مگر ہم نہیں
ترجمہ: کشور ناہید
ہم میں سے کچھ لوگ اپنی غلطیوں، مکر اور خوف پر غالب آگئے ہیں
مگر ابھی بھی افق پر لٹکے ہوئے نخلستان تک پہنچنے کے لیے
کافی طویل مسافت طے کرنی باقی ہے
سوکھی ہوئی نسلیں بالکل ہی سوکھ جایا کرتی ہیں
نوجوان نسل ستاروں کو دیکھ کر ہنسا کرتی ہے
ان بدلتے ہوئے راستوں پر
وہ کون پہلا شخص ہو گا
جو کامیابی کے خوابوں پر اعتبار کرنا چھوڑ دے گا
ہم میں سے کون ہمارے جسم کے مردہ ہونے سے پہلے ہی مر جائے گا
ہم میں سے کون اپنا دل ریت میں گرا دے گا
کیونکہ اتنا بھاری بوجھ لے کر وہ چل نہیں سکتا ہے
بری خبر اور بے عزتی کی طرح
یہ سوال بار بار ذہن سے ٹکراتا ہے
سنو۔ سنو۔ سنو
مگر ہم نہیں، کبھی بھی ہم نہیں ......