نظم
ترجمہ: احمد سلیم
میں جولیا ......
تین اوپر بیس، پورے تینتیس برس کی
ایک بار میں نے عشق کو چکھ کر دیکھا
کڑوا اور کسیلا
جیسے کالا اور گاڑھا کافی کا پیالہ
لہو کو ابال دے
بدن کی حرکت پکے اور جھنجھلائے
آگ سی جلا دے
یہ سب کچھ اب گزر چکا ہے
میں جولیا ...... اوپر والے چوبارے میں سے لٹک کر
پکارتی رہی کہ پلٹ آؤ!
میں چیخ اٹھی کہ مت جاؤ، لوٹ آؤ!
میں نے ہونٹ کاٹے تو میرے منہ میں لہو تھا
میں وہیں کھڑی رہی
لہو کا دھبا جیسی ......
تم لوٹ کر نہیں آئے
میں جولیا ...... اب ایک ہزار برس کی
اب تک زندہ ہوں......
( 2)
ہیلنا ...... وہ کہتے ہیں کہ فانی ہے، ضرور مرے گی
جیسے اس سے پہلے سبھی مرے ہیں
اور اس پل ہیلنا ......
آپ اپنی موت کا سامان کر رہی ہے
وہ یقین نہیں کرتی لیکن اسے شبہ ہوتا ہے
کہ اس کا بایاں ہاتھ
جب دائیں ہاتھ میں غوطہ لگاتا ہے
تو وہ ایک تارے کو دبوچ لیتی ہے
زندہ آسمان کا ایک ٹھیکرا
اور جب سیاہ رات ہوتی ہے
تو اس کے بدن سے روشنی کا لہو بہتا ہے
وہ بجھ جاتی ہے
تو ٹھنڈی بے شکن رات کو جب ہوا چلتی ہے
اس ہوا میں
وہ ٹوٹے ہوئے تارے کی طرح گھومتی ہے ......