لویان

لویان

ایک بیتھوؤنی کسان کے گھر کا وزٹ

    ترجمہ: ارشد چہال

     

    لکڑی کے شکستہ فرش پر چلتے ہوئے

    ایک ڈھلوان بالا خانے کے اندر سے

    ایک بچے کے بلک بلک کر رونے کی آواز سنائی دی

    وہ روٹھا ہوا تھا

    اور زندگی سے مزاحمت کر رہا تھا

    شاید اس لیے کہ روشنی بہت کم تھی

    جگہ بہت تنگ تھی

    اور ماحول میں شور و غوغا تھا

    بہت سارے گرم آنسوؤں کے ساتھ

    وہ کمرے میں لوٹ رہا تھا

    اس کی آواز کسی پرانے پیانو کی طرح بیٹھی ہوئی تھی

    جو لمحہ بہ لمحہ اپنے تاثرات بدل رہی تھی

    اور کھڑکی کے راستے کسی تیر کی طرح باہر نکل کر فضا میں بلند ہو رہی تھی

    جب یہ باغ کے اوپر سے گزری تو پھولوں نے اپنے سر جھکا لیے

    جب یہ گلیوں کے اوپر سے گزری تو گاڑیوں کی آمد و رفت رک گئی

    جب یہ گھروں کے اوپر سے گزری تو لوگ پریشان دکھائی دینے لگے

    پھر یہ پوری دنیا کے اوپر سے گزری

    اور دردمندوں کے دلوں میں حقیقت کا گداز بھر گئی

    لیکن بالآخر دیکھا گیا

    کہ وہ بچہ اب بھی روٹھا ہوا مزاحمت کناں تھا

    کیونکہ روشنی بہت مدھم تھی

    اور ماحول میں شوروغوغا تھا