رکمنی دیوی انڈیل

رکمنی دیوی انڈیل

بھرتنا ٹیم

    بھرت ناٹیم(رکمنی دیوی ارنڈیل)

    یہ مندر کی دیواسیوں کا ناچ ہے۔ عہد قدیم میں جنوبی ہند میں یہ ناچ تھا کہ لوگ مندروں میں جا کر مراد مانگتے تھے اور دیوی دیوتاؤں سے وعدہ کرتے تھے کہ اگر من کی مراد بر آئی تو اپنی پہلی لڑکی اس مندر کی نذر کر دی جائے گی۔ چناں چہ  دیوی کے نام پر مندر کو دی ہوئی وہ لڑکی، دیوداسی کہی جاتی تھی۔ دیو داسی کا کام ہی تھا کہ وہ اپنے ناچ گانے سے مندر کی دیوی کا دل بہلائے اور خوش رکھے۔ جنوبی ہند کے اس ناچ کی توجیہہ کسی گورو نے یوں کی ہے کہ لفظ بھرت بھاؤ، راس، اور تال، جیسے تین لفظوں سے مل کر بنا ہے یعنی بھاؤ سے بھاؤ، راس سے را اور تال سے تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ہندوستان کے قدیم ترین ناچوں میں یہ سب سے زیادہ قدیم ہے۔ اس کے اشاروں، حرکتوں میں جنبشوں سے بھی اس کی قدامت ظاہر وہتی ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ بھرت ناٹیم کی ابتداء مہا بھارت کے عہد میں ہوئی۔ اس ناچ کی یہ بھی خصوصیت بتائی جاتی ہے کہ اس ناچ سے دوسرے تمام ناچ پیدا ہوئے ہیں یعنی اعضاء کی حرکات سے اظہار، آواز کے ذریعہ اظہار، جسمانی طور پر احساس کا اظہار، لباس، سنگھاار اور آزمائش کے ذریعہ اظہار جیسی بنیادی خصوصیات اس ایک ناچ میں شامل ہیں۔ گو بھرت ناتیم ہمیشہ عورتوں کے لئے مخصوص رہا ہے مگر اس کو مرد بھی ناچتے ہیں۔ اور ایسے ناچ کو کچھ پوری، کہا جاتا ہے۔ مگر وہ ناچ جو کبھی صرف عورتوں کے لئے مخصوص تھا اب اس کو مرد بھی ناچنے لگے ہیں۔ بھرت ناٹیم ناچ کے کے پہلے حصے میں جسم کے پھول کھلتے ہیں، یعنی جسمانی حسن کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ پھر نازک اور بامعنی داؤں کا حسن پھولوں کی طرح کِھلتا جاتا ہے اور ہلکے پُھلکے نغمے کے ساتھ اعضاء آہستہ آہستہ منظم جنبش کرتے جاتے ہیں۔ بعد میں جذبات اور احساسات کی ترجمانی پیش کی جاتی ہے۔ اس ناچ کی یہ بھی ایک خوبی ہے کہ ناچنے والا اپنے خیالات اور محسوسات کو سوہمو طرح سے ادا کر کے دکھتا ہے اور اس سے کلاکار کی حُسن کاری ، محنت اور ریاضت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بھرت ناٹیم، میں حسن و عشق کے گانے اور ان کی عکاسی پیش کرنا اس رقص کو جلا بخشنا ہے۔ اپنے مقصد کے اظہار کے لئے اس ناچ میں عموماً ہاتھ کے اشاروں سے کام لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سر، گردن، آنکھوں اور بھوؤں کی حرکات بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ناچنے ولاے کو گھٹنے درمیان میں سے چوڑے اور مڑے ہوئے رکھنے پڑتے ہیں، ایڑیاں بار بار اُٹھا کر فرش پر ماری جاتی ہیں اور کتھک ناچ کی طرح ایک ٹانگ پر چکر بھی لئے جاتے ہیں۔ اس ناچ کے ساتھ جو ساز بجائے جاتے ہیں اُن میں مردنگ ضروری ہے۔ منجیروں کی تال بھی شامل ہوتی ہے اور ساز اور ناچ کے ساتھ ترانہ جاری رہتا ہے۔ لباس میں چپست چولی، لانگ والی دھوتی، کمر پٹہ، چوڑیاں اور مالا پہنی جاتی ہے۔ کپڑوں پر زری کا کام ہوتا ہے۔ مردوں کا اوپر کا دھڑنتگار رہتا ہے۔ چوں کہ  بھرت ناٹیم ناچ بہت ہی محنت طلب ہوتا ہے اور جب ایک عورت اس رقص میں ماہر ہو کر گورد کے درجہ تک پہنچتی ہے تو معمر ہونے کی بنا پراس قابل نہیں رہتی کہ گھنٹوں محنت کرے اور کسی کو سکھائے اس لئے عورتوں کو سکھانے کے لئے مرد ہی مقرر کئے جاتے ہیں۔ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ بھرت ناٹیم رقص شِو کی پوجا سے منسوب ہے۔

    جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے ناچ کے ان چار طریقوں کے علاوہ اور بھی بہت سے ناچ ہیں۔ ہر علاقہ کا ایک الگ ناچ ہے اور ہر ناچ کی اپنی روایات ہیں۔ خصوصی طور پر لوک ناچ جو کلاسیکی روایات سے وابستہ ہیں وہ ہندوستانی کسان یا دوسرے محنت کش طبقے کی سماجی، مذہبی اور شجاعانہ جذبات اور احساسات کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ لوک ناچ فصلوں کے کٹنے یا دوسرے خوشی کے موقعوں پر مل جل کر ناچے جاتے ہیں۔ یہ ناچ ہلکے پھلکے ہونے کے باوجود بڑے دل چسپ ہوتے ہیں:

