سمیع القاسم

سمیع القاسم

فلسطین! تو میری ماں ہے

    ترجمہ: شوکت ہاشمی

     

    فلسطین! تو تو کرائے کا جگنو نہیں ہے

    مری آنکھ کی روشنی ہے

    تو کیا میں تجھے قتل کرنے کی سازش کو

    ناکام کرنے میں ناکام رہ جاؤں گا؟

    غیر ممکن۔ نہیں

    غیر ممکن۔ نہیں

    فلسطین! تو تو مرے بازوؤں میں (تقدس) بھرا خون ہے

    جو میرے دشمنوں کے لیے موت ہے اور

    مری زندگی ہے

    تو کیا میں تجھے غاصبوں کے شکنجے سے آزاد رکھنے کی

    اس جنگ میں (شعر   لکھنے کے ناتے سے)

    اک فرد گمنام۔ رہ جاؤں گا؟

    غیر ممکن۔ نہیں

    غیر ممکن۔ نہیں

    ماں! فلسطین!

    میں نے ترے دشمنوں کے لیے

    تیرے بیٹوں کے احساس میں، بیٹیوں کی تمناؤں میں

    سرخ سوچوں کے بارود کے

    سرخ تر مورچے رکھ دیے ہیں

    مری نظم کی ساری سطریں......

    ترے لشکر ی ہیں

    فلسطین! تو میری ماں ہے

    کوئی لومڑی تو نہیں