اِک سفر اُداسی کا
بے نام سے حیرت میں گم تری نظر کو کیا خبر تو ہی مرے آئینہِ احساس کی دہلیز پر اک عمر سے ٹھہرے ہوئے اس عکس کی تجسیم ہے جس کے تعاقب میں مرے سب خواب صحرا ہو گئے سکھ کی پہیلی آنکھ نے صدیاں ہوئیں بوجھی نہیں دل نے جیا ہے موت کو اور زندگی چکھی نہیں مرے مدارِ زیست میں لا حاصلی کا مرکزہ تو ہی تھا تجھ سے قبل بھی اس رنج کی چپ میں مگر موجود تھا ترے نہ ہونے کا یقیں اب تو ملا تو درد کو گویائی کی صورت ملی اور شیشۂ اِدراک میں سوئے ہوئے منظر کا چہرہ دھل گیا کیوں تیرہ و تاریک رستوں میں کوئی تارا کوئی جگنو نہیں کیوں ہاتھ کی ریکھاؤں میں خوشبو تری ہے، تو نہیں کیسے کہوں کہ دکھ مجھے کس زخم کے چھلنے کا ہے تیرے نہ ملنے کا نہیں دکھ تو ترے ملنے کا ہے