چہرۂ محبوب کی تحریر
ترجمہ: امجد اسلام امجد
مبہوت بچے کی طرح سے ٹکٹکی باندھے ہوئے
دیکھتا ہوں جب بھی میں چہرہ ترا
دیکھتا ہوں ایک شہر بے بشر
ایک عہد قرمزی و رہ گزار موت و شان کبریا
اور وہ بولی کہ جو رائج نہیں
اور وہ عالی مراتب لوگ جو عرش معلیٰ سے اتر کر
خاک کی اس بے کرانی میں مسافر ہو گئے
اور پھر تو پھیلتی ہے مو بہ مو
میری نظر کے روبرو
صف بہ صف پھیلی ہوئی بے نیام دنیا کی طرح
٭
یہ زمیں اک جسم ہے اور آنکھ ہے میرا وطن
بچپنے سے میری پیشانی پہ اک خنجر کا زخم تیز ہے
اور آج بھی میں
تیری یادوں کے جلو میں جاگتا ہوں
یوں گماں ہوتا ہے جیسے آنے والی ساری خوشیوں کا مکاں
موت کے پرلی طرف ہے
اور اس جانب ہے تو
اے شہ حسن و جمال
آشیاں گم کردہ اور نادم پرندے کی طرح
ٹکٹکی باندھے ہوئے مبہوت بچے کی طرح
دیکھتا ہوں جب بھی میں چہرہ تیرا
یاد آتا ہے مجھے وہ عرصہ کرب و بلا
اور حبشہ
اور اذیت سے پھڑکتا بچپنا
پھر میں نبیوں کے نقوش پا کے نقشے
اور اک ایسی مسافت کی کہانی
پڑھتا ہوں جس میں ہزیمت ، شاد کامی اور ذلت
ایک دوجے کے جلو میں درج ہیں
یوں گماں ہوتا ہے جیسے یہ زمیں
محو طرب ہے آسمان کی ریت پر
جی میں آتا ہے کہ جڑ سے نوچ کر
پھینک دوں میں شام کے اس جھٹپٹے کو ناگہاں
اس سمندر اور ان اونچے محلوں سے پرے
جن میں ہیں بے فیض اور محکوم موسم حکمراں