نیلا کاغذ
ترجمہ: توراکینہ قاضی
’’آپ مضطرب اور پریشان ہونا چھوڑ دیجیے، اور ہر دم ہشاش بشاش رہیے۔‘‘ ڈاکٹر مینل نے اپنے مخصوص دلاسہ دینے والے انداز میں کہا۔
مسز ہارٹر ان کی باتیں بظاہر توجہ سے سن رہی تھیں، مگر اندر ہی اندر ڈاکٹر کی ہدایت سے شدید بیزار تھیں۔
’’یہ اعصابی کمزوری کی ایک قسم ہے جو خطرناک نہیں۔ روزانہ ہلکی پھلکی ورزش مناسب ہے، البتہ بلندیوں پر چڑھنا اترنا آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ذہنی سکون اور آرام کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ کا دھیان کسی ایک چیز پر مرکوز نہ رہے۔‘‘
یہی باتیں ڈاکٹر مینل نے مسز ہارٹر کے بھتیجے چارلس ریج وے کو بھی سمجھائیں۔
’’مسٹر ریج وے! آپ کی پھوپھی کئی سال اور زندہ رہ سکتی ہیں، اور رہیں گی۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ انہیں کسی قسم کا ذہنی صدمہ نہ پہنچنے دیا جائے۔ انہیں ہر دم خوش رکھنے کی کوشش کی جائے کہ ان کی ذہنی توجہ کسی ایک چیز پر مرکوز نہ رہے۔‘‘
’’یعنی انہیں کسی ایک نکتے پر سوچنے نہ دیا جائے!‘‘ چارلس بیج وے نے کسی قدر سوچتے ہوئے کہا اور ڈاکٹر سے اجازت لے کر وہ دونوں چلے آئے۔
اس شام اس نے اپنی پھوپھی سے کہا میں آپ کے کمرے میں ریڈیو سیٹ لگانا چاہتا ہوں۔
مسز ہارٹر جو ڈاکٹر مینل کی گھسی پٹی نصیحتوں اور ہدایات پر پہلے ہی سخت چڑی ہوئی تھیں، اس پر رضامند نہ ہوئیں۔
’’مجھے نئے زمانے کی ان اوٹ پٹانگ ایجادات سے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا ’’پھر بجلی کی لہریں تو میرے لیے خطرناک ثابت ہوں گی۔‘‘
مگر ذہین او رہوشیار چارلس نے انہیں ریڈیو کی افادیت کا قائل کر ہی لیا۔
’’آنٹی میری! میں ذرا آپ کو اچھی طرح سمجھائے دیتا ہوں۔‘‘
اور اس نے انہیں ریڈیو اور اس کی کارکردگی کے بارے میں ایک اچھا خاصا لیکچر دے ڈالا۔ ٹیوبوں کے متعلق بتایا۔ہائی اور لو فریکوینسی کی وضاحت کی۔ آواز بلند کرنے اور سمیٹنے والے آلات کی تفصیلات سمجھائیں۔
مسز ہارٹر کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا؟ تاہم تاثر یہی دیتی رہیں کہ ہر بات سمجھ میں آگئی ہے۔ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے: ’’ٹھیک ہے چارلس! اگر تمہارا یہی خیال ہے۔‘‘
ڈاکٹر مینل کی ہدایت پر مسز ہارٹر کو چڑھنے اترنے کی مشق سے بچانے کے لیے گھر میں ایلیویٹر لگا دیا گیا۔ ریڈیو پہلے ہی آچکا تھا۔ مسز ہارٹر نے دیکھا یہ ایک بڑا سا ، عام سا ڈبہ ہے جس میں چھوٹے چھوٹے لٹو لگے ہوئے ہیں۔ چارلس نے انہیں لٹوؤں کے استعمال کا طریقہ سمجھایا۔ مسز ہارٹراپنی بڑی سی کرسی پر بیٹھی اس کی باتیں سن رہی تھیں۔
’’دیکھیے آنٹی! یہ پیرس ہے، ہے نا عجیب سی بات؟ کیا آپ اس شخص کو بولتے سن رہی ہیں؟‘‘
’’مجھے تو سوائے بھنبھناہٹ اور ٹنٹناہٹ کے کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا۔‘‘
چارلس نے چند لٹو گھمائے۔ ’’یہ برسلز ہے۔‘‘ اس نے جوش سے اعلان کیا۔
’’واقعی؟‘‘ مسز ہارٹر نے عدم دلچسپی سے استفسار کیا۔
چارلس نے ایک بار پھر لٹو گھمائے۔ ایک بلند غیر انسانی آواز کمرے میں گونج اٹھی۔
’’شاید تم کسی کتا گھر میں پہنچ گئے ہو۔‘‘ مسز ہارٹر مزاحاً بولیں۔
’’شکر ہے آپ نے کوئی مذاق تو کیا آنٹی میری!‘‘ چارلس قہقہہ لگا کر بولا۔ ’’میں سمجھا تھا آپ کی حس مزاح بالکل مردہ پڑ چکی ہے۔‘‘
مسز ہارٹر اس کی بات پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکیں۔ وہ چارلس سے بے پناہ پیار کرتی تھیں۔ چند سال قبل ان کی ایک بھتیجی میرین ہارٹر ان کے پاس رہنے کے لیے آئی۔ انہوں نے سوچا وہ اسے اپنی جائیداد کی وارث بنا دیں گی، مگر میرین ان کی توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔ اسے اپنی چچی کے قرب میں شدید بوریت اور بیزاری محسوس ہوتی۔ وہ باہر سیر و تفریح کرنا یا بقول مسز ہارٹر مارے مارے پھرنا زیادہ پسند کرتی۔ آخر میں اس نے اپنے لیے ایک ایسے نوجوان کو پسند کر لیا جسے مسز ہارٹر شدید نا پسند کرتی تھیں، مگر میرین نے اپنی ماں کے گھر واپس جا کر اس نوجوان سے شادی کر لی۔
