ناہید قمر

ناہید قمر

رقصِ فنا کی لہر

    آنسو، ریت ، سفر، ویرانی خواب، محبت ، دریا، دھوپ لمحہ لمحہ، ٹکڑا ٹکڑا کتنی عمریں جوڑنا ہوں گی بے چہرہ مٹی میں کب تک گھومے گا یہ چاک دل کی بنجر تاریکی میں اک مٹھی بھر جگنو بو کر سورج کون اگا پایا ہے انہونی سفاک آنکھوں کے بوسیدہ کاغذ لفظوں کی گرہوں سے جوڑیں سانس میں ٹھہری چپ سے اٹھا کر ٹوٹ چکی آواز تن پر جلتا کانچ لپیٹے درد کے ٹھنڈے انگاروں پر رقصِ فنا کی لہر میں دنیا راز ہے یا ہم راز ساحل، شام، اداسی ، یادیں کچا لمس تنور روح کے اجلے ایندھن پر نادیدہ سگ مامور صحرا، پانی، پیاس، پرندے سائے بے تصویر کس تقویم کا حصہ ہو گی وقت کی اک کترن پر لکھی بے معنی تحریر