شاہد احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی

حفیظ جالندھری

    حفیظ جالندھری

    یادش بخیر حفیظ جالندھری صاحب ان چند نفوس میں سے ہیں جن کی قدر و وقعت میرے دل میں بہت زیادہ ہے۔ وہ تمام تر خودساختہ پرداختہ’’ بڑے آدمی‘‘ ہیں ۔ انہوں نے کبھی اس بات کو چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ان کے مالی حالات ایسے نہیں تھے کہ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرتے۔ اسکول کی ابتدائی جماعتوں ہی میں تھے کہ انہیں غم روزگار نے مار لیا۔ طبیعت شروع ہی سے شاعرانہ پائی گئی ۔ چھوٹا موٹا کاروبار کیا راس نہ آیا۔ دکان پر بیٹھے، نقصان اٹھایا۔ جسے ادب و شعر کا چسکا پڑ جائے، وہ اور کسی کام کا نہیں رہتا۔ کہیں ہرن پرگھاس لا دی جاتی ہے؟ جالندھر کی فضا میں چوکڑی بھول گئے ۔ لا ہور سدا سے ادب و شعر کی منڈی رہا ہے۔ خبر نہیں کسی کے مشورے پر یا۔

    شوق در ہر دل کہ باشدر ہبرے در کار نیست

     لاہور بنچ گئے۔ لاہور میں ان کا پہنچنا اور چوکڑیاں بھرنا۔ آناً فاناً کہیں سے کہیں پہنچے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، قدردانوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور سر آنکھوں پر بٹھایا ۔ لوصاحب جالندھر کا مارِابڈ رالڑکا لاہور میں آ کر ابوالاثر حفیظ جالندھری بن گیا۔ سیزر کی طرح وہ آیا، اس نے دیکھا اور کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ ورنہ اسی لاہور میں پچھلے سو سال میں ایک سے ایک جگادری شاعر آیا اور ٹہل ٹہلا کر چل دیا۔ کسی نے اس سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ ترے منہ میں کتنے دانت ہیں ۔

    ایں سعادت بزور بازو نیست

    تانہ بخشد خدائے بخشنده!

     حفیظ صاحب کے عروج کا یہی وہ زمانہ تھا جب میں نے پہلے پہل انہیں دیکھا۔ میں اس زمانے میں ایف سی کالج میں پڑھتا تھا۔ یہ ذکر ہے ۲۳- ۲۴ء  کا۔ ایف سی کالج اس وقت وائی ایم سی اے کے پہلو میں تھا۔ جہاں اب بڑی بڑی دکانیں اور دفتر بن گئے ہیں۔

    یاد نہیں رہا کیا تقریب تھی ، کالج  کے ہال میں کئی سولڑکوں کا اجتماع تھا۔ کالج کا پورا سٹاف مع پرنسپل لوکس کے ڈائس پر سجا ہوا تھا۔ اتنے میں اعلان ہوا کہ ابوالاثر حفیظ جالندھری صاحب تشریف لاتے ہیں۔ اس زمانے میں سابقوں میں ’’ابو‘‘ کی ردیف چل رہی تھی۔ ابو الکلام، ابوالکمال، ابوالمعانی، ابوالمکارم، ابو الخیر، ابوالمجاہد اور خبر نہیں کیا کیا۔ ’’ابو‘‘ کے اعلان کے ساتھ ہی ایک نوجوان ڈائس پر آ گیا۔ سر پر او نچی باڑ کی ترکی ٹوپی، اچکن، چوڑی دار پاجامہ، وضع کسی طرف سے بھی جالندھری نہیں تھی ۔ نہ سر پر کلاہِ  زریں اورمشہدی، نہ برمیں ہاف کوٹ ، نہ دھڑ میں شلوار، گیہواں رنگ، کھلی پیشانی، لمبوترا چہرہ، چمک دار آنکھیں، کٹارسی ناک، خشخشی مونچھیں، داڑھی صفا چٹ ، بوٹا سا قد ، نازک نازک ریشمیں  سے آدمی، بھلا ایسے ہوتے ہیں کہیں جالندھر والے:

    خیر توان صاحب نے پیچھے مڑ کر اجازت لی اور لہک کر آواز لگائی :

    ’’کھاؤں کھاؤں؟‘‘

    یا اللہ! کیا ماجرا ہے؟ اس زمانے میں مائیکروفون نہیں تھے۔ انہوں نے دوبارہ اپنا مصرع پڑھا تو معلوم ہوا کہ کہہ رہے ہیں۔

    ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘

     اس کے بعد جو انہوں نے اپنے نئے انداز کی نظم سنانی شروع کی تو ہال میں جو چُرغم  چُرغم ہورہی تھی ، سب بند ہوگئی اور ایسا سناٹا چھایا کہ جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہومگر ادھرنظم کا ایک بند ختم ہوا ادھر واه وا! سبحان اللہ کا شور برپا ہوا۔ نظم خاصی طویل تھی اور حفیظ  صاحب اس کے مصرعے ایسے چبا چبا کر پڑھ رہے تھے جیسے شاعری کی جگالی کر رہے ہوں مگر ان کے ترنم کی طرح ان کے پڑھنے کی یہ خاص ادا بھی بڑی دلبرانہ ۔ اس میں تقریباً آدھا گھنٹہ  گزر گیا مگر کسی کو وقت کا احساس نہیں ہوا۔

    جب نظم ختم کر کے وہ جانے لگے تو بے تحاشا تالیاں بجنے لگیں اور، ایک اور ، ایک اور کی دبی دبی سی آوازیں چاروں طرف سے آنے لگیں۔

    ڈاکٹر لوکس کا سارے کالج  پر اس قدر رعب تھا کہ ان کے سامنے کسی کی مجال نہیں تھی کہ اونچی آواز میں بات کرے۔ حفیظ صاحب نے ٹھٹک کر ان کی طرف دیکھا۔ انہوں نے مسکرا کر اپنے سر کو مثبت جنبش دی تو حفیظ صاحب نے واپس آ کر جونپوری دھن میں:

    ’’بسالے اپنے من میں پیت ‘‘

    سنانا شروع کیا۔ یہ بھی ہمارے لیے ایک نئے انداز کی شاعری تھی کیوں کہ اس وقت تک ہم نے شاعروں اور مشاعروں میں غزلیں ہی سنی تھیں ۔ حفیظ نے اس کے سنانے کے دوران میں تانوں سے ملتی جلتی آوازیں بھی نکالیں تو میرے کان کھڑےہوئے۔

    ’’ارے، یہ  شاعر تو گویّا بھی ہے!‘‘ ۔

    كلام کی جدت و بے ساختگی اور ترنم کی موزونیت، دل آویزی نے میرا دل موہ لیا اور اسی وقت سے میں حفیظ صاحب کے خاموش قدردانوں میں شامل ہوگیا۔

    سائنس کے طالب علم کو اتنی فرصت کہاں کہ شاعری اور شاعروں کے چکر میں پڑے مگر بدقسمتی سے ادب وشعر کی چیٹک مجھے بھی لگی ہوئی تھی۔ چور چوری سے جائے گا تو کیا ہیرا پھیری سے بھی جائے گا۔ کالج کی لائبریری میں اُردو کے اخبار رسالے بھی آتے تھے۔ اب میں اد بدا کر حفیظ صاحب کا کلام ان میں پڑھنے لگا۔ انہوں نے اُردو شاعری کو ایک  نئی صنف دی گئی، اور یہ صنف تھی  گیت کی ۔ حفیظ کی نقالی میں ہندوستان کے ہرگوشے سے گیت لکھے جانے لگے۔ گیت کی ہیئت کے عجیب وغریب تجربے کیے جانےلگے ۔ صورت یہ ہوگئی کہ’’پیمانہ‘ ‘ یا کسی ایسے ہی رسالے کو اُٹھا کر دیکھے تو آپ کو اکثر صفحوں پر Snakes And Ladders (سانپ اور سیڑھیاں) بنی ہوئی دکھائی دیتیں۔ غور سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ خیر سے یہ گیت ہیں، جن کی یہ ہیئت کذائی ہوگئی ہے مگر حفیظ صاحب ہمیں بڑے خوبصورت گیت اور بڑی حسین نظمیں دیتے رہے۔ انہوں نے گیت کے وقار کو قائم رکھا۔

