میخائل شولوخوف

میخائل شولوخوف

جنگ اور آدمی

    ترجمہ: خاقان ساجد

    ہمارے لیے برف پر چلنا دشوار ہو رہا تھا۔ ہمارے قدم جب بھربھری برف کو کچلتے تو چررمرر کی آوازیں پیدا ہوتیں۔ سڑک کے دونوں اطراف پگھلتی ہوئی برف کے ریزے چمک رہے تھے۔ جنگ کے اختتام پر دریائے ڈان کے بالائی علاقے میں موسم بہار نے ڈیرے ڈالے تو گرم ہوا نے دو دن کے اندر ریتلے کنارے پر گری برف صاف کر دی۔ البتہ دوسرے علاقوں میں برف اب پگھلنا شروع ہوئی تھی اور جب برف پگھلی تو ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ دریا پورے زور و شور سے بہنے لگا۔ اس برے وقت میں مجھے فسکایا قصبے کا سفر کرنا پڑا۔ فاصلہ اتنا زیادہ تو نہیں تھا۔ کوئی ساٹھ کلومیٹر رہا ہو گا مگر اسے طے کرنا دوبھر معلوم ہوتا تھا۔ میں اور میرا ساتھی علی الصبح روانہ ہو گئے ، وہ مضبوط گھوڑے بمشکل بھاری بھرکم گاڑی کو کھینچ پاتے تھے۔ برف زدہ سخت زمین میں گاڑی کے پہیے دھنسے جاتے تھے۔ ایک گھنٹے میں گھوڑے ہانپنے لگے اور سفید سفید جھاگ ان کے منہ سے نکلنے لگا۔ صبح کی تازہ ہوا میں گھوڑے کے پسینے اور ان کے اوپر سجے ہوئے سازوں پر لگے ہوئے روغن کی ملی جلی بو رچ بس گئی۔ گاڑی نہ چلنے کی صورت میں ہم اتر کر پیدل چلنے لگتے تھے۔ چھ گھنٹوں میں ہم بمشکل آدھا فاصلہ طے کر پائے اور دریائے یلانکا کے کنارے پہنچ گئے جہاں دریا پار کرنے کے لیے کشتی ملتی تھی۔

    شومئی قسمت کہ ہمیں ایسی کمزور کشتی ملی جو تین آدمیوں سے زیادہ کا بوجھ نہیں سہار سکتی تھی اور اس کے پیندے سے پانی رسنے لگتا تھا۔ مجبوراً گھوڑوں کو ہمیں وہیں چھوڑنا پڑا۔ دوسرے کنارے پر کھپریل کی کوٹھڑی تلے ہماری خوب چلی ہوئی پرانی جیپ پہلے سے موجود تھی۔ میں اور ڈرائیور اس بوسیدہ کشتی میں سوار ہو گئے۔ میرا ساتھی سامان سمیٹ کر وہیں کھڑا رہ گیا۔ ہم راستے بھر کشتی کے پیندے سے رسنے والا پانی نکالتے رہے۔ ایک گھنٹے میں ہم دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔ ڈرائیور جیپ کنارے تک لایا اور پھر کشتی میں بیٹھ کر چپو سنبھالتے ہوئے بولا:

    ’’کشتی اگر سلامت رہی تو میں دو گھنٹے میں انہیں لے کر آتا ہوں۔ اس سے پہلے آپ ہمارے آنے کی توقع نہ کیجیے گا۔‘‘

    کنارے پر درخت کا ایک موٹا سا تنا پڑا تھا۔ میں اس پر بیٹھ گیا، سوچا سگریٹ ہی پی لوں۔ لیکن جب جیب میں ہاتھ ڈالا تو بڑا افسوس ہوا۔ ’’پیپلز مورو‘‘ نامی نلکی کی سگریٹ کا پیکٹ بھیگ چکا تھا۔ راستے میں پانی کی ایک لہر کشتی پر گری تھی جس سے میں کمر تک شرابور ہو گیا تھا۔ بڑی احتیاط سے میں نے جیب سے بھیگا ہوا سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور بھیگی ہوئی سگریٹ نکال کر تنے پر رکھنے لگا۔ دھوپ تیز تھی اس لیے امید تھی کہ سگریٹ جلد خشک ہو جائیں گے۔ مجھے اس تنے پر بیٹھنا بڑا اچھا لگ رہا تھا۔ تنہائی، سناٹا، آس پاس کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ مجھے افسوس ہوا کہ کیوں یہ فوجیوں جیسا موٹا اور بھاری بھرکم کوٹ پہن لیا۔ میں نے اپنے سر سے پرانا فوجی کنٹوپ اتار دیا تاکہ بھیگے ہوئے بال سوکھ جائیں۔

    سامنے گاؤں کی طرف سے ایک شخص سڑک پر آیا۔ ایک چھوٹے سے لڑکے نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا جو دیکھنے میں پانچ سال کے لگ بھگ نظر آرہا تھا۔ دونوں تھکے تھکے قدم اٹھاتے دریا کے کنارے کی طرف جا رہے تھے مگر جیپ دیکھ کر میری طرف مڑ گئے۔ وہ لمبا تڑنگا اور قدرے جھکے ہوئے شانوں والا شخص تھا۔ قریب آ کر اس نے پھٹی پھٹی اور بھاری آواز میں کہا: ’’سلام بھائی۔‘‘

    ’’سلام!‘‘

    میں نے اس کے موٹے، چوڑے اور کھردرے ہاتھ سے ہاتھ ملایا۔ نووارد نے بچے کی طرف جھکتے ہوئے کہا: ’’بیٹے! اپنے چچا کو سلام کرو، یہ بھی تو میری طرح ڈرائیور ہی دکھائی دیتے ہیں، ہم دونوں ٹرک چلاتے ہیں لیکن ان کے پا س جیپ ہے۔‘‘

    لڑکے نے اپنی بڑی بڑی روشن آنکھیں اٹھا کر مجھے دیکھا اور بڑی بے باکی سے مسکراتے ہوئے اپنا چھوٹا سا سرد اور گلابی ہاتھ میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے مذاق میں پوچھا: ’’کیوں بڑے میاں، کیا بات ہے؟ اتنا سرد ہاتھ؟ اتنی گرمی ہے اور تم ہو کہ سردی سے ٹھٹھرے جا رہے ہو۔‘‘

    ’’اجی واہ میں کیوں ہونے لگا بڑے میاں، اور سردی سے کہاں ٹھٹھر رہا ہوں، بس ذرا ہاتھ ہی تو ٹھنڈے ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں ہاتھوں سے برف کے گولے بنا رہا تھا۔‘‘

    بچے کے باپ نے پشت سے سامان کی چھوٹی سی پوٹلی اتاری اور میرے برابر تنے پر بیٹھتے ہوئے مجھ سے کہا: ’’جناب اس ننھے مسافر نے تو میرا ناک میں دم کر رکھا ہے، اس کے ساتھ سفر کرنا کسی مصیبت سے کم نہیں ہے۔ چیونٹی کی چال چل رہا ہوں، لیکن جہاں ذرا نظریں چوکیں۔ یہ لگا پانی میں چھپ چھپ کرنے،   یا پھر برف کا ٹکڑا منہ میں ڈال کر چوسنے لگتا ہے۔‘‘ چند لمحے توقف کے بعد اس نے پوچھا:’’کس کا انتظار کر رہے ہو بھائی؟اپنے افسر اعلیٰ کا؟‘‘

    اس کی یہ غلط فہمی کہ میں کسی کا ڈرائیور ہوں، مجھے دور کرتے اچھی نہیں لگی، میں نے معاملے کو یونہی چلنے دیا۔ ’’ہاں انتظار تو کرنا ہی ہو گا۔‘‘

