امن شہزادی

امن شہزادی

تمہاری ذات پہ پہلا سوال کرتے ہوئے

    تمہاری ذات پہ پہلا سوال کرتے ہوئے خوشی ہوئی مجھے اپنا ملال کرتے ہوئے اسے خسارے میں شامل نہیں کیا میں نے جو چیز ٹوٹ گئی دیکھ بھال کرتے ہوئے تم اک جواب میں سب کچھ نہیں بتا سکتے میں ڈر رہی ہوں مسلسل سوال کرتے ہوئے عجیب برف پڑی جا رہی تھی لہجوں پر وہ اٹھ گیا میرے پہلو سے شال کرتے ہوئے نجانے کون کہیں سو رہا ہو دیر کے بعد خدا خموش ہے سب کا خیال کرتے ہوئے