    مشرق کے روایتی خلوص، اتحاد، ایگانگی، اخوت، سادگی، بے لوثی، ایثار اور قربانی کے نمونے دیہات ہی میں ملتے ہیں۔ مذہبی تہواروں اور موسم کی تہذیبی کے وقت ان کے دلوں میں خوشی کے جو چشمے پھوٹتے ہیں وہ رقص اور نغمے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ بارش نہ ہونے پر اندر دیوتا کو منانے کے لئے بھینسوں میں ایک عجیب رقص کا رواج ہے۔ نوجوان لڑکیاں ناچتی ہوئی پڑوس کے گاؤں میں جاتی ہیں اور وہاں ان کو جو سب سے اچھی بھینس دکھائی پڑتی ہے وہ کالی دیوی کی بھینٹ چڑھا دیتی ہیں تا کہ وہ خوش ہو کر اندر دیوتا سے بارش کی درخواست کرے۔ دکنی ہند میں ناچ والے دن سے قبل بَرت رکھا جاتا ہے، دوسرے دن صبح اشنان کے بعد پوجا کی جاتی ہے۔ پھر رقص شروع ہوتا ہے اور ایک رقاص جو ہاتھ میں برہنہ تلوار لے کر ناچا ہے آخر میں ایک کیلے کے دو ٹکڑے کر دیتا ہے   اور پھر کیلے کے وہ دونوں ٹکڑے اندر دیوتا کی بھینٹ چڑھا دئیے جاتے ہیں اور پھر سب ناچنے والے دو زانو بیٹھ کر بارش کے لئے دعا کرتے ہیں۔ آسام کے دیہاتی علاقوں کے رہنے والے خیال کرتے ہیں کہ مینڈک اندر دیوتا کے بڑے لاڈلے ہیں چناں چہ  اِندر کو خوش کرنے کے لئے مینڈکوں کی شادی بڑی دھوم دھام سے مانی جاتی ہے اور مینڈکوں کی شادی ہی میں وہ لوگ اپنا علاقائی لوک ناچ ناچتے ہیں۔

    بنگال کے ترای اور اندرونی علاقوں میں سورج غروب ہو جانے کے بعد عورتیں اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی بارش کے دیوتا کی مورتیاں لے کر گاتی ہیں اور ناچتی ہوئی کسی ویران مقام کی طرف چلنے لگتی ہیں۔ جیسے جیسے چاند اونچا ہوتا جاتا ہے وہ اپنی چولیاں اور لہنگے اُتارتے ہوئے۔ رقص میں ڈوب جاتی ہیں۔ اگر اِندر دیوتا خوش   ہو گیا تو اُس کی مورتی کا جلوس بڑی دھوم دھام سے نکالا جاتا ہے ورنہ گالیوں کی بوچھار کے ساتھ ایسے توڑ پھوڑ دیا جاتا ہے ایسے رقص کو چوری چھپے دیکھنے کے لئے مرد   بے قرار رہتے ہیں۔ بھینسوں کا سب سے مقبول رقص گوری ہے جو ماہ ستمبر میں صبح سے شام تک ناچا جاتا ہے اس میں شیو کی زندگی کی عکاسی پیش کی جاتی ہے۔ جو رقاص شو کا کردار انجام دیتا ہے اس کو 'رائے بوریا' کہتے ہیں وہ اپنے چہرے پر نقاب ڈال کر اپنے اُن مرد ساتھیوں کے ساتھ ……………………… جو زنانے لباس میں اوما اور پاروتی کے کردار انجام دیتے ہیں رقص کرتا ہے بھوپالی گونڈووں کے 'کرم ناچ' میں محبت اور کائنات کی عکاسی پیش کی جاتی ہے۔ ناگا لوک ناچ کے وقت جنگی ہتھیار لے کر اپنی جنگجویا نہ طبیعت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اُن کا لباس رنگین اور بھڑکیلا ہوتا ہے وہ کانچ کے موتیوں اور پَردوں سے سنگھار کرتے ہیں۔ یہ رقاص اپنے سروں پر جانوروں کے سینگ بھی لگا لیتے ہیں۔   جنوبی اڑیسہ میں، درسوکٹی، نامی ناچ بہت مقبول ہے۔ ایک منظوم کہانی ہوتی ہے جسے دو رقاص گا کر دل کش آواز میں سناتے ہیں۔ مالا بار کے علاقے میں ناچ اور گا کر کہانی سنانے ولاے رقاص کو 'تھولالی' کہتے ہیں۔ 'تھولالی' اپنے رقص کے ذریعے پہلے بھگوان کی پرادتنا کرتا ہے پھر رامائن، مہا بھارت اور پرانوں کے کچھ حصے پیش کرتا ہے۔ یہ رقاص اپنے ہاتھوں کے اشاروں (مدرائیں) اور چہرے کے تاثرات سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ دکن کا بنجارا ناچ بھی قدیم اور دیومالائی کہانیاں پیش کرنے والے ناچوں کی ضمن میں آتا ہے۔ اس رقص   میں عورتوں بھڑکیلے اور چک دار کپڑے پہن کر ایک دائرے میں ناچتی ہیں اور اُن کے پیر کبھی نہیں تھکتے گربا ناچ راس لیلا سے نکلا ہے۔ یہ گجرات میں سوہ کے ماہ میں ناچا جاتا ہے۔ محلے کی عورتیں ایک جگہ جمع ہو کر دائرہ بنا کر ناچتی ہیں۔ یہ پُوجا کا ناچ ہے۔ پنجاب کی دیہاتی عورتیں بھی دائرہ بنا کر ناچنے کا شوق رکھتی ہیں اور اپنے ناچ کو گِدا ناچ کہتی ہیں۔ اس ناچ میں مرد بھی شامل ہوتے ہیں، ناچتے وقت تالی بجائی جاتی ہے۔ پوربی علاقوں میں بھی گھیر سے میں ناچنے کا رواج ہے۔ اس ناچ کے وقت عورتیں پیاراورمحبت کے گیت گاتی ہیں اور اپنے اس ناچ کو جُھومر کا ناچ کہتی ہیں۔ سنتحالی لوگوں کا سہراٹی ناچ جُھومر اور گِدا ناچ سے ملا کر بنا ہے۔ آسام کا بہو ناچ بھی کافی مشہور ناچ ہے۔ مرد ڈھول پیٹتے ہیں اور عورتیں ناچتی ہیں۔ دراصل کنوارے لڑکے اور کنواری لڑکیاں یہ ناچ ناچتے ہیں۔ آسام کے ایک پرندے پر اس ناچ کا نام پڑا ہے وہ پرندہ ایک موسم میں "بُہو بُہو" بولتا ہے۔