    ’’دریا کے اس پار سے سواری آنے والی ہے کیا؟‘‘

    ’’ہاں!‘‘

    ’’کچھ پتا ہے، کتنی دیر میں کشتی آ جائے گی؟‘‘

    ’’دو گھنٹے تو لگیں گے۔‘‘

    ’’بہت خوب، خیر میرا کیا، مجھے کون سی جلدی پڑی ہے، کچھ دیر آرام کر لیں گے، ادھر سے گزرتے ہوئے جو دیکھا کہ اپنا ایک ڈرائیور بھائی اکیلا بیٹھا اکتا رہا ہے تو سوچا چلو، مل کر سگریٹ پیتے ہوئے گپ شپ ہی لڑاتے چلیں گے، اکیلے تو سگریٹ پینا بھی کچھ اچھا نہیں لگتا۔ کسی کا ساتھ ہونا ضروری ہے جو دو باتیں اپنے دل کی کہے اور دو باتیں میری سنے، سچ بات تو یہ ہے کہ مرنا بھی اکیلے نہیں چاہیے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے تمہاری زندگی بڑے مزے میں گزر رہی ہے۔نلکی والی سگریٹ پیتے ہو؟ بھگو لیا پیکٹ؟ یہ تو بہت برا ہوا، بھیگا ہوا سگریٹ اور بیمار گھوڑا، دونوں کسی کام کے نہیں۔ خیر کوئی بات نہیں۔ یہ میری اینٹ مارکہ سگریٹ پھونک لو۔‘‘

    اس نے فوجی پتلون کی جیب سے عنابی رنگ کا ریشمی بٹوا نکالا جس کے کونے پر کڑھا ہوا تھا۔ ’’لیویا ہائی سکول کی چھٹی جماعت کے طالب علم کی طرف سے مادر وطن کے محافظ، عزیز فوجی کے لیے۔‘‘

    ہم خاموشی سے کچھ دیر تک گھر کے بنے ہوئے کڑوے تمباکو کے کش لگاتے رہے۔ میرے جی میں آئی کہ اس سے پوچھوں ایسے خراب راستے پر بچے کو لے کر کہاں او رکس لیے جا رہے ہو مگر اس سے پیشتر ہی اس نے کہا:’’تو کیا پوری لڑائی ڈرائیوری کرتے رہے؟‘‘

    ’’ہاں تقریباً ساری لڑائی۔‘‘

    ’’اگلے مورچوں پر؟‘‘

    ’’ہاں، زیادہ تر اگلے مورچوں پر ہی رہا۔‘‘

    ’’اپنا حال بھی یہی رہا۔‘‘

    میں نے نووارد کی آنکھوں میں دیکھا تو کانپ اٹھا، اس کی آنکھوں سے جگر کاٹنے والی افسردگی جھانک رہی تھی جو مجھ سے نہ دیکھی گئی اور میں نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹا لیں۔

    درخت کے تنے سے اس نے موٹا سا ریشہ نکالا اور زمین پر آڑی ترچھی لکیروں سے ایک مبہم سی تصویر بنائی اور پھر سر اٹھاکر بولا: ’’بعض اوقات رات رات بھر نیند نہیں آتی، خالی خالی نظروں سے اندھیرے کو تکے جاتا ہوں اور سوچنے لگتا ہوں کہ اے زندگی تو نے میری راہ خار زار کیوں بنائی۔ آخر یہ کس قصور کی سزا ہے؟ مگر اس کا جواب اندھیرے سے ملتاہے نہ اجالے سے، اور جواب ملنے کی امید بھی نہیں۔‘‘

    بمشکل اس نے خود کو سنبھالا اور بڑے پیارے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا: ’’جاؤ بیٹا، پانی کے پاس جا کر کھیلو مگر دیکھو، پانی میں پیر نہ بھگو لینا، سردی لگ جائے گی۔‘‘

    میں نے یہ بات خاص طور پر نوٹ کی کہ لڑکا بڑے سلیقے سے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ بٹن پورے ٹنکے ہوئے تھے۔ کئی جگہ بڑی خوبصورتی سے پیوند لگائے گئے تھے۔ موزے پر بھی پیوند لگے ہوئے تھے۔ بچے پر کسی عورت کی توجہ لگتی تھی۔ اس کے کپڑوں سے ماں کی سلیقہ شعاری کا پتا چلتا تھا۔ جبکہ اس کے باپ کا حلیہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس کا کوٹ جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا اور بعض جگہ بڑے پھوہڑ پن سے پیوند لگانے کی کوشش کی گئی تھی۔ موٹے اونی موزے بھی پھٹے ہوئے تھے۔ یقیناً کسی عورت کی نظر کرم اس پر نہیں تھی۔ میں نے سوچا یا تو اس کی بیوی مر چکی ہے یا پھر بیوی سے ان بن رہتی ہے۔

    کچھ دیر وہ بیٹے کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ میں اس کے بولنے کا منتظر تھا۔ اس نے گلا کھنکار کر صاف کیا، اور کہنے لگا: ’’میں 1900ء کے قحط میں، کیکویدز سے کے ڈویژن میں کیوبان کی طرف چلا گیا اور کھاتے پیتے کاشتکاروں کے لیے جان کی بازی لگا دی۔ میرے ماں باپ اور بھائی بہن سب بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ میرا کوئی اور عزیز رشے دار بھی نہ تھا۔ کیوبان میں، میں ایک سال رہا اس کے بعد واپس آگیا اور گھر بیچ کر پھر درونیز چلا گیا۔ وہاں پہلے تو کچھ دن بڑھئی کا کام کرتا رہا۔ پھر کارخانے میں ملازمت کر لی اور تھوڑے ہی عرصے میں مستری بن گیا۔ پھر شادی کر ڈالی۔ یتیم خانے میں پرورش پانے والی بیوی ملی، خدمت گزار، صابر، ہنس مکھ اور فرمانبردار۔ بچپن ہی سے اس نے بے پناہ دکھ اٹھائے تھے۔ دنیا کے دکھ درد اور نشیب و فراز سے خوب واقف تھی۔ اس لیے ہر کام میں کفایت شعاری سے کام لیتی تھی۔ میں بہت خوش تھا کہ مجھے اتنی اچھی بیوی ملی۔

    کام سےتھکا ماندہ جب میں گھر میں داخل ہوتا تو غصے سے خوب بک بک جھک جھک کرتا مگر وہ چپ چاپ میری کڑوی کسیلی باتیں پی جاتی۔ بڑی نرمی اور پیار سے جوتے اتارتی، جلدی جلدی کھانا گرم کرکے لے آتی۔ کھانا کھانے کے بعد اٹھتا تو ہاتھ دھلاتی اور پانی کا گلاس بڑے ادب سے پیش کرتی۔ خوب کڑک چائے بنا کر دیتی اور جب میں بستر پر لیٹ جاتا تو پاؤں دبانے لگتی۔ پھر مجھے بے اختیار اس پر رحم آجاتا اور اپنے آپ پر لعنت ملامت کرنے کے بعد، اس سے کہتا : ’’پیاری ایرینیکا مجھے معاف کر دینا۔ میں نے خواہ مخواہ تم سے جلی کٹی باتیں کیں، دراصل کام کا معاملہ ذرا گڑبڑ ہے اس لیے موڈ خراب رہتا ہے، میں اپنے آپ میں نہیں رہتا۔‘‘

    تنخواہ ملنے پر میں یار دوستوں کے ساتھ شراب خانے میں چلا جاتا۔ خوب جی بھر کے دیسی شراب پیتا اور پھر نشے میں بدمست لڑکھڑاتا ہوا گھر آتا تو وہ مجھ سے بجائے لڑنے جھگڑنے کے بڑی اچھی طرح پیش آتی۔ موٹے موٹے کپڑے اور جوتے اتار کر مجھے بستر پر لٹا دیتی اور اس وقت   تک میرا سر دباتی رہتی جب تک کہ میں سو نہ جاتا۔

    صبح کام پر جانے سے کوئی دو گھنٹے پہلے مجھے جگا دیتی تاکہ ٹھیک سے تیار ہو جاؤں۔ کوئی نمکین کراری چیز اور واڈکا کا ایک جام میرے آگے رکھ دیتی تاکہ خمار اتر جائے۔ پیار سے کہتی: ’’لو میری جان یہ کھا لو، اور آئندہ شراب نہ پینا۔ یہ بہت بری بات ہے۔‘‘

    میں پیار سے اسے اپنی مضبوط بانہوں میں بھینچ لیتا اور اس کے لب و رخسار کے جی بھر کے بوسے لینے کے بعد اس سے وعدہ کر لیتا کہ آئندہ شراب نہیں پیوں گا۔ لیکن دوسرے دن جب رات گئے گھر آتا تو میرے قدم لڑکھڑا رہے ہوتے۔