    شمس العلما میر ممتازعلی صاحب مرحوم تھے تو یو پی کے رہنے والے مگر پچاس ساٹھ سال پہلے انہوں نے لاہور کو اپنا وطن ثانی بنالیا تھا۔ میر صاحب اور ان کی اہلیہ محمدی بیگم مرحومہ نے مل کر عورتوں کا ہفتہ وار اخبار ”تہذیبِ نسواں‘‘ لاہور سے جاری کیا تھا۔ یہ ادبی اخبار غیر منقسم ہندوستان کے ہر شریف خاندان میں آتا تھا اور اس قدر مقبول تھا کہ تہذیبی بہنوں اور تہذیبی بھائیوں کا ایک بہت بڑا حلقہ بن گیا تھا۔ محمد بیگم اچھے معاشرتی اور اخلاقی مضامین اس میں لکھا کرتی تھیں۔

    جب امتیاز علی تاج نے ہوش سنبھالا تو محمدی بیگم نے بچوں کے لیے بھی ایک ہفتہ وار اخبار ”پھول‘‘ جاری کیا۔ مرحومہ بچوں کے لیے روایتی اور اخلاقی کہانیاں بھی لکھتی تھیں۔ جن میں سے بہت سی کتابی صورت میں چھاپ دی گئی تھیں۔

    جب اخباروں اور کتابوں کا کاروبار بڑھا تو میر صاحب نے اخباروں کے لیے ایڈیٹر ملازم رکھنے شروع کر دیئے۔ ان ایڈیٹروں کو آسان اردو لکھنے کی تربیت خود مولوی صاحب دیتے تھے۔ اس ادارے کے تربیت یافتہ ایڈیٹروں میں بڑے بڑے نام دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً بیگم نذرسجاد حیدر ، سید وجاہت حسین جھنجھانوی ، مولانا عبدالمجید سالک،نشتر  جالندهری، پنڈت ہری ناتھ اختر ، مولا نا چراغ حسن حسرت، مشہور افسانہ نگار غلام عباس  اور آخر آخر  میں حفیظ ہوشیار پوری، احمد ندیم قاسمی اور راجہ مہدی علی خاں دور متوسط کے ایڈیٹروں میں حفیظ جالندھری بھی شامل تھے۔

     میر ممتاز علی صاحب سے میرے والد کے تعلقات مخلصانہ تھے اور جب میں نے لاہور میں داخلہ لے لیا تو میں بھی کبھی کبھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ ریلوے روڈ پر گھر اور دفتر ایک ہی جگہ تھا۔ یہیں میں نے امتیاز، پطرس ،سا لک، حفیظ جالندھری ، غلام عباس اور چراغ حسن حسرت کو پہلی بار دیکھا مگر یہ جلوہ دور ہی کا تھا۔ حفیظ صاحب کی شہرت اس وقت پر تول رہی تھی ۔ عمروعیار وغیرہ دوا یک کتابیں بھی ان کی دارالاشاعت سے شائع ہو چکی تھیں ۔ مگر ان کا نام شہرت کے پر لگا کر اس وقت اڑا جب انہوں نے ” شاہنامہ اسلام “ لکھا اور اس کے خاص خاص حصے انہوں نے ایک مخصوص دھن میں سنانے شروع کیے اور ان کا سلام ’’سلام اے آمنہ کے لال‘‘  تو اتنا مقبول ہوا کہ گھر گھر پڑھا جانے لگا۔اس شاہنامہ نے انہیں فردوسیِ اسلام بنادیا۔

     لاہور کے شاعر اور ادیب ٹولیوں میں بٹے ہوئے تھے اور یہ ٹولیاں آپس میں ٹکراتی رہتی تھیں ۔ان کی ٹکروں کی وجہ سے ادبی دنیا میں خاصہ ہنگامہ رہتا تھا۔ ایک بڑی ٹولی تو یہی تھی جس کے سرغنہ پطرس تھے اور دارالاشاعت اس کا اڈا تھا۔ انہیں حضرات نے آگے چل کر نیازمندانِ لا ہور کا روپ دھارا۔ دوسری بڑی ٹولی شمس العلما مولا نا تاجور نجیب آبادی کی تھی ۔ تا جور مرحوم ایک مقامی کالج میں پڑھاتے تھے۔اس لیے ان کے سینکڑوں شاگرد تھے خود تاجور بہت اچھے ادیب اور شاعر تھے ۔ان دونوں ٹولیوں میں آئے دن ٹکر ہوتی رہتی تھی ۔ تاجور کو نیچا دکھانے کے لیے ہفتہ وار اور ماہوار رسالے بھی نکالے گئے ۔ جن میں سے بعض کی ادارت حفیظ صاحب کر تے تھے ۔ تاجور ایک لحیم شحیم انسان تھے جنہیں دیکھنے کے بعد تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ گاما پہلوان کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ مگر یہ کسی طرح نہیں سمجھا جاسکتا تھا کہ شاعر ہیں ۔ مگر مولانا جس قدر گراں ڈیل تھے اسی قدرگراں ڈیل ان کا علم وفضل بھی تھا۔ وہ تنہا اپنی ذات سے اپنی حریف ٹولی پر بھاری تھے ۔ حفیظ صاحب نے میدانِ کارزار گرم کر رکھا تھا۔ مگر تا جور رولر کی طرح اس میدان پر پھر جاتے تھے ۔ عجب لوہے کا بنا ہوا آدمی تھا ، چومکھی لڑتا تھا اور ڈٹ کر مقابلہ کرتا تھا۔ یہ لڑائیاں آج کل کی لڑائیوں کی طرح گھٹیا اور بے ہودہ نہیں ہوتی تھیں ۔ان میں بھی ایک وقار اور لطف ہوتا تھا۔ ادب وشعر کے آسمان پر گھنگھور گھٹائیں چھا جاتیں، دھونتال مینہ  پڑتا، کوہ پیکر بادل ٹکراتے ،شور قیامت بر پا ہوتا ،بجلی کے کوڑے بنتے، کبھی کبھی جھڑی بھی لگ جاتی ۔ مگر اکثر یہ ہوتا کہ برس کر کھل جا تا اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے طبیعتیں فرحت پانے لگتیں ۔ جب تک مولا نا لا ہور میں رہے اور آخر وقت تک وہ لاہور ہی میں رہے، یہ مقابلے اور مجادلے ہوتے رہے اور لاہور کی ادبی رونق کو بڑھاتےرہے۔