    گو کہ عروج اور ارتقاء کی متعدد منزلیں طے کرتے ہوئے دیس دیس کا سنگیت اور نرت اب ایک مستقل فن کی حیثیت پا چکا ہے لیکن یہ امر بھی نقادوں کے لئے باعثِ تسلیم رہا ہے کہ اس فن کی بنیاد لوک گیت اور لوک ناچ ہی پر رکھی گئی تھی۔ یہ دیہاتی فن صدیوں پہلے ہندوستان میں دیہات سے شہر میں لایا جا چکا ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ہر ہندو راجہ کے دربار میں ایک اعلیٰ قسم کی رقاصہ ملازم ہوتی تھی اور جس کو "راج ترتکی' کہا جاتا تھا۔ ہر زمانہ میں راج گُرو اور راج نرتکی کی رقابت سے متعلق بھی بہت سی کہانیاں مشہور ہیں شاید مغل بادشاہوں میں شاہ جہاں نے ناچنے والیوں کا ایک بازار آباد کر کے اس فن کی سر پرستی کی پہل کی تھی۔ رقص و سرور سے متعلق مغل بادشاہوں کے یہ جشن صرف تہواروں اور میلوں ہی کے لئے موقوف نہ تھے بلکہ صلا کے ہر حصہ میں یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل اور کسی نہ کسی بہانے سے جاری رہتا تھا۔ محل کے قرب و جوار میں ناچنے اور گانے والی عورتیں کافی تعداد میں رہتی تھیں اور وقتِ ضرورت وہ بادشاہ کو خوش کرتی تھیں۔ ان ناچنے والی عورتوں کو اس وقت کی اصطلاحی زبان میں کنچن کہا جاتا تھا۔ ان میں سے بعض بڑے سلیقے سے لباس زیبِ تن کرتی تھیں اور بڑی اچھی شکل و صورت کی ہوتی تھیں۔ اُن کے جسم بڑے سڈول اور حسین تھے، بعض کا رقص بھی بڑا ہوش ربا ہوتا تھا اور "ہر کچن" درباری آداب اور وقت کی مصلحتوں سے بکوابی واقف ہوتی تھی۔ مغل شہنشاہ نے ان عورتوں پر ہمیشہ کرم کی نگاہ رکھی۔ اُس نے انک ا بازار قائم کرا دیا جہاں یہ رہتی تھیں اور روز ی کماتی تھیں۔ بدھ کے دن یہ تمام کنچنیاں دیوان خاص میں آتی تھیں۔ اپنے ناچ اور گانے سے بادشاہ کو خوش کرتیں اور مالگزاری کے طور پر نذرانے پیش کرتی تھیں۔ بادشاہ ان میں سے چند کو سب کے لئے روک لیتا اور تمام رات اُن کی حماقتوں اور چھیڑ چھاڑ سے خوش ہوتا۔ اسی سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ مغل شہنشاہ جہانگیر کے دربار میں ایک فرانسیسی ڈاکٹر برنارڈموجود تھا جو اتفاق سے ایک کنچن کے دامِ محبت میں گرفتار ہو گیا۔ دراصل وہ ڈاکٹر اس کنچنی کے رقص پر دیوانہ ہو گیا تھا۔ مگر کنچنی کی ماں اپنی بیٹی کے روشن مستقبل سے جلنے لگی اور وہ ڈاکٹر اور اپنی بیٹی کے درمیان ایک دیوار بن گئی۔ ڈاکٹر کا عشق بڑھتا گیا۔ یہ بھی حسنِ اتفاق تھا کہ جہانگیر انہیں دنوں بیمار پڑا اور اپسی فرانسیسی ڈاکٹر کے علاج سے اُس کو صحت بھی نصیب ہوئی۔ چناں چہ  جہانگر نے خوش ہو کر ایک تحفہ بخشا۔ مگر ڈاکٹر نے کہا "عالی جاہ" یہ گستاخی تو نہ ہو گی اگر میں اس تحفہ کو واپس کروں؟ اگر ہو سکے تو اس تحفہ کے بجائے مجھ کو وہ کنچنی بخش دی جائے جو اس پردے کے پیچھے کھڑی ہوئی میرا انتظار کر رہی ہے! "تمام صاحب کھل کھلا کر ہنس پڑے اور بادشاہ بھی بغیر ہنسے نہ رہ سکا اور بادشاہ نے حکم دیا "اس کنچنی کو ڈاکٹر کے کندھوں پر رکھ دو اور اُس کو اپنے براہ لے جانے دو!"

