ڈینیوب نیلا نہیں ہے
ترجمہ: امجد اسلام امجد
نہ تھی وہ اس سے آشنا
’’زماں‘‘ اس آدمی کے جسم میں رکا تھا مثل بحر بے کراں
وہ پکاری ’’اے زماں!
جسم ہے میرا مکاں‘‘
٭
تو گرمیوں کے ایک دن
وہ دونوں اہل عشق اپنے بخت سے تھے ملتجی
ان دنوں کے جن کے چہرے کھو گئے تھے
جن میں گزرا کل بھی تھا، گریز کرتا آج بھی
٭
نہ تھی وہ اس سے آشنا
تمام لوگ کہہ رہے تھے صبح دم وہ آئے گا
مثال بحر بے کراں...... رواں دواں
نہ تھی وہ اس سے آشنا
کہ اس کا اپنا آپ بھی تھا آنے والے کا نشاں!
کہ وہ کناروں کی طرح تھے ہم سفر
کبھی رکے، کبھی رواں
اگرچہ ساتھ ساتھ تھے مگر تھے دونوں بے خبر
٭
وہ گرمیوں کا دن اک ایسا کھیت تھا
کہ جس کی خاک میں نہاں تھی مہر و انس کی نمی
طویل خشک سالی بھی
وہ ایک دوسرے کی دسترس سے دور تھے مگر
قریب تھے کہ موت کے سفر میں ہم رکاب تھے
نہ تھی وہ اس سے آشنا
مگر وہ جذب کر رہی تھی اس کو اپنے آپ میں
کہ وہ ’’زماں‘‘ کی ریت تھا تو یہ مثال آب تھی
جسم تھا اس کا ’’مکاں‘‘
٭
وہ بے گھری کی تیرگی میں دو برس کے بعد ہی
وطن کے آسماں سے دور، مر گئے
بس ایک بم کی گونج سے
زماں جو مرد کے بدن میں بحر بے کراں کی مثل تھا رواں
ٹھہر گیا
وہ پکاری ’’اے زماں!
جسم ہے میرا مکاں‘‘