا انداز ایسا تھا جیسے جانور حملہ کرنے سے پہلے تیار کھڑا ہوتا ہے۔ وہ چپ چاپ کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔ چاند کی مدھم روشنی میں وہ صرف ان کا قد اور کھڑے ہونے کاانداز ہی دیکھ سکتا تھا، ان کے چہرے نظر نہیں آ رہے تھے۔
اچانک انہوں نے اس کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ اس نے دیکھا کہ ان میں صرف لڑکے ہی نہیں تھے، لڑکیاں بھی تھیں۔ خوف اور دہشت کے بھیانک پنجے اس کے سینے میں اترنے لگے۔ ایسی دہشت جس کا تجربہ اسے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اسے چاروں طرف سے گھیر رہے تھے۔ پھر یکدم رک گئے۔ کیوں؟
وہ اسے دیکھ رہے تھے اور وہ انہیں دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنے پیچھے دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ چاروں طرف سے گھر چکا ہے۔ وہ تھوڑا سا پھر آگے بڑھے اور پھر ٹھہر گئے۔ وہ بھاگ نہیں سکتا تھا۔ وہ بھاگتا بھی کیوں؟ یہ بچے ہی تو ہیں، بھوت تو چاول چوری نہیں کرتے۔اسے یاد آیا کہ ڈرائیور نے اس سے کہا تھا کہ یہاں کی زمین پر دیوتاؤں کا شراپ ہے ۔ ہم رات کو شراب پیا کریں گے ورنہ ڈر کے مارے ہماری جان نکل جائے گی۔‘‘
اس نے زور زور سے دھڑکتے اپنے دل کو دبانے کی کوشش کی۔ لیکن دل نے اس کا کہا نہیں مانا۔
وہ اور قریب آئے۔ اسے ٹھنڈے پسینے چھوٹنے لگے۔ یہ بولتے کیوں نہیں؟ یہ خاموشی سے اس کی طرف کیوں بڑھ رہے ہیں؟ اب ان کے بدن زیادہ صاف نظر آرہےتھے۔ مگر وہ کیا دیکھ رہا ہے؟ یہ ننگے کیوں ہیں؟ ان کے بال اتنے لمبے لمبے کیوں ہیں؟ چھوٹے بچوں کے بال سفید کیوں ہیں؟ ان کی چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کی چھاتیاں اتنی سوکھی اور لٹکی ہوئی کیوں ہیں؟ یہ صرف ایک بچہ میری طرف کیوں آرہا ہے۔ اس کے بھی سفید بال ہیں۔
’’دور رہو مجھ سے۔‘‘ اس کے منہ سے خود بخود یہ الفاظ نکلے۔ اس کی چیخ حلق میں گھٹ گئی تھی۔ سفید بالوں والا اس کے قریب آگیا تھا اور اپنا مردانہ عضو دکھا رہا تھا جو سوکھا ہوا تھا اور مردہ چوہے کی طرح لٹک رہا تھا۔
یہ تو بڑی عمر کے ہیں؟ اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا پھر ہیروشیما اور ناگاساکی کی طرح اس کے دماغ میں ایک زوردار دھماکا ہوا اور اس کی سمجھ میں سب کچھ آگیا۔
اس بوڑھے بچے نے بھی دیکھا کہ وہ سمجھ گیا ہے وہ ہنسا۔ عجیب غیر انسانی ہنسی۔ پھر وہ ہنسی چاروں طرف پھیل گئی۔ وہ اس کے گرد چھلانگیں لگانے لگے اور زور زور سے ہنسنے لگے۔ وہ پاگلوں کی طرح ہنس رہے تھے۔ کچھ لوگ قلابازیاں کھا رہے تھے۔ کچھ زمین پر چاروں ہاتھ پاؤں سے ایسے بیٹھے تھے جیسے ابھی اس پر چھلانگ لگا دیں گے۔ اب اسے کیا کرنا چاہیے؟