    اودھ میں نواب شاع الدولہ کے زمانے میں ہی رقص کے فن نے ایک نمایاں شکل اختیار کرنا شروع کر دی تھی، جو دھیا اور بنارس کے مشہور کتھک بھی توابپن اودھ کی قدررانی کی بنا ء پر دربار کی طرف کھیچنے لگے تھے۔ مرد ناچنے والوں میں دو گروہ زیادہ مشہور رہے۔ ایک کتھک ہند وااور ہس حاری اور دوسرے مسلمان کشمیری بھانڈ۔ یہ بھانڈ اپنے گروہ میں ایک خوبصورت اور حسین لڑکا بھی رکھتے تھے۔ جس کے سر کے بال بڑے ہوئے ہوتے تھے اور جو عورتوں کی طرح جوڑا باندھتا تھا اور وہ انتہائی پتھرتیلے پن سے ناچ کراور اپنی چلت پھرت سے محفل میں زندہ دلی اور تازگی پیدا کر دیتا تھا۔ خطہ اودھ میں بڑے بڑے باگماں ہندو کتھک پیدا ہوئے۔ شجاع الدولہ اور آصف الدولہ کے عہد میں خوشی مہاراج فن رقص میں اُستاد جانا جاتا تھا۔ نواب سعادت علی خان، غازی الدین حیدر اور نصیر الدین کے دور میں ہلال جی، پرکاش جی اور دیا لو جی ناچنے میں بڑا نام پیدا کر چکے تھے۔ بعد میں پرکاش جی کے بیٹوں درگا پرشاد اور ٹھاکر پوشاد کے ناچ نے بھی بڑی شہرت پائی لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب دُرگا پرشاد کے بیٹے کا سکا اور بندادین سارے ہندوستان میں کتھک رقص کے اُستاد مان لئے گئے اور اُن کا گھرانا ہندوستان بھر کا سب سے بڑا رقص کا اسکول مانا گیا اور آج بھی ہندوستان کے بہت سے ناچنے والے اسی گھرانے کے شاگرد ہیں۔ بندا دین گت پر ناچنے، رقص کے استادانہ توڑے اور ٹکڑے اصلی رنگ میں دکھانے، گھنگھر و بجانے اور یہ قدرظاہر کرنے میں کہ جتنے گھنگھرو چاہے بجائے اور جتنے چاہے نہ بجائے ایسی خوبیاں رکھتا تھا کہ جن اک بندا دین ہی پر خاتمہ ہو گیا۔ بندا دین ایک ایک چیز کو سو سو اداؤں، وضعوں، نزاکتوں اور دل فریب اشاروں سے بتایا تھا اور اس میں ایسی نازک خیالی اور جدت طرازی ہوتی تھی کہ اگر دیکھنے والا علم رقص سے نا واقف ہو تو سمجھ نہیں سکتا تھا اسی لئے بندا دین جب ناچتا تھا تو کا نکا قریب کھڑے ہو کر تشریح کرتا جاتا تھا۔ بندادین کے پاؤں کا نزاکت سے زمین پر پڑنا ہی اُس کے رقص کی خوبی تھی اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ تلوار کی باڑھ پر بھی ناچا مگر تلوے میں چر کا بھی نہ آیا۔ بندا دین شاور بھی تھا اور صوفی بھی اور یہ اُسی کا کارنامہ ہے کہ اس نے کتھک کے بھولے ہوئے جُذ ٹھمری کو پھر سے زندہ کیا اور چند الاقائی شاہکار تصنیف کئے۔ بندا دین کی موت1927ء میں ہوئی۔ بندا دین کا بھائی کانکا جو اس سے بہت پہلے مر چکا تھا اپنے وقت میں طبلے اور پکھاوچ میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ کتھک کی روایات کو آگے بڑھانے میں کالکا کے بیٹے اچھن مہاراج، لچھو مہاراج اور دمبھو مہاراج آگے آئے۔

