شو کمار بٹالوی

شو کمار بٹالوی

پھانسی

    ترجمہ: سمن کاظمی

     

    میرے گاؤں کے کسی شجر کو

    میں نے سنا کہ جیل ہو گئی ہے

    اس کے گناہ کئی تھے

    اس کے پتے سبز ہونے کی بجائے

    ہمیشہ سرخ اگتے تھے

    بغیر ہوا کے اڑتے تھے

    وہ گاؤں سے باہر نہیں بلکہ

    گاؤں کے کنویں میں اگا ہوا تھا

    اور وہ جب بھی جھومتا تو سدا چھاؤں بکھیرتا تھا

    اور دھوپ کو ڈراتا تھا

    اور سفر کرتے مسافروں کو

    دھوپ سے بچاتا تھا

    اور پانی بھرنے والی لڑکیوں کو

    بیٹی کہہ کر بلاتا تھا

    اور یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ

    اس کے پیر بھی بہت سے تھے اور

    وہ راتوں کو چلتا تھا

    اور گاؤں کے سارے پیڑوں سے مل کر روزانہ

    واپس آجاتا تھا

    اور ہوا کی بات کرکے

    گھلتا جاتا تھا

    یارو یہ عجیب بات ہےکہ

    میں نے ساری عمر تمام پیڑوں کی

    شاخیں تو دیکھی ہیں پر کیا

    میرے دوستو! پیڑوں کے بھی کہیں پیر ہوتے ہیں

    اور آج اخبار میں پڑھا

    کہ وہ ہتھیار بند تھا

    اور اس کے پاس بندوقیں، بم اور لاکھوں سنگینیں تھیں

    میں نے پیڑوں کے پاس رہتے ہوئے

    ان کی چھاؤں کے بارے میں تو سنا تھا پر

    بموں کی بات عجیب ہے

    اور یہ جھوٹی خبر پڑھ کر

    مجھے اعتبار نہیں آیا

    کہ اس نے گاؤں کے ایک اور پیڑ کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے

    جوشاہوں کے دالان میں اگا تھا

    جس کی شاخوں سے کوئی کوا چغلی کے لیے اڑا تھا

    اور آج کسی دوست نے بتایا ہے

    جو میرے گاؤں سے آیا   ہے

    کہ میرے گاؤں کے اس درخت کو

    پھانسی ہو رہی ہے اور

    کیکروں جیسا اس کا باپ

    اور بیری جیسی اس کی ماں

    رو رہی ہے

    (پنجابی)