اپنی بھتیجیوں کی طرف سے مایوس ہونے کے بعد مسز ہارٹر اپنے بھتیجوں کی جانب متوجہ ہوئیں۔ انہیں چارلس بہت پسند آیا۔ وہ اپنی پھوپھی سے بے حد محبت کرتا اور ہر دم ان کے پاس بیٹھا رہتا۔ وہ بڑا خوش گفتار تھا اور مسز ہارٹر کے لیے بہترین سامع بھی۔ وہ ان کی ہر بات بڑی دلچسپی اور توجہ سے سنا کرتا اور اپنی پر لطف باتوں سے مسز ہارٹر کی طبیعت بشاش کیے رکھتا۔
مسز ہارٹر چارلس سے پوری طرح مطمئن ہو جانے کے بعد اسے اپنا وارث بنانے کا فیصلہ کر چکی تھیں، چنانچہ انہوں نے اپنے وکیل کو نیا وصیت نامہ تیار کرنے کے لیے کہہ دیا تھا۔
وکیل نے ان کی ہدایت کے مطابق نیا وصیت نامہ تیار کرکے ان کے پاس بھجوا دیا تھا جس پر اس خاتون نے دستخط بھی کر دیے تھے۔
مسز ہارٹر کا رویہ ابتدا میں ریڈیو کی طرف معاندانہ رہا۔ پھر رفتہ رفتہ انہیں اس کی افادیت کا یقین آتا گیا اور وہ اسے پسند کرنے لگیں۔ اکثر، چارلس کی غیر موجودگی میں خود ریڈیو لگا لیتیں اور اپنے پسندیدہ پروگراموں سے لطف اندوز ہوتی رہتیں۔
ریڈیو کو آئے تین ماہ ہو چکے تھے کہ ایک عجیب ناقابل یقین سی بات ظہور پذیر ہوئی۔ چارلس اس وقت کسی ’برج‘ پارٹی میں گیا ہوا تھا۔
شام کے پروگراموں کی ابتدا میوزک کنسرٹ سے ہوئی۔ اس میں ایک مشہور گائیکہ نے حصہ لیا۔ ’اینی لاری‘ گائے جانے کے دوران اچانک ہی گیت کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ ریڈیو پر بھنبھناہٹ اور ٹنٹناہٹ جیسی آوازیں بلند ہونے لگیں۔پھر یہ آوازیں بند ہو گئیں، مگر بے حد مدھم سی بھنبھناہٹ بدستور جاری رہی۔ مسز ہارٹر نے سوچا شاید ریڈیائی لہریں بھٹک کر کہیں دور جا پہنچی ہیں۔ اسی وقت انہیں ایک بلند اور صاف مردانہ آواز ، جس کا لہجہ آئرش تھا، ریڈیو پر سنائی دی:
’’میری ...... کیا تم میری آواز سن رہی ہو؟ میں پیٹرک بول رہا ہوں ...... اور جلد ہی تمہیں لینے آرہا ہوں ...... تیار رہنا! سن رہی ہو نا میری؟‘‘
پھر ایک دم ہی گائیکہ کی ’اینی لاری‘ گاتی ہوئی آواز ریڈیو پر بلند ہونے لگی۔ نغمے اور موسیقی کی جھنکار سے کمرہ گونجنے لگا۔
مسز ہارٹر کسی سنگی مجسمے کی مانند اپنی کرسی پر بیٹھی تھیں۔ ان کے ہاتھ مضبوطی سے کرسی کے بازوؤں پر جمے ہوئے تھے۔ کیا وہ خواب دیکھ رہی تھیں؟ انہوں نے واقعی پیٹرک کی آواز سنی تھی۔ وہ ان سے مخاطب ہوا تھا۔ نہیں، یہ محض ان کا وہم ہی ہو گا۔ شاید وہ ایک آدھ منٹ کے لیے اونگھ گئی ہوں گی۔ اور اسی حالت میں انہوں نے اپنے مرحوم شوہر کی آواز ریڈیو پر سن لی ہو گی۔ انہیں کچھ خوف سا محسوس ہوا۔ اس نے کیا الفاظ کہے تھے؟
’’میں جلد ہی تمہیں لینے آرہا ہوں میری! تیار رہنا۔ کیا تم میری آواز سن رہی ہو؟‘‘
کیا انہوں نے واقعی یہ آواز سنی تھی۔ یہ کہیں ان کے کمزور ذہن کی اختراع تو نہیں تھی؟ ان کے اعصاب بھی بہت کمزور پڑ چکے تھے۔ دل کی کمزوری تو عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔
’’یہ وارننگ ہے ...... ہاں، میرا یہی خیال ہے۔‘‘ مسز ہارٹر بمشکل تمام کرسی سے اٹھتے ہوئے اپنے آپ سے مخاطب ہوئیں۔ ’’افسوس! اس کم بخت ایلیویٹر کے لگانے میں بے کار ہی بہت سا روپیہ صرف ہوا۔‘‘
انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کا تذکرہ کسی سے نہ کیا، مگر اگلے چند روز تک وہ مسلسل اس عجیب و غریب معاملے پر غور و فکر کرتی رہیں۔