    حفیظ صاحب کی دیکھا دیکھی تقریباً  سبھی شاعروں نے ترنم سے اپنا کلام سنانا شروع کر دیا تھا۔ شاعروں کی جان پر یہ  اور غضب ٹوٹا، ایک سے ایک بے سرا شاعر ہے کہ گار ہا ہے اور میاں تان سین کی قبر پر لات مارر ہا ہے ۔اس کا ر دعمل ہونا ہی تھا۔ ایس پی ایس کے ہال میں اکثر مشاعرے ہوتے رہتے تھے ۔ایک صاحب جو اردو اور فارسی کے اچھے شاعر تھے اور گاتے بجاتے بھی خوب تھے اور مولانا تاجور کی فوج میں شامل تھے۔ ایک دفعہ مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے ہال میں پہنچ گئے ۔ یہ صاحب پوری طرح مسلح تھے اس مشاعرے میں حفیظ صاحب بھی آنے والے تھے ، آگئے ۔مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے وہ صاحب سٹیج پر آئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ:

    ’’ آج کے مشاعرے میں جو صاحب گا کر اپنا کلام سنانا چاہیں ، وہ با قاعدہ گا کر سنائیں، سازوں کا انتظام کر دیا گیا ہے‘‘۔

    یہ کہہ کر انہوں نے پردے کے پیچھے سے ہارمونیم اور طبلے کی جوڑی نکال کر سامنے سٹیج پر رکھ دی اور اسی کے ساتھ ساتھ ایک طبلہ نواز بھی آ کر بیٹھ گیا۔

    مشاعرے میں ہڑ بونگ مچ گئی ۔

     ان صاحب نے دوبارہ اعلان کیا کہ سب سے پہلے میں آپ کو اپنا کلام گا کر سنا تا ہوں:

    چناں چہ انہوں نے باجہ سنبھالا اور پورے تال سر سے اپنی غزل سنائی ۔

     جب انہوں نے گا ناختم کیا تو وہ تالیاں پیٹیں اور غوغا بلند ہوا کہ الامان الحفیظ اور حفیظ حفیظ کی آواز یں گونجنے لگیں ۔مگر حفیظ صاحب چپکے سے اُٹھ کر پہلے ہی باہر نکل گئے تھے۔ بھلے آدمیوں کا ایسے مشاعروں میں کیا کام؟

     حفیظ صاحب کی شہرت میں ان کی نظم ” رقاصہ‘‘ کو بھی بہت دخل ہے۔ ایک ریاست کے نواب نے ایک مشہور طوائف کے پیچھے ریاست کو برباد کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ واقعہ بہت مشہور ہو گیا تھا۔ اس زمانے میں ایک پنجابی گانا بھی بچے بچے کی زبان پر آ گیا تھا’’تو نبا وجدانہیں تار بنا‘‘ وغیرہ۔ایک جشن کے موقع پر حفیظ صاحب بھی اسی نواب کے دربار میں مدعو کیے گئے ۔ حفیظ صاحب کی حق گوئی اور بے باکی نے ان سے نظم ’’رقاصہ‘‘ کہلوائی اور بھرے دربار میں انہوں نے وہ نظم سنائی ۔ حاضرین پر سناٹا چھا گیا۔ وہ  رنڈی بھی سامنے بیٹھی ہوئی تھی ۔ حفیظ صاحب اس سے مخاطب ہو کر سناتے رہے ۔  نظم میں چوں کہ اسی کو مخاطب بھی کیا تھا اس لیے کر یلا اور نیم چڑ ھا! نظم بے حد تلخ ہوگئی ۔

     نواب کے چہرے پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جا تا تھا پھر ا س کے تیور بگڑ گئے ۔ ظاہرہے کہ اس کے بعد حفیظ صاحب پر انعام واکرام کی کیسی کیسی بارش نہ ہوئی ہوگی ۔

     یہ حفیظ صاحب کی ہمیشہ کی عادت ہے کہ لگی لپٹی نہیں رکھتے ۔ منہ پھٹ آدمی ہیں صاف کہنا اور سکھی رہنا اگر کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہوا کرے ۔ راجہ روٹھے گا تو اپنی نگری لے گا اور بے تکلف دوستوں کو ایسی کھری کھری سناتے ہیں کہ دھری جائیں نہ اٹھائی جائیں۔ حال ہی میں پچاس ساٹھ اہل ادب کے ڈنر میں ایک بہت بڑے سرکاری افسر نے حفیظ صاحب پر چند فقرے چست کیے پھر جو حفیظ صاحب پنجے جھاڑ کر اس ’’شریف آدمی‘‘ کے پیچھے پڑے تو اس کے لتے لے ڈالے۔ وہ بار بار کھسیانی ہنسی ہنس کر اڑاتا رہا مگر حفیظ صاحب نے لکھ پتی کی دوکوڑی کی کر دی۔

    اتفاق سے میں ان صاحب کے برابر بیٹھا ہوا تھا وہ گھبرا کر مجھ سے مخاطب ہوگئے ۔

    ’’دیکھا آپ نے؟“۔

     میں نے کہا، ’’ جی ہاں دیکھا، آپ نے اس بھڑوں کے چھتے کو کیوں چھیڑا؟‘‘

     روکھی مسکراہٹ سے بولے :”بڑا پیارا آدمی ہے‘‘۔

    انگریزوں کا اصول تھا کہ مشہور آدمیوں کو خطاب دے کر اپنا آدمی بنا لیتے تھے۔ چناں چہ ہندوستان کے جتنے سر برآورد حضرات تھے سب کو انگریز نے خطابات سے نواز دیا تھا۔ اسی پالیسی کے تحت انہوں نے ڈاکٹر اقبال کو’’سر“ کا خطاب دیا تھا اور مصور چغتائی ’’خان بہادر‘‘ کا مگر حفیظ صاحب کوصرف ’’خان صاحب‘‘ حفیظ صاحب اس کم نظری پر افسردہ اور برہم تھے اور برہمی یوں اور بھی بڑھی کہ ’’خان صاحب‘‘ عموماً ..... كلا ونتوں اور ڈوم ڈھاڑیوں کو کہتے ہیں ۔ ترنم سے پڑھنے کی وجہ سے ’’خان صاحب‘‘  کا خطاب ان پر چپک کر رہ گیا اور ان کے مخالفین اور بے تکلف دوست انہیں یہ کہ کر چھیڑنے لگے کہ حکومت نے تمہاری صحیح  قدردانی کی ہے‘‘۔

    یہ خطاب حفیظ صاحب کے لیے سانپ کے منہ کی چھچھوندر بن گیا کہ نگلے تو اندھا اور اگلے تو کوڑھی..... یادر ہے آگے چل کر جب انہیں ’’خان بہادر‘‘  کا خطاب ملا تو ان کی کسی قد راشک شوئی ہوئی مگر اب ان کی شہرت اور خدمات کی و ہ نوبت آ چکی تھی کہ انہیں ’’سر‘‘ کا خطاب ملنا چاہیے تھا۔ سرمحمد اقبال کے اُٹھ جانے کے بعد حفیظ صاحب ہی کو ’’سر‘‘ کا خطاب ملنا چاہیے تھا مگر ان کو’’ خان بہادر‘‘ ہی پر ٹرخادیا اور ادھر مولانا تاجور کوشمس العلما بنادیا:

    رموز مملکت خویش خسرواں دانند

     حفیظ صاحب بڑی خوبیوں کے آدمی ہیں، ہر رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور ہر قالب میں ڈھل جاتے ہیں۔ شاعر ہیں، نثر نگار ہیں، اڈیٹر ہیں، مصنف ہیں، نغمہ کارہیں، پرچارک ہیں، ملازم سرکار ہیں۔ بلکہ سوچنا پڑتا ہے کہ وہ کیا نہیں ہیں ۔ بڑی پہلودار شخصیت ہے حفیظ صاحب کی ۔ جب پچھلی بڑی لڑائی نے زور پکڑ ا تو حکومت نے سانگ پبلسٹی کا محکمہ کھولا ۔ اس محکمہ کا کام یہ تھا کہ گانوں اور ڈراموں وغیرہ کے ذریعے بھرتی ہونے کی ترغیب دلائی جائے اور حکومت کا بول بالا کیا جائے ۔ اس محکمے کے افسر اعلیٰ حفیظ صاحب مقرر ہوئے ۔ حفیظ صاحب نے اس محکمے کے فرائض افسرانِ بالا کے اطمینان کے مطابق انجام دیئے ۔ حفیظ صاحب گیت لکھتے تھے اور سازندوں میں بیٹھ کر خودہی گیتوں کی دھنیں تجویز کرتے تھے۔

