جنان ہلاوی

جنان ہلاوی

آسیب گھر

    ترجمہ: ڈاکٹر اعجاز راہی

    گھر کا دروازہ بہت نیچا تھا او راس کے اوپر ایک بالکونی تھی۔ جس پر آلتی پالتی مارے دو شیر بنے ہوئے تھے۔ بالکونی سے گرنے والے پانی نے ان کے چہروں پر گہرے زخم دیے تھے ان میں سے ایک کے جسم اور چہرے پر زمانے کی گردش نے ان گنت نشان چھوڑ ے تھے جبکہ دوسرا اب تک انتشار وقت سے محفوظ تھا۔

    دروازے کا خوبصورت ہینڈل یوں خاموش تھا جیسے برسوں سے انسانی ہاتھ نہ لگا ہو۔ مکان کی خستہ حالی اس کے مکینوں کی جدائی کا نوحہ سنا رہی تھی۔ دیواروں پر صفائی کے لمحات کی منتظر گرد کی ایک موٹی تہہ نے اس کے اصل رنگ کو چھپا دیا تھا۔ خوبصور ت اینٹوں کا فرش ان گنت زمانوں سے قدموں کے لمس سے محروم ، چادر اوڑھ کر سیلن کی آغوش میں جا سویا تھا۔ صدر دروازے تک جانے والی راہداری اتنی تنگ تھی کہ اس میں سے بمشکل ایک آدمی گزر سکتا تھا۔

    اوپر والی کھڑکیاں ہمیشہ سے بند تھیں اور گزرنے والی آنکھوں نے اس کے رنگین شیشوں میں کبھی روشنی کا ایک جھماکا بھی نہ دیکھا تھا۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے یہ کھڑکیاں گرجے کے مینار پر لگی وہ کھڑکیاں ہیں جو کھلنے کے لیے بنائی نہیں جاتیں۔

    کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ مکان کس کا ہے اور اس میں کب اور کون مکین تھا۔ بس عجیب و غریب افواہوں نے اس گھر کو گھیر لیا تھا۔ کسی نے اس مکان میں کبھی داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔ اور نہ ہی کسی کو داخل ہوتے دیکھا۔غرضیکہ اس کی تاریخ شک و شبہات میں ڈوب گئی تھی۔

    اس محلے کے رہنے والے لوگ جب کبھی اپنے مکانوں کی چھتوں یا بالکونیوں میں کھڑے ہو کر مکان کو دیکھتے تو ان کی نظریں چھت کی بڑی چمنی کی طرف خود بخود اٹھ جاتیں۔ جس پر سمندری بگلوں نے گھونسلے بنا لیے تھے جو دن بھر اپنے مضبوط پروں کو پھڑپھڑتے اڑتے ہوئے سمندر کی طرف جاتے اور جن کی آواز دور تک گھروں میں سنائی دیتی رہتی۔ مگر رات ایک ہولناک سناٹا اس مکان کو گھیر لیتا تب اس مکان کے قریب سے گزرنے والوں کے قدم خود بخود تیز ہو جاتے۔ ان کے اپنے دل کی دھڑکنوں کی آوازیں سنائی دینے لگتیں اور جب اچانک ان کی نظریں اندھیرے میں گھرے ہوئے اس گھر کی طرف اٹھ جاتیں، تو خوف کی ایک لہر سرسراتی ہوئی ان کی ریڑھ کی ہڈیوں میں اترتی محسوس ہوتی اور وہ بے اختیار دل ہی دل میں خدا کو یاد کرنے لگتے۔

    لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے تھے کوئی کہتا کہ اس کی رنگین شیشوں والی کھڑکیوں کے پیچھے کوئی آہیں اور سسکیاں بھرتا گھومتا رہتا ہے۔ اور اس کی آوازیں اکثر سنائی دیتی ہیں۔ کوئی کہتا اس پر بدروحوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ کچھ کا خیال تھا کہ اس مکان میں رہنے والے ایک شخص کا کبھی قتل ہوا تھا اور وہ آج بھی کٹی ہوئی گردن کے ساتھ لوگوں کو مدد کے لیے پکارتا ہے۔ مگر کوئی بھی کچھ ثابت نہیں کر سکا تھا، بھوتوں، چڑیلوں اور آسیبوں کی کہانیوں نے اس مکان کو اس قدر ہولناک بنا دیا تھا کہ کبھی کسی نے اس مکان میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔ بوڑھے لوگوں کے لیے اس کی ہولناکی کی کہانیاں زیادہ قابل یقین تھیں اور جب کبھی وہ جنوں، بھوتوں کی کہانیاں سنتے ان کا یقین مزید پختہ ہو جاتا۔ چنانچہ ان کہانیوں سے اس یقین نے جنم لے لیا کہ اگر کوئی بھی اس مکان میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا آسیب اسے قتل کر دیں گے اور اس کی روح بھوت بن کر اس مکان میں چلاتی رہے گی۔ چنانچہ کسی نے کبھی اس میں داخل ہونے یا سوچنے کی کوشش نہیں کی۔