پھر دوسرا موقع بھی آگیا۔ اس وقت بھی وہ اپنے کمرے میں تنہا تھیں۔ ریڈیو پر بجتا ہوا آرکسٹرا ایک دم خاموش ہو گیا۔ ریڈیو پر ایک دم گہرا سکوت چھا گیا جیسے اس کا رابطہ کسی دور دراز کی دنیا سے قائم ہو گیا ہو۔ پھر ہلکی سی بھنبھناہٹ کے ساتھ پیٹرک کی آواز ریڈیو پر ابھری۔ یہ آواز ویسی نہ تھی جیسی اس کی زندگی میں تھی، بلکہ یہ کہیں بہت دور سے آتی ہوئی سنائی دے رہی تھی او رغیر معمولی طور پر غیر انسانی معلوم ہوتی تھی۔
’’میں پیٹرک تم سے مخاطب ہوں میری! میں اب جلد ہی تمہیں لینے آجاؤں گا۔ تم میری آواز سن رہی ہو نا؟‘‘
اس کے ساتھ ہی آرکسٹرا دوبارہ بجنا شروع ہو گیا۔
مسز ہارٹر نے کلا ک پر نگاہ ڈالی۔ نہیں، اس بار وہ ہرگز سوئی تھیں نہ انہیں اونگھ آئی تھی۔ وہ پوری طرح بیدار اور مکمل طور پر اپنے ہوش و حواس میں تھیں۔ انہوں نے اپنے کانوں سے پیٹرک کی آواز سنی تھی۔ یہ ان کا وہم نہیں تھا۔ پریشانی کے عالم میں انہوں نے سوچنے کی کوشش کی کہ چارلس نے انہیں انتہائی لطیف ایتھر لہروں کے بارے میں کیا سمجھایا تھا۔
کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ پیٹرک خود ان سے ہم کلام ہوا ہو، اس کی اصل آواز خلا سے گزرتی ہوئی ان تک پہنچی ہو؟ چارلس نے بتایا تھا کہ یہ عین ممکن ہے کہ خلا میں چکر کھاتی ہوئی آوازیں ریڈیو کی گرفت میں آجائیں۔ پھر تو لگتا یہی تھا کہ پیٹرک نے ان سے بات کی تھی۔ اس نے انہیں اطلاع دی تھی کہ وہ جلد ہی انہیں لینے آرہا ہے۔ گویا اب ان کے اس دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب آن پہنچا تھا۔
مسز ہارٹر نے اپنی ملازمہ ، الزبتھ کو بلانے کے لیے گھنٹی بجائی۔ الزبتھ، ساٹھ سالہ دراز قد عورت تھی۔ اس کا چہرہ کرخت اور کھردرا تھا، مگر اس نے بڑا ہمدرد دل پایا تھا۔ اپنی مالکہ سے بے پناہ محبت اور انسیت تھی۔
الزبتھ کمرے میں داخل ہوئی تو مسز ہارٹر نے اسے مخاطب کیا: ’’الزبتھ! تمہیں یاد ہے میں نے تم سے کیا کہا تھا؟ میرے بیورو کا سب سے اوپر والا، دائیں طرف کا دراز جو ہے ، وہ لاک ہے۔ اس کی چابی لمبی سی سفید رنگ کی ہے۔ ہر چیز تیار ہے اس میں۔‘‘
’’مادام؟‘‘
’’تم بخوبی جانتی ہو الزبتھ، میرا اشارہ کس طرف ہے۔ تمہی نے تو وہ تمام چیزیں دراز میں رکھنے میں میری مدد کی تھی۔‘‘ مسز ہارٹر نے کہا۔
’’اوہ، مادام ......‘‘ الزبتھ کراہی۔ ’’خدارا، آپ ان باتوں کے متعلق مت سوچیے۔ اب تو آپ پہلے کی نسبت بہت بہتر ہیں۔‘‘
’’ایک نہ ایک دن ہم سب کو اس جہان سے رخصت ہو جانا ہے۔ ‘‘ مسز ہارٹر فلسفیانہ انداز میں بولیں۔ میری عمر اب اسی برس ہو چکی ہے۔ ’’ارے الزبتھ! یہ کیا ...... دیکھو ...... دیکھو، اگر تم رونا ہی چاہتی ہو تو کسی اور جگہ جا کر روؤ۔‘‘
الزبتھ سسکیاں بھرتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
مسز ہارٹر نے محبت بھری نگاہوں سے اسے جاتے دیکھا۔
’’احمق کہیں کی! ہے بڑی وفادار۔‘‘ وہ بڑبڑائیں۔ ’’مجھے اس کے لیے کم از کم پانچ سو پونڈ ضرور مخصوص کر دینے چاہئیں۔ ہاں ...... یہ ٹھیک رہے گا۔‘‘
اگلے دن مسز ہارٹر نے اپنے وکیل کو خط لکھا کہ وہ ان کانیا تیار شدہ وصیت نامہ فوراً بھجوا دے۔ وہ اسے دیکھنا چاہتی ہیں۔ اسی دن چارلس نے کھانے کے دوران ان سے ایسی باتیں کہیں جنہوں نے انہیں چونکا دیا۔
’’یہ بتائیے آنٹی میری!‘‘ اس نے کہا۔ ’’اس خالی کمرے کے مینٹل پیس پر سجی ہوئی تصویر کس مسخرے کی ہے وہی جس نے سر پر بیور ہیٹ پہن رکھا ہے اور جس کی لمبی لمبی قلمیں ہیں۔‘‘
مسز ہارٹر نے ناخوشگواری سے اس کی طرف دیکھا:
’’وہ تمہارے پھوپھا کی نوجوانی کی تصویر ہے۔‘‘