    خیر کچھ عرصے بعد بال بچے ہونے لگے۔ پہلے تو ایک لڑکا پیدا ہوا اور پھر یکے بعد دیگرے دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ اب بچوں کی ذمہ داریاں جو بڑھیں تو میں یار دوستوں سے پیچھا چھڑانے لگا۔ جو تنخواہ ملتی سب گھر لے آتا، شراب پینا ترک کر دینا پڑا۔ بڑا کنبہ جنجال جو ہوتا ہے۔ چھٹی کے دن البتہ ایک آدھ پیالہ چڑھا لیتا تھا۔

    1929 ء کے بعد مجھے  موٹر گاڑیوں سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔ اور مستری سے ٹرک ڈرائیور ہو گیا۔ یوں ٹرک چلاتے چلاتے دس سال بیت گئے۔ کچھ پتا بھی نہ چلا پلک جھپکتے دس سال گزر گئے۔ اس عرصے میں، میں نے خوب محنت سے دل لگا کر کام کیا۔ اس سے اتنا کما لیتا تھا کہ اپنا کھانا پینا اوروں سے اچھا ہوتا تھا۔ پہنتے بھی اچھا تھے۔ بچے بھی بہت خوش تھے۔ تینوں سکول میں ہمیشہ اول آتے تھے۔ میرا بڑا لڑکا اناتولی تو بڑا ہوشیار نکلا۔ ریاضی میں تو اس نے کمال کر دکھایا۔ ضلع بھر میں اول آیا۔ ان دس سالوں میں کچھ پیسے جمع کرکے ہم نے دو کمروں کا مکان لے لیا۔ میری بیوی نے دو بکریاں بھی پالی تھیں۔ اپنے بچوں کے علاوہ اسے حیوانوں کے بچے پالنے کا بھی بہت شوق تھا۔ اچھا کھانا ، اچھے کپڑے اور مکان سب کچھ میسر تھا۔ مگر ایک خرابی یہ تھی کہ ہمارا مکان ہوائی جہاز فیکٹری کے پاس واقع تھا۔

    پھر جنگ چھڑ گئی، جنگ کمیٹی کی طرف سے مجھے بھی بلا لیا گیا۔ تیسرے دن ریلوے سٹیشن پر کھڑا تھا۔ میرا کنبہ مجھے الوداع کہنے آیا تھا۔ میری بیوی ایرینیکا، بڑا لڑکا اناتولی اور دو بیٹیاں ناتیکا اور اوتیکا سب بچوں نے بڑی ہمت سے کام لیا۔ مگر پھر بھی میری بیٹیوں سے ضبط نہ ہو سکا۔ انہیں سنبھالنا تو اچھا خاصامسئلہ بن گیا۔ وہ زار و قطار رو رہی تھیں۔ سترہ سالہ اناتولی نے اس طرح جھرجھری لی جیسے اسے سردی لگ گئی ہو۔ اٹھارہ سال سے میں اپنی بیوی ایرینیکا کو دیکھ رہا تھا مگر اس طرح پھوٹ کر وہ کبھی نہیں روئی تھی۔ رات بھر سسکیاں لے لے کر روتی رہی۔ سارا تکیہ آنسوؤں سے بھیگ گیا اور صبح ہوتے ہی اس نے پھر رونا شروع کر دیا۔ سٹیشن پر ایرینیکا کی حالت مجھ سے نہیں دیکھی جاتی تھی۔ بہت زیادہ رونے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ شانوں پر بال بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کے ہوش و حواس جاتے رہے ہوں۔ افسروں نے گاڑی میں بیٹھنے کا حکم دیا اور ایرینیکا کی حالت اورخراب ہو گئی۔ اس نے نڈھال ہو کر اپنا سر میرے سینے سے ٹکا دیا۔ پھر بے تابی سے اپنی بانہیں میری گردن میں ڈال دیں۔ اس پر رعشہ طاری تھا۔ بچے اسے سنبھالنے کی بڑی کوششیں کر رہے تھے۔ میں اسے سو جتن کرکے منا رہا تھا مگر وہ سنبھالے نہیں سنبھلتی تھی۔ دوسری عورتیں اپنے شوہروں اور بیٹیوں سے باتیں کر رہی تھیں اور میری بیوی مجھ سے چمٹی رو رہی تھی۔ سر سے پاؤں تک وہ کانپ رہی تھی، جیسے اسے جاڑے کا بخار آگیا ہو، میں نے اسے بہت سمجھایا۔ ’’بس کرو میری جان، بہت ہو چکا، اب اپنے آپ کو سنبھالو۔ ارے میری بات تو سنو ایرینیکا۔ رخصت ہوتے وقت دو الوداعی بول تو کہہ دو۔‘‘

    وہ بمشکل بولی۔ ’’میری جان ......اندرئی ...... یہ عمر بھر کی جدائی ہے ...... اب کے بچھڑے تو ...... شاید ہی کبھی ملیں ...... مجھے تو محسوس ہو رہا ہے ...... جیسے ہم ...... ہمیشہ کے لیے جدا ہو رہے ہوں......‘‘

    صدمے سے ایک تو یوں ہی میرا برا حال تھا اور اوپر سے اس کا یہ رونا دھونا۔ وہ اتنا نہیں سمجھتی تھی کہ بھرے پرے گھر کو چھوڑتے ہوئے خود میری کیا حالت ہو رہی تھی۔ اس صدمے سے کیا میرا دل نہیں پھٹا جا رہا تھا؟ میں کوئی بر دکھاوے کے لیے سسرال تو جا نہیں رہا تھا۔ آخر میں بھی تو انسان ہوں۔ مجھے بے حد غصہ آیا اور میں نے اسے سختی سے پرے دھکیل دیا۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئی تین قدم دور جا گری مگر پھرتی سے اٹھ کر دوبارہ میری طرف بڑھنے لگی۔ کمال ہے مجھے تو جیسے وہ زندہ دفن کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ ابھی تو میری موت کا دور دور تک پتا نہیں تھا مگر اس کا مضطربانہ انداز دیکھ کر میں موم کی طرح پگھل گیا۔ آگے بڑھ کر میں نے اسے اپنی آغوش میں بھینچ لیا۔‘‘

    اچانک کہتے کہتے وہ رک گیا جیسے الفاظ اس کے حلق میں اٹک رہے ہوں۔ اس پر ہیجانی کیفیت طاری تھی جس کا مجھ پر بڑا گہرا اثر ہوا۔ میں نے دیکھا کہ وہ سر نہوڑائے بیٹھا ہے۔ اس کے بھاری بھرکم اور موٹے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ موٹے اور بھدے ہونٹ لرز رہے تھے۔

    کچھ دیر بعد اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا: ’’ایرینیکا کو اس روز میں نے جو دھکا دیا تھا اس کا مجھے مرتے دم تک افسوس رہے گا۔ خیر ایرینیکا سے میں بڑی مشکل سے علیحدہ ہوا۔ دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ لے کر اسے خوب پیار کیا۔ اس کے ہونٹ برف کی طرح سرد ہو رہے تھے۔ بچوں کو خوب پیار کرکے میں رخصت ہوا۔ ٹرین چلنے لگی تھی۔ میں دوڑتا ہوا ڈبے کے پائیدان پر چڑھ گیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو بچے بڑی افسردگی اور حسرت سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ الوداعی انداز میں ہاتھ ہلا رہے تھے۔ وہ مسکرانے کی پوری کوشش کر رہے تھے مگر مسکرایا نہیں جا رہا تھا۔ ایرینیکا نے چھاتی کو دونوں ہاتھوں سے بھینچ رکھا تھا۔ اس کے ہونٹ سنگ مر مر کی طرح سفید ہو رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہوئے اس نے ہوائی بوسہ لیا۔ ٹرین پلیٹ فارم کو چھوڑ رہی تھی۔ ایرینیکا کی یہ حالت آج تک میرے دل پر نقش ہے۔ سٹیشن کے اس منظر کو میں کبھی فراموش نہیں کر سکوں گا۔ آج بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو دل پھٹنے لگتا ہے۔

