چندر کانت پاٹل

چندر کانت پاٹل

چھیاسٹھ کے اواخر کی بمبئی

    ترجمہ: صادق

     

    تین آدمی ماہم کی سڑک پر سے

    جھومتے جھومتے چلے گئے ان میں سے ایک ہمیں اسی کے

    سپنے میں مرے آدمی جیسا لگا یعنی کہ

    اس کا سپنا ہم نے دیکھا جو اسی کا تھا، یا

    یوں کہیے کہ اس ، اتنے سپنے تک ہم وہ ہو گئے تھے

     

    ان میں سے دوسرا آدمی جھنجھوڑ رہا تھا لفظوں کو

    سڑک پر تمام وقت، کتنے ہی لاکھوں دنوں سے

    جھنجھوڑتا ہے وہ ایسے ہی تو ہم ہی کیوں پھینکیں

    اس کی طرف سوالوں کی گل پھانسی اس لیے

    دھیان دیے بغیر اپنے آگے نکل گئے کیوں کہ

    اس سے بھی زیادہ اس کے نمائشی لفظ اور

    دنیا کے بھی ڈھیر سارے لفظ اپنے لیے میوزم میں

    بھس بھرے ہوئے خوفزدہ پنچھی جیسے لگتے ہیں

     

    تین آدمی سڑک پر سے جھومتے چلے گئے

    ان میں سے ایک ہم ہی تھے ایسا مجھے

    دوسرے دنوں نے بتایا یعنی کہ پھر

    اپن بھی کیوں نہیں، کہیں اور ہو بھی کیوں نہیں سکتے

    (مراٹھی)