’’اچھا آنٹی! مجھے افسوس ہے۔ مجھے اس کا تذکرہ یوں گستاخانہ انداز میں نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘ چارلس کے لہجے میں تاسف تھا۔ ’’میں اس بات پر حیران ہو رہا تھا آنٹی، آپ دیکھتی ہیں......‘‘ وہ کہتے کہتے رک گیا جیسے اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اسے کیا کہنا چاہیے۔
مسز ہارٹر نے تیز نظروں سے اسے گھورا:
’’ہاں کہو، کیا بات ہے؟ تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں آنٹی۔‘‘ چارلس تیزی سے بولا۔ ’’میرے کہنے کامطلب ہے یہ بات بتانا کوئی اتنا ضروری نہیں۔‘‘
اس وقت مسز ہارٹر خاموش ہی رہیں، مگر بعد میں انہوں نے تنہائی میں چارلس کو اپنی بات کہنے پر مجبور کر دیا۔
وہ متحیر سا دکھائی دینے لگا۔
’’میں نے کہا تھا نا آنٹی میری! شاید وہ میرا وہم ہی ہو گا۔ اس لیے اسے بتانا فضول ہے۔‘‘
’’چارلس! ‘‘ مسز ہارٹرتحکمانہ لہجے میں بولیں۔ ’’میں چاہتی ہوں تم مجھ سے کچھ مت چھپاؤ۔‘‘
’’آپ اصرار کرتی ہیں تو سنیں!‘‘ چارلس گہری سانس لیتے ہوئے بولا۔ ’’میرا خیال تو یہی ہے کہ میں نے انہیں دیکھا ہے، یعنی انہیں جن کی تصویر اس خالی کمرے کے آتش دان پر سجی ہے۔ میرا مطلب ہے گزشتہ رات گھر واپس آرہا تھا، اس وقت میں نے انہیں آخری کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکتے دیکھا۔ میں حیران ہوا تھا کہ آخر یہ کون شخص ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے چہرے مہرے سے وکٹورین عہد کا کوئی آدمی دکھائی دیتا تھا۔ میں نے اس کے بارے میں الزبتھ سے استفسار کیا تو اس نے کسی ملاقات کی آمد کے متعلق نفی میں جواب دیا۔ میں یونہی ٹہلتا ٹہلتا خالی کمرے کی طرف چلا گیا۔ وہاں میں نے آتش دان پر وہ تصویر سجی دیکھی۔ خدا کی قسم آنٹی میری! میں تو حیران رہ گیا۔ یہ تو اسی آدمی کی تصویر تھی جسے میں نے آخری کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکتے دیکھا تھا۔‘‘
آخری کمرے کی کھڑکی سے؟‘‘
’’ہاں۔ کیوں؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘ مسز ہارٹر بولیں۔
مگر اندر ہی اندر سے وہ بری طرح سے ہل گئی تھیں۔ آخری کمرہ ان کے شوہر، آنجہانی پیٹرک ہارٹر کا ڈریسنگ روم تھا۔
اسی شام چارلس باہر د وستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نکل گیا۔ اس کی غیر موجودگی میں مسز ہارٹر نے ریڈیو آن کیا اور کچھ جوش ، کچھ اضطراب سے وہ جانی پہچانی آواز سننے کے لیے منتظر بیٹھ گئیں۔ ان کا خیال تھا اگر تیسری مرتبہ بھی انہیں وہ آواز سنائی دی تو وہ سمجھ لیں گی کہ واقعی ان کا شوہر دوسری دنیا سے ان کے ساتھ رابطہ قائم کیے ہوئے ہے۔
ان کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی؛تاہم جب ریڈیو پر نشر ہونے والی موسیقی کا سلسلسہ ایک دم منقطع ہو گیا اور ایک گہرا سکوت چھا گیا تو انہیں قطعی کوئی حیرت نہ ہوئی۔ پھر ایک دور سے آتی ہوئی آئرش لہجے کی آواز نے سکوت کا پردہ چاک کیا:
’’میری!‘‘ ...... تم اب تیار ہو چکی ہو ...... میں جمعے کے دن تمہیں لینے آجاؤں گا۔ ساڑھے نو بجے ...... ڈرنا مت ...... تمہیں کوئی تکلیف محسوس نہ ہو گی ...... سن رہی ہو نا؟ میری! تیار رہنا۔‘‘
آخری لفظ کی ادائیگی کے ساتھ ہی موسیقی کا سلسلہ ایک دم دوبارہ جاری ہو گیا اور گانے اور سازوں کی آوازوں سے کمرہ گونجنے لگا۔
چند منٹ مسز ہارٹر اپنی کرسی پر بے حس و حرکت بیٹھی رہیں۔ ان کا چہرہ سفید ہو چکا تھا۔ پھر وہ کرسی سے اٹھ کر رائٹنگ ڈیسک پر جا بیٹھیں۔ لرزتے ہاتھ سے انہوں نے کاغذ پر مندرجہ ذیل سطریں تحریں کریں:
’’آج رات نو بج کر پندرہ منٹ پر میں نے اپنے مرحوم شوہر کی آواز سنی۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ جمعے کے دن نو بج کر تیس منٹ پر مجھے اپنے ساتھ لے جانے آئیں گے۔ اگر میں اس دن انتقال کر گئی تو ازراہِ کرم اس امر کی تحقیق کرنے کی کوشش کی جائے کہ آیا روحوں کی دنیا سے انسانوں کا رابطہ کسی صورت میں ممکن ہے یا نہیں ...... میری ہارٹر۔‘‘
