جسیم الدین

جسیم الدین

حقیر تحفہ

    ترجمہ: یونس احمر

     

    اتنی طوفانی رات کو تم نے چراغ جلایا ہے

    تمہارا تو کوئی ساجن نہیں

    پھر بھی تم کن کن راہوں میں اپنا ساتھی تلاش کر رہی ہو

    جس کو تم نے چاہا اور پیار کیا ہے، تم کو کسی نے پیار نہیں کیا

    تم نے کتنے ظلم و ستم سے جو زندگی کا آشنا بنے

    آگ اور خون سے بچ کر جس نے موت کی تمنا کی

    شاید اسی کا لہو تمہارے دل میں بہہ رہا ہے

    اسی لیے میں نے یہ حقیر تحفہ

    تمہارے لیے رکھ چھوڑا ہے