    ایک دن سورج جب پوری طرح جگمگا رہا تھا۔ بگلے اپنے اپنے شکار کی تلاش میں سمندروں کا رخ کر چکے تھے۔ آٹھ دس سال کا بچہ وسمان اپنی چھت کی دیوار کے ساتھ لکڑی کے صندوق پر کھڑا آسیب زدہ گھر میں چمنی پر بنے گھونسلے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ کئی دن سے گھونسلے اور اس سے لٹکے ہوئے دھاگوں اور تنکوں کی اس جھالر کو دیکھ رہا تھا جس میں پڑے بگلے کے بچے یا انڈے اس کی خواہشوں کا مرکز تھے وہ سوچتا کہ یقیناً بگلوں نے اس میں چھوٹے   چھوٹے بچے یا انڈے چھوڑے ہوں گے، جنہیں وہ حاصل کرکے اپنے گھر لا سکتا۔ مگر جب وہ اس طرف کود جانے کی سوچتا۔ آسیب گھر اور اس کے مکان کی چھت کے درمیان پتلی سی گلی آڑے آ جاتی۔ جس میں سے اسے دیکھ لیے جانے کا خطرہ تھا اور باپ کا خوف ا سے ایسا کرنے سے روک دیتا۔

    وہ کچھ دیر کھڑا یوں سوچتا رہا اور پھر چھت پر پڑے لکڑی کے تختے کو اٹھا لیا اور اپنی دیوار پر رکھ کر آہستہ آہستہ اسے دھکیلتا آسیب زدہ مکان کی چھت تک لے گیا۔ اب اس کے سامنے ایک پل بن گیا تھا۔ جس پر سے گزر کر وہ اپنی منزل کی طرف بڑھ سکتا تھا۔

    اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ جہاں کبوتر، چڑیاں اور کوے اڑ رہے تھے۔ اس نے اپنی دو انگلیاں زبان کے نیچے رکھیں اور پرندوں کی طرف دیکھ کر سیٹی بجائی اس کے اندر ایک جوش اور طمانیت کا جذبہ بیدار ہوا۔ اس نے تختے کو ہلا کر دیکھا۔اسے یہ ایک خطرناک کھیل محسوس ہوا مگر دوسری طرف کود جانے اور گھونسلےسے بگلے کے انڈے یا بچے لانے کا تجسس ایک بار پھر اسے اس پر آمادہ کرنے لگا۔ اس نے ذرا سا جھک کر اپنا قدم لکڑی کے پل پر جمایا اور پھر ایک جست میں وہ گلی کی دراڑ عبور کر گیا۔ دوسری طرف کودنے کے بعد اس نے تختہ کھینچ لیا تاکہ سامنے سے آتے ہوئے کسی کی نظر اس پر نہ پڑ سکے۔

    اب وہ ایک نئی دنیا میں تھا۔ اس کے اندر ابو سے سنی ہوئی کہانیوں کا خوف اور اپنے اندر پیدا تجسس کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اس نے آسیب گھر کی منڈیر سے صحن میں جھانکا۔ مگر اسے سورج کی تیز روشنی کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا۔ اس کا حوصلہ بڑھا اور اس نے فیصلہ کیا وہ گھر کے اندر داخل ہو گا۔

    وہ سیڑھیوں کے دروازے کی طرف بڑھا جو بند تھا۔ اس نے زور سے دھکا دیا اور دروازہ ایک دہشت ناک آواز کے ساتھ کھل گیا۔ وسمان ایک لمحہ کے لیے ٹھٹکا مگر جلد ہی اس نے خود پر قابو پالیا۔

    سیڑھیوں پر بے شمار گرد جمی ہوئی تھی اور جا بجا مکڑیوں نے جالے تن رکھے تھے۔ دروازے کی کرخت آواز اور وسمان کو دیکھ کر جھینگر جس تیزی کے ساتھ اپنے اپنے سوراخوں کی   طرف بھاگے۔ ایک لمحہ کے لیے وسمان بھی خوف زدہ ہو گیا۔

    اچانک اس کے ذہن میں سمائی کہ وہ اس انداز سے چیخے جیسے کوئی مار رہا ہو۔ اور واقعتاً ایسے ہی کرنے لگا۔ اس کی آواز خالی مکان کے کمروں میں گونجتی واپس اس کی طرف لوٹ آئی۔پھر وہ زور سے چیخا۔

    ’’بھوت‘‘......