یہ رقعہ لکھ چکنے کے بعد مسز ہارٹر نے اپنی تحریر ایک مرتبہ غور سے پڑھی۔ پھر کاغذ تہ کرکے ایک لفافے میں بند کر دیا۔ اس کے بعد گھنٹی بجائی۔ الزبتھ فوراً کمرے میں داخل ہو گئی۔
مسز ہارٹر نے وہ لفافہ اسے تھماتے ہوئے کہا:
’’دیکھو الزبتھ! اگر میں جمعے کی رات انتقال کر جاؤں تو تم یہ لفافہ ڈاکٹر مینل کو دے دینا۔ نہیں ...... مجھ سے بحث کرنے کی کوشش مت کرو۔ تم نے اکثر مجھ سے ذکر کیا ہے کہ تم آنے والے واقعات کا پہلے ہی سے اندازہ لگا لیتی ہو۔ اب میں نے بھی اندازہ لگالیا ہے کہ مجھے کب اور کس وقت موت آنے والی ہے۔ ہاں، ایک بات اور۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مرنے سے پہلے تمہیں پانچ سو پونڈ دیتی جاؤں۔ اگر میں خود بینک جا سکی تو یہ رقم نکلوا لاؤں گی، ورنہ میرے بعد مسٹر چارلس پانچ سو پونڈ تمہیں ادا کر دیں گے۔‘‘
اگلے دن انہوں نے چارلس کے ساتھ بھی اس موضوع پر بات کی:
’’یاد رکھنا ، چارلس! اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تم الزبتھ کو پانچ سو پونڈ ضرور ادا کر دینا۔‘‘
’’آپ ایسا کیوں سوچ رہی ہیں؟ آنٹی میری ! بھلا آپ کو کیا ہونے لگا ہے؟ ڈاکٹر مینل کہتے ہیں بیس برس بعد ہم اس قابل ہوں گے کہ آپ کی سوویں سالگرہ منا سکیں۔‘‘
مسز ہارٹر نے شفقت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا:
’’تم جمعے کی شام گھر پر ہو گے؟ چارلس!‘‘
چارلس نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا:
’’اس شام ایونگ خاندان نے مجھے برج پارٹی میں مدعو کر رکھا ہے، لیکن اگر آپ چاہتی ہیں تو میں گھر ہی پر رک جاتا ہوں۔‘‘
’’نہیں نہیں۔‘‘مسز ہارٹر تیزی سے بولیں۔ ’’تم ضرور اس برج پارٹی میں جاؤ۔ میر امطلب یہ نہیں تھا۔ بس ، اس رات میں ذرا تنہا رہنا چاہتی ہوں۔‘‘
چارلس نے پر تجسس نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا، مگر مسز ہارٹر نے اسے قطعی کوئی بات نہ بتائی۔ وہ ایک مضبوط قوتِ ارادی اور حوصلے والی بوڑھی عورت تھیں، انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس وقت جس عجیب و غریب تجربے سے گزر رہی ہیں، اس کے بارے میں کبھی زبان نہ کھولیں گی۔
جمعے کی شام گھر میں غیر معمولی طور پر خاموشی تھی۔ مسز ہارٹر آتش دان کے قریب بڑی سی کرسی پر بیٹھی تھیں۔ انہوں نے اپنی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ اس صبح وہ بینک گئی تھیں جہاں سے انہوں نے پانچ سو پونڈ نکلوا کر الزبتھ کو دیے تھے۔ اس کے بعد اپنی قیمتی اشیاء پر مختلف عزیزوں، رشتے داروں کے ناموں کے لیبل لگا دیے تھے تاکہ ان کی وفات کے بعد وہ انہیں بھجوا دی جائیں۔
اب وہ ایک لمبا سا لفافہ ہاتھ میں لیے ،کرسی پر بیٹھی، سوچ میں ڈوبی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ پھر انہوں نے لفافہ کھول کر اندر سے دستاویز باہر نکال لی۔ یہ ان کا وصیت نامہ تھا جو ان کی درخواست پر ان کے وکیل مسٹر ہوپکنسن نے انہیں بھجوایا تھا۔ وہ اسے احتیاط سے سطر بہ سطر پڑھ چکی تھیں۔ اب انہوں نے ایک مرتبہ پھر اسے غور سے پڑھا۔ اس وصیت نامے کے مطابق ان کی بہن کو ان کی موت کے بعد پانچ ہزار پونڈ ملنے تھے اور ایک فرسٹ کزن کو تین ہزار۔ باقی ساری جائیداد ان کے عزیز بھتیجے چارلس کے حصے میں آنی تھی۔
مسز ہارٹر نے کئی مرتبہ سر کو اثبات میں جنبش دی۔ ان کی موت کے بعد چارلس بہت امیر کبیر شخص بن جائے گا۔ اور یہ ایک بڑی اچھی بات ہو گی۔ یہ لڑکا ان کا بہترین ساتھی اور ہمدرد ثابت ہوا تھا۔ وہ انہیں ہر دم خوش رکھنے کے جتن کرتا رہا۔ اس کی عادتیں کتنی پسندیدہ تھیں! وہ کتنا خوش گفتار اور خوش مزاج تھا!