    فرمایا کرتے تھے کہ ’’بھیاّ ! تم لوگ راگ راگنیوں اور تالوں کو دیکھتے ہو، ہمارا کام دوسری قسم کا ہے، میرا معیار گانے کا جانتے ہو کیا ہے؟ وہ جوکشمیری دروازے کے بس سٹینڈ پر ایک اندھا فقیر کھڑ اصدالگاتا رہتا ہے نا؟ بس مجھے تو ایسی دھنیں چاہئیں‘‘۔

    اور میں منہ پھیر کر اپنے ساتھی سے کہتا :” ہاں، اندھوں کے لیے تو اندھوں ہی کی دھنیں چاہئیں ‘‘۔

    حفیظ صاحب چونک کر کہتے :  ’’کیا کہہ رہے ہو پیارے“۔

    میں کہتا :’’کچھ نہیں، ان سے بات کر رہا تھا‘‘۔

    پھر فرماتے : ’’اب یہ وہ حفیظ نہیں ہے جسے تم رسالوں اور کتابوں میں دیکھتے آئے ہو، میں اب ایسے گیت لکھتا ہوں : میں تو چھورے کو بھرتی کرائی آئی رے‘‘۔

    بہت اچھا حفیظ صاحب ایں ہم اندر عاشقی ..... شاید آپ ہی کے محکمے  کا ایک گیت مجھے کسی نے سنایا تھا، اچھا ہے ہر یانہ کی بولی میں:

    بھرتی ہو جا رے تے باہر کھڑے رنگروٹ

    یہاں تو پہنے پھٹا پرانا وہاں ملے گا سوٹ

    بھرتی ہو جا رے.....

    یہاں تو پہنے نری کا جوتا وہاں ملے گا بوٹ

    بھرتی ہو جارے.....

    یہاں تو لیوے لاٹھی ڈنڈا وہاں ملے بندوک

    بھرتی ہو جا رے.....

    بولے : ’’نہیں نہیں ، یہ گیت میر انہیں ہے، کسی اور کا ہے‘‘۔

    حفیظ صاحب اس محکمے  کے اس وقت تک ڈائر یکٹر ہے جب تک یہ محکمہ  قائم رہا۔ حفیظ صاحب بڑی تن دہی سے کام کرتے ہیں اور آخر تک نباہے چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ان کی خدمات کے پیش نظر حکومت نے پانچ سوروپے پنشن مقرر کر دی تھی، مگر کہیں اوسوں سے پیاس بجھی ہے؟ یہ رقم  اونٹ کی ڈاڑھ میں زیراہوگئی ۔ مگر سونا ایک بار پھر اس وقت معیار پر کسا گیا، جب پاکستان میں دیہی امداد کا محکمہ قائم ہوا۔ حفیظ صاحب کو اس کا ڈائر یکٹر مقرر کیا گیا۔ معقول مشاہرہ ملے گا مگر سیکرٹریوں کو تو چار چار ہزارملیں  اور حفیظ صاحب کو صرف دو ہزار کی یافت  ہو:

    اے کمال افسوس ہے تجھ پر کمال افسوس ہے

     تو صاحب چند سال کی الٹا پلٹی میں یہ محکمہ  بھی ختم ہو گیا مگر شکر خورے کو شکر اور موذی کو ٹکر۔ مارشل لا کا زمانہ آ گیا اور حفیظ صاحب کی تعمیر نو میں مشیر مقرر ہو گئے ۔ اب سناہے کہ وہ محکمہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ عارضی محکموں  کی یہی تو خرابی ہے کہ وہ ختم ہو جاتے ہیں۔

    جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی

     اللہ بڑا مسبب الاسباب ہے۔ ایک در بند ہوتا ہے تو ستر ملتے ہیں اور بحمد اللہ حفیظ صاحب تو بڑے نصیبہ ورآ دمی ہیں ۔ جیسے سانپ کوز مین جگہ دیتی ہے ویسے حفیظ صاحب کو حکومت جگہ دیتی ہے  یہ تو  درزی کی سوئی ہے کہ ریشم اور مخمل  میں بھی چلتی ہے اور گاڑھے گزی میں بھی۔

    حفیظ صاحب میں شعر و موسیقی میں جو ربط ہے، اس کا سبب شاعروں سے بڑھ کر شعور ہے۔ اس کی ایک بین مثال ’’ترانۂ پاکستان‘‘ ہے۔ میں اس وقت ریڈیو پاکستان میں نگرانِ موسیقی تھا، جب ترانہ ٔپاکستان کا غلغلہ اُٹھا۔ اس ترانے کی دھن کے پانچ ہزار اور اس کے الفاظ کے پانچ ہزار مقرر کیے گئے تھے۔ صبح سے شام تک دھن بنانے والے اپنے سروں کو دھنتے اور اپنی اپنی دھنیں ریکارڈ کرا کر چلے جاتے ۔ کراچی کے علاوہ اور شہروں سے بھی دھنوں کے ریکارڈ اس مقابلے میں شریک کیے گئے تھے اور میعاد پوری ہو جانے پر اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خاں مرحوم کو منتخب دھنیں سنائی گئی تھیں ۔ چھاگلا مرحوم کی دھن سب سے بہترسمجھی  گئی تھی مگر اسے بھی لیاقت علی خاں مرحوم نے پوری طرح پسند نہیں کیا تھا۔ان کے بعد جو وزیراعظم صاحب تشریف لائے تھے، انہوں نے مزید انتظار کیے بغیر چھا گلا کی دھن منظور کر لی ۔

    اس کے بعد شاعروں کو اذن عام دیا گیا کہ دھن پر ترانۂ پاکستان کے بول بٹھاؤ۔ اب پھر شاعروں کی تاخت ریڈ یوسٹیشن پر ہونے لگی۔ بڑوں نے زور مارا ان سب کے ریکارڈ بھی بھرے گئے ۔ حفیظ صاحب نے بھی اپنا ترانہ ریکارڈ کرایا۔ پھر ان سب بولوں کی جانچ خدا جانے کن بڑے بڑے ماہروں نے کی اور سب نے متفقہ فیصلہ کیا کہ حفیظ صاحب کا ترانہ سب سے بہتر ہے۔ میں نے بھی ریکارڈنگ کے دوران میں بعض نامی شاعروں کے بول دیکھے اور سنے تھے ۔ واقع میں حفیظ کے ترانے سے بہتر تو کجا، کوئی اس کا پاسنگ بھی نہیں تھا۔

