راشا حسین

راشا حسین

جافہ

    (ایک قدیم شہر)

              ترجمہ: احمد سلیم

     

    چرس کے حقے جافہ میں اوندھے پڑے

    اور بانجھ رستے اکتاہٹ اور مکھیوں سے بھرے

    اب جافہ کا سپنہ دھڑک نہ سکے

    اسے ایک پتھر نے ڈھک لیا ہے

    اور آسمان کی گلیاں ......

    آج چاند کا ماتم کر رہی ہیں ......

    یہ کیسی نیند اور کیسی بیداری ہے

    آج جافہ، چاند کے بغیر ......

    اور جافہ پتھر پر لہو کا ایک داغ ہے ......

    وہی جافہ ......

    کہ جس کے سینوں میں گلابی دودھ بھرا تھا

    اور جس کی لہریں بادلوں کو دودھ پلاتی تھیں

    اور جس نے لشکروں کے لشکر پسپا کیے تھے

    اور جس نے اس ریت پر دن کاٹے تھے

    آج آنکھیں بہت روئی ہیں ......

    اس کی ریڑھ کی ہڈی جب بھی ٹوٹی

    .....بانہیں بھی ساتھ ہی مر گئی ہیں

    یہ جافہ کہ جس کے باغ میں

    مردوں کے پھول مہکے تھے

    اب وہی جافہ، چرس کے حقوق کا غار ہے

    اور جس کی نیند بھی پھیلتی جاتی ہے ......

    میں جافہ گئی تھی

    اور ٹوٹے گھٹنوں پر سے ملبہ ہٹاتی رہی

    اور سفید ستارے مٹی میں دباتی رہی

    اور اس کی ہڈیوں میں سے گولیاں نکالتی رہی

    اور غصےمیں بھر کے

    میں نے ایک مردہ زلف اٹھا لی

    اور دیا سلائی جلا کر، سگریٹ کی طرح سلگا لی

    جب تھکن کی گھڑی آتی ہے

    میں اسی کو پیتی ہوں، آلکس میں جیتی ہوں

    ...... کچھ سانس لیتی ہوں ......