انہوں نے کلاک پر نگاہ ڈالی۔ ساڑھے نو بجنے میں تین منٹ باقی رہ گئے تھے۔ وہ تیار تھیں اور مطمئن۔ بالکل مطمئن او رپرسکون۔ مگر ان کا دل عجیب انداز سے دھڑک رہا تھا۔ ان کے اعصاب تنے جا رہے تھے۔
ساڑھے نو بج گئے۔ انہوں نے ریڈیو آن کیا۔ مگر ...... کیا اب انہیں وہ آواز سنائی دے سکے گی؟ وہ دور سے آتی ہوئی جانی پہچانی آواز! واقعی انہیں اس مرتبہ وہ آواز سنائی نہ دے سکی، البتہ ماہر موسمیات موسم کا حال بتا رہا تھا۔ انہوں نے ریڈیو بند کر دیا۔
پھر ایک آواز سنی۔ ایک جانی پہچانی آواز ...... اس کے ساتھ ہی انہیں یوں محسوس ہوا جیسے کسی برف جیسے سرد ہاتھ نے ان کا دل اپنی گرفت میں لے لیا ہو۔ پھربیرونی دروازے کے مخصوص انداز میں کھلنے کی آواز سنائی دی۔ مسز ہارٹر کے لیے اب اپنے ہوش و حواس پر شبہ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی تھی۔ وہ خوف زدہ ہو گئیں۔ شدید خوف کے عالم میں انہیں خیال آیا کہ پچیس برس کی مدت ایک بہت طویل مدت ہوا کرتی ہے۔پیٹرک اب ان کے لیے اجنبی بن چکا تھا۔
شدید خوف اور دہشت کے حملوں میں انہیں اپنا آپ سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔
پھر کمرے کے باہر قدموں کی جانی پہچانی چاپ سنائی دی۔ نپے تلے انداز سے اٹھتے قدموں کی ...... پھر دروازہ خاموشی سے کھل گیا۔
مسز ہارٹر لڑکھڑاتی ہوئی ، کرسی پر سے اٹھیں۔ ان کا وجود بری طرح لرز رہا تھا۔ ان کی انگلیوں سے کوئی چیز نکل کر آتش دان میں جا گری۔ ان کے حلق سے گھٹی گھٹی سی چیخ نکلی۔ دروازے میں وہ جانا پہچانا وجود کھڑا تھا۔ سرخ ڈاڑھی والا۔ لمبی قلموں والا اور وکٹورین طرز کے کوٹ میں ملبوس۔
پیٹرک انہیں لینے آن پہنچا تھا۔
ان کا دل یک بارگی بڑے زور سے لرزا اور ساکن ہو گیا۔ اور وہ بے جان سی ، فرش پر ڈھیر ہو گئیں۔
ایک گھنٹے بعد الزبتھ کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے اپنی مالکہ کو یوں بے ترتیبی سے فرش پر بکھرے پایا تو چیختی چلاتی کمرے سے باہر نکل گئی۔ ڈاکٹر مینل بلا لیے گئے۔ چارلس ریج وے کو بھی برج پارٹی سے بعجلت تمام بلوا لیا گیا۔ مگر کچھ بھی نہ ہو سکا۔ مسز ہارٹر وفات پا چکی تھیں۔
انتقال کے دو دن بعد الزبتھ کو اس لفافے کا خیال آیا جو اس کی مالکن نے اپنی وفات کے بعد ڈاکٹر مینل کو دینے کی ہدایت کی تھی۔ ڈاکٹر مینل نے مسز ہارٹر کی تحریر بڑی دلچسپی سے پڑھی اور اسے چارلس کو دکھایا۔
’’معلوم ہوتا ہے تمہاری پھوپھی کی ذہنی حالت متوازن نہیں رہی تھی۔ انہیں وہم ہو گیا تھا کہ وہ اپنے آنجہانی شوہر کی آواز سننے لگی ہیں۔ اس خیالی آواز کی زبانی انہوں نے اپنی موت کے وقت کا تعین بھی کر لیا، اور اس سلسلے میں ایسی جذباتی اور پر یقین ہو بیٹھیں کہ واقعی عین اسی دن ، اسی وقت انتقال کر گئیں۔ بہرکیف ، اب دیکھنا یہ ہے کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کیا ثابت کرتی ہے۔‘‘
چارلس نے تفہیمی انداز میں سر کو جنبش دی۔
گزشتہ شب جب گھر میں سب سونے کو جا چکے تھے ، اس نے وہ تار ہٹا دی تھی جو ریڈیو کیبنٹ کے پیچھے سے نکلتی ہوئی ، اوپر کی منزل پر، اس کے کمرے تک پہنچتی تھی۔ اور چونکہ اس شام سردی بہت زیادہ تھی، اس لیے اس نے الزبتھ سے کہہ کر آتش دان میں آگ جلوائی تھی۔ اس آگ میں اس نے سرخ رنگ کی نقلی داڑھی اور قلمیں جلا ڈالی تھیں۔ وکٹورین طرز کا وہ کوٹ جو اس کے آنجہانی پھوپھا کی ملکیت تھا، اس نے دو چھتی میں پڑے صندوق میں رکھ دیا تھا۔
اب وہ بالکل محفوظ تھا۔ اس منصوبے نے اس کے ذہن میں اس وقت جنم لیا تھا جب ڈاکٹر مینل نے بتایا تھا کہ اس کی پھوپھی مناسب دیکھ بھال اور احتیاط کی بدولت عرصے تک زندہ رہ سکتی ہیں، اور کوئی شدید قسم کا ذہنی صدمہ یا اعصابی دباؤ ان کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اب ڈاکٹر مینل نے خیال ظاہر کیا تھا کہ اس کی پھوپھی کی موت کسی اچانک صدمے کی بدولت واقع ہوئی ہے۔ چارلس نے اپنا کردار خوب ادا کیا تھا۔ سب جانتے تھے کہ وہ اپنی پھو پھی سے کتنی محبت کرتا اور ان کا کتنا خیال رکھتا تھا۔ کوئی اس پر کسی قسم کا شک نہ کر سکتا تھا۔ اپنی کامیابی پر وہ بڑا مسروراور شاداں تھا۔
