آبی رنگوں سے بنے منظر
اک فراموش دنیا کا خاکہ سا ہے یاد کی سبز جھیلوں سے آگے کہیں بے ٹھکانہ دنوں اُجلی پیشانیوں جھلملاتی شبوں دل کی حیرانیوں سے کوئی عکس لیکن ابھرتا نہیں نیند کے اِس طرف رات کے اُس طرف کچھ بھی یکجا نہیں ہم کہ بے آسماں تھے ہمارے لیے زندگی آبی رنگوں کی تصویر تھی بارشوں نے کوئی نقش چھوڑا نہیں ان پریشاں لکیروں پہ اب دھوپ اترے تو معلوم ہو خواب کی بستیوں سے نکالے ہوئے وہ پرندے کہ جن پر زمیں تنگ تھی ان کے ٹوٹے پروں پر لکھا ماجرا اب کوئی داستاں گو سناتا نہیں راستوں پہ اگر گھاس اگ آئے تو دل کو سیال کرکے بھی بکھرے ہوئے منظروں کو کوئی جوڑ پاتا نہیں