    اور جواب میں دیر تک بھوت کے ت کی آواز گونجتی رہی۔

    ’’بھوت ......بھوت...... بھوت۔‘‘

    اور تما م گھر میں بھوت ......بھوت ...... بھوت کی آوازیں دیواروں سے سر ٹکرانے لگیں۔ اس کے اندر خوشی کا ایک انجانا احساس جنم لینے لگا۔

    ’’بھوت ...... بھوت ...... بھوت‘‘

    اور جواب میں بھوت بھوت کی آوازیں رقص کرتیں۔ صحن سے فضا کی طرف بڑھتی رہیں وہ کچھ دیر یوں کھڑا رہا اور پھر دوبارہ چھت پر آگیا اور چمنی پر نظریں جما کر وہ سوچنے لگا۔کس طرح گھونسلے تک پہنچے۔ چمنی خاصی اونچی تھی اور بظاہر وہاں تک رسائی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ وہ جائزہ لیتا رہا اور پھر اس نے فیصلہ کیا وہ چمنی میں جا بجا سوراخوں اور ٹوٹی ہوئی جگہوں میں پاؤں جماتا ہوا اوپر پہنچ سکتا ہے۔ لیکن چمنی سے اوپر گھونسلے تک پہنچنے کا راستہ بھی خاصا دشوار گزار تھا چنانچہ اس نے قریب ہی پڑے ہوئے لکڑی کے ایک ڈنڈے کو اٹھایا اور اس کا اچھی طرح جائزہ لیا کہ کیا وہ اس کا وزن اٹھا سکتا ہے یا نہیں۔ اور پھر اس کو بائیں ہاتھ میں تھام کر سیڑھیوں میں جھانکا اور زور سے چیخا ’’بھوت۔‘‘

    ’’بھوت......!‘‘

    اور دیر تک پورے گھر میں اس کی آواز در و دیوار سے ٹکراتی رہی اور وہ اس کی موسیقی سے لطف اندوز ہوتا سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا۔

    اس نے دیوار کے ساتھ والے چھجے کو پکڑا اور چمنی کے سوراخوں میں پیر جماتا اوپر کی طرف اٹھنے لگا۔ ابھی وہ تھوڑا سا اوپر گیا تھا کہ راستہ رک گیا اور اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کو چمنی کے ایک سوراخ میں داخل کرکے دور تک دھکیل دیا۔ اور پھر جائزہ لیا کہ کیا وہ   اس کے وجود کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے۔

    وہ اس لکڑی کے ڈنڈے پر کھڑا ہو گیا اب اس کے ہاتھ چمنی کے بالائی حصے پر تھے اور اس کے سامنے بگلے کا گھونسلہ کھلا پڑا تھا، تنکے، دھاگے، لکڑی کے ٹکڑے، چوسنیوں کے علاوہ اس میں کچھ بھی نہیں تھا ایک لمحہ کے لیے اس کے اندر مایوسی نے جنم لیا مگر گھونسلے تک پہنچنے کی جستجو نے اس کے اندر سے جست لگائی اور وہ چمنی کے کناروں کو پکڑ کر گھونسلے میں کود گیا۔ اب اس کے قدموں کے نیچے اس پراسرار چمنی کی سخت اینٹیں تھیں جس نے جانے کب سے یہاں کے لوگوں کو خوفزدہ کر رکھا تھا۔

    وسمان چمنی کے اوپر پہنچ کر بڑا خوش تھا اس کی نظروں کے سامنے دور تک گھروں کی چھتیں، بالکونیاں، راستے اور گلیاں سورج کی روشنی میں نہائی بچھتی ہوئی تھیں۔ وہ عجیب طمانیت اور سرمستی کے عالم میں گھونسلے میں گھومنے لگا۔ اس نے سوچا اسے اس گاؤں سے دور چلا جانا چاہیے اس گاؤں سے جو اس کے قدموں میں پڑا چھوٹا سا لگ رہا تھا اور جس کی گلیوں اور چھتوں پر پھرتے لوگ چیونٹیوں کی طرح محسوس ہو رہے تھے۔ اس نے اپنے مکان کی چھت پر دیکھا جس پر پڑا ہوا کاٹ کباڑ روشنی میں چمک رہا تھا۔ اس کے اندر خواہش پیدا ہوئی کہ بگلہ لوٹ آئے اور اس کو اپنے ساتھ لے کر دورخلاؤں میں اڑتا چلا جائے۔

    اس نے اپنے دونوں بازو ہوا میں پھیلائے اور انہیں یوں لہرانے لگا جیسے وہ اڑنے لگے گا۔ وہ ایک فرحت بخش جذبے کے ساتھ مسکرایا۔

    اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی روح محو پرواز ہے۔ اور ایک وجد کے عالم میں اس کے ہاتھ اور انگلیاں حرکت کرنے لگیں۔

    ’’بھوت ......بھوت‘‘

    وہ چیخا۔ اور پھر خود ہی کھلکھلا کر ہنس پڑا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بازوؤں کو ہوا میں اس طرح لہرانے لگا جیسے وہ بگلے کی طرح مکانوں اور چھتوں کے اوپر دور فضاؤں میں اڑا جا رہا ہے اور بے شمار خوبصورت پرندوں نے اس کے گرد اپنا خوبصورت حلقہ بنا لیا ہے۔

    اور پھر اچانک ......وسمان کو اس آسیب زدہ گھر میں اپنی اس بلندی اور اہمیت پر حیرت ہونے لگی اور برسوں کا خوف ایک مسرت میں بدل گیا۔