کوئی نہ جانتا تھا کہ وہ دراصل تاریک راہوں کا مسافر ہے۔ اس کی پھوپھی بھی اس کے بارے میں نہ جانتی تھی کہ وہ کن برائیوں اور کن جرائم میں ملوث تھا۔ اس نے بڑی ہوشیاری سے اپنے برے کاموں پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ کسی جرم کی پاداش میں وہ ایک مرتبہ جیل جاتے جاتے بچا تھا۔ اسے رقم کی اشد ضرورت تھی۔ وہ روپیہ پیسہ حاصل کرنے میں ناکام رہتا تو بدنامیاں اور رسوائیاں اسے کہیں کا نہ چھوڑتیں۔ جیل کے دروازے تو اس کے لیے بالکل کھلے تھے، مگر اب سب ٹھیک ہو چکا تھا۔ وہ اپنی پھوپھی کی وسیع و عریض جائیداد کا وارث تھا۔ چند روز تک بے حساب دولت اس کے قبضے میں آنے والی تھی۔ اب اسے کوئی گزند نہ پہنچ سکتا تھا۔ اپنے آپ کو بچانے کے لیے اس نے اپنی پھوپھی کو اگلے جہان کے سفر پر روانہ کرنے میں جلدی کی تھی، مگر اس نے یہ کوئی جرم تو نہ کیا تھا، محض ایک عملی مذاق کیا تھا اور غریب پھوپھی واقعی اسے سچ سمجھ بیٹھیں۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھا سنہرے مستقبل کے خواب دیکھ رہا تھا کہ الزبتھ نے دروازے سے سر نکال کر اسے مسز ہارٹر کے وکیل مسٹر ہوپکنسن کی آمد کی خبر دی۔ وہ اس سے ملنا چاہتے تھے۔
چارلس نے لائبریری میں پہنچ کر اس مردِ شریف کو خوش آمدید کہا جو نصف صدی سے مسز ہارٹر کا قانونی مشیر چلا آرہا تھا۔ پھر دونوں آمنے سامنے کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
مسٹر ہوپکنسن نے کھنکھار کر گلا صاف کرتے ہوئے کہا:
’’میں آپ کے خط کا مطلب نہیں سمجھ سکا مسٹر ریج وے! آپ شاید یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ مسز ہارٹر کا وصیت نامہ ہماری تحویل میں ہے۔‘‘
چارلس نے بے یقینی سے انہیں گھورا۔
’’یقیناً ...... میں نے آنٹی میری کو یہی کہتے سنا تھا۔‘‘
’’جی ہاں۔ ان کا وصیت نامہ واقعی ہماری تحویل میں تھا، لیکن ان کا خط آنے پر میں نے اسے بروز منگل بھجوا دیا تھا۔‘‘
چارلس نے پہلی مرتبہ بے چینی محسوس کی۔
’’میرا خیال ہے شاید ان کے کاغذات میں وصیت نامہ مل جائے۔‘‘ مسٹر ہوپکنسن نے خیال آرائی کی۔
چارلس کچھ نہ بولا۔ اسے کچھ کہتے ہوئے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ وہ مسز ہارٹر کے کاغذا ت پہلے ہی اچھی طرح دیکھ چکا تھا، مگر ان میں وصیت نامہ نہ تھا۔ اس نے مسٹر ہوپکنسن کو یہی بات بتائی۔ اس وقت اسے اپنی آواز بھی اجنبی معلوم ہو رہی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سرد پانی کے قطرے اس کی پشت پر گرتے ہوئے ، نیچے پھسل رہے ہوں۔
’’کیا کسی نے مسز ہارٹر کی پرائیویٹ اشیاء کی تلاشی لی ہے؟‘‘ مسٹر ہوپکنسن نے پوچھا۔
چارلس نے بتایا الزبتھ مسز ہارٹر کی تمام پرائیویٹ اشیاء اچھی طرح دیکھ پرکھ چکی ہے۔ مسٹر ہوپکنسن کے کہنے پر الزبتھ بلا لی گئی۔ اس نے چارلس کی تصدیق کی۔ اس نے کہا اس کی مالکن نے اپنی وفات کی صبح وہ قانونی دستاویز اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی اور اس کا مطالعہ کر رہی تھیں۔
’’کیا تمہیں اس کا یقین ہے؟‘‘ مسٹر ہوپکنسن نے تیز لہجے میں پوچھا۔
’’جی ہاں جناب! انہوں نے خود مجھے بتایا تھا۔ وہ قانونی دستاویز نیلے رنگ کے لفافے میں تھی۔
’’ہاں بالکل!‘‘ مسٹر ہوپکنسن بولے۔
’’اب مجھے یاد آیا ہے کہ اگلے دن، صبح کے وقت ، نیلے رنگ کا وہ لفافہ میز پر رکھا تھا، مگر وہ خالی تھا۔ میں نے اسے اٹھا کر ڈیسک پر رکھ دیا تھا۔
’’ہاں ، مجھےبھی یاد ہے کہ وہ لفافہ میز پر رکھا تھا۔‘‘ چارلس آہستگی سے بولا اور اٹھ کر ڈیسک کی طرف چلا گیا اور ہاتھ میں نیلے رنگ کا ایک لمبا سا لفافہ لیے واپس آگیا۔ مسٹر ہوپکنسن نے وہ لفافہ اس کے ہاتھ سے لے کر اس کا معائنہ کیا۔