    اگلے مورچوں پر تیر کوف کے پاس میری ڈیوٹی لگی۔ میرے   ذمے ایک بڑا سا ٹرک چلانا تھا۔ اب جنگ کا حال تمہیں کیا سناؤں۔ تم خود ہی دیکھ چکے ہو۔ شروع میں جو کچھ گزری وہ تو تم جانتے ہی ہو۔ گھر سے مسلسل خط آتے تھے۔ جواب دینے کے معاملے میں، میں بڑا سست واقع ہوا تھا۔ جی میں آیا تو لکھ دیا نہ آیا تو نہ لکھا اور سچ پوچھو تو لکھنے کے لیے ہوتا بھی کیا تھا۔ بس یہ کہ ’’یہاں سب خیریت ہے، ہلکی سی جھڑپ ہوئی ہے۔ اس وقت اگرچہ ہم پسپا ہو گئے ہیں تاہم اپنی قوت مجتمع کرکے ہم پھر حملہ کریں گے اور دشمن کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے۔‘‘ بس اسی قسم کی احمقانہ باتیں لکھی جاتی ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ ٹسوے بہانے اور بیویوں کو خط لکھنے والے لوگ مجھے بالکل پسند نہیں۔ یہ کیا کاغذ پر کاغذ سیاہ کیے چلے جا رہے ہیں۔ اپنی دکھ بھری داستان لکھ رہے ہیں، مصیبتوں کا درد ناک حال بیان کر رہے ہیں، پھر جب یہ خط ان کی بیویوں کو ملتے ہیں تو وہ رو رو کر اپنا برا حال کر لیتی ہیں۔ حالانکہ ان کے سروں پر پہلے ہی کافی مصیبتیں ہوتی ہیں۔ میاں سپاہی ہو، مرد ذات ہو، ہر مصیبت کا ڈٹ کر مقابلہ کرو۔ اگر صبر نہیں ہوتا تو چوڑیاں پہنو اور گھر میں بیٹھ جاؤ۔ یہ کیا میدان جنگ میں بھی واویلا ۔ برستے گولوں اور گولیوں کے اس محاذ پر تم ایسے نکموں کا کیا کام۔

    ابھی میدان جنگ میں پہنچے ہوئے مجھے ایک سال بھی نہ ہوا تھا کہ دوبار زخمی ہوا مگر دونوں مرتبہ زخم کاری نہیں آئے۔ بس اچٹتے زخم آئے تھے۔ ایک مرتبہ ہاتھ پر زخم آیا اور دوسری مرتبہ ٹانگ پر۔ پہلی مرتبہ اوپر جہاز سے گولی لگی اور دوسری مرتبہ جرمنوں نے گولیوں سے چھلنی کر ڈالا۔ لیکن بالآخر مئی    1942ء میں، میں نوروپنکی کے قریب قید ہو گیا۔ ہوا یہ کہ جرمن بڑے زور سے آگے بڑھتے چلے آ رہے تھے۔ ایسے نازک مرحلے پر ہماری 122ملی میٹر دہانے کی توپ کی بیٹری سرد ہو گئی۔ گولہ باردو ختم ہو گیا۔ ہم نے اپنے ٹرک میں بم لادے، لادتے لادتے میں پسینے میں شرابور ہو گیا۔ کمر پھوڑے کی طرح دکھنےلگی۔ مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔ توپ خانے تک بڑی جلد پہنچنا تھا۔ ہر طرف ٹینکوں کی گھڑگھڑاہٹ سنائی دے رہی تھی۔ گولیاں تڑ تڑ برس رہی تھیں۔ حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ کمپنی کمانڈر نے مجھ سے کہا: ’’کیوں اندرئی۔ کیا تم اس میں سے ٹرک نکال کر لے جا سکو گے؟‘‘

    ’’کیوں نہیں نکال کر لے جاؤں گا۔ میرے فوجی بھائی وہاں جان سے ہاتھ دھوئے بیٹھے ہیں اور میں ہچر مچر کروں گا؟‘‘

    ’’بس تو پھر ٹھیک ہے برق رفتاری سے جانا اور کھوٹے سکے کی طرح واپس آجانا۔‘‘ کمانڈر نے میری پشت تھپتھپاتے ہوئے کہا۔

    مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ مجھے اپنا ٹرک بڑی احتیاط سے چلانا ہے کیونکہ ٹرک میں کوئی آلو تو بھرے نہیں تھے۔ جب میں ٹرک کو نشیب میں اپنے توپ خانے کی طرف لیے جا رہا تھا تو دفعتاً میری نظر دائیں طرف کے کھلے میدان میں پڑی جہاں ہمارے جوان بھاگے جا رہے تھے۔ گولے ان کے سروں پر پھٹ رہے تھے۔ میں نے ایکسیلیٹر پر اپنے پاؤں کا دباؤ بڑھا دیا مگر توپ خانے تک نہ پہنچ سکا۔ ایک گولہ میرے ٹرک کے قریب آ کر پھٹا اور پھر پے در پے دھماکے ہونے لگے۔ میرا ذہن تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا۔

    جب آنکھ کھلی تو میرے جسم کا جوڑ جوڑ درد کر رہا تھا جیسے کسی نے بیلن سے میرے جسم کو دھنک کر رکھ دیا ہو۔ پتا نہیں میں کتنی دیر تک سڑک کے کنارے گڑھے کے پاس پڑا رہا تھا۔ ہوش آنے پر مجھے کوئی بات یاد نہیں آرہی تھی۔ میں نے سر اٹھا کر گردوپیش کا جائزہ لیا۔ میرے چاروں طرف سڑک پر اپنے ہی ٹرک والے توپ کے گولے بکھرے پڑے تھے اور مجھ سے کچھ دور میرا ٹرک الٹا پڑا تھا۔ اس کے تو تقریباً پرخچے ہی اڑ گئے تھے، اور جنگ پوری شدت سے میرے پیچھے ہو رہی تھی۔ میرے پیچھے یہ کیونکر ہو سکتا ہے؟

    میں نے اٹھنے کی کوشش کی مگر تیورا کر کٹے ہوئے درخت کی طرح گر پڑا۔ اس وقت میں دشمن کے نرغے میں تھا۔ فاشسٹ مجھ سے کچھ دور کھڑے تھے۔ ظاہر ہے اب میں ان کا قیدی تھا مگر میں خوفزدہ نہیں تھا۔ جنگ میں تو ایسا ہوتا ہی ہے ۔ ٹینکوں کی گھڑگھڑاہٹ سے زمین تھرا رہی تھی۔ اوسط درجے کے چار ٹینک میرے قریب سے گزر کر اس طرف بڑھنے لگے جہاں سے میں گولہ بارود سے لدا ہوا ٹرک لے کر چلا تھا۔ پھر کچھ گاڑیاں، توپیں کھینچتی ہوئی گزریں۔ اس کے پیچھے پیدل فوج تھی۔ غالباً یہ پوری کمپنی تھی۔ میں نے ان کی نظروں سے بچنے کے لیے اپنا چہرہ مٹی میں دھنسا لیا۔ انہیں دیکھنا مجھے کچھ اچھا بھی نہیں لگ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد میں نے سوچا کہ شاید اب کوئی خطرہ نہ ہو گا۔ سب نکل چکے ہوں گے۔ سر اٹھایا تو چھ جرمنوں کو ٹامی گنیں لیے اپنے سر پر مسلط پایا۔میں نے اپنے دل میں سوچا کہ لو بیٹے اب آگئی موت۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ لیٹے لیٹے مرنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ اس لیے میں کھڑا ہو گیا۔ میں اب بھی ذرہ برابر خوفزدہ نہ تھا۔ ان میں سے ایک سپاہی ٹامی گن کو کندھے سے اتار کر آگے بڑھا۔ میں بے خوفی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتا رہا۔ اتنے میں ایک ادھیڑ عمر جرمن آگے بڑھا اور اپنی زبان میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے اپنے نوجوان ساتھی کو پیچھے ہٹا دیا ۔اس نے میرا ہاتھ پشت کی طرف موڑ دیا۔ پھر مغرب کی طرف میرا رخ کرا کے اس نے میرے کولہے پر زوردار لات رسید کر دی۔ مجھے اس کتے کی اولاد پر غصہ تو بہت آیا۔ میرا بس چلتا تو کچا ہی چبا جاتا لیکن اس وقت میں مجبور تھا۔ ایک سانولے سپاہی نے میرے جوتے دیکھے، اچھے خاصے تھے۔ وہ ہاتھ سے اشارہ کرکے بولا: ’’اتارو انہیں۔‘‘ میں نے زمین پر بیٹھ کر جوتے اتارے اور اس کے حوالے کر دیے۔

