سمیع القاسم

سمیع القاسم

ہاں چلے حلقۂ زنجیر کی بات

    ترجمہ: امجد اسلام امجد

     

    نہیں سلاخوں کے بس میں مجھ کو ہلاک کرنا

    فصیل زنداں نہ روک پائے گی راہ میری

    فضول ہے یہ شب سیہ کی تباہ کاری

    کہ میرے خوں میں چمکتے دن کی نفیریاں ہیں

    نظر میں اپنے ہی رنگ چھائے ہیں

    اور ہونٹوں پہ جو صدا ہے وہ حرف جاں ہے

     

    گئے ہوؤں کی عزیز روحو!

    کبھی تو برزخ کی سرحدوں سے نکل کے آؤ

    کبھی تو میرے زفاف کی شب میں مجھ کو دیکھو

    کبھی تو دیکھو کہ کیسے میں نے فنا سفر میں

    جبین اپنی بلند رکھی

    کبھی تو دیکھو کہ کیسے میں نے

    سپیدۂ غم میں جانے والوں کی مغفرت کی دعائیں مانگیں

     

    مغنیوں کی صدائیں راتوں میں گونجتی ہیں

    لرز رہے ہیں تمام سازوں کے تار جیسے

    کبھی نہ سوئیں گے اہل نغمہ

    مرے وطن، اے متاع ہستی ...... کبھی تو سن لے

    کہ ذرہ ذرہ تری سماعت کا منتظر ہے

    قبول کر لے ہمارا نغمہ

    جو پھول بن کر نواح زنداں کی شور مٹی میں کھل اٹھا ہے

     

    بہت بڑی ہیں قفس نشینوں کی داستانیں

    اور ایک بے باک قہقہہ ہے یہ گیت ان پر

    جو اس کی بندش کے مدعی ہیں

    بہت بڑی ہیں قفس نشینوں کی داستانیں

    میں ان کے آخر کے ظلم صفحوں کو ایک اک کرکے پھاڑتا ہوں

     

    کبھی کبھی جب مری بصیرت شکست کھاتی ہے،

    اور سوچیں ، جہت بھلا کر بھٹکنے لگتی ہیں،

    میری آنکھوں میں کوند جاتا ہے اپنے والد کا وہ تبسم

    جو موت لمحے میں اس کے چہرے پہ ضو فگن تھا

    دکھائی دیتے ہیں قاتلوں کے سیاہ چہرے

    جو خوف و دہشت کے سرد جالے میں کانپتے ہیں

     

    مجھے قفس کے محافظوں سے خطر ہی کیا ہے

    کہ ان کے بس میں نہ گیت میرے، نہ پھول میرے،

    نہ میری چاہت

    مجھے قفس کے محافظوں سے خطر ہی کیا ہے!

    کہ دسترس میں نہیں ہیں ان کی

    وہ کنجیاں، جن سے میری جیبیں بھری ہوئی ہیں

    مجھے کسی عارضے کا ڈر ہے، نہ ان فصیلوں میں بربریت کے شاہکاروں کا خوف کوئی

    کہ جب بھی چاہوں

    نئی مسرت سے پر زمینوں کی سرخ مٹی میں منہ چھپانا

    ہے میرے بس میں

     

    نہیں ہے کچھ بھی سلاخ زنداں کی دسترس میں

    کہ میری ساری حیات لمحہ ہے ...... ایک لمحہ

    زمان چاہت کے لاکھ قرنوں میں ایک لمحہ

    یہ قید میری، مرے لیے ہے فقط تماشا

    قضا ہے جس طرح کھیل کوئی