’’ہاں! بے شک یہ وہی لفافہ ہے جس میں میں نے منگل کے روز وصیت نامہ بھجوایا تھا۔‘‘
’’آپ کو مجھ سے کوئی اور کام تو نہیں؟ جناب!‘‘ الزبتھ نےادب سے دریافت کیا۔
’’یہ بتاؤ کیا اس شام مسز ہارٹر کے کمرے میں آگ روشن تھی؟‘‘
’’جی ہاں! وہاں روزانہ آگ روشن رہتی تھی۔‘‘
شکریہ! اب تم جا سکتی ہو۔‘‘
الزبتھ چلی گئی۔ چارلس نے آگے جھک کر کپکپاتا ہاتھ میز پر رکھ دیا۔
’’آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ کیا سوچتے ہیں؟‘‘
مسٹر ہوپکنسن نے سر کو جنبش دی۔
’’ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ وصیت نامہ ضرور مل جائے گا اگر ......‘‘
’’اگر وہ ضائع ہو چکا ہو تو؟‘‘
’’مجھے معلوم تو یہی ہوتا ہے کہ وہ ضائع ہو چکا ہے۔ مسز ہارٹر نے شاید اسی لیے منگوایا تھا کہ اسے تلف کرنا چاہتی ہوں۔ کہیں آپ کا ان کے ساتھ ......میرا مطلب ہے جھگڑا وغیرہ تو نہیں ہو گیا تھا؟‘‘
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ مسٹر ہوپکنسن ! یہ نوبت کبھی نہیں آئی کہ ہمارے درمیان کوئی اختلافِ رائے یا جھگڑا ہوا ہو۔‘‘ چارلس جوش سے بولا۔’’ہمارے تعلقات ہمیشہ خوشگوار اور دوستانہ رہے تھے۔‘‘
یوں لگتا تھا جیسے مسٹر ہوپکنسن کو اس کی بات پر یقین ہی نہ آیا ہو۔ شاید انہیں اس کی بری سرگرمیوں کی سن گن مل چکی تھی۔ مسز ہارٹر بھی شاید اس کی خفیہ بدحرکتوں سے آگاہ ہو گئی تھیں۔ انہوں نے وصیت نامہ تلف کرنے ہی کے لیے منگوایا تھا، کیونکہ وہ اب اسے اپنی جائیداد کا وارث ہرگز نہ بنانا چاہتی تھیں۔
لیکن ایسا ہرگز نہیں تھا۔ اس کی پھوپھی نے وصیت نامہ اپنی مرضی سے تلف نہ کیا تھا۔ یہ تقدیر نے اس کے ساتھ انتہائی بھیانک مذاق کیا تھا۔ اس وقت جب وہ آنجہانی پیٹر ہارٹر کا روپ دھار کر کمرے میں داخل ہوا تھا تو اس نے کوئی چیز اپنی پھوپھی کے ہاتھ سے نکل کر بھڑکتے ہوئے آتش دان میں گرتے دیکھی تھی۔ یہ کاغذ آن واحد میں جل کر راکھ ہو گیا تھا۔ چارلس کے چہرے پر وحشتیں رقص کرنے لگیں۔
’’اگر یہ وصیت نامہ نہ مل سکا، پھر کیا ہو گا؟ مسٹر ہوپکنسن!‘‘ اس کی آواز بالکل بیٹھی ہوئی تھی۔
’’ہمارے پاس مسز ہارٹر کا پرانا وصیت نامہ موجود ہے۔ ایسی صورت میں قانونی طور پر وہی موثر سمجھا جائے گا۔ اس وصیت نامے میں مسز ہارٹر نے اپنی بھتیجی میرین ہارٹر کو اپنی جائیداد کا وارث قرار دیا ہے۔‘‘
میرین ...... جو اب شادی شدہ تھی، ایک احمق اور مجہول آدمی اس کا شوہر تھا، جس کے اب چار روتے چلاتے بے ہودہ سے بچے تھے۔ یہ لوگ اب بے اندازہ مال و دولت کے مالک ہوں گے۔ تدبیر اس نے کی تھی اور پھل ان بے ہودہ لوگوں کے حصے میں آنے والا تھا۔ تقدیر بھی اس کے ساتھ کیا چال چل گئی تھی!
ٹیلی فون کی تیز گھنٹی کی آواز نے اسے ایک دم اپنی تلخ سوچوں سے چونکا دیا۔ اس نے ریسیور کان سے لگایا۔ دوسری طرف ڈاکٹر مینل تھے۔
’’یہ آپ ہیں ؟ مسٹر ریج وے! میں آپ کی پھوپھی کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ ان کی موت کا سبب وہی ہے جو میں نے کہا تھا ، یعنی کوئی اچانک صدمہ، البتہ اس رپورٹ سے ایک بات اور بھی سامنے آئی ہے، وہ یہ کہ مسز ہارٹر زیاد ہ سے زیادہ ڈیڑھ دو ماہ اور زندہ رہ سکتی تھیں۔‘‘
چارلس نے زور سے ریسیور کریڈل پر مارا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا ان سب لوگوں کو مار ڈالے اور خود کپڑے پھاڑ کر مجنونانہ قہقہے لگاتا ہوا، جنگلوں کی راہ لے۔
اسی وقت مسٹر ہوپکنسن کی نرم آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی:
’’مسٹر ریج وے! آپ کی طبیعت ٹھیک تو ہے؟‘‘
افوہ! لعنت ہو اس مینڈک جیسی شکل والے وکیل پر! اس بوڑھے گدھے مینل پر، امید کی تمام کرنیں دھندلا چکی تھیں۔ اب صرف جیل کی دیوار کا سایہ ہی باقی رہ گیا تھا۔
وہ تقدیر کے ساتھ کھیلتا رہا تھا، اس طرح جیسے بلی چوہے کے ساتھ کھیلتی ہے۔ اب تقدیر اس کی تیرہ بختی پر خنداں تھی۔