    اس نے جوتے اس طرح جھپٹ لیے جیسے ابھی میں اپنا ارادہ ہی تو بدل دوں گا۔ پھر میں ٹامی گنوں کی زد میں مغرب کی طرف بڑھنے لگا۔ میری سست رفتاری پر انہوں نے اپنی زبان میں مجھے گالیاں دیں، مجھے بھی جتنی گالیاں یاد تھیں دل ہی دل میں انہیں دیتا رہا۔ اس کے علاوہ میں کر بھی کیا سکتا تھا۔

    اس وقت میرے پیر من من بھر کے ہو رہے تھے۔ قدم بمشکل اٹھ رہے تھے۔ میں بدمست شرابی کی طرح لڑکھڑا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد دوسرے بہت سے قیدی بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ یہ میرے ڈویژن کے جوان تھے۔ انہیں دس جرمن سپاہی ٹامی گنوں کی زد میں لے کر آرہے تھے۔ ان میں سے آگے والے جرمن نے ٹامی گن کا دستہ خواہ مخواہ میرے سر پر دے مارا۔ اس سے پیشتر کہ میں تیورا کر زمین پر گر پڑتا میرے ساتھیوں نے مجھے تھام لیا اور آدھے گھنٹے تک مجھے سہارا دیتے رہے۔ پھر جب میرے اوسان بحال ہوئے تو ایک سپاہی نے میرے کان میں سرگوشی سے کہا:’’کسی بھی طرح گرنا نہیں، جس طرح بھی بن پڑے چلتے رہو ورنہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔‘‘

    میں نے پوری قوت   صرف کرکے اپنے آپ کو سنبھالے رکھا اور بغیر رکے چلتا رہا۔ غروب آفتاب کے بعد جرمنوں نے پہرہ دینے والے محافظوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا۔ ہاتھوں میں ٹامی گنیں، شاٹ گنیں اور رائفلیں لیے ٹرک پر سوار بیس جرمن سپاہی اور آگئے اور ہمیں کوئیک مارچ کرانا شروع کر دیا۔ میرے ساتھیوں میں جو زخمی تھے اور تیز نہیں چل سکتے تھے انہیں وہیں گولیوں سے ہلاک کر دیا گیا۔ ہمارے دو سپاہیوں نے بھاگ نکلنے کی کوشش کی۔ مگر چاندنی نے انہیں مروا دیا۔ تڑ تڑ تڑ گولیاں چلیں، دو چیخیں بلند ہوئیں اور پھر خاموشی چھا گئی۔

    رات گئے ہم ایک گاؤں میں پہنچے جو آدھا جل کر تباہ و برباد ہو گیا تھا۔ رات گزارنے کے لیے ہمیں ایک گرجا گھر میں دھکیل دیا گیا جس کا گنبد ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ کھردرا سرد پتھریلا فرش جس پر ایک تنکا بھی نہیں تھا۔ ہم میں سے اکثر بڑے بڑے بھاری بھرکم فوجی کوٹ اور اسی طرح کی جیکٹیں اور پتلونیں پہنے ہوئے تھے مگر ہمارے پاس بچھانےکے لیے کوئی چیز نہ تھی۔ ہم میں سے چند ایسے تھے جن کے جسم پر بند گلے کی قمیص تک نہ تھی اور انہوں نے باریک کپڑےکی صرف بنیان پہن رکھی تھی۔ ان میں زیادہ تر جونیئر افسر تھے اور انہوں نے وردی کے کوٹ اور بند گلے کی قمیصیں اس لیے اتار پھینکی تھیں کہ ان میں اور عام سپاہیوں میں کوئی پہچان باقی نہ رہے۔ ان کے علاوہ توپ خانے کے جوان بھی بند گلے کی قمیصوں کے بغیر رہ گئے تھے کیونکہ جب وہ اپنی قمیصیں اتارے مورچوں پر لگی ہوئی توپیں داغ رہے تھے تو دھر لیے گئے۔

    رات کے تیسرے پہر بڑے زور کی بارش ہوئی۔ ہم سب پانی میں شرابور ہو گئے۔ گرجے کے گنبد کی چھت بمباری سے بالکل تباہ ہو چکی تھی۔ اور اب وہاں کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں پناہ لی جا سکتی۔ سار ی رات گرجا گھر کے اندھیرے میں ہم مویشیوں کی طرح پڑے ٹھٹھرتے رہے۔ رات کے پچھلے پہر میرے کانوں میں ایک آواز آئی ۔ کوئی میرے ہاتھ کو پکڑے ہوئے پوچھ رہا تھا: ’’کیوں کامریڈ تم زخمی تو نہیں ہو ؟‘‘

    ’’تمہیں اس سے کیا، اپنے کام سے کام رکھو۔‘‘ میں نے ناک بھوں چڑھا کر جواب دیا۔

    ’’میں ایک فوجی ڈاکٹر ہوں۔ اگر تم واقعی زخمی ہو تو میں تمہاری کچھ مدد کر سکتا ہوں۔‘‘

    ’’بھائی‘‘ میں نے کراہتے ہوئے کہا۔ ’’یوں لگتا ہے جیسے میرے بائیں شانے کو کوئی کاٹے جا رہا ہے۔ سوج کر کپا ہو رہا ہے، درد کی تکلیف ناقابل برداشت ہے۔‘‘

    ’’ٹھیک ہے، تو پھر کوٹ اور نیچے کی قمیص اتار دو۔‘‘

    میں نے اس کی ہدایت پر عمل کیا۔ اس نے شانے کے پاس اپنی نرم و نازک پتلی پتلی انگلیوں سے میرا بایاں بازو ٹٹولنا اور ملنا شروع کر دیا۔ کم بخت نے کچھ ایسے الٹے سیدھے ہاتھ دکھائے کہ میری آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ میں نے درد کی شدت سے اپنے دانت بھینچ لیے اور چلایا: ’’ارے ظالم مار ڈالا۔ تو مجھے انسانوں کا نہیں مویشیوں کا ڈاکٹر لگتا ہے، سوجے ہوئے شانے کو موٹر کے ہارن کی طرح دبائے چلا جا رہا ہے۔ ارے بس کر بھائی، میں کہتا ہوں چھوڑ میرا شانہ‘‘ مگر وہ نہ مانا۔ سوجے ہوئے شانے کو دبائے چلا گیا۔ اس نے میرے بازو کو کھینچتے ہوئے برہمی سے کہا۔ ’’بک بک بند کر، زیادہ شور مچایا تو خیر نہیں، اب ذرا اپنے آپ کو سنبھالے رکھنا۔ اب کے بڑا سخت درد ہو گا۔‘‘

    پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر جو موڑا تو میری جان ہی تو نکل گئی۔ آنکھوں کے آگے چنگاریاں اڑنے لگیں، میں نے چیخ کر کہا: ’’کم بخت فاشسٹ تو یہ کیا کر رہا ہے، ایک تو میرے ہاتھ میں شدید درد ہے اور اس پر تو جھٹکے دے رہا ہے۔‘‘

    وہ کھی کھی کھی کرکے ہنسا اور پھر بولا: ’’میں تو سمجھا کہ ابھی تم میری مرمت شروع کر دو گے۔ لیکن تم تو بھلے مانس نکلے، تمہارا ہاتھ ٹوٹا ہوا نہیں تھا۔ بس ذرا سا اپنی جگہ سے اکھڑ گیا تھا۔ میں نے بڑی احتیاط سے تمہاری ہڈی بٹھا دی ہے۔ کہو، اب کیا حال ہے، کیسا محسوس کر رہے ہو؟ کچھ افاقہ ہوا؟‘‘

    مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے درد رفتہ رفتہ غائب ہوتا جا رہا ہے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ مجھے چھوڑ کر وہ اندھیرے میں دوسرے سپاہیوں کی طرف بڑھ گیا۔ سرگوشیوں میں اس کی آواز سنائی دی ’’کیوں بھائی کیا زخمی ہو؟‘‘ میں نے سوچا، ڈاکٹر دشمن کی قید میں ہے۔ گھور اندھیرا ہے پھر بھی اپنا فرض ادا کیے جا رہا ہے۔‘‘

    بڑے اضطراب اور بے بسی کی رات تھی۔ رفع حاجت تک کے لیے بھی باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔ جس وقت ہمیں گرجا گھر میں دھکیلا جا رہا تھا تو اسی وقت محافظوں کے افسر نے ہمیں خبردار کر دیا تھا کہ کوئی باہر نکلنے کی جرأت نہ کرے۔ہم میں ایک مذہبی شخص بھی تھا جسے رات کے وقت رفع حاجت کی ضرورت پیش آگئی۔ کچھ دیر تک وہ برداشت کیے رہا۔ آخر کب تک ، تنگ آ کر چیخ پڑا۔ ’’اے ظالمو! اب تو صبر و برداشت کی انتہا ہو گئی۔ اب میں نہیں رک سکتا۔بتاؤ میں کیا کروں، خداوند کے مقدس اور پاک گھر کو کیسے گندا کر دوں، مجھ سے یہ نہیں ہو گا۔ میں پکا عیسائی ہوں۔ میرا ایمان میرے ساتھ ہے۔ بتاؤ میں کیا کروں میرے بھائیو؟‘‘

    اور تم تو لوگوں کو جانتے ہی ہو کہ کیسے ہوتے ہیں، کسی نے قہقہہ لگایا، کسی نے اسے ٹہوکا مارا، کوئی اسے گالیاں دینے لگا۔ ایک تو یوں ہی معاملہ اس کی برداشت سے باہر ہوا جا رہا تھا۔ دوسرے لوگ اس سے چھیڑ خانی کر رہے تھے۔ ہمیں اٹھکیلیاں سوجھی تھیں اور اس کا برا حال تھا مگر اس ہنسی ٹھٹھے کا انجام بہت برا ہوا۔ پہلے تو اس نے خوب دروازہ کھٹکھٹایا اور اپنے محافظوں کی بڑی منت سماجت کی کہ ذرا دیر کے لیے باہر جانے کی اجازت دے دی جائے مگر اسے اپنی درخواست کا جواب بہت برا ملا۔ کسی فاشسٹ نے سوراخ میں شاٹ گن کی نال گھسیڑ کر فائر کھول دیا۔ اہل ایمان کے ساتھ تین آدمی اور مرے اور ایک شدید زخمی ہوا۔ صبح ہوتے ہوئے اس نے بھی دم توڑ دیا۔

    لاشیں اوپر تلے ایک کونے میں ڈال دی گئیں۔ ہم سب سر جھکا کر بیٹھ گئے اور خاموشی سے سوچنے لگے۔ کچھ دیر بعد ہم چپکے چپکے باتیں کرنے لگے۔ سرگوشیوں میں ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔

    میرے پاس دو آدمی بیٹھے کھسر پھسر کر رہے تھے۔ ایک نے دھیرے سے کہا: ’’اگر کل انہوں نے ہمیں آگے لے جانے سے پہلے قطار میں کھڑا کرکے پوچھ گچھ شروع کر دی کہ کون یہودی ہے ، کون کمیسار ہے، کون کمیونسٹ ہے تو لیفٹیننٹ اس صورت میں میرا مشورہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو چھپانا نہیں چاہیے، اس سے تو ہم اور پھنس جائیں گے اور تم؟ تمہارے خیال میں کیا تم وردی کا کوٹ اتار دینے سے بچ جاؤ گے اور تم میں اور سپاہیوں میں کوئی پہچان نہیں رہ جائے گی؟ اگر تم نے یہ سوچا ہے تو تم غلطی پر رہو، میں تو ہرگز تمہارا ہم خیال نہیں ہو سکتا۔ جب پوچھ گچھ ہو گی تو میں سب سے پہلے تمہاری طرف اشارہ کروں گا۔ مجھے تو پتا ہے کہ تم کمیونسٹ ہو۔ بلکہ تم تو مجھے بھی اپنی پارٹی کا رکن بنانے کے لیے اکساتے رہے ہو۔ اب تم خود ہی بھگتو۔‘‘

    یہ بات اس نے کہی جو میرے قریب ہی بیٹھا تھا۔ اس کے بائیں طرف سے ایک آواز سنائی دی۔ ’’مجھے تو پہلے ہی شبہ تھا پژنیف کہ تم اچھے آدمی نہیں ہو، خاص کر جب تم نے پارٹی میں شامل نہ ہونے کے لیے یہ بہانہ کیا تھا کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں، مگر اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ تم غداری بھی کر سکتے ہو۔ تم تو کہتے تھے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں، لیکن آٹھویں جماعت تو تم نے پاس کی ہے۔‘‘

    پژنیف نے خشک لہجے میں جواب دیا: ’’ہاں آٹھویں جماعت میں نے پاس کی تھی تو کیا ہوا؟‘‘

    کچھ دیر تک دونوں خاموش رہے پھر لیفٹیننٹ نے التجا آمیز لہجے میں کہا: ’’کامریڈ پژنیف جو کچھ تم نے کہا ہے کہیں واقعی ایسا نہ کر بیٹھنا، جھک جھک مت کرو۔ میں تو صاف صاف بتا دوں گا کہ تم کون ہو۔ اپنی جان سب کو پیاری ہوتی ہے۔‘‘

    پھر دونوں خاموش ہو گئے۔ پژنیف کے کمینہ پن پر غصے سے میرا بدن کانپ رہا تھا۔ ’’ٹھہر تو سہی کتے کی اولاد‘‘۔ میں نے سوچا۔ ’’میں اپنے افسر کو اس طرح دشمن کے حوالے نہیں ہونے دوں گا، اب تو اس گرجا گھر سے تیری لاش ہی جائے گی۔‘‘

    صبح ہوئی تو میں نے دیکھا کہ بھاری بھرکم چہرے والا پژنیف میرے پاس لیٹا ہوا ہے، قریب ہی ایک سوکھا سہما نوجوان گھٹنوں میں سر دیے بیٹھا تھا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ یہ مریل سا نوجوان اس مسٹنڈے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ مجھے تن تنہا اس کا کام تمام کرنا پڑے گا۔

    نوجوان کے قریب پہنچ کر میں نے اس کے کان میں سرگوشی سے پوچھا: ’’کیا تم لیفٹیننٹ ہو؟‘‘

    اس نے منہ سے کچھ کہنے کے بجائے اثبات میں سر ہلا دیا۔

    ’’یہ موٹا تمہیں دشمن کے حوالے کرنے والا ہے؟‘‘

    اس نے پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔

    ’’اچھی بات ہے۔ تم ذرا اس کی ٹانگیں مضبوطی سے پکڑلو تاکہ یہ جدوجہد نہ کر سکے سختی سے پکڑنا۔‘‘

    اس نے میرے کہنے پر عمل کیا اور پھر میں اس پر جھپٹ پڑا۔ دونوں ہاتھوں سے اس کا گلا دبائے چلا گیا یہاں تک کہ اس نے دم توڑ دیا۔ اب میرے سامنے غدار کی سرد لاش پڑی تھی، آنکھیں باہر کو ابل پڑی تھیں، زبان باہر کو نکل آئی تھی۔ اسے چیخنے چلانے کی، میں نے مہلت ہی نہ دی تھی۔ مجھے متلی ہونے لگی، جی چاہتا تھا کہیں سے ہاتھ دھو لوں، یوں لگتا تھا جیسے آدمی کا گلا نہیں گھونٹا تھا ، بلکہ رینگنے والی کوئی لجلجی سی چیز ہاتھ میں آگئی تھی۔ زندگی میں پہلی بار میں نے کسی آدمی کا خون کیا تھا اور وہ بھی اپنے ڈویژن کے سپاہی کا۔ مگر وہ اپنا ساتھی ہی کب تھا۔ وہ تو غدار تھا اور غداری کی سزا موت ہوتی ہے۔

