شمشیر اور توپ کی دولت
ترجمہ: سید وقار احمد رضوی
اے دولت شمشیر ہائے آبدار! اور اے لمبے باریک سنانوں (نیزوں) کی صولت!
تم نے قرون ماضی میں ممالک کو کس قدر مضبوط و مستحکم کیا۔ ایسے ممالک جن کا ملنا دشوار تھا
وہ ممالک سفید شمشیر براں کی دھار اور لچک دار گندم گوں بھالوں سے درست یعنی مضبوط ہوئے
وہ دولت شمشیر و سناں (اب) شوکت پاستاں بن کے رہ گئی ہے اور اس کی جگہ دولت بزرگ (مدفع) نے لے لی ہے
یعنی پر عظمت توپ کی حکومت جس کی طاقت آگ اور دھماکوں سے عبارت ہے
وہ دولت مدفع، بہادروں کے دلوں کو خوف زدہ کرتی ہے اور پہاڑوں کو ہلا دیتی ہے
وہ توپ شیروں کو ان کے بیشوں میں ڈراتی ہے اور وہ عمروں اور امیدوں کی قاطع ہے
وہ جنگ میں میلوں کے (فاصلے) سے جانیں لے لیتی ہے کوہ آتش فشاں کی طرح
پس وہ پے بہ پے خوف در خوف (مصائب) لاتی ہے اور پے بہ پے آگ برساتی ہے
پس وہ کھوپڑیوں کو پھاڑتی ہے اور (کچھ) پرواہ نہیں کرتی
وہ توپ، مارنے والے ستارے (شہاب ثاقب ) کی طرح ہے جو اوپر سے گرتا ہے اور اس طرح ٹوٹ پڑتا ہے جس طرح فکر دل و دماغ میں سرایت کر جاتی ہے
وہ (شہاب) اس سرکش حیلہ گر شیطان (معاند) پر گرتا ہے جو تاریکی میں باتوں کو چراتا ہے
نوٹ: یہ اشارہ ہے قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ کی طرف جس میں ارشاد ہوا ہے کہ جب شیاطین عالم بالا کی طرف اسرار الہٰی سننے کے لیے جاتے ہیں تو ان کی سرکوبی کے لیے شہاب ثاقب پھینکا جاتا ہے تاکہ وہ آسمانوں سے پلٹ کر آجائیں
وہ شیطان عالم بالا سے باتوں کو چرانے والا ہے
وہ مارنے والا ستاہ (شہاب ثاقب) ہبوط و ضرر رسانی میں اس مدفع (توپ) سے زیادہ نہیں بوقت قتال
جب توپ کے قہرناک دہن سے وبال کا گولہ نکلتا ہے
تو وہ میدان جنگ میں برق و رعد و مرگ اموات سے ڈرتا ہے
وہ توپ اس سیف قتالہ کی مثل نہیں جو سروں اور جوڑوں میں شگاف ڈالتی ہے
وہ شمشیر قول میں خاموش اور کام کرنے میں بولنے والی ہے۔میں اس کو، مثال میں مثل قوم پاتا ہوں
کہ وہ قوم، قول سے کام کی طرف رخ کرنے والی ہے۔ پس مالک ہو گئی وہ بڑے بڑے مراتب کی