    رقص و سردہ کے ساتھ نقالی ہندوستان کا بہت ہی پُرانا فن ہے جو کبھی قبل مسیح راجہ بکریا جیت کے دربار میں عروج پر تھا یا پھر اودھ کے نواہیں کے درباروں میں اس فن کو ترقی ہوئی مگر بکرما جیت کے زمانے میں اس فن کے ذریعہ معیار ڈرامے اور ناٹک پیش کئے جاتے تھے اور تواہیں کےدور میں اس فن کے جاننے والوں کو محض بھانڈ کہا گیا۔ ان بھانڈوں کے مجرے کی شان یہ ہوتی تھی کہ ایک توخیز خوش شکل لڑکا جس کے سر کے بال عورتوں کی طرح ہوتے تھے زرق برق لباس میں ناچتا تھا۔اس کے ناچ میں غیر معمولی شوخی ہوتی تھی اس کے ساتھ چھ سات بھانڈ ہوتے تھے جو ساز بجاتے تھے، نعرے لگاتے تھے اور شوخ فقرے کستے تھے۔ ان بھانڈوں کی حرکات و سکنات اکثر خلافِ تہذیب ہوتی تھیں مگر نچلا طبقہ ان سے بہت لطف اندوز ہوتا تھا۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ ہر بھانڈ بڑا حاضر جواب ہوتا تھا اور ذومنی فقرے چپست کرنے میں کوئی پڑھا لکھا بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا چناں چہ  قایم نام کا ایک بھانڈ جو ہر محترم میں سبیل لگاتا تھا اپنی حاضر جوابی کے سلسلے میں بہت مشہور تھا۔ ایک بار نواب علی نقی خاں معہ اپنی بیگم قایم کی سبیل پہنچا۔ قائم ہاتھ جوڑ کر سامنے آ گیا اور کہا خدا نواب صاحب کو صلامت اور بیگم صاحب کو قائم رکھے!" گو فقرہ سخت تھا مگر نواب اور بیگم نے قایم کو انعام دے کر اپنی مزاج شناسی کا ثبوت دیا۔ قایم کے علاوہ اس زمانے میں والبم، بہ حبی، نوشاہ اور بی بی قدر نام کے بھانڈوں نے بڑی شہرت پائی۔ لیکن ان ناچنے گانے ولاے بھانڈوں سے مغل شہنشاہوں کو کوئی لگاؤ نہ تھا۔ بھانڈوں کے ساتھ ساتھ ڈومینوں اور مراثنوں نے بھی ترقی کی۔ یہ بھی شادی اور خوشی کی تقاریب میں مرد بھانڈوں کی طرح ناچ گا کر اور نقلیں کر کے عورتوں کی محفلوں کو محفوظ کرتی تھیں۔ اب ہندوستان میں بھانڈوں اور ڈومینوں کا رواج کم ہو چلا ہے اور یہ لوگ اب صرف اودھ اور ردہیل کھنڈر کے شہروں میں پائے جاتے ہیں اور کبھی کبھی نچلے بستے میں خوشی کے موقع پر بلائے جاتے ہیں۔

    نوابین کے دور کے بعد بھی خطہ اودھ نے ایسی باکمال رنڈیاں پیدا کیں جو اپنے فن میں دُور دُور تک جواب نہ رکھتی تھیں۔ لکھنؤ میں منصرم والی گوہر نام کی ایک رنڈی ہوا کرتی تھی۔ اس کو ناچنے میں یہ کمال تھا کہ وہ ایک ہ چیز کو تین تین گھنٹہ تک ایسی خوبی سے بتاتی تھی کہ دیکھنے والے محوِ حیرت ہو جاتے تھے۔ زہرہ اور مشتری جہاں اچھا گانے والی تھیں وہاں شاعرہ بھی تھیں اور بے نظیر رقاصہ بھی تھیں۔ آج کی مشہور فلم ایکٹریس نرگس کی ما جدن بائی بھی ایک ندت تک زمانے کو اپنے رقص و سرور کا گرہ یدہ بنائے رہی۔ وہ مورپنکھی ناچ میں بہت ماہر تھی۔ وِلی میں امیر بیگم نام کی ایک طوائف تھی اس کے مت علق کہا جاتا ہے کہ وہ جب محفل میں ناچنے جاتی تو قریب قریب برہنہ ہو جاتی مگر اپنے جسم پر رنگوں سے اس قدر نقوش بناتی کہ وہ برہنہ نہیں معلوم ہوتی تھی اس کا رقص بڑا ہی ہوش ربا ہوتا تھا۔ واجد علی شاہ کو جب رقص پسند آیا تو اس نے بھی اپنے مذاق کے مطابق ایک نیپالی پلاٹ پر ایک نیا رہنس تیار کیا اور اسی کی تحریک پر امانت نے اندر سجا تصنیف کی۔ محمد شاہ نے بھی اپنی تصنیف، سنگیت مالکہ، میں کتھک رقص کو ایک اہم مقام دیا۔ محمد شاہ کے دور کتھک کی ایک واضح زبان بنی جو نہ صرف روز مرہ کے برتاؤ سے بلکہ دوسرے رقصوں سے بھی علیحدہ تھی۔

