شوکت تھانوی
شوکت تھانوی
خدا بخشے شوکت تھانوی ان لوگوں میں سے تھے جو روتوں کو ہنساتے تھے۔ ان کی ہر بات ایک لطیفہ ہوتی تھی۔ عجب زعفران زار شخصیت تھی مرحوم کی۔ چلبلے آدمی تھے، نچلے نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ ان کی رگوں میں خون کے بدلے پارہ دوڑتا تھا۔ تُرت پھُرت، یہ آئےوہ گئے۔ آدمی کیا تھا چھلاوہ تھا۔ بڑی جان تھی مرنے والے میں۔ یقین نہیں آتا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ اب بھی وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں پھر رہا ہے۔ بھلا جس میں اتنی زندگی اور زندہ دلی ہو وہ کیسے مر سکتا ہے؟ مگر یقین کرو یا نہ کرو شوکت واقعی مر گیا۔ روتوں کو ہنسانے والا ہنستوں کو روتا چھوڑ گیا۔ میں اس کے حد سے بڑھے ہوئے خلوص کو دیکھ کر کہا کرتا تھا’’دیکھ لینا یہ شخص ایک نہ ایک دن ایسا دھوکا دے گا کہ بلبلاتے ہی رہ جاؤ گے‘‘۔ دیکھ لیا نا؟ بتیس سال کے تعلقات کا اتنا سا بھی خیال نہیں کیا اور اکلا ہی سدھار گیا۔ ایسی بھی کیا جلدی تھی؟ ساتھ ہی چلتا۔ ہر کام میں جلدی، زندگی میں بھی جلدی، مرنے میں بھی جلدی۔
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
شوکت تھانوی کا نام پہلی بار اس وقت سنا جب ٣٥ سال ادھر کسی نے بتایا کہ ’’نیرنگِ خیال‘‘ کے سالنامہ میں ان کا ایک مضمون ’’سودیشی ریل‘‘ پڑھنے کے لائق چھپاہے۔ رسالہ منگا کر پڑھا، واقعی طبیعت پھڑک گئی۔ اب بھی جب کبھی وہ مضمون یاد آجاتا ہے تو ہنسی آجاتی ہے۔ جب اس مضمون کی شہرت عام ہوئی تو کسی حاسد نے پتہ چلایا کہ کسی انگریزی اخبار میں کوئی مضمون چھپا تھا، یہ مضمون اس کا ترجمہ ہے۔ ہمیں بھی اس کی ٹوہ لگ گئی۔ اصل مضمون کا تراشہ حاصل کیا۔ ترجمہ تو ترجمہ، ان دونوں مضمونوں میں کوئی مناسبت ہی نہیں تھی۔ بہت سے بہت یہ کہا جا سکتا تھا کہ مرکزی تصور اس مختصر سے خاکے سے لیا گیا تھا۔ شوکت تھانوی نے اس تصور کو اپنے رنگ میں اس خوبی سے پیش کیا تھا کہ یہ سولہ آنے (یا سوا پیسے؟) انہی کی تخلیق ہو گئی تھی اور جو خوردہ گیری ہی پر آؤ تو شیکسپیئر کا کون سا ڈرامہ طبع زاد کہلانے کا مستحق ٹھہرے گا؟ یونہی چراغ سے چراغ جلتا آیا ہے اور یہ بڑا فن کار غاصب ہی ہوتا ہے۔
اس مضمون کے لکھنے سے پہلے بھی شوکت تھانوی بہت کچھ لکھ چکے تھے۔ پہلے لکھنؤ کے ایک اُردو اخبار میں کالم لکھتے تھے، پھر دواخباروں میں لکھنے لگے تھے۔ میر جالب دہلوی کے ’’ہمدم‘‘میں ان کے ادبی ذوق نے تربیت پائی۔ ان کے والد ایک بڑے پولیس افسر تھے۔ سکول کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد شوکت آسانی کے ساتھ سب انسپکٹر بھرتی ہو سکتے تھے۔ مگر جو شعر و ادب کے چکر میں پڑ جاتے ہیں وہ پھر کسی اور کام کے کب رہ جاتے ہیں؟ بچپن باپ کے ساتھ کم اور بڑی بہن کے ساتھ زیادہ گزرا۔ یہ بڑی بہن خود بھی ادبی ذوق رکھتی ہیں اور یہ خاتون وہ ہیں جن کے شوہرِ نامدار مولانا ارشد تھانوی ہیں جو شوکت تھانوی کے چچا زاد بھائی بھی ہیں۔چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں، بڑے میاں سبحان اللہ! ان کے سایۂ عاطفت نے شوکت کو شاعر، ادیب اور تھانوی، سبھی کچھ بنا کر چھوڑا۔ ورنہ تھانہ بھون سے شوکت کا کیا تعلق؟ پیدا بنارس میں ہوئے، پلے بڑے بھوپال اور لکھنؤ میں۔ اصلی نام تھا محمد عمر، تخلص شوکت اختیار کیا اور اپنے بزرگ بھائی کی دیکھا دیکھی تھانوی کا لاحقہ اس میں ٹانک لیا۔ اسی لاحقہ کی وجہ سے پطرس کہا کرتے تھے کہ ’’خداجانے کس تھانہ سے ان کا تعلق ہے؟‘‘ بڑوں کی بھول چوک پر پردہ ڈال دینا عین سعادت مندی ہے۔ محمد عمر کو اب کوئی نہیں جانتا شوکت تھانوی کو سب جانتے ہیں ۔
