مجھے حاجت نہیں لیکن مسلسل ہی بلائے دل
مجھے حاجت نہیں لیکن مسلسل ہی بلائے دل لگا جیسے محبت ہے پسندیدہ غذائے دل میں برگشتہ ہوں اب کی مرتبہ مجھ پر بھروسہ کر محبت اور بغاوت کی اجازت دے خدائے دل ہم ایسوں کو رعایت یا کوئی مہلت نہیں ملتی حدود لمس پر ملتی رہی جن کو سزائے دل محبت سے مکرتے وقت سناٹا تھا ہر جانب پھر اک دن خواب میں گونجی اچانک ہی صدائے دل ہمیں ہر حال میں نقصان ہی نقصان رہنا ہے نظامِ روح و تن میں سے جسے چاہے چلائے دل یہ اہلِ عشق ہیں ان کو کبھی کچھ بھی نہیں کہنا ذرا سا تلخ بولو تو یہ کہتے ہیں کہ ہائے دل!