پرسن کمار مکھوپادھیائے

پرسن کمار مکھوپادھیائے

کلکتہ احسان فراموش ہے

    ترجمہ: شمیم حنفی

     

    ناشکرے کلکتہ تم اپنی ترقی اور اپنے نظم و نسق سے چمٹے ہوئے ہو

    ... تم آرام سے بیٹھے ہوئے ہو، اپنی للت کلاؤں، رابند رسدن،

    کلامندر کے بیچ، اور تمہارے نیچے ، باغی جوانوں کی لاشیں، لہو

    اور ہڈیاں دبی ہوئی ہیں، فٹ پاتھوں پر، حوالاتوں میں تمہارے مہذب شہری

    بھکاری کے چولہے پر، ہر روز پانی انڈیل دیتے ہیں ... اور ہوائی حملوں کا ایک کوپ جاری رہتا ہے

    بلیک آؤٹ کی مشقوں کے ساتھ ، انہیں اس سب کا مزہ لینے دو...

    ’’امن دستے کے لوگوں نے کس طرح کسان لڑکیوں کی عصمت دری کی

    جبکہ وہ انہی کے لیے چاول چھپا کر لائی تھیں‘‘

    انہیں اس سب کا مزہ لینے دو ... ’’نوکری سے نکالا ہوا مزدور کس طرح بھاگ کھڑا ہوا

    پولیس کی گاڑی دیکھتے ہی فٹ پاتھ پر اپنی لوٹ کا مال چھوڑ کر ...‘‘

    انہیں مزہ لینے دو ... آج اس سب کا مزہ لینے دو

     

    اس لیے کہ لہو سے سینچی دھان کی کھیتی کسان کی کٹیا تک پہنچ نہ سکے

    اس لیے کہ استحصال جاری رہے اور درندے پنپتے رہیں

    ہر گاؤں کو ابھی کچھ اور چاہیے ... (اب ہم چپ ہو جائیں)

    اور اسی کارن یہ ضروری ہے کہ شہروں کا نظم و نسق قائم رہے

    پس کلکتہ ،... تم اپنی ترقی، اپنے نظم و نسق سے چمٹے رہو

    اپنے یو اونی سیمینار، بنک ڈہلیا اور روزمرہ کے دوسرے پردرشنوں سے

    (بنگالی)