ناہید قمر

ناہید قمر

موہوم کی ان سلی نیند میں

    چھان کر دیکھ لی ریگِ دشتِ زیاں ڈھونڈ پائے نہ ہم دوسرا آسماں اجنبی موسموں کی اڑانوں میں ٹوٹے پروں کی طرح ہم جیے بھی تو کیا کس نے دیکھا ہمیں چشمِ نم کے کناروں پہ ٹھہرے ہوئے منظروں کی طرح رات کی آنکھ سے بہ گئے خواب بھی، ہم بھی موہوم کی ان سلی نیند میں یاد کے طاق میں اب تمنا کی لو کا نشاں تک نہیں واہمہ سا ہے بس کوئی آہٹ تھی ہمراہ یا کچھ نہ تھا خوابِ ہستی ہمیں اک اذیت بھرے دامِ معدومیت کے سوا کچھ نہ تھا