    یارلوگوں نے پہلے ہی سے شور مچارکھا تھا کہ یہ کیسی الٹی کارروائی ہورہی ہے ۔ پہلے چیز لکھی جاتی ہے، اس کے بعد اس کی دھن بنائی جاتی ہے۔ یہاں پہلے دھن بنادی گئی ہے اور بعد میں اس پر بول کہلوائے جار ہے ہیں۔ بہتوں کو انگریزی میں غصہ آیا اور انہوں نے انگریزی محاورہ Putting The Cart Before The Horse دہرایا۔ مگر جسے پیا چاہے وہ سہاگن ۔ حفیظ صاحب سہاگن بنے اور پانچ ہزار رونمائی میں انہیں ملے مگر روپیہ پیسہ کیا ہے؟ یہ تو ہاتھ کا میل ہے۔ پھر حفیظ جیسے صاحب ِثروت کے نزدیک پانچ ہزار کی بھلا کیا حقیقت ہے۔ یہ کتنے بڑے اعزاز اور سرفرازی کی بات ہے کہ کسی شاعر کا لکھا ہوا ترانہ پوری قوم اور ملک کا ترانہ بن جائے ۔ یہ افتخار حفیظ صاحب کو حاصل ہوا اور وہی اس کے مستحق بھی تھے۔

    اس کامیابی کا اعلان ہونا تھا کہ یار لوگ کوئلوں پہ لوٹ گئے اور تو اور حفیظ صاحب کے قریب ترین دوست، قدردان ، مداح ، سالک اور مجید لاہوری جیسے بھی ہتھے سے اکھڑ گئے اور نہ صرف اس ترانے کی مخالفت ان دوستوں نے کی، بلکہ اس کا مذاق بھی اڑایا اور اس کی پیروڈی بھی تھی بلکہ ان کے ایک دوست نے جس سے چانٹا چٹول کا مذاق ہوتا ہے، اسی بحر اور اسی دھن میں ایک فحش پیروڈی لکھی، جسے وہ مزے لے کر حفیظ صاحب کی موجودگی میں دوستوں کو سنایا کرتے تھے اور حفیظ صاحب کلستے رہ جاتے تھے۔ دوستوں کا یہ  وقر ذرا کم دیکھنے میں آتا ہے۔

    حفیظ صاحب کو میں نے بیسیوں مشاعروں اور ادبی نشستوں میں پڑھتے سناہے۔ بڑے اعتماد سے پڑھتے ہیں ۔ ان کا حافظ بھی اچھا ہے۔ چالیس چالیس سال پہلے کی کہی ہوئی طویل چیزیں انہیں اب بھی ازبر ہیں۔ جب وہ کسی مشاعرے میں اپنا نیا کلام سناتے ہیں تو ان سے ’’رقاصہ‘‘  یا ’’بسا لے اپنے من میں میت‘‘ یا ’’جاگ سوزِ عشق جاگ‘‘ سنانے کی ضرور فرمائش کی جاتی ہے۔ اب وہ سنانے سے پہلے ایک چھوٹی سی تقریر بھی ضرور کرتے ہیں اور جب زیادہ لاڈ میں آتے ہیں تو گنگنا کر بولنے لگتے ہیں اور ان کے چہرے کے تاثرات دیکھنے کے لائق ہوتے ہیں۔ یہ بھی ان کی ایک ادائے محبوبی ہے اور جب انہیں کسی شعر کی بہت دا د ملتی ہے تو وہ اس قدر بلک بلک کر اس شعرکودہراتے اور تہراتے ہیں کہ مشاعرے کو سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔ یہ ان کا غمزهٔ تر کانہ ہے۔ ان کے قدر دان ان کی انہی  اداؤں پرلوٹ ہیں۔

    حفیظ صاحب شہرت کے اس درجے پراب پہنچ   گئے ہیں کہ جب ان سے پہلی بار کسی  کا تعارف کرایا جاتا ہے تو صرف بسور کرکھیسیں  نکال دینے کو کافی سمجھتے ہیں نئے آدمیوں سے بات کرنے میں اس قدر احتیاط برتتے ہیں کہ خاموش رہنے ہی کو بہتر سمجھتے ہیں۔

    ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان سے کئی کئی دفعہ تعارف ہو چکا ہے مگر پھر جب ملتے ہیں تو انجان بن جاتے ہیں۔ شاید تجاہل عارفانہ بھی بڑے آدمیوں کی ایک خصوصیت ہوتی ہے۔ شاید نہ پہچاننے  سے بزرگی وعظمت قائم ہوتی ہو؟ یہ حادثہ بار بار مجھے پیش آچکا ہے کہ میں نے مؤدبانہ سلام کیا اور انہوں نے نہایت بے مروّتی سے سر کو خفیف سی جنبش دے دی۔ یا ہاتھ سے مکھی سی اڑادی جب پھر کچھ دیر بعدکسی نے تعارف کرایا تو پہلے ٹکٹکی  باندھ کر دیکھا، پھر چہرے پر حیرت کا تاثر پیدا کیا، پھر وفور مسرت کا اور پھر ارے تم ہو شاہد ! کہہ کر گلے لگا لیا۔ اگلی دفعہ پھراجنبی کے اجنبی دھرے ہوئے ہیں۔

    اصل میں اس بناوٹ کا کوئی پہلو  نہیں ہے۔ انہیں ہزاروں آدمیوں سے ملنا ہوتا ہے کہاں تک اور کس کس کو یا درکھیں؟ لہٰذا اب میں انہیں یاد رکھتا ہوں اور جب کبھی اور جہاں کہیں بھی ان سے آمنا سامنا ہو جاتا ہے تو میں خود ہی ’’ہاؤ‘‘ کر کے ان سے لپٹ جاتا ہوں۔ میں ان سے کئی سال چھوٹا ہوں، مگر وہ میری اس گستاخی کو گوارا فرما لیتے ہیں۔

    حفیظ صاحب کو ان کے اسی تجاہل عارفانہ اور خاموشی کی وجہ سے لوگ مغرور اور اوچھا آدمی سمجھتے ہیں ، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا دل کھرے سونے کا ہے مگر اس دل کی گھنڈی وہ بڑی دیر میں کھولتے ہیں اور جب وہ کھل جاتے ہیں تو پھر ان کے بے پایاں خلوص کو دیکھیے ایک دریا ہے کہ امڈا چلا آتا ہے۔

    ۱۹۵۰ ء میں بے کاری و بے روزگاری کی وجہ سے جب میرا سارا اندوختہ ختم ہوگیا اور میں مقروض ہونا شروع ہوگیا تو چند بھلے آدمیوں نے مجھ سے کہا کہ میاں یوں کب تک گز ر کرو گے؟ ہم نے تمہارے لیے بات کی ہے۔ شیخ محمد اکرام صاحب تم سے ملنے کے خواہش مند ہیں ۔ وہ تم سے واقف ہیں ، تم ذرا ان سے مل تولو۔ چناں چہ شیخ صاحب سے ملنے دو ایک دن کے بعد ان کے دفتر پہنچا۔ اطلاع کرائی ، رسائی ہوئی ، خوش اخلاقی سے ملے، کم گوآ دمی ہیں مگر معاملہ فہم اور مردم شناس۔ بولے: ’’آپ کو ہماری ضرورت نہیں ہے، مگر  ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔ آپ یا تو ’’ماهِ نو‘‘ کی ایڈ یٹری قبول فرمایئے یا ریڈیوپاکستان میں آجایئے‘‘۔

    میں نے کہا میں اپنا پرچہ”ساقی‘ ‘نکالتا ہوں اس لیے ’’ماہِ نو‘‘ کا ایڈیٹر نہیں بن سکتا۔

    بولے:”تو ریڈیو پاکستان میں آجائیے اور ہمارے سیکرٹری جی ، احمد صاحب سے بھی ملتے جایئے‘‘۔

    میں نے کہا: ’’کیا آپ سے مل لینا کافی نہیں ہے؟‘‘

     بولے:’’رسماً مل لیجیے ‘‘۔

    جی ، احمد صاحب سے بھی ملا۔ انہوں نے فرمایا:”اکرام صاحب نے ابھی ابھی بتایا کہ آپ ریڈیو پاکستان میں آرہے ہیں، بہت خوشی کی بات ہے‘‘۔