اگر پدر نتواند پسر تمام کند
١٩٣٢ء کے اوائل میں ایک دن صبح ہی صبح اطلاع ملی کہ دو صاحب ملنے آئے ہیں۔ نام پوچھتے تو نام نہیں بتائے۔ ان کی یہ بداخلاقی طبیعت کو ناگوار گزری۔ میں نے کہا مردانہ گھر کی بیٹھک میں انہیں بٹھاؤ۔ میں اسی وقت اُٹھا تھا، میں نے دل میں سوچا کہ انہیں اتنے سویرے آنے اور نام نہ بتانے کی سزا دینی چاہیے۔ چنانچہ منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کیا اور آدھ گھنٹے بعد مردانے میں آیا۔ دونوں انتظار میں سوکھ گئے تھے۔ میرے داخل ہوتے ہی وہ سروقد کھڑے ہو گئے۔ یہ دونوں جوان تھے، جنھیں دیکھ کر ڈپٹی نذیر احمد کے مرزا ظاہر دار بیگ یاد آگئے۔ دونوں چھیلا بنے ہوئے تھے۔ ان میں ایک جو زیادہ چرباک تھے، ذرا آگے بڑھ کر بولے۔ ’’ہمیں پہچانیے‘‘۔
میں نے سر سے پاؤں تک انہیں دیکھا۔ آڑی مانگ نکلی ہوئی ، کسی قدر تنگ پیشانی ، گول چہرہ ، آنکھوں پر سنہرے فریم کا چشمہ، شریر بے قرار آنکھیں ، موزوں بینی ، لبوں پر پان کی ہلکی سرخی ، ترشی ہوئی مونچھیں ، ڈاڑھی گھٹی ہوئی ، بے شکن اچکن ، چست پاجامہ، وارنش کا پمپ شو ، داہنے ہاتھ میں پتلی سی چھڑی ۔ان کی تصویر میں دیکھ چکا تھا ۔ میں نے کہا:’’ شوکت تھانوی‘ ‘ مسکرا کر بولے: ” آپ نے ٹھیک پہچانا‘ ‘ یہ کہہ کر معانقہ کیا پھر اپنے ساتھی کی طرف اشارہ کر کے بولے:’’اور یہ؟‘‘ میں نے انہیں بھی سر سے پیر تک جانچا۔ تقریباً ایک ہی سا حلیہ تھا دونوں کا، سوائے اس کے کہ ان کے چہرے پر عینک نہیں تھی ۔ میں نے کہا:’’ یہ آپ کے نفس ناطقہ نسیم انہونوی ہو سکتے ہیں‘‘ شوکت نے کہا:’’ بھئی خوب اندازہ لگایا‘‘ نسیم صاحب بھی آگے بڑھ کر گلے ملے ۔ان کا پرچہ ” حریم‘‘ نکلتا تھا اور ’ ’ساقی‘‘ کے تبادلہ میں آتا تھا۔ اب شوکت اور نسیم دونوں نے مل کر’’ سر پنچ‘‘ ایک مزاحیہ اخبار (ہفتہ وار ) نکالنا شروع کیا تھا۔نسیم صاحب بھی مضامین لکھتے تھے مگر کوئی مضمون ان کا مشہور نہیں ہوا تھا۔ محنتی آدمی تھے ۔ان کی محنت اور شوکت کی ذہانت نے مل کر بڑا کام کیا اور اب تو خودنسیم صاحب بھی ایک بھاری بھر کم مصنف ہیں ۔
جاڑوں کے دن تھے ۔ میں نے ان حضرات سے کہا کہ آپ کل صبح ہمارے ساتھ نہاری کھائیے ۔ یہ دِلّی کی ایک خاص چیز ہے اور دِلّی والے ہی اس کا اہتمام کرتے ہیں مگر اس کے کھانے کا لطف علی الصبح کا ہے ۔اس لیے آپ حضرات چھ بجے آ جائیے ۔ان کے جانے کے بعد میں نے انہی ماموں چشتی صاحب سے کہا کہ کل صبح کے لیے نہاری کا انتظام کر دیجیے۔ میں خود چوں کہ رات کو دیر سے سوتا ہوں اس لیے صبح دیر سے اُٹھتا ہوں اس دن الارم لگا کر اُٹھا۔ چشتی صاحب نہاری کا دیگچہ اور دوسرے لوازم لیے ہوئے چھ بجے سے پہلے پہنچ گئے ۔ انگیٹھی دہکائی گئی۔اس پر گھی کڑ کڑایا گیا۔ نہاری پر سے تارا ُتار کر الگ کر دیا گیا اور جب گھی میں پیاز سرخ ہوگئی تو پیاز ایک الگ پیالے میں نکال لی اور گھی سے نہاری کو داغ دیا۔ چھ بجے ، ساڑھے چھ بجے ،سات بجنے لگے ۔ چشتی صاحب نے کہا: ’’بھئی تمہارے مہمان نہیں آئے‘‘ میں نے کہا: ’’لکھنؤ والے ہیں، تکلف میں کہیں رہ گئے ۔ بس آتے ہی ہوں گے‘‘ لوصاحب ، سات بھی بج لیے ، ساڑھے سات ہونے کو آئے انتظار میں طبیعت بڑی بد مزہ ہوئی ۔ جوانی کی ترنگ ، اس زمانے میں میَں ناک پر بھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔ جب آٹھ بجے تو میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ میں نے چشتی صاحب سے کہا: ” ماموں جان! یہ سارا سامان زنانہ میں بھیج دیجیے‘‘ وہ گھبرا کر بولے: ’’کیوں میاں کیوں؟ تھوڑا سا انتظار اور کرلو‘‘ مگر میرا پارہ چڑھ چکا تھا۔ میں نے کہا: ’’اب اگر وہ آئیں گے بھی تو میں نہیں کھلاؤں گا‘‘ ماموں جان نے کہا۔ ” یہ بڑی نا مناسب بات ہوگی‘‘ مگر میں نے سارا سامان اٹھوا کر اندر بھیج دیا اور خود بھی اندر چلا گیا۔ کوئی نو بجے دونوں حضرات تشریف لائے ۔ مجھے اطلاع ہوئی کہ مہمان آ گئے ۔ میں نے بیوی سے کہا: ’’ چائے اور پان بھیج دینا‘‘ انہوں نے پوچھا: ’’اور نہاری؟‘‘ میں نے کہا: ’’اب وہ نہاری کہاں رہی ، وہ تو باسی قورمہ ہو گیا۔ اسے مت بھیجنا ‘‘ انہوں نے سر کو حرکت دی جیسے کہہ رہی ہوں’’عجب اوندھی مت کا آدمی ہے‘‘ اور باورچی خانہ میں خاموش چلی گئیں۔ میں مردانے میں آیا تو شوکت صاحب نے کہا: ’’ہمیں کچھ دیر ہوگئی‘‘۔ میں نے کہا: جی ہاں
حریفاں بادہ ہا خوردند و رفتند
بولے :’’ کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ آپ سے ملانے کے لیے جن احباب کو بلایا تھا، انہوں نے دو گھنٹے تک آپ کا انتظار کیا ، اس کے بعد کھا پی کر رخصت ہوگئے‘‘۔
’’یعنی نہاری ختم؟‘‘
’’جی ہاں، دِلّی کے شرفاء سورج نکلنے سے پہلے ہی نہاری کھا چکتے ہیں۔ ویسے بازاروں میں مزدوروں اور کام پیشہ لوگوں کے لیے دن چڑھے تک بکتی رہتی ہے‘‘۔
’’یہ تو براہوا‘‘۔
’’وقت کی پابندی نہ کرنے کا نتیجہ برا ہی ہوتا ہے، اب آپ کچھ اور باتیں کیجیے کہیے کل کس کس سے ملے؟“۔
شوکت صاحب نے بتایا کہ ’’سردار دیوان سنگھ، ایڈ یٹر ’’ریاست‘‘ سے ملے، خواجہ حسن نظامی صاحب سے ملے اور پروفیسر اکبر حیدری سے ملے جو اس قدر تپاک سے ملےکہ گھنٹوں ان سے باتیں ہوتی رہیں ۔ حکیم یوسف حسین صاحب ایڈیٹر ’’نیرنگ خیال‘‘ بھی انہی کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ان سے بھی ملاقات ہوئی اور رات کے کھانے پر بھی پروفیسر صاحب نے انہیں مدعو کر دیا‘‘۔
یہ پروفیسر صاحب تھے تو دراصل انبالہ کے،مگر دِلّی ہی میں آ کر بس گئے تھے۔ اس زمانے میں بعض لوگ گوروں کو اُردو پڑھایا کرتے تھے اور منشی کہلاتے تھے۔ سب سے پرانے منشی استادبیخود دہلوی تھے۔ وہ اپنی کبیرسنی کے باعث اس پیشے کو چھوڑ چکے تھے۔ اکبر حیدری اچھے وجیہہ آدمی تھے۔ ان کی تعلیم شاید سکول تک ہی محدود رہی تھی مگر اپنی ذہانت اور جوڑ توڑ سے اس پیشے میں گھس گئے تھے اور اپنے ہم پیشہ سسرالی عزیز کے سہارے بڑھتے چلے گئے اور انہی کی طرح گوروں کے لیے دو ایک کتابیں بھی لکھ دی تھیں جو کورس میں داخل ہو جانے کی وجہ سے خوب بکتی تھیں ۔ چناں چہ منشی اکبر خاں دِلّی میں آنے کے بعد چند سال کی لوٹ پھیر میں خاصے مال دار ہو گئے تھے اور مچھلی دالان میں ان کا ایک عمدہ مکان بھی بن گیا تھا۔ شعر اچھے خاصے کہہ لیتے تھے اور غماز کے نام سے ایسی نثر بھی لکھ لیتے تھے، جس میں کسی کو برا بھلا کہنا ہو ۔ تمول کے ساتھ ان کے تعلقات بھی وسیع ہوتے چلے گئے تھے اور وہ پروفیسر اکبر حیدری مشہور ہو گئے تھے۔ ویسے طبیعت کے بھلے آدمی تھے اور ملنے جلنے میں خوش اخلاق تھے۔ ہم سے بھی ان کی یاد اللہ تھی مگر ہم سے ان کی میزان نہیں پٹتی تھی۔
شوکت صاحب نے بتایا تھا کہ رات کو ہم ان کے ہاں دعوت میں گئے تو وہاں دو اور ایڈیٹروں سے بھی ملاقات ہوئی۔ ایک ’’نیرنگ‘‘ کے ایڈیٹرعشرت رحمانی اور دوسرے اخبار ’’ریاست‘‘ کے سب ایڈیٹر حنیف ہاشمی۔ حکیم یوسف حسن صاحب اس زمانے میں جتنے تنومند اور قوی الجثہ آدمی تھے ، حنیف ہاشمی اسی قدر اعصابی اور نحیف الجثہ اچھی خاصی باتیں ہورہی تھیں کہ حنیف ہاشمی پنجاب اور یو پی کا قضیہ لے بیٹھے ۔ اکبر حیدری انبالہ کے تھے۔ نہ ادھر کے، نہ ادھر کے، بلکہ بین بین ۔ بچارے بار بار اس بحث کو ختم کرنے کی کوشش کرتے مگر حنیف ہاشمی کانپ کانپ کر اور لرز لرز کر پھر کچھ کہے دیتے۔ ادھر یہ دونوں بھی کچھ کم بولنے والے نہیں تھے۔ پہلے تو انہوں نے کچھ ٹالا مگر جب وہ حد سے بڑھنے گے تویہ یھی لپٹ پڑے۔ غرض شوکت صاحب نے بتایا کہ فضا اتنی مکدر ہوگئی کہ ہم وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے مگر اکبرحیدری نے پکڑ کر بٹھا لیا اور فوراً کھانا منگوالیا مگر دلوں میں غبار بھرا ہوا تھا، کھانا کیا خاک کھایا جاتا؟ دو چار لقمے زہر مار کر کے وہاں سے پیچھا چھڑایا۔
میں نے کہا:’’ مجھے یہ روداد سن کر مطلق تعجب نہیں ہوا۔ اکبر حیدری جب اکیلے ہوتے ہیں تو نہایت معقول باتیں کرتے ہیں ۔ مگر جب دو چار ادیب یا شاعر ان کے ہاں جمع ہو جاتے ہیں تو پھر ایسے ہی ہنگامے ہوتے ہیں۔ ان کے گھر کی رونق ہی ہنگاموں پر موقوف ہے‘‘۔
اتنے میں چائے آ گئی۔
شوکت صاحب نے بڑی سنجیدگی سے کہا :’’ تو واقعی نہاری نہیں ملے گی‘‘۔
میں نے کہا: ’’نہاری اب آئندہ کسی اور موقعہ پر ، اب تو آپ چائے پیجئے اور پان کھائیے‘‘۔
اس واقعہ کے بعد شوکت صاحب میری طبیعت سے واقف ہو گئے ۔ مجھ سے وہ عمر میں دو تین سال بڑے تھے مگر وہ مجھے ہمیشہ شاہد بھائی ہی کہتے رہے ۔ وہ بڑے بڑوں پر فقرے کس جاتے تھے مگر انہوں نے میرے ساتھ کبھی مسخرا پن نہیں کیا۔ مذاق البتہ ہوتارہتا تھا۔
شوکت تھانوی سے میرے تعلقات ایڈیٹر اور مضمون نگار کے بھی تھے ۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ بے معاوضہ نہیں لکھتے ۔ لہذا جب کبھی ان سے مضمون لکھوانا ہوتا تو انہیں معاوضہ منی آرڈر سے بھیج دیا جا تا تھا اور اس زمانے میں معاوضہ ہی کیا ہوتا تھا ؟ دس روپے، منشی پریم چند پندرہ روپے فی افسانہ لیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ کسی نے پندرہ روپے انہیں دیئے ہیں تو ان پر بڑا احسان کیا ہے ۔سو دوسو میں شوکت تھانوی اپنا ناول دینے پر تلے رہتے تھے۔ ایک دفعہ آغا سر خوش کوزبردستی اپنا مسودہ دے کر کچھ روپے لے گئے ۔ آغا صاحب نے پوچھا: ’’اس کا نام کیا ہے؟‘‘ کہا: ” جو جی چاہے نام رکھ لو‘‘ آغا صاحب کو شوخی سوجھی ۔ کتاب کے ٹائٹل پر ایک گیدڑ بنوایا اور اس گیدڑ کا چہرہ شوکت تھانوی کا بنوایا۔ گیدڑ کو پنجرے میں بند دکھایا اور کتاب کا نام رکھا ” مجھے خریدلو‘‘ یہ ادب کے عروج اور ادیبوں کی پستی کا وہ زمانہ تھا کہ اچھے خاصے مشہور ادیب اپنے مسودے کے ساتھ دو دوسو روپے بھی دیتے تھے کہ للہ ہماری کتاب اپنے مکتبہ سے چھاپ دو ۔
شوکت تھانوی میں خوبی کہیے یا عیب ، یہ تھا کہ ان کے کسی کام میں استواری نہیں تھی۔ وہ اتنے بڑے آدمی تو تھے نہیں کہ زمانے کو اپنے ساتھ کر لیتے ، اس لیے وہ زمانےکے ساتھ ہو جایا کرتے تھے۔ جب دِلّی سے آل انڈیا ریڈیو کے پروگرام ہونے لگے تو ایک دفعہ شوکت صاحب کو بھی تقریر کرنے کے لیے بلایا گیا۔ اسے انہوں نے اپنے لیے بہت بڑا اعزاز سمجھا۔ اس زمانے میں احمد شاہ بخاری (پطرس) سٹیشن ڈائر یکٹر تھے اور ذوالفقار بخاری ڈائریکٹر پروگرام ۔ شوکت صاحب ان دونوں بھائیوں سے مرعوب ہوگئے۔ کچھ کور بھی وبتی تھی۔ ایک ایک سے ان کی تعریف کرتے پھرتے تھے اورلکھنؤ واپس پہنچنے کے بعد انہوں نے ایک اُردو اخبار میں (جس سے وہ وابستہ تھے ) ان دونوں بھائیوں کا نثری قصیدہ لکھا اور اس کا تراشا انہیں بھیج دیا۔ اس کے صلہ میں انہیں دِلّی مزید پروگراموں کے لیے بلایا گیا اور جب لکھنؤ میں ریڈیوسٹیشن کھلا تو انہیں مسودہ نویس کی حیثیت سے رکھ لیا گیا۔ ریڈیو میں انہیں اخبار کے مقابلے میں دگنی بلکہ تگنی تنخواہ مل گئی اور ان کے دلدردور ہو گئے۔ اخبار نویسی نے انہیں زودنویس بنادیا تھا۔ ذہین آدمی تھے، فیچر اور ریڈیو ڈرامہ کی تکنیک کو سمجھ لینے کے بعد انہوں نے لکھ لکھ کر مسودوں کے ڈھیر لگا دیئے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک اور صلاحیت کا بھی انکشاف ہوا کہ ریڈیائی اور اداکاری اچھی کر سکتے تھے۔ نقالی کا مادہ تو ان میں شروع ہی سے تھا ، کئی طرح کی آوازیں بنانے پر بھی قادر ہوگئے تھے۔ لکھنے میں انہیں کوئی تکلف نہ ہوتا تھا ،قلم برداشتہ لکھتے تھے، اچھا لکھتے تھے اور خوش خط تھے۔ میں نے ان کے مسودے دیکھے ہیں ۔ ایک لفظ بھی نہیں کاٹتے تھے اور سطر یں موتی کی لڑیاں دکھائی دیتی تھیں۔ لکھنؤ سے انہوں نے اپنا ایک ہفتہ وار فیچر’’منشی جی ‘‘شروع کیا، جس میں کسی معاشرتی خرابی یا وقت کے کسی اہم موضوع پر بڑی دلچسپ بحث ہوتی تھی ۔ کئی سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور نہایت کامیابی کے ساتھ جب پاکستان بن گیا تو ’’منشی جی ‘‘ نے ’’قاضی جی‘‘ کا روپ دھار لیا۔ یہ فیچر لاہور سے شروع ہوا۔ پھر شوکت صاحب کراچی آگئے تو یہاں سے نشر ہونے لگا اور جب وہ راولپنڈی چلے گئے تو راولپنڈی سے ۔ اس ہفتہ وارفیچر کی روحِ رواں ’’قاضی جی‘‘تھے۔ جن کا پارٹ خودشوکت صاحب ادا کرتے تھے۔ مدتوں تک اکثر سننے والوں کو نہیں معلوم ہوا کہ قاضی جی کی صدا کاری کون کر رہا ہے۔ قاضی جی ایک کھوسٹ بڑے میاں تھے جو احمقوں کی جنت میں رہتے تھے مگر ہر معاملہ میں اپنی رائے ضرور دیتے تھے۔ ان کے پوپلے منہ سے جو باتیں نکلتی تھیں، بھولی بھولی اور مضحکہ خیز ہوئی تھیں ۔ شوکت صاحب کو قاضی جی کی آواز بنانے میں کمال حاصل تھا۔ اس کمال کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے نقال پیدا ہو گئے تھے اور محفلوں میں جو مسخرے نقلیں پیش کرتے تھے، وہ قاضی جی کی نقلیں بھی بنانے اور سنانے لگے تھے۔ شوکت صاحب نے منشی جی اور قاضی جی کے سینکڑوں مسودے لکھے اور میں نے بھی ان کے بیسیوں براڈ کاسٹ سنے میں نے ان میں سے ایک کو بھی بھرتی کا فیچر نہیں پایا۔ سب میں ایک ہی جیسی شگفتگی اور تازگی پائی۔
یہی کیفیت ان کی کالم نویسی کی تھی۔ مجید لاہوری کے انتقال کے بعد شوکت صاحب اخبار’’جنگ‘‘ سے وابستہ ہوگئے تھے۔ وہاں انہیں روزانہ ایک مزاحیہ کالم ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ لکھنا ہوتا تھا، اور ہفتہ میں دوایک اداریے بھی۔ نواب سعادت علی خاں نے انشاء اللہ خاں سے فرمائش کی تھی کہ دو لطیفے روز سنادیا کرو تو چند روز میں انشاء کا یہ عالم ہو گیا کہ ایک ایک سے کہتے ’’کوئی نقل، کوئی چٹکلا یاد ہوتو بتاؤ، میں لون مرچ لگا کر نواب کو خوش کرلوں گا’’ شوکت کا شگفتہ رقم قلم روزانہ چلتا رہا اورظرافت کے پھول کھلاتا رہا۔ پنڈی جانے کے بعد پورے اخبار کی ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوگئی تھی مگر وہ ’’پہاڑ تلے‘‘ کے عنوان سے کالم برابر لکھتے رہے اداریہ کے علاوہ بھی وہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے تھے۔ مثلاً انہوں نے آپ بیتی لکھنی شروع کر دی تھی۔ افسوس کہ اس کی چند قسطیں ہی چھپنے پائی تھیں کہ وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔
پاکستان بننے سے شاید دو ڈھائی سال پہلے وہ دگنی تنخواہ پر پنجولی فلم کمپنی، لاہور میں مکالمہ نویسی کے لیے چلے گئے تھے۔ اس کمپنی میں انہوں نے سید امتیاز علی تاج کے ساتھ کام کیا۔ فلم کا سیناریو بے تکلف لکھنے لگے تھے۔ یہیں ایک فلم میں انہوں نے ادا کاری بھی کی تھی ۔ قیام پاکستان کے بعد’’ آں قدح بشکست و آں ساقی نہ ماند‘‘..... تاج صاحب کے ساتھ وہ بھی لا ہور ریڈیو میں آگئے تھے۔ پاکستان کے تعمیری پروگرام میں انہوں نے ” قاضی جی‘‘ لکھنا شروع کیا تھا اور سب سے زیادہ مقبول پروگرام انہی کا ہوتاتھا۔
’’یک در گیر و محکم گیر‘‘ کے شوکت صاحب قائل نہیں تھے، پیسے کے میت تھے جس کام میں پیسہ زیادہ ملتا دکھائی دیتا اسی کو اختیار کر لیتے ۔ کالم نویسی سے ان کی عملی زندگی کا آغاز ہوا۔ وہاں سے ریڈیو میں آئے ، ریڈیو چھوڑ کر پچھلی بڑی جنگ کے زمانے میں سانگ پبلسٹی کے محکمے میں چلے گئے ۔ وہ محکمہ ختم ہوا تو پنچولی فلم کمپنی میں آ گئے ، وہ بند ہوئی تو پھر ریڈیو میں آگئے ۔ پھر ’’جنگ‘‘ اخبار میں چلے گئے ۔ پیسہ انہوں نے خوب کمایا، مضامین سے ، کتابوں سے، ریڈیو سے ، اخباروں سے، مشاعروں سے، مگر کبھی انہیں خرچ کرتے نہیں دیکھا۔ ہمیشہ اپنے آپ کو تنگ دست ظاہر کرتے تھے ۔ پانوں کی ڈبیا تو وہ ضرور اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ سگریٹ تک وہ نہیں پیتے تھے۔ سینما، تھیٹر، کلب ، سیر سپاٹا ، دعوتیں ، ہوٹل بازی یا کوئی اور بازی ، کچھ نہیں ۔البتہ بڑے آدمیوں کےساتھ لگے رہنے کا شوق تھا اور انہیں کے ساتھ ان کے شوق پورے ہو جاتے تھے۔
