ہراکسیس
ترجمہ: علی دیپک قزلباش
عشق کو مدرسہ لے گئے
تاکہ سزا دیں اسے، پیٹ لیں
مدرسے میں مگر،
عشق کا دوست تھا فقط
جیومیٹری،
کیمیا میں اسے بس رہا یاد
ہراکسیس، اور
طبیعیات کو تو وہ سمجھا نہیں
عشق کو لے گئے جامعہ، تاکہ کافر بنے
جب وہ ڈاکٹر بنا،
اس کی ماں مر چکی تھی...
تب بھی کب رو سکا
بلکہ ساکت ہوا،
اور نتیجہ
ان سبھی ، چھوٹی، بڑی باتوں کا
عشق کے قلب میں
ایک درد بس گیا بے دلیل
پھر
فکر برگشت میں، ہر گلی سے گیا،
پر نہ پہنچا وہ اپنے گہر ماضی تک
فلسفی جب بنا
تو بڑھا جس بھی گل کی طرف،
خشک وہ گل ہوا
عشق کو، تو طلب رب کی تھی،
جس سے بھی رہ گیا
اپنی صورت سے ہوتا رہا سامنا،
عشق کو لے گئے، آئینے کے برابر
کہ خود کو وہ پہچان لے، ڈھونڈ لے،
آئینے میں اسے،
ایک روتا ہوا بوڑھا بچہ نظر آگیا