    میں نے کہا: ’’جی ہاں، وہ دن گئے کہ کہتے تھے نو کر نہیں ہوں میں“۔

     فرمایا:”اسے آپ نوکری ہرگز نہ سمجھیں‘‘۔

    ان کے کمرے سے باہر نکلا تو سامنے برآمدے میں اے ڈی اظہر اور حفیظ صاحب کھڑے نظر آئے ، دونوں سے مصافحہ ہوا۔

    حفیظ صاحب نے پوچھا: ”خیر ہے، آپ یہاں کہاں؟“۔

     میں نے کہا:”نوکری لینے آیا تھا‘‘۔

    پھر مختصر روداد انہیں بتائی تو بے حد اداس اور متاسف ہوکر اظہر صاحب سے بولے: ’’سنتے ہو اظہر، پاکستان میں شاہد نوکری کر رہا ہے‘‘۔

    پھر اظہر صاحب مجھے اپنے کمرے میں لے گئے۔ وہ اس وقت پاکستان ریلوے کے فنانشل ایڈوائزر تھے۔ دیر تک افسوس کرتے رہے اور مجھے سمجھاتے رہے۔ حفیظ صاحب کو اس دن میں نے دیکھا کہ واقعی انہیں اس اطلاع سے صدمہ ہوا۔ یہ اگر ان کا خلوص نہیں تھا تو پھر کیا تھا۔

    حفیظ صاحب نے ویسے تو دنیا بہت دیکھی اور زمانے کا گرم و سردبھی چکھا ہے مگران میں چھل ، فریب اور مکاری نہیں ہے۔کبھی کبھی  بڑی بھولی بھولی باتیں کرتے ہیں تو ان پر بڑا پیار آتا ہے۔

    ایک دفعہ کہنے لگے:’’ میں سرکاری ملازمتوں اور اس کی زندگی سے تنگ آگیا ہوں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گھر بیٹھ جاؤں ، بس پھر میں یہ  کروں گا کہ مسجدوں  اور دیہاتوں میں جایا کروں گا اور مجمع   سے کہوں گا:”لاؤ، تم سب دو دو پیسے نکالو، میں تمہیں ’’شاہنامہ اسلام‘‘ سناؤں گا۔ میرے پاس اتنے پیسے آہی جائیں گے کہ دو وقت کی روٹی مجھے مل جائے گی۔ باقی وقت میں کتابیں لکھوں گا، قوم کا بھی بھلا ہوگا اور اپنا بھی‘‘۔

    حفيظ  صاحب کے بھولپن کا ایک اور واقعہ یا دآیا:

    دو ڈھائی سال ہوئے کہ ایک خیر سگالی وفد دِلّی گیا تھا۔ اس میں حفیظ صاحب بھی تھے۔ امرت سر پر حکومت ہند کا ایک نمائندہ ہماری پذیرائی کے لیے موجود تھا۔سٹیشن کے رستوران میں سب کو کھانا کھلایا گیا۔ اتنے میں ریل کے آنے کا وقت ہو گیا۔ سب کی سیٹیں فرسٹ کلاس میں بک تھیں۔ ہر ڈبے میں چارسیٹیں تھیں ہم چارچار کی ٹولیوں میں بٹ گئے ۔ ذوالفقار بخاری، شوکت تھانوی، سید محمد  جعفری اور میں ایک ڈبے میں داخل ہو گئے۔ قلی نے بستر کھول کر لگا دیئے۔

     جب ہم اپنی اپنی سیٹوں کے ہو گئے تو بخاری صاحب نے کہا: ’’ارےیار حفیظ کو لاؤ ، ذرا گپ شپ رہے گی‘‘۔

    شوکت تھانوی ان کی تلاش میں روانہ ہوئے ۔ بڑی دیر ہوگئی ۔ جب گاڑی چھوٹنےلگی تو وہ ڈگ بھرتے ہوئے آئے اور بولے۔’’ حفیظ تو ایئرکنڈیشنڈ کو میں سورہے ہیں۔ میں نے سارے فرسٹ کلاس دو دفعہ چھان ڈالے ہیں دکھائی نہیں دیے۔ پھر کنڈکٹر گارڈ سے میں نے کہا کہ صاحب ایک صاحب،جن  کا نام ابوالاثر حفیظ جالندھری ہے، ہمارے ساتھ وفد میں آئے تھے، وہ کھو گئے ہیں، کیا آپ ان کی نشان دہی کر سکتے ہیں؟

    اس نے لسٹ نکال کر دیکھی اور بولا:” وہ دیکھیے ایئر کنڈیشنڈ کوچ ہے اس کے فلاں خانے میں آپ کے دوست ہیں‘‘۔

    میں نے وہاں جا کر دیکھا تو حفیظ صاحب آرام سے پڑے سورہے تھے۔

    میں نے کہا ’’حضرت ابھی سے سونے کا کیا موقع ہے؟‘‘

    تو بولے: ’’یارلڑلڑ کر تو یہ جگہ لی ہے۔ اب تم چاہتے ہو کہ یہ مجھ سے چھن جائے؟ میں نے کہہ دیا تھا کہ اگر مجھے اس میں جگہ نہ دی گئی تو میں واپس چلا جاؤں گا، اور تم ،تم تو .....ہو، جیسے تم فرسٹ کلاس سمجھ رہے ہو، وہ دراصل سیکنڈ کلاس ہے۔ جاؤ بیٹا اسی میں مرو بندہ تو اب سوتا ہے‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے کروٹ لے لی۔

    بخاری صاحب نے اس اطلاع پرہنس کر کہا: میاں تم تو کہتے تھے کہ حفیظ بھولا آدمی ہے‘‘۔

    میں نے کہا ”بھولا آدمی ہی ایسی بات کر سکتا ہے‘‘۔

    جب وفد کا کام ختم ہو گیا تو سب سے ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے کہہ دیا کہ کل صبح ہم سب کو ہوٹل چھوڑ دینا ہے۔ جو صاحب دِلّی میں ابھی اور ٹھہر نا چا ہیں، اپنا انتظام خود کریں میں تو اسی شام ہوٹل سے اُٹھ کر شہر میں اپنے ایک عزیز کے ہاں آگیا۔ پانچ چھ دن اور دِلّی میں ٹھہرا، واپسی ٹکٹ  سب کے پاس تھے ۔ جس رات کو واپسی تھی میں اسٹیشن پہنچاتو فرسٹ کلاس اور سیکنڈ کلاس پر بہت بھیڑ تھی۔ ان میں جگن ناتھ آزاد اور کئی شاعر کھڑے دکھائی دیئے۔ ان سے تجدید ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ سب کے سب لائل پور جارہے ہیں ایک مشاعرے میں ۔ میں ان حضرات سے باتیں کر ہی رہا تھا کہ ایک سردار جی گھبرائے ہوئے آئے اور بولے ” آپ حفیظ جالندھری ہیں؟‘‘

    میں نے کہا،’’ نہیں، میرا نام تو شاہد احمد دہلوی ہے‘‘۔

     آزاد صاحب نے انہیں بتایا کہ ’’حفیظ صاحب توصبح  کی گاڑی سے لائل پور چلے گئے۔

    میں نے کہا: ” فرمایئے آپ کوحفيظ صاحب سے کیا کام ہے؟‘‘

    سردار جی بولے: ’’جی میں یہاں کا بکنگ کلرک ہوں ۔ حفیظ صاحب نے اپنا دِلّی سے لاہور کا واپسی ٹکٹ واپس کر دیا تھا اور میں نے اس کا پے منٹ کر دیا تھا۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کچھ اس قسم کا سرکاری ٹکٹ تھا جو واپس نہیں کیا جاسکتا اور جی میں تو غریب آدمی ہوں، مجھے اپنی جیب سے یہ پیسہ بھرنا پڑے گا۔‘‘

