جنگ کا گیت
ترجمہ: افضل احسن رندھاوا
میں سفید چادر کے اندر سو جاؤں گا
جنگ مردوں پر آئی کھڑی ہے
اور میں، چادر کے اندر سو جاؤں گا
لڑکوں کو آگے جانے دو
کپلی اور اس کے بندروں کو آگے جانے دو
ٹھاہ ٹھاہ چلنے دو بندوقیں گورے کی
ہم آگے بڑھتے ہیں
ہم جنہوں نے چٹی چادروں میں سونا ہے
دھرتی کانپے گی جب ہم اٹھ کھڑے ہوئے
جنگ ہماری جھگیوں کے بالکل اندر ہے
بزدل بھاگیں گے پیچھے کو
اپنی عورتوں کی صحبت میں رہنے کو
جب ہم جنگ میں ہوں گے
ہماری بیویوں کے جو بھی نزدیک گیا
ہمارے واپس آنے پر اس کا سر جائے گا
کبھی سنا ہے کسی نے
کہ ماں کی موجودگی میں
سانپ نے بچے کو ڈسا ہو؟
جنگ ہمارے اوپر اب تو چڑھی کھڑی ہے
ہمارے گھروں کے اندر
بڑی لڑیں گے مردوں کے بچے یہ جنگ
ٹھاہ ٹھاہ چلنے دو بندوقیں گورے کی
ان کا دھواں ہم کو ڈھانپے سو سو بار
ہم تو مرنے کے لیے لڑتے ہیں ان سے
ہم میدان جنگ میں اپنا سر دیں گے
اور کہیں پر مرنا ہم کو نہیں پسند
ساتھ مریں گی ہمارے، ہماری بندوقیں
ساتھ ہمارے تباہ ہو ویں گے چاقو تیز ہمارے
ہم تو رن میں مریں گے