    گذشتہ نصف صدی میں کچھ ایسی ہستیاں بھی سامنے آئیں جن کو فنون لطیفہ سے ایک پر خلوص دل چسی تھی۔ انہوں نے قدامت پرستی اور روایات سے مُنہ موڑ کر اور ریاستی دباؤ سے اپنے آپ کو نکالتے ہوئے فنِ رقص میں کامیاب تجربے کئے۔ ان باغی ہستیوں میں گورو دیو رابندر ناتھ ٹیگور کا نام زیادہ نمایاں ہے۔ ٹیگور سے شعر و ادب، مصوری اور موسیقی کی طرح رقص میں بھی ایک انقلاب پیدا کیا۔ رویات سے انحراف اور قدیم مقررہ اصولوں سے بغاوت کر کے اس نے اپنا ایک جداگانہ تصور پیش کیا۔ ٹیگور نے نٹ شاستہ کے مسمات کے مشکل اشاروں اور کسایوں کو پس پشت ڈالا ور رقص میں صرف حُسن کاری ہی کو اپنا معیار بنایا۔ اس نے خود ساختہ اصولوں کی پیروی کی اور دوسروں سے پیروی کرائی اور یہی ٹیگور گھرانے کی خصوصیت ہے۔ ٹیگور کا ناچ بالعموم گیت ناچ ہوتا ہے۔ ایک لڑکا یا لڑکی یا ایک پارٹی گیت کے بول او معنی کے ساتھ ساتھ ناچتی ہے اور بیانیہ گیت بھی ٹیگورا ہی کا ہوتا ہے۔ ٹیگورا اپنے ناچ میں رس کا معتدل ہے اور رس ہی حسن کاری کی جان ہوتا ہے۔ میگورا کا ناچ سمجھنے کے لئے گیت کو سمجھنا ضروری ہے اور گیت بنگالی زبان میں میں ہوتے ہیں۔ اس لئے جو بنگالی زبان نہیں جانتا وہ پورے طور پر ٹیگور گھرانے کے ناچ سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا ٹیگور ناچ اور ڈراما کا ایک اچھا نمونہ ، تاش ویش رہے یعنی تاش کے پتوں کا دیس ۔ اس میں انسانی اعمال کے دونوں پہلوؤں کا تضاد پیش کیا گیا ہے۔ ہندوستانی رقص کو حیاتِ نو دینےمیں غیگور کے بعداودے شنکر   کا نام آتا ہے۔ اودے شنکر جو اودے پور کے ایک بنگالی خاندان میں پدیا ہوا تھا1922ء میں پہلی بار مشہور ہوا جب کہ اس کو میڈم پاؤلوا کے بیلے میں رقص کرنے کا موقع ملا۔ اس سے قبل اس نے اپنے بچپن میں اپنے باپ کی ہمت افزائی پر بمبئی کے ایک ناچ اسکول میں تربیت پائی اور وہ پھر مہاراجہ جھلاواڑ کی جانب سے لندن کے رائل کالج آف آرٹس میں بھیج دیا گیا۔ پیرس میں بھی اس نے ایک بیلے رقاص کی حیثیت سے اپنے لئے روزی پیدا کی۔ لیکن 1925ء میں اس کو فرانسیسی رقاصہ میڈم مکی کے ساتھ یورپی شہروں میں ہندوستانی رقص پیش کرنے کا موقع ملا۔ ہندوستان کے قیام میں جبکہ اُس نے اموڑہ میں رقص کا ایک مرکز قائم کیا اس کو آملا کی قربت حاصل ہوئی اور شادی کے بعد آملا ہمیشہ کے لئے اُس کی ساتھی بن گئی۔ اودے شنکر نے بھی ٹیگور کی طرح کلاسیکی ناچوں میں ترمیم و تنسیخ کر کے اپنے ناچ الگ بنائے ہیں اور ہندوستانی ناچوں کو پوری دنیا سے متعارف کرانے میں صرف اودے شنکر ہی کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ اودے شنکر رقاص بننے سے قبل کبھی ایک مصور بھی تھا۔ بُت تراشی کے قدیم نمونے دیکھ کر وہ کچھ اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے اُن کے تمام انداز اور ایمائی اشارے یاد کر لئے اور اجنتا ویلوارا کے ھنام اور ان کے گیان و دھیان کے بھاو اپنے ذہن میں بٹھا لئے اور یہ نقوش آپس کے ذہن میں اس قدر پختہ ہو گئے کہ جب اس نے اپنے ناچ میں ان کو پیش کیا تو ایسا معلوم ہُوا کہ بے جان، جامد و ساکت اور گونگے پتھر زندہ ہو کر اپنی کہانیاں سُنا رہے ہیں۔ شنکر بھی اپنے ناچ میں اپنے جذبات کی عکاسی پیش کرنے میں یقین رکھتا ہے اور لَے کے عنص کو بھی نبھاتا ہے۔ اس کے ناچ کی یہ بھی ایک خصوصیت ہے   اس میں تنوع بہت ہوتا ہے اور گھنٹوں دیکھنے کے بعد بھی طبیعت نہیں اُکتاتی۔ شنکر کا تخلیقی فن تنہا ناچ سے زیادہ گروپ کے ناچ میں نظر آتا ہے۔ اس نے مغربی بیلے کی طرز پر اپنی ناچ کہانیاں بنائی ہیں جن میں آج کی زندگی کے مسائل پیش کئے گئے ہیں۔ ان میں زندگی کی لَے ، اور مزدور اور مشین، حیرت انگیز طور پر کامیاب ہیں۔ یہ بات بھی بڑی دل چسپ ہے   کہ اودے شنکر جو اب 59سال کا ہو چکا ہے جتنا یورپی ممالک میں پہچانا جاتا ہے اتنا اپنے ملک میں نہیں۔ وہ بارہ مرتبہ امریکہ اور اتنی ہی بار انگلینڈ اور یورپ کے دوسرے شہروں کا دُورہ کر چکا ہے۔