    پژنیف نے جو کچھ کہا تھا وہی ہوا۔ سورج نکلے ہی انہوں نے ہم سب کو گرجا گھر کے باہر قطار میں کھڑا کر دیا۔ ہمیں چاروں طرف سے مسلح جرمنوں نے گھیر لیا۔ ان میں سے تین افسروں نے ایسے آدمیوں کو الگ کرنا شروع کر دیا جو ان کے بقول خطرناک تھے۔ قطار میں ایک ایک سے پوچھنے لگے۔ کمیونسٹی کون ہے، کمیسار کون ہے، کمانڈر کون ہے مگر قطار میں سے کسی نے بھی کچھ نہیں کہا۔ ہم سب چپ رہے۔ اب ہم میں سے کوئی پژنیف جیسا کمین نہیں تھا جو غداری کا مرتکب ہوتا۔ کمیونسٹ تو اس قطار میں آدھے تھے۔ ان میں افسر بھی تھے اور ظاہر ہے کمیسار بھی تھے۔ قطار کے دو سو سے زائد آدمیوں میں سے چار آدمی چھانٹے گئے۔ تین روسی اور ایک یہودی۔ عام سپاہیوں میں روسی اس لیے پہچان لیے گئے کہ ان کا رنگ سانولا اور بال چھلے دار تھے۔

    ان بدنصیبوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا او رپھر ہمیں بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہانکا جانے لگا۔ غدار کا گلا گھونٹنے کے بعد پوزنان تک لیفٹیننٹ میری دم سے لگا رہا۔ پوزنان پہنچ کر ہم دونوں بچھڑ گئے۔ پوزنان تک راستے بھر میں فرار ہونے کا موقع تلاش کرتا رہا۔ مگر کوئی موقع ہاتھ نہیں آیا۔ پوزنان میں قیدیوں کے کیمپ میں میری یہ مراد بر آئی۔ مئی کا مہینہ قریب الختم تھا۔ ہم لوگوں کو ایک چھوٹے سے جنگل میں اپنے ان مردہ ساتھیوں کی قبریں کھودنے بھیجا گیا جو پیچش کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

    ایک قبر کھودتے ہوئے میں اپنے گردوپیش کا جائزہ بھی لیتا جا رہا تھا۔ دو محافظ تو بیٹھے ہوئے کچھ کھا رہے تھے اور تیسرا اونگھ رہا تھا۔ کدال میں نے ایک طرف رکھ دی اور چپکے سے جھاڑیوں کے پیچھے دبک گیا اور پھر وہاں سے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ میں پوری قوت سے دوڑتا رہا۔ کچھ پتا نہیں میں نے کتنا فاصلہ طے کیا ہو گا۔ پھر دوڑنا ترک کرکے میں نے چلنا شروع کر دیا۔ تین دن تک میں بھوکا پیاسا مسلسل چلتا رہا۔ چوتھے دن میں اس منحوس کیمپ سے بہت دور نکل چکا تھا۔ میں مکئی کے ایک کھیت میں گھس گیا اور دودھیا بھٹے توڑ توڑ کر کھانے لگا اور جیبوں میں بھی ٹھونسنے لگا۔ لیکن اچانک میرے تیزی سے چلتے ہاتھ رک گئے۔ قریب ہی کہیں کتے بھونک رہے تھے او رموٹر سائیکلوں کی پھٹ پھٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔ میرا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ میں فوراً پیٹ کے بل لیٹ گیا اور چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا کہ کم از کم منہ تو کتوں کے بھنبھوڑنے سے بچ جائے۔ چند لمحوں بعد خونخوار کتے کھیت میں گھس آئے اور منٹوں میں انہوں نے میرے کپڑے چیر پھاڑ کر برابر کر دیے۔ میں مادرزاد برہنہ ہو گیا۔ مکئی کے کھیت میں انہوں نے مجھے خوب گھسیٹا۔ شیر جیسا ایک کتا میرے سینے پر چڑھ بیٹھا۔ اس سے پیشر کہ وہ کچھ کرے موٹرسائیکلوں پر سوار جرمن آ پہنچے۔ انہوں نے ڈانٹ ڈپٹ کر کتے کو مجھ سے علیحدہ کیا اور پھر لاتوں اور گھونسوں سے میری تواضع شروع کر دی۔ کم بختوں نے مار مار کر ادھ موا کرنے کے بعد مجھ پر پھر کتے چھوڑ دیے۔ انہوں نے اپنے نوکیلے اور تیز پنچوں سے بدن کا گوشت جگہ جگہ سے ادھیڑ ڈالا۔ زخموں سے چور برہنہ حالت میں کیمپ پہنچا دیا گیا۔ فرار ہونے کی پاداش میں ایک ماہ قید تنہائی کی سزا ملی بہرحال زندگی تھی جو بچ گیا۔

    دشمن کی قیدمیں، میں نے ایسے ایسے دکھ اور تکلیفیں اٹھائی ہیں کہ آج بھی یاد کرکے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیمپ میں ہم سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ ان اذیتوں کو ہمارے بہت سے ساتھی نہیں برداشت کر سکے اور چل بسے۔ ان کی بے گوروکفن لاشیں تین تین دن پڑی سڑتی رہتی تھیں۔ ان مردوں کے جسموں سے ایسی سڑاند اور تعفن اٹھتا تھا کہ دماغ چکرانے لگتا۔ دن میں کئی کئی بار ہم قے کر دیتے۔ ہم سب نے اپنے کپڑے پھاڑ کر چھوٹے چھوٹے رومال بنا لیے تھے جنھیں ہم چوبیس گھنٹےناک سے باندھے رکھتے۔ ذرا سا بھی کپڑا ہٹ جاتا تو سڑے ہوئے گوشت کی بدبو ہمارے نتھنوں میں گھس آتی اور طبیعت مالش کرنے لگتی تھی۔

    میں دو سال جنگی قیدی رہا مگر یوں لگتا تھا جیسے جہنم میں دو صدیاں گزار دی ہوں۔ آج یہاں تو کل وہاں، اس طرح میں نے آدھا جرمنی دیکھ ڈالا۔ سیمنٹ کے کارخانوں میں اینٹیں ڈھوئیں، زہریلی گیس والی کوئلے کی کانوں میں کام کیا۔ جرمن کتوں کے لیے مختلف شہروں میں پناہ گاہیں کھودیں، غرض آدھے جرمنی کی خاک چھان چکا ہوں۔ بڑے ظلم و ستم توڑے ہیں بھائی ان جرمن کتوں نے، مارنا ، پیٹنا،   گولیوں سے بھون دینا، زندہ جلا دینا۔ ذرا ذرا سی بات پر گھونسوں ، لاتوں، ہنٹروں، لکڑیوں اور رائفل کے دستوں سے مارنا شروع کر دیتے تھے۔ یوں لگتا جیسے مارتے مارتے ایک دن یونہی جان لے لیں گے۔ جسم میں لہو کی ایک بوند بھی باقی نہیں رہے گی۔ سارا خون نچوڑ لیں گے۔ لاشیں اتنی تھیں کہ جرمنوں کی بھٹیاں کم پڑ گئیں۔

    کھانا ہر جگہ ایک ہی سا ملتا تھا۔ لکڑی کا برادہ ملے ہوئے موٹے بدبودار چاول، چقندر کا پتلا شوربہ۔ تین تین مہینے تک نہانے کے لیے گرم پانی بھی نہیں ملتا تھا۔ جنگ سے پہلے میرا وزن چھیاسی کلو گرام تھا۔ دو سال بعد پچاس کلوگرام سے بھی کم رہ گیا، یوں سمجھو ایک استخوانی ڈھانچا تھا جس پر کھال منڈھ دی گئی ہو۔

