اے این سی کمالو

اے این سی کمالو

آؤ نظمیں لکھیں

    ترجمہ: احمدفراز

     

    آؤنظمیں لکھیں

    خون کی مانند سرخ ترو تازہ

    گھنٹیوں کی طرح کھنکتی ہوئیں

    نظمیں

    جو لوگوں کو جگائیں

    جن کا موضوع

    زندگی ہو موت نہیں

    امید ہو مایوسی نہیں

    صبح ہو شام نہیں

    تازگی ہو پژمردگی نہیں

    جدوجہد ہو ہزیمت نہیں

    شاعر!

    لوگوں کو یقین دلاؤ

    کہ خواب بھی حقیقت بن سکتے ہیں

    آزادی کی بات کرو

    اور دھنوان کو

    اس کے معطر خلوت خانے کی دیواروں پر

    فن پارے سجانے دو

    آزادی کی بات کرو

    اور لوگوں کی آنکھوں کو چھو کر

    انہیں احساس دلاؤ

    کہ ان میں بے شمار ہونے کی قوت موجود ہے

    وہ قوت

    جو قید خانوں کی سلاخوں کو

    گھاس کی ہالیوں کی طرح مروڑ دیتی ہے

    جو سنگ خارا کی دیواروں کو

    کانچ کی طرح ریزہ ریزہ کر دیتی ہے

    شاعر

    ان لوگوں کو ڈھونڈو

    جو قفلوں کے دہانےکھول دیتے ہیں

    اس سے پہلے

    کہ آنے والے دس برسوں کو

    گزرے ہوئے دس برس کھا جائیں