    اودے شنکر کے بعدرام گوپال نے بھی ہندوستان کے کلاسیکی رقص کو عہد جید کے روغن سے چمکا کر دوسرے ممالک تک پہنچایا ہے۔ اس کا رقص پُرمعنی ہوتا   ہے اور اس کا اپنا مردانہ حُسن اس کو اور زیادہ جِلا بخش دیتا ہے۔ گوپال نے رقص کی جو تشریح پیش کی ہے وہ قابلِ داد ہے۔ اور مالا باری رقص کا ایک اہم جُز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کلاسیکی ناچ کے متعلق فنی معلومات جتنی رام گوپال کو ہے اتنی اودے شنکر کو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔پندرہ سال قبل اچھن مہاراج، شمبھو مہاراج اور لچھو مہاراج کے کتھک ناچ میں بھی یہ خوبی تھی کہ جب گت بھرتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ پری کھڑی ہے۔ گوپی ناتھ بھی قدیم طرز میں کتھا کلی کا ایک اچھا   رقاص رہا۔ گو اس نے ہر بار ایک نئی چیز دی مگر رقص کی قدیم روایات کو اس نے ترک نہیں کیا، بعد میں وہ مظاہرے کم دینے لگا اور گوڑ زیادہ ہو گیا۔ رام گوپال اسی کا شاگرد ہے گوپی ناتھ کی چیلی مدھو رادیوی بھی 'تلو تما' کی ناچ کہانی اسٹیج کرنے میں کمال رکھتی ہے۔ بھرت ناٹیم میں رکمنی دیوی، شیلو نتی، بالا سرسوتی اور شانتا راؤ نے بڑی شہرت پائی ہے۔ شانتا راؤ کر اس سلسلے میں   فنی معلومات بھی کافی ہیں اور وہ اپنے ہم عصروں سے اس ضمن میں بڑھی ہوئی اندرانی رحمان اپنے گریس، چارم اور انداز کی بنا پر کافی مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ لیلا ڈیسان اور سادھنا بوس بھی اپنے اپنے وقت میں بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھی گئیں۔ خصوصی طور پر منی پوری رقص میں سادھنا بوس   نے بڑا نام پیدا کیا۔ شاید اودے شنکر اور رام گوپال کے بعد سادھنا ہی وہ کلاسیکی رقاصہ تھی جو 'شومین شِپ' کے راز سے واقف تھی۔ پُھرتی اور تیزی اس کے رقص کی خصوصیت رہی ہے۔ وہ ناچتے ہوئے جب بھی نظر آئی اڑتا ہُوا شعلہ اور بہتا ہُوا پانی ہی معلوم ہوئی۔ کتھک ناچ میں الکھنندا اور ستارہ نے بھی کافی شہرت پیدا کی اگر ستارہ نے فلمی دنیا میں آ کر اپنے پیر نہ جلائے ہوتے تو وہ آج صفِ اول کی کتھک رقاصہ ہوتی۔ مرنا یعنی سارا بھائی میں بھرت ناٹیم رقص کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔ اس نے بہت سی ناچ کہانیاں پیش کی ہیں اور وہ پسند کی گئی ہیں۔ اس کے گروپ کا نام 'درپن' ہے اور وہ اس گروپ کو لے کر 1950ء میں مصر بھی جا چکی ہے اور مرنا لینی وہ پہلی ہندوستانی رقاصہ ہے جس کو فرنچ آرکائیوز انٹرنیشنل ڈے لاڈوانس کی جانب سے وہ ڈپلوما عطا ہوتا ہے جو شاذو نادرہی کسی کلا کار کو نصیب ہوتا ہے۔ شریتی سروج کو بھی بھرت ناٹیم رقص سے کافی دل چسپی ہے یہ کبھی رام گوپال کے گروپ میں تھی آج کل بڑودہ میں اس نے ایک اسکول قائم کر رکھا ہے۔

    ہندوستان میں کتھک کے فن کو جنہوں نے نئی قوت اور رعنائی بخشی ہے اور نِت نئے تجربے کئے ان میں و مینتی جوشی کا درجہ سب سے اہم ہے۔ وسنیتی کی فنی جدو جہد کا آغاز چھ سال کی عمر سے ہُوا۔ اس کی ماں جنرل صاحب سنگھ سوکھی کے یہاں گھریلو ملازم تھی۔ جنرل کی بیوی سینکا کو جو ہندوستانی رقص کی ماہرہ تھی اپنی ملازمی کی بچی و مینتی کو دیکھ کر اس کو رقص کی تربیت دینے کا خیال پیدا ہوا اور آٹھ سال کی عمر میں دمینتی مینسکا کے گروپ کے ہمراہ یورپ کے دورہ پر چلی گئی۔ رقص کے دوسرے چند استاروں سے بھی تربیت لینے کے بعد وسینتی نے آزادانہ طور پر اپنے فن کے مظاہرے پیش کرنے شروع کر دئیے۔ 1952ء میں جب امن کونسل کی جانب سے تہذیبی مشن چین بھیجا گیا تو کتھک کی نمائندگی و مینتی نے کی۔ ومینتی کو کئی بار اپنی زندگی میں رومانی حادثات پیش آئے اور جس کے اثرات اس کے فن پر بھی پڑے مگر 1948ء میں وہ اس حادثے سے بچ نہ سکی اور مئی 1954ء میں آخر اس نے رقص کے مشہور نقاد ا۔وی ناش چندر پانڈیا سے شادی کر لی۔ مومینتی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وہ مسلسل تجربات اور گہرے   ریاض کے ذریعہ بعض ایسے انحطاط پذیر اثرات کو دُور کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو لکھنؤ گھرانے کے آخری دور میں آ گئے تھے۔ خصوصاً پاؤں کی حرکات اور گت بھاد یعنی بیٹھنے میں   تو اُس کا مقبالہ کوئی مشکل ہی سے کر سکتا ہے۔س رکاری تقاریب میں کتھک کی نمائندگی ومینتی ہی کرتی ہے اور ایک بار جب صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد کے سامنے اس نے اپنے فن کو پیش کیا تو انہوں نے بھی اس کے بے مثال فن اور اس کی کلا کاری کی تعریف کی۔

