وقت
ترجمہ: حبیب فخری
ہزار کڑواہٹیں وقت میں گھلی ہیں
فضاؤں میں بوئے خوں بسی ہے
خموش سینوں میں دفن ہیں آہیں اور کراہیں
کرو اگر گفتگو تو اتنا خیال رکھنا
کہ قید خانے میں جتنے دیوار و در ہیں ان سے
کئی نگاہیں تمہاری نگرانی کر رہی ہیں
سخنورو! لفظ اور معنی کے بادشاہو
تم اپنے زور قلم سے چاہو تو پردہ کرب چاک کر دو
مگر تمہیں وقت نے سکھا دی ہے مصلحت بھی
وہ مصلحت جس سے تم نے سیکھی منافقت ہے
صحافیو تم بھی تو قلم کے بڑے دھنی ہو
جو چاہو ہر جھوٹ ہر حماقت کو طشت از بام کرکے رکھ دو
مگر یہ کیا ہے
یہ کیوں تمہیں چپ سی لگ گئی ہے
زمانے سے جیسے تم سمجھوتہ کر لیا ہے
تمہارے نزدیک سب ہے اچھا
یہ ساری دنیا کو کیا ہوا ہے
ہر اک شے آہنی شکنجے میں پھنس کے خود بھی ہے اک شکنجہ
ہر ایک شے بو رہےکہ ہے جھوٹ کا پلندہ