’’ہم بچے نہیں ہیں۔ ہم تو اگاریا ہیں۔ تم نے اس کی کہانی سنی ہے؟‘‘
’’نہیں نہیں نہیں۔‘‘ افسر اپنی آنکھیں چھپانا چاہتا تھا مگر ا س کے ہاتھوں نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ یا شاید اس کے ریزہ ریزہ دماغ نے ہاتھوں تک اس کا پیغام نہیں پہنچایا۔
’’مہابیر کا پرساد اپنی جیب میں رکھو۔ کوئی چیز آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔‘‘
’’جب سے ہم نے اپنے دیوتاؤں کا اپمان کرنے والے تمہارے لوگوں کو مارا ہے اس وقت سے ہم یہاں جنگل میں چھپے ہیں۔ بہت سے پولیس والے، بہت سے فوجی ہمیں پکڑنے آئے مگر وہ نہ پکڑ سکے۔ ہمیں کوئی نہیں پکڑ سکتا۔‘‘
وہ بوڑھا پھر ہنسا۔ بھوتوں والی ہنسی۔ اور پھر وہ سب ہنسنے لگے۔
’’ہم میں سے کچھ لوگ اگاریا لوگوں کی مدد سے زندہ ہیں۔ بہت سے تو بھوک سے مر گئے۔ اتنے دن جنگل میں بھوکے پیاسے کیسے رہ سکتے ہیں؟‘‘
گھیرا اور تنگ ہونا شروع ہو ا۔ وہ اور قریب آگئے۔
’’میرے پاس مت آؤ۔‘‘
’’کیوں؟ کیوں نہ آئیں؟ تمہارے پاس اتنے بہت سے چاول ہیں۔ اتنا خشک دودھ ہے او ر تم صرف دو بوریوں کے لیے ہمارے پیچھے یہاں تک چلے آئے ہو۔ اب تم آ ہی گئے ہو تو ذرا انہیں غور سے دیکھ لو۔ تم سب بھی ادھر آؤ اور انہیں دکھاؤ۔ اب مردوں نے اپنے اعضا دکھائے اور عورتوں نے اپنی سوکھی چھاتیاں ۔ بوڑھا آدمی اس کے بہت قریب آ چکا تھا۔ پھر وہ سب بھی اس کے قریب آگئے۔ ان کے اعضا چاروں طرف سے اس کے جسم کو چھو رہے تھے۔ وہ سوکھےاور مرجھائے ہوئے تھے۔ اسے گھن آرہی تھی۔ وہ ایسے تھے جیسے سانپ کی کینچلی۔
’’اب ہم صرف چودہ باقی بچے ہیں۔ ہمارے بدن سوکھ چکے ہیں۔ مرد اس سے پیشاب کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے۔ عورتیں بچے پیدا نہیں کر سکتیں۔ ہم اس لیے چاول چوری کرتے ہیں کہ ہم دوبارہ بڑے ہونا چاہتے ہیں۔ ہم کھائیں گے تو بڑے ہوں گے۔ تمہارا کیا خیال ہے؟ اگاریا لوگ ہماری مدد کرتے ہیں۔ کوا کا ہیا کانڈ یاد ہے؟ ہم اس مارا ماری کی وجہ سے ہی یہاں آئے ہیں۔‘‘
افسر نے سوچا وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے وہ سچ نہیں ہے۔ وہ سچ نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر کوئی بھی چیز جھوٹی نہیں ہے۔ کوپرنکس کا سسٹم، سائنس، بیسویں صدی ، ہندوستان کی آزادی، پنج سالہ منصوبہ وہ سب کچھ جو وہ جانتا ہے وہ کہے جا رہا تھا۔ نہیں نہیں نہیں ......