    نئی نسل کی کلاسیکی رقاصاؤں میں کملا لکشمن، وجنتی مالا، راگنی، ریتا چیڑجی، گوپی کشن، پدمنی، کماری چندر لیکھا، رادھا سری رام، لحماری روشن، کماری پشپا ماتھر اور زیوری سسٹرز کے نام قابل ذکر ہیں۔ کملا لکشمن جو چند سال قبل بے بھی کملا کہلاتی تھی اور جواب کارٹونسٹ لکشمن سے زادی کر کے کملا لکشمن بن چکی ہے۔ بھرت ناتیم کی ایک اُبھرتی ہوئی رقاصہ ہے۔ گذشتہ سال وہ جاپان جا کر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ وجینتی مالا بھرت ناٹیم کی ایک اچھی رقاصہ ہے۔ اگر اُس نے فلموں کو اپنا پیشہ نہ بنایا ہوتا تو فنی طور پر اس کے اُبھرنے کے اور امکانات تھے۔ گئے وقت کی مشہور فلمی مغنیہ زہرہ بائی انبالہ والی کی لڑکی کماری روشن بھی تھک کی ایک اچھی رقاصہ ہے۔ اُس کے فن میں چُستی ، پھرتی اور رنگارنگی پائی جاتی ہے۔ اُس کے رقص میں زیروبم بھی ہوتا ہے اور حرکت بھی۔ اُس نے چا رسال کی عمر سے رقص کی تربیت لینا شروع کی تھی اور اُس کا رقص دیکھ کر اپس کے بھاری ریاض کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے رقص کے ذریعہ دیو مالائی اور روائتی کہانیاں پیش کرنے میں بھی ماہر ہے۔ کماری چندر ی بھی ایک عزم کے ساتھ فن کے میدان میں آئی ہے۔ پروفیسر سبھا مورتی کا کہنا ہے۔ کہ وہ دُنیا میں بھارتیہ ناٹیم کی ایک حکومت قائم کرنے کا عزم کر چکی ہے۔ "شمالی ہندوستان میں کماری پُشپا ماتھر بھی کتھک میں اپنا ایک مقام بنا رہی ہے۔ منی پوری رقص میں نیسنا، رنجنا، سورنا اور درشن(زیوری س،سٹرز) بھی قدر کی نگاہوں سے دیکھی جاتی ہیں۔ بھرت ناٹیم میں تالا چودھری نے بھی اپنا ایک مقام بنایا ہے۔

    دیسی ریاستوں کے خاتمہ کے بعد ہندوستان کا کلاسیکی سنگیت اور ناچ سرمایہ دار طبقہ کی سرپرستی سے محروم ہو گیا تھا۔ مگر یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ حکومتِ ہند کی سر پرستی نے دوسرے فنونِ لطیفہ کی طرح رقص کے فن کو بھی ایک نئی زندگی بخشی ہے اور بہت دن بعد اب پھر عوام اور خواص اس فن کو عزت عقیدت اور قدر کی نگاہوں سے دیکھنے لگے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستانی رقص بین الاقوامی میل جول اور بھائی چارے کے عنصر کو اُبھارنے میں بھی بڑا کام کر رہا ہے۔ مگر یہ بات بھی قابلِ شرم ہے کہ ہمارا یہ فن جس کی بدولت غیر ملکوں میں بھی ہندوستان کا سر ہمیشہ فخر سے بلند رہا ہے۔ ہندوستانی فلموں میں بُری طرح پائمال کیا جا رہا ہے۔ ہماری فلوموں میں ہمارا رقص نہ تو اصلی شکل و صورت میں ہوتا ہے اور نہ اُس کو پردہ فلم پر پیش کرتے وقت سمجھا ہی جاتا ہے۔ دراصل آج کی فلموں میں نہ تو موسیقی ہندوستانی ہوتی ہے اور نہ رقص۔ ہماری فلم انڈسٹری کا یہ اہم   ترین رقص مغربی تہذیب کا محتاج ہوتا جا رہا ہے۔ ہندوستانی فلموں کی رقاصائیں "فن رقص سے تو برائے نام واقف ہوتی ہیں البتہ تھرکنا خوب جانتی ہیں اور منظم گھرکنے اور ٹیکنے کو فلمی اصطلاح میں ڈانس کہا جاتا ہے۔ یوں تو اب تک رقص کے موضوع پر کم کم وی ڈانسر "نرگکی" "راج نرتگی" اور "جگھتک جھنگ پائل باجے جیسی محبت سی فلمیں آئی ہیں لیکن اگر صحیح معنوں میں رقص کے سلسلے میں کسی فلم کی تعریف کی جاسکتی ہے تو وہ رقاص اودے شنکر کی فلم کلپنا تھی۔ وہ ایک خود ساختہ رقاص کلاکار کی اُمنگوں کی کہانی تھی۔ جس کے ذریعہ بتایا گیا کہ کلاسیکی رقص کا فن حاصل کرنے میں ایک کلا کار کو کتنی جدوجہد سے گزرنا پڑتا ہے اور رقص کا معیاری فن عوام اور خواص اور سرمایہ وار طبقہ کی نظر سے جب گزرتا ہے تو اُس پر روحانی، نفسیاتی اور جنسیاتی اثرات کیا ہوتے ہیں۔

    مضمون کے خاتمہ پر یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اگر موسیقی کے سلسلے میں سر گم کے سات سمندر ہیں تو رقص کے سمندر کی بھی کوئی تھا وہ نہیں۔ انسان رقص سیکھتا سیکھتا ختم ہو سکتا ہے۔ مگر رقص کا فن کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اُس کی تعلیم کی وسعت کا اندازہ لگانا مشکل ہے اسی لئے ریاض کے لئے بھی کوئی مدت مقرر نہیں کی جا سکتی۔