    ستمبر کا مہینہ شروع ہوا ہی تھا کہ سوویت جنگی قیدیوں میں سے ہم ایک سو بیالیس آدمیوں کو کیوسترین نامی کیمپ سے نکال کر کیمپ نمبر چودہ بی میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ جگہ ڈریسڈن کے قریب واقع ہے۔ اس کیمپ میں ہمارے دو ہزار سپاہی قید تھے۔ ہم سب کو پتھر توڑنے پر لگا دیا گیا۔ ہر قیدی کو چار کیوبک میٹر پتھر ہاتھوں سے کوٹنا، توڑنا اور ڈھونا ہوتا تھا۔ اس سے کم پر سخت سزا دی جاتی تھی۔ جنہیں   محنت مشقت کے بغیر ہی جینا دوبھر ہو رہا تھا ان سوکھے سہمے ، مریل لوگوں پر یہ کیسی جان لیوا مشقت ڈال دی گئی تھی۔ اس کا   بالآخر یہی نتیجہ نکلا کہ مرنے والوں کی قطار لگ گئی۔ ہمارے ایک سو بیالیس کے گروپ میں صرف ستاون افراد زندہ بچے۔ تم اندازہ لگا سکتے ہو بھائی کہ ہم پر کیسی گزرتی ہو گی۔ اپنے مردہ بھائیوں کو گاڑنے سے فرصت نہ ملتی تھی۔ پھر کیمپ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ جرمنوں نے اسٹالن گراڈ اور دبالیا پر قبضہ کر لیا ہے اور اب آگے سائبیریا کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ سارے قیدی مایوسی کا شکار ہو گئے۔ ہمارے سپاہیوں کے ذہنوں میں یہ بات جم گئی کہ اب تو ساری عمر جرمنوں کی غلامی میں گزارنی ہو گی۔ کیمپ کے محافظ اور افسر خوب عیش کر رہے تھے۔ گانا ، بجانا، کھانا، پینا، رقص و سرود ان کا روز کا معمول بن گیا۔ روزانہ رات کو جشن فتح منعقد ہوتا۔ خوشی و شادمانی کے گیت گائے جاتے۔ خوب شراب پی جاتی، سور کا بھنا ہوا گوشت اڑایا جاتا۔

    ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ہم کام سے تھکے ماندے جب شام کو اپنی بیرک میں آئے تو دن بھر لگاتار بارش میں بھیگتے رہنے کی وجہ سے ہمارے جسموں سے لٹکتے اور جھولتے ہوئے چیتھڑے نما کپڑے پانی میں بالکل شرابور ہو گئے تھے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے ہم پر کپکپی طاری کردی تھی اور ہم سب کسی خارش زدہ کتے کی طرح ہانپ رہے تھے جیسے میلوں سے دوڑتے ہوئے آئے ہوں۔ کٹ کٹ، کٹ کٹ دانت بج رہے تھے۔ کپڑے کس طرح سکھائیں، برف کی طرح سرد جسم کو حرارت کیسے پہنچائیں یہ بڑا اہم مسئلہ تھا۔ پھر بھوک بھی بڑی شدت کی لگ رہی تھی۔ پیٹ کی آگ کے لیے ایندھن کی ضرورت تھی مگر ایندھن کی فراہمی کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ کیمپ کے قاعدے کے مطابق شام کو کھانے کے لیے کچھ نہیں دیا جاتا تھا ۔ جو روٹی مانگے تو اسے بہلاؤ، اسے سبز باغ دکھا کر اپنا الو سیدھا کرو۔ اور اگر غریب خودسری اختیار کرے اور بغاوت پر آمادہ ہو، تجوریاں توڑ دینا چاہتا ہو، توندیں پھاڑ دینا چاہتا ہو تو اسے گولی سے اڑا دو، جو کوئی روٹی کپڑا اور مکان مانگے اسے موت کی نیند سلا دو مگر ایسا بہت دنوں تک نہیں ہو سکے گا۔

    خیر تو بیرک میں آ کر میں نے اپنے گیلے چیتھڑے اتار دیے اور انہیں چبوترے پر پھینکتے ہوئے بڑی نخوت سے کہا: ’’لعنت ہے ان جرمن کتوں پر، کتنی سخت محنت و مشقت کرواتے ہیں ہم سے، چار کیوبک میٹر ہر آدمی سے مانگتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک کی قبر پر کنا پتھر لگے گا؟ میرا خیال ہے کہ ایک کیوبک میٹر بھی کافی سے زیادہ ہو گا۔‘‘

    کہنے کو تو میں نے یہ کہہ دیا تھا لیکن ہمارے ایک آستین کے سانپ نے یہ بات کیمپ کے افسر اعلیٰ تک پہنچا دی۔ ہمارے کیمپ کمانڈر کا نام میولر تھا۔ اوسط درجے کا قد، گٹھا ہوا جسم، گورا رنگ، سفید بال اور بھنویں بھی اس کے اڑے ہوئے رنگ جیسی تھیں۔ یہ بڑی بڑی تو اس کی آنکھیں تھیں اور یہ ذلیل انسان روسی بھی غلط سلط بول لیتا تھا۔ چھوٹتے ہی ماں، بہن کی گالیاں دینے لگتا تھا۔

    وہ ہمیں روزانہ بیرک کے سامنے قطار میں کھڑا کر دیتا اور سیدھا پشت کی طرف کرکے ہمارا معائنہ کرنے لگتا۔ اس کے سیدھے ہاتھ کے نیچے چمڑے کا دستانہ چڑھا رہتا تھا۔ اس نے دستانے کے اندر سیسے کا استر لگا رکھا تھا تاکہ مارنے پر اس کے ہاتھ میں کوئی چوٹ نہ آئے۔ قطار کے سامنے سے گزرتے ہوئے وہ ہر تیسرے قیدی کے منہ پر زوردار گھونسا جڑ دیتا تھا۔ گھما کر ایسا ہاتھ مارتا کہ قیدی خون تھوکنے لگتا تھا۔ اپنی اس حرکت کا نام اس منحوس نے نزلہ اتارنے کا انجکشن رکھا تھا اور نزلے کا یہ انجکشن بلاناغہ روزانہ باری باری ہر بیرک کے قیدیوں کو لگتا تھا۔

    جب اس کمینے انسان کا بلاوا آیا تو مجھے اپنے مرنے کا یقین ہو گیا۔ سب دوستوں سے ہمیشہ کے لیے رخصت لی۔ سبھی جانتے تھے کہ اب میرا بچ کر آنا ناممکن ہے۔ کیمپ کے احاطے میں، میں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ آسمان پر ستارے جھلملا رہے تھے۔ میں نے انہیں بھی الوداع کہا۔ ’’بہت دکھ جھیل لیے اندرئی!‘‘ میں نے اپنے آپ سے کہا۔ ’’اب موت قریب آچکی ہے۔ اب ان دکھوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹکارا مل جائے گا۔‘‘

    پھر جب ایرینیکا او ربچوں کی یاد آئی تو دل کڑھنے   لگا مگر میں نے اپنے جی کو کڑا کیا تاکہ پستول کا سامنا ہو تو بے جگری سے اس کی نال سے آنکھیں چار کر سکوں۔ سپاہی کو ہمیشہ ایسا ہی کرنا چاہیے۔ وہ سپاہی کیا جو پستول کی نال کا سامنا ہوتے ہی گھبرا جائے۔ میں نہیں چاہتا تھا دشمن کو یہ احساس ہو کہ میں موت سے خوفزدہ ہوں۔

    کمانڈر کا کمرہ بہت صاف ستھرا اور دیدہ زیب فرنیچر سے آراستہ و پیراستہ تھا۔ میز پر کیمپ کے پانچ افسر بیٹھےہوئے تھے۔ سب کے ہاتھوں میں شراب کے چھلکتے ہوئے جام تھے۔ میز پر قابوں میں بہت سا بھنا ہوا گوشت رکھا ہوا تھا۔ علاوہ ازیں اسی میز پر عمدہ قسم کی جن کی بوتلیں، روٹیاں، طرح طرح کے اچار چٹنیاں، مربے اور پھل بھی رکھے ہوئے تھے۔ سوندھی سوندھی بھوک کی اشتہا بڑھانے والی خوشبودار غذاؤں کے ڈبے بھی کھلے ہوئے تھے۔

    اتنا عمدہ کھانا دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا۔ بڑے زوروں کی بھوک محسوس ہونے لگی۔ آدمیوں کے کھانے کا ذائقہ میں بھول چکا تھا۔ میں نے بمشکل اپنی بھوک کو برداشت کیا لیکن اس کے باوجود میری نظریں میز پر سے ہٹتی ہی ن