    ’’میں نے انہیں اطمینان دلایا کہ آپ گھبرائیے نہیں، آپ کا پیسہ آپ کو واپس مل جائے گا‘‘۔

     سب شاعر کھڑےیہ باتیں سن رہے تھے۔ میں نے آزادصاحب سے کہا کہ آپ لائل پورپہنچ  کر حفیظ صاحب سے ٹکٹ کے پیسے واپس لے لیں اور ان سردار جی کو واپسی پر دے دیں‘‘۔ بچار سردار شکر یہ ادا کر کے ریل  کے چھوٹنے تک وہیں کھڑا رہا۔

    ہوا یہ تھا کہ حفیظ صاحب کے پاس دوٹکٹ پاکستان جانے کے ہو گئے تھے ایک وفد کی واپسی تھی اور دوسرا مشاعرے کا ٹکٹ ۔ لہذا انہوں نے واپسی ٹکٹ واپس کر دیا اورکسی نے واپس کرنے پر ردو کدبھی  نہیں کی ۔ لہٰذا انہوں نے پیسے جیب میں ڈالے اور پاکستان چل دیئے۔ مگر یارلوگ بعد میں کہتے رہے کہ حفیظ صاحب کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے ہمیں ہندوستانیوں کی نظر میں ذلیل کرایا، میں کہتا ہوں کہ حفیظ صاحب آخر دوٹکٹو ں کا کیا کرتے؟ وہ کہتے ہیں کہ ’’دوسراٹکٹ لیاہی کیوں؟‘‘یہ عجیب منطق ہے۔ پیسہ آتا ہوا کس کو برا لگتا ہے؟

    حفیظ صاحب اُردو کے شیدائی اور شعر و ادب کے فدائی ہیں ۔ یو پی والوں نے ایک زمانے میں ان کے کلام پربھی بڑی لے د ے کی تھی ۔ اہلِ زبان کو اگر چہ اس کا حق حاصل ہے کہ غیر اہلِ زبان کی غلطیوں سے انہیں آگاہ کریں ،مگر اس کا بھی ایک شائستہ پیرایہ ہوتا ہے۔ لکھنؤ والوں نے ایک باقاعدہ محاذ بنا رکھا تھا اور اسے بڑی فوقیت سمجھتے کہ دوسرے شہر والوں کی زبان پکڑتے رہیں ۔ یہ ان کی پرانی خصلت ہے ۔اسی وجہ سے دِلّی اور لکھنؤ کے دو دبستان بنے اور ان میں بڑے بڑے معرکے ہوتے رہے ۔ حفیظ تو حفیظ انہوں نے اقبال تک کو نہیں بخشا۔ مرحوم نے ایک آدھ بار تو جواب دیا اس کے بعد خاموشی اختیار کر لی ۔ مگر حفیظ صاحب لڑنے اور اڑ نے سے نہیں گھبرائے یہاں تک کہ ادب کے لٹھ بندوں نے ان کا لوہا مان لیا ، چناں چہ ان کا ایک شعر ہے:

    حفیظ اہل زباں کب مانتے تھے

    بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں

     لکھنؤ والوں کے منہ کوتو خون لگ گیا تھا۔ جب کوئی اور ہاتھ نہ آتا تو آپس میں ہی لڑتے مرتے تھے ۔ آخری معرکہ کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا اثر اور فراق کا ہو چکا ہے جس میں نوبت کھلی کھلی گالیوں تک پہنچی ۔اب آخر آخر میں ان کا کچھ دف مرا ہے جب بھارت کی حکومت نے خود ان کے صوبے میں اُردو کو کوئی حیثیت نہیں دی اور ان کا بیس  لاکھ دستخطوں کا محضر بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔

    حفیظ صاحب اس لحاظ سے بھی خوش نصیب ہیں کہ ان کی خانگی زندگی ہمیشہ خوش گوار گزری۔ بعض سطحی نظر رکھنے والے حضرات معترض ہوتے ہیں کہ انہوں نے ایک چھوڑ تین تین شادیاں کیوں کیں؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ حسب ضرورت کیں ۔

     جب وہ سر عبدالقادر کے ساتھ ولایت گئے تو وہاں سے ایک میم کو لائے ۔ وہاں تو عورت ایک چھولگنی بیماری ہے ۔ حفیظ صاحب شریف آدمی ہیں ۔ وہاں کوئی گلے پڑ گئی تو اسے اپنے ساتھ لانا ہی پڑ اور نہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ یارلوگ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو کر بیویاں یا داشتائیں وہیں چھوڑ آتے ہیں ۔ قصہ زمیں برسر ز میں ،مگر شریف آدمی کی بڑی مشکل ہے کہ اپنی شرافت میں مارا جا تا ہے ۔حفیظ صاحب اپنی میم صاحب کو ساتھ لے آئے ۔ کئی سال تک وہ ان کے ساتھ رہیں ۔ان سے بچے بھی ہوئے مگر اس قوم میں وفاداری کہاں؟ بڑی بے مروتی سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ اپنے بچوں کو لے کر میم صاحب اپنے وطن ہمیشہ کے لیے سدھار گئیں ۔ کسی قسم کی انتقامی کارروائی کرنے میں شرافت مانع تھی اور حفیظ صاحب اپنا دل مسوس کر رہ گئے۔

    اللہ نے انہیں اس صبر کا اجر یوں دیا کہ انہیں دِلّی کے ایک شریف گھرانے کی خاتون اس سانحہ کی تلافی کرنے کے لیے مل گئیں اور حفیظ صاحب نے چپ چپاتے ان سے شادی کر لی۔ ان کے اکثر احباب کو بھی اس کا علم نہیں ہوا۔ ضرورت بھی کیاتھی اس کی تشہیر کرنے کی ہاں مجھ پر بھی یہ بات یوں کھل گئی کہ چند سال پہلے میں جب ریڈیو پاکستان لاہور، پروگرام نشر کرنے گیا تو ڈیوٹی روم میں ایک جانی پہچانی خاتون کو بھی بیٹھے دیکھا انہوں نے بھی مجھے پہچان  کر سلام کیا۔

    ڈیوٹی آفیسر نے حیران ہو کر باری باری سے ہم دونوں کو دیکھا اور مجھ سے پوچھا:” آپ انہیں کیسے جانتے ہیں؟“۔

    میں نے کہا: ’’یہ آل انڈیا ریڈیو، دِلّی کے ڈراموں میں شریک ہوا کرتی تھیں اور قیام پاکستان کے بعد ہمارے سٹیشن کے ڈراموں میں حصہ لیتی رہی ہیں‘‘۔

    ’’جی ہاں، مجھے یہ بھی معلوم ہے کیوں کہ کبھی کبھی کراچی میں بھی ہم لاہور کے ڈرامےسن لیتے ہیں‘‘۔

    ’’بس آپ کو اتنا ہی معلوم ہے؟‘‘

    ’’ اس سے زیادہ معلوم کرنے کی ضرورت بھی مجھے کیا ہے؟‘‘

    ’’ اجی صاحب، یہ مسز حفيظ ہیں‘‘۔

    ’’ایں ؟ اچھا تو آپ ہیں مسز حفیظ!مسز حفیظ السلام علیکم !‘‘

    پھر ہم سب ہنس پڑے، اور چائے آگئی اور مسز حفیظ نے چائے بنا کر سب کو پیش کی ۔ حفیظ صاحب واقعی خوش نصیب ہیں کہ انہیں اتنی اچھی بیوی مل گئی۔ اللہ تعالیٰ جوکام کرتا ہے، بہتری کے لیے کرتا ہے۔ اگر میم صاحب روٹھ کر نہ چلی جاتیں تو یہ نیک بی بی حفیظ صاحب کو کہاں سے ملتی؟

