فدویٰ طوقان

فدویٰ طوقان

درد زہ

    ترجمہ: منیر الدین احمد

     

    ہوا بار بردار کرنے والے مادہ کو اڑا لے جاتی ہے

    اور ہماری سرزمین کانپتی ہے راتوں میں

    درد زدہ کا رعشہ

    اور جلا د اپنے دل میں باور کر لیتا ہے

    عجز کی کہانی، ٹوٹنے پھوٹنے کی داستان

    اور خاتمہ

     

    اے ہمارے کل کے نوجوان! جلاد کو بتا دو

    کہ پیدائش کا رعشہ کیسا ہے

    اسے بتا دو کہ پھول کیسے پیدا ہوتے ہیں

    زمین کے جوکھوں سے اور کل کیسے پھوٹتی ہے

    زخموں کے ، لہو کے گلابوں سے