’’اب نہیں کہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کہنے سے کوئی چیز غلط نہیں ہو جاتی۔ اب ہمیں یہ چیزیں واپس کیسے ملیں گی؟ کیا انہیں دیکھ کر تم کہہ سکتے ہو کہ ہم بچے ہیں؟‘‘
انہوں نے پھر گھوڑوں کے ہنہنانے کے انداز میں قہقہہ لگایا اور اس کے گرد چکر لگانا شروع کر دیے۔ وہ اچھلتے اور قہقہے لگاتے جاتے تھے، کبھی کبھی اپنے عضو اس کے جسم سے رگڑتے کہ دیکھو ہم بھی بالغ ہندوستانی ہیں۔
اوپر آسمان میں چاند کیسا اداس نظر آرہا تھا۔ سورج اور جوالامکھی کی کشتی کے اکھاڑے پر اس کی چاندنی کتنی مردہ دکھائی دے رہی تھی۔ اس اکھاڑے میں بچوں کے برابر بوڑھے انتقام لینے کی کوشش میں ناچ رہے تھے۔ انہیں خوشی تھی کہ آج وہ بھالے سے اپنے دشمن کا سر اڑادیں گے۔ وہ بدلہ لیں گے۔
’’مگر بدلہ کس سے لیں گے؟‘‘
ان ناچتے ہوئے چھوٹے چھوٹے جسموں پر اس کا جو سایہ پڑ رہا تھا اس نے اسے بتایا کہ وہ کس سے بدلہ لیں گے؟ وہ اس کے پانچ فٹ نو انچ قد سے بدلہ لیں گے۔ وہ اس کے جسم کی نارمل بڑھوار سے بدلہ لیں گے۔
اپنے بچاؤ کے لیے اس کے دماغ میں بہت سی باتیں آئیں۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ تم اپنے انتقام کا نشانہ مجھے کیوں بنا رہے ہو؟ میں تو ایک عام ہندوستانی ہوں۔ میرا قدم تو امریکہ، کینیڈا اور روس کے لوگوں سے بہت چھوٹا ہے۔ وہ جو کچھ کھاتے ہیں ان میں سے بہت سی چیزیں تو میں نے دیکھی بھی نہیں۔ میں نے تو صرف اتنا ہی کھایا ہے جو عالمی ادارہ خوراک کے حساب سے کم سے کم کیلوریز والا کھانا ہے۔
مگر یہ باتیں اس کی زبان پر نہیں آئیں۔ وہ پیلی چاندنی میں خاموش کھڑا ان کے وحشیانہ قہقہے سن رہا تھا اور اپنے جسم کے ساتھ رگڑے جانے والے انسانی اعضا کی اذیت برداشت کر رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ ایک عام ہندوستانی کا جسم، جسے وہ بہت معمولی اور چھوٹا سمجھتا ہے، انسانی تہذیب کے خلاف بہت بڑا جرم ہے۔ اور ان خوددار لوگوں کے جسم جو اتنے چھوٹے رہ گئے ہیں اس کا ذاتی طور پر خود ہی ذمہ دار ہے۔وہ سب لوگوں کی طرف سے ان کا مجرم ہے۔
اس نے اپنے آپ کو موت کی سزا سنا دی۔ پھر اس کا چہرہ چاند کی طرف اٹھا اور اس نے اپنا منہ کھول دیا۔ اس کے گرد جو رقص جاری تھا، جو قہقہے لگائے جا رہے تھے اور اس کے بدن سے انسانی اعضا جس طرح رگڑے جا رہے تھے انہیں دیکھ کر اس نے طے کیا کہ اب اسے چیخ مار کے پاگل ہو جانا چاہیے۔ اگر وہ اس کرب اور اس اذیت سے بچنا چاہتا ہے تو اسے با ؤلے کتے کی طرح ہولناک آواز نکالنا چاہیے، ایسی ہیبت ناک آواز کہ یہ سارا میدان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پھر وہ عقل و ہوش سے بیگانہ ہو جائے۔ مگر یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس کا دماغ اس کا ساتھ کیوں نہیں دے رہا ہے؟ وہ جو فقرے بولنا چاہتا ہے دماغ اسے زبان تک کیوں نہیں پہنچا رہا ہے؟ اس کا دماغ اس کی آواز کو چیخ میں کیوں نہیں بدل رہا ہے؟ اس کے منہ سے کوئی آواز کیوں نہیں نکلتی؟
آخر پوری طرح مایوس ہو کر ریلیف افسر رونا شروع کر دیتا ہے۔