    ’’خدا شرّے برانگیز دکہ خیر ِمادراں باشد‘‘

    حفیظ صاحب علم وادب یا ادیبوں کا کوئی کام ہو، اس میں بے چون و چراشریک ہو پاتے ہیں۔ عجیب لوچ دار طبیعت پائی ہے۔ انہوں نے بڈھوں میں بڑھے، جوانوں میں جوان اور بچوں میں بچہ بن جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کے اس پہلو نے بھی انہیں ہر دل عزیز بنارکھاہے۔

    جب ہم نے گلڈ کا پہلا جلسہ کیا تو کئی سو بلاوے پاکستان کے دونوں حصوں میں ادیبوں اور شاعروں کو بھیجے تھے۔ مجھے کنوینر بنایا گیا تھا۔ خدا کے فضل سے سبھی اس جلسے میں شریک ہو گئے تھے اور جب اس کے ضوابط مرتب کیے گئے تو ان پر خاصہ ہنگامہ ہوا تھا۔ حفیظ صاحب ایک ایک کو ٹھنڈا کرتے پھرتے تھے ۔ کسی کو پیار سے راضی کرتے اورکسی کو خوشامد در آمد سے اور کسی کو آنکھیں دکھا کر، اس سے زیادہ ہنگامہ اس وقت ہوا جب الیکشن ہوا۔ طے یہ ہوا کہ کراچی، لاہور اور ڈھاکہ اور مرکزی گلڈ کا الیکشن فی الحال کردیا جائے۔ لاہور اور ڈھاکہ کے الیکشن میں کچھ پیچیدگیاں پڑیں مگر کراچی والوں نے یہ عجیب فیصلہ کیا کہ مجھے نامزد کر دیا کہ کراچی کے لیے ممبر میں نامزد کروں۔

    قرعۂ فال بنامِ من دیوانہ زدند

     یہ ہفت خواں بھی بغیر کسی اختلاف کے بخیر وخوبی طے ہو گیا ۔ حفیظ صاحب کا نام کسی فہرست میں شامل نہیں ہوا، مگر ان کی پیشانی پر شکن تک نہیں آئی۔ انہوں نے نہ تو اس وقت کسی سے شکایت کی اور نہ بعد میں انہیں گلڈ میں کوئی عہدہ دیا گیا بلکہ اب تک کے ہر معاملے میں ہم ان کے بزرگانہ مشوروں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور خود حفيظ صاحب اپنے آپ کو گلڈ کا ایک مستعد سپاہی سمجھتے ہیں۔ جب بھی ہمیں ان کی ضرورت ہوتی ہےہم انہیں بے تکلفی  سے بلا لیتے ہیں اور وہ اپنے دس کام چھوڑ کر آ جاتے ہیں۔ یہ کتنے بڑے ظرف کی بات ہے کہ بغیر کسی ذاتی مفاد کے حفیظ صاحب گلڈ کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ایک بہت بڑے شاعر اس بات پر مچلے ہوئے ہیں کہ مجھے گلڈ میں کوئی عہدہ دیا جاتا تو میں ممبر بن جاتا۔ اس کے برعکس حفیظ جیسی عظیم شخصیت کا شاعر ہانکے پکارے کہتا رہتا ہے کہ مجھے گلڈ میں ہرگز کوئی عہدہ نہ دیا جائے ۔ میں گلڈ کا ایک خادم ہوں اور خادم ہی رہنا چاہتا ہوں۔

    ببیں  تفاوتِ ره از کجاست تا کجا

    دو ڈھائی مہینے ہوئے کراچی کے گلڈ نے ’’یوم نذیر احمد‘‘ منایا تھا۔ اس میں شرکت کے لیے گلڈ کے تمام ممبروں اور غیر ممبروں کو بھی دعوت نامہ بھیج دیا گیا تھا۔ حفیظ صاحب اتفاق سے کراچی میں موجود تھے۔ ان کی بھلمنساہت دیکھ کر وہ نہ صرف اس تقریب میں شریک ہوئے بلکہ انہوں نے نذیر احمد کے ادب اور معاشرے پر اس کے اثرات پر ایک جامع تقریر کی تھی اور اس موقع کے لیے نذیراحمد پر ایک یادگارنظم بھی لکھی۔ وہ نظم آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

    اے نذیر احمد صریر ہر قلم ہے تیری یاد

    لوح دل پر جب سے تو نے لکھ دیاحق العباد

    تیری تحریروں سے پہلے کیا تھی حالت قوم کی

    چھائی تھی بن کر مرض ہر سو جہالت قوم کی

    نبض تو نے دیکھ لی بگڑا ہوا تھا ہر مزاج

    اے مسیحائے قلم ! تو نے کیا اس کا علاج

    دور رس تھی عقل تیری اور روشن تھا دماغ

    ملک میں روشن کیا تہذیب کا تو نے چراغ

    تیری ہر تحریر ہے تصویر خورشید علوم

    کرتے ہیں کسب ضیا اس نور سے ماہ ونجوم

    نور تیرے ہی قلم نے ملک میں پھیلا دیا

    رات کو دن کر دیا کرنوں کا مینہ برسا دیا

    دشمنِ اسلام کا منہ تو نے کالا کردیا

    علم وفن کا روئے عالم میں اجالا کردیا

    حفیظ صاحب جب ہماری دل جوئی کا اس قدر خیال رکھتے ہیں تو ہم بھلا انہیں اپنے دل میں جگہ کیوں نہ  دیں؟ یہ حفیظ صاحب کی نیک نیتی اور نیک نفسی ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر قسم کا سکھ دے رکھا ہے ۔ شہرت ،عزت ، دولت ، سبھی سے اللہ نے انہیں نوازا ہے ۔ ماڈل ٹاؤن میں ان کی ایک چھوڑ دو کوٹھیاں ہیں ۔ چلن کے آدمی ہیں ، کوئی عیب ان کے پیچھے نہیں لگا ہے ۔ اپنے آپ کو انہوں نے بڑی محنت سے بنایا ہے ۔اس لیے انہیں روپے پیسے کی بھی قدر ہے۔ جز رس ہیں بلکہ ان کی جز رسی کنجوسی کی حد تک پہنچی   ہوئی ہے۔ کنجوس کہلا نا مسرف کہلانے سے بہرحال بہتر ہے۔ انہوں نے اپنی کار کبھی نہیں خریدی حالاں کہ وہ اگر چاہیں تو ایک نہیں دو دو کاریں رکھ سکتے ہیں ۔ ان کا کوئی شوق یا مشغلہ ایسا نہیں ہے جس میں پیسہ خرچ ہوتا ہو۔ دولت لٹانا اور گھر پھونک تماشا دیکھنا کوئی ہنر بھی تو نہیں ہے۔ انہوں نے ساری عمر محنت سے پیسہ کمایا ہے، اس لیے انہیں اس کی قدر بھی ہے۔

    آخر میں حفیظ صاحب کی ایک خصوصیت اور سن لیجیے:

    حفیظ صاحب کسی کو تکلیف نہیں دیتے۔ کان ادھر لائیے ، چپکے سے اس سلسلے میں ایک بات سنیے۔ حفیظ صاحب اس قدر محتاط ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی کو کھانے پر آنے کی تکلیف بھی آج تک نہیں دی۔

     ( ۱۹٦٣ ء)