منصور حلاج
ترجمہ: مسعوداختر شیخ
تمام رنگ آفتاب سے ہی نکل رہے ہیں
تمام رنگ آفتاب میں ہی سما گئے ہیں
چھپا جو سورج تو رنگ سارے فنا ہوئے ہیں
مجھے نہ رنگوں کی ہے ضرورت، مجھے نہ بے رنگیاں ہیں لازم
یہ سارے سورج نکل کے آئے، کہاں سے نکلے
یہ سارے سورج جو جا چکے ہیں، کہاں گئے ہیں
یہ مرگئے ہیں بغیر اس کے
مجھے ضرورت نہ روشنی کی، مجھے نہ تاریکیاں ہیں لازم
وہ صورتیں جو نکل کے آئیں، کہاں سے نکلیں
وہ صورتیں جو کہ جا چکی ہیں، کہاں گئی ہیں
وہ صورتیں ساری چھپ گئی ہیں
بڑے طبل سے صدا جو نکلی
تو ہو گئیں سب صدائیں مدغم
بڑا صدا میں، سمجھ تو منصور ......منصور