زمینیں بارشوں کا زخم ہیں
منادی ہو! جہانِ منتظر کو، کشتگانِ صبر کو اہلِ تماشا کو منادی ہو! جلادیں گھر کے دروازوں پہ چسپاں تعزیت نامے نقوشِ پا مٹا دیں، چوکھٹوں سے خون دھو ڈالیں صفِ ماتم لپیٹیں اور دعائیں سینت کر رکھیں سلے ہونٹوں سے ساکت پتلیوں سے آسمانوں سے، جنازہ گاہ سے مقتل سے اور ٹوٹی کمانوں سے گواہی مانگی جائے گی گواہی مانگی جائے گی رجز پڑھتی ہوا نے کس کےماتھے پر نوشتہ فتح کا لکھا، سرِ میدان لیکن فتح کے آثار کس کے تھے کہ لشکر میں سپاہی حاشیہ بردار کس کے تھے جلے خیموں کی اڑتی راکھ سے بجھتے چراغوں سے گواہی مانگی جائے گی گواہی کی مگر ارض و سما میں تاب ہے کس کو پسِ افلاک ، چپ ہے عدل کی میزان یہ چپ بھی غنیمت ہے ہزیمت حافظے کی لوح سے کھرچا ہوا دن ہے سو دن کی دھوپ دیواروں سے اتری سہ پہر جنگل کا الجھا دوں بھرا رستہ زمینیں بارشوں کا زخم ہیں اور زخم کارسنا ہی خاموشی کی قیمت ہے منادی ہو!