شوکت تھانوی کا کمزور پہلوان کی شاعری تھی ۔ وہ ساری عمر شعر کہتے رہے۔ آسی اُلد نی کی انہوں نے شاگردی بھی اختیار کی ۔ مشاعروں میں بھی اپنا کلام سنایا کرتے تھے ۔ کوئی ۲۵ سال ہوئے ، انہوں نے اپنے منتخب کلام کا مجموعہ’’ گہرستان“ کے نام سے شائع کیا تھا مگر شاعر کی حیثیت سے انہیں کوئی نمود حاصل نہیں ہوئی ۔شعر کلام موزوں کے علاوہ اور بہت کچھ ہوتا ہے۔ ’’یہ اور بہت کچھ‘‘ شوکت کے کلام میں نہیں تھا۔ چند سال سے انہوں نے مزاحیہ اشعار اور طنز یہ نظمیں بھی کہنی شروع کر دی تھیں ۔ یہ اثر تھا سید محمد جعفری کی صحبت کا جن کے ساجھے میں انہوں نے دو ایک نظمیں کہی ہیں، مگر ان میں وہی آورد اور بے رنگی ہے جوان کے سنجیدہ کلام کا عیب ہے..... شوکت صاحب کا معاملہ کچھ اکبر الہ آبادی سے ملتا جلتا تھا۔ اکبر کی شاعری کا آغازسنجیدگی سے ہوا۔ مدتوں اس بحر میں شناوری کرتے رہے مگر حاصل کچھ نہ ہوا۔ پھر ایک بار اتفاق سے جو غوطہ مار کو نکلے ، تو دُرِ قصور ہاتھ آ گیا۔ یہ موتی تھے طنز و مزاح کے، جن کی مانگ چاروں طرف سے ہونے لگی۔ تب اکبرکو معلوم ہوا کہ ان کا فطری جو ہر ظرافت ہے اور انہیں اسی جوہر کو اجالنا چاہیے۔ لہٰذا انہوں نے اسے مشق کی سان پر چڑھایا اور مرزاولت سے ایسے پہلوتراشے کہ اس کی آب و تاب ایک دیکھنے دکھانے کی چیز بن گئی ۔ شوکت صاحب بھی برسوں اخباروں میں لکھتے رہے۔ مگر جب حسنِ اتفاق سے ’’سودیشی ریل‘‘ ان کے قلم سے نکلی تو اس کی مقبولیت نے انہیں بتایا کہ ان کا جو ہرِ اصلی مزاح ہے۔ اگر نمود چاہتے ہو تو اس کو چمکاؤ۔ چناں چہ شوکت نے اپنی بساط بھر اسے چمکایا اور اس تیز رفتاری سے کہ دو سال ہی میں موج تبسم، بحرتبسم اور دو اورتبسم ، چار مجموعے ان کے مضامین کے شائع ہو گئے مگر ان کی زودنویسی نے انہیں طنزومزاح کی بلندیوں کو چھونے نہیں دیا۔ آج تک ایورسٹ کی چوٹی کسی نے دوڑ کر سر نہیں کی ۔ یہ بڑا جان جوکھم کا کام ہے جس میں قدم قدم پر احتیاط کرنی ہوتی ہے اور کوئی بڑاہی خوش نصیب ہوتا ہے جو اپنا جھنڈا گاڑ کرلا فانی ہو جاتا ہے۔ دوڑ کر ہانپ جانے والوں میں عظیم بیگ چغتائی اور شوکت تھانوی ہیں ۔ قدم قدم چل کر چوٹی تک پہنچے والوں میں رشید احمد صدیقی اور پطرس ۔ ثانی الذکر نے زندہ سلامت واپس آجانے کے بعد کوہ پیمائی کا سامان ایک طرف ڈال دیا۔ صدیقی صاحب بہت زیادہ سخت کوش ہیں ۔ رتن سنگھ کی طرح بار بار چوٹی پر دھاوا بولتے رہتے ہیں۔
شوکت تھانوی خوش اخلاق آدمی تھے اور جن سے دوستی کا رشتہ قائم کر لیتے تھے، ان سے تعلقات میں فرق نہ آنے دیتے تھے۔ مگر وہ دوست صرف انہیں بناتے تھے جن سے انہیں فائدہ پہنچتا تھا یا فائدہ پہنچنے کی اُمید ہوتی تھی۔
باتوں کے طوطا مینا بنانا یوں تو بھی یو پی والوں کا شیوہ تھا مگر شوکت صاحب کو اس میں کمال حاصل تھا۔ انہوں نے اپنی اسی صلاحیت کے بل بوتے پر بڑے بڑے جنوں کو شیشے میں اُتار رکھا تھا، اور ان سے کماحقہ فائدہ اُٹھاتے تھے۔ میں ان سے کہا کرتا تھا کہ تم بے ہڈی کے آدمی ہو، اپنے سے زبردست کے سامنے جاتے ہو تو سوائے جی ہوں جی ہاں کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتے ۔ وہ کہتے تھے’’ نہیں ، یہ بات تو نہیں ہے‘‘۔
ایک دفعہ میں شوکت تھانوی کے پاس ریڈیو سٹیشن پر بیٹھا ہوا تھا۔ باتیں کرتے کر تے شوکت صاحب ایک دم سے کھڑے ہو گئے اور بولے: ’’ایک لطیفہ یاد آ گیا، ذرا نظامی صاحب (سٹیشن ڈائر یکٹر ) کوسنا آؤں‘‘ وہ لطیفہ سنانے چل دیے میں نے ان کے دوست سے کہا: ” اس نے تو خوشامد کرنے کی حد ہی نہیں رکھی ۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی ؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’ بھیا، یہاں اسی طرح کام چلتا ہے، پول سننگ بڑی چیزہے‘‘۔
’’یہ نیا لفظ تم نے کیا بولا ؟‘‘
’’پول سننگ‘‘
’’یعنی؟‘‘
’’بٹرنگ.... .مکھن لگانا ..... پول سن کامکھن ہوتا ہے نا؟“۔
پل سننگ بٹرنگ، مکھن لگانا، مکھن بازی کرنا۔ یہ سارے محاورے اسی زمانے میں وضع ہوئے تھے۔ ایک صاحب نے اسی زمانے میں کہا تھا ’’آج بازار میں مکھن ہی غائب ہے‘‘۔
’’کیوں؟ کیامکھن بھی چور بازار میں چلا گیا ؟“۔
’’نہیں ، فلاں صاحب نے فلاں افر کے لگا دیا سارا‘‘۔
ایسی باتوں پرہنسی بھی آتی تھی اورجی بھی جلتا تھا مگر یہ عام دستور تھا اور شوکت صاحب کے متعلق کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اس کی تکنیک کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا، بلکہ اس کے ایکسپرٹ ہو گئے تھے۔ جب عام مقولہ یہ ہو کہ۔
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خداراضی ہے
تو پھر کسی ایک کو ہدف ِملامت کیوں بنایا جائے؟ ایسا ہی خودی اور خود داری کا اگر خیال ہے تو اپنے گھر بیٹھویا دنیا چھوڑ دو۔
یہ آخر تک معلوم نہ ہو سکا کہ وہ اپنی کمائی خرچ کہاں کرتے تھے۔ صرف دومدیں ایسی دکھائی دیں جس میں انہیں ضرور اپنی گرہ ڈھیلی کرنی پڑتی تھی۔ ایک پان اور دوسرے لباس۔ پان وہ کھاتے کم تھے، کھلا تے زیادہ تھے۔ انہوں نے ایک بڑی ڈبیا کتاب کی شکل کی بنوائی تھی جس میں پان کا پورا لوازمہ ہوتا تھا۔ یہ ڈبیا تقریب ہر ملاقات بطور بہت کامیاب تھی۔ جو اس سے بچ نكلتا اس پر بٹوے سے وار کیا جاتا۔ اس میں چھالیا، الائچی ،لونگ، جاوتری ،منتھال کی ننھی سی شیشی، سبھی کچھ ہوتا تھا۔ کہاں تک کوئی بچتا، مار ہی کھا جاتا۔ اس پر غضب ان کی سخن سازی، سخن بازی، نو وار درام ہو کر ان کا کلمہ پڑھنےلگتا ۔
شوکت صاحب بڑے فقرے باز تھے۔ ایک دفعہ ر یڈ یوسٹیشن لاہور پر اپنے چپراسی کو آواز دی، وہ آیا تو اس کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے کہنے لگے ’’آپ کو دیکھیے ، نیوی کٹ سگریٹ پر آپ کی تصویر ہے‘‘ اور واقعی میں اس غریب کی عین مین وہی شکل تھی جو نیوی کٹ کی ڈبیاپر ہوتی تھی۔ پھر اس سے کہا: ’’جایئے ، جا کر چائے لایئے‘‘۔
اس کے چند روز بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ ان کے کمرے میں داخل ہوا تو سلام کے بعد شوکت صاحب نے پہلی بات یہ کہی ’’ یہ جو بیٹھے ہوئے ہیں، میرے صاحب زادے ہیں‘‘ اور ان صاحب سے کہا:’’انہیں تم جانتے ہی ہو گے، شاہد احمد دہلوی ہیں‘‘انہوں نے اُٹھ کر سلام کیا میں ’’وعلیکم السلام‘‘ کہہ کر بیٹھ گیا۔ وہ صاحب ’’اچھا، میں چلتا ہوں‘‘ کہہ کر چلے گئے تو میں نے ہنس کر کہا: ’’جس بھلے آدمی کو دیکھتے ہو کسی کو اپنا بیٹا اور کسی کو اپنا باپ بنا لیتے ہو۔تمہیں شرم نہیں آتی ؟‘‘