بیرا گوڈی اوپ

بیرا گوڈی اوپ

خود پرستی

    ترجمہ: شہزاد احمد

     

    اگر ہم نرمی اور آہستگی سے بتائیں

    جو کچھ ہمیں ایک دن بتانا ہی ہو گا

    کون بغیر خندہ زنی کیے ہماری آواز سنے گا

    بھک منگوں کی اداس اور شکایت آلود آواز

    کون ایسا ہے جو سنے گا اور ہنسے گا نہیں؟

     

    ہم ابتدائے آفرینش سے روز افزوں اذیت پر

    اگر آہ و بکا شروع کر دیں

    تو کون سی آنکھ

    سن بلوغت کو پہنچتے ہوئے بچوں جیسے

    ہمارے بگڑے ہوئے منہ دیکھے گی؟

    کون سی آنکھیں ہمارے بڑے بڑے چہرے دیکھنا پسند کریں گی

    کون سے دل ہمارے دکھ کی آواز سنیں گے

    کون سے کان ہمارے اس گونگے ہیجان پر دھیان دیں گے

    جو ہمارے اندر ناسور کی طرح پھلتا پھولتا ہے

    ہمارے جلتے ہوئے حلق کی اتھاہ اور کالی گہرائیوں میں

     

    جب ہمارے رفتگاں ہمارے رفتگاں کے ساتھ لوٹتے ہیں

    جب وہ اپنی کھردری آواز میں ہم سے کلام کرتے ہیں

    یوں لگتا ہے کہ ہمارے کان

    ان کی پکار اور آواز کے لیے بہرے ہو گئے ہیں

    جب ہمارے کان بہرے ہو چکے

    تو وہ دھرتی پر اپنا دکھ چھوڑ کر چلے گئے

    ہواؤں میں پانیوں میں

    جہاں جہاں انہیں ہمارے نشانات ملے

     

    ہم جو کہ بہرے ہیں اور ان کی اولاد کہلانے کے مستحق نہیں

    جو نشان انہوں نے ہواؤں اور پانیوں پر بنا دیے تھے

    ہمیں ان میں سے کوئی بھی نظر نہیں آتا

    چونکہ ہم رفتگاں کی زبان نہیں سمجھے

    چونکہ ہم نے کبھی ان کی کربناک چیخیں نہیں سنیں

    اگر ہم نرمی اور آہستگی سے روئیں

    اور اگر ہم اپنی اذیت پر آہ و بکا کریں

    تو کون سا دل ہمارے دکھ کی آواز سنے گا

    کون سے کان ہمارے سسکیاں بھرتے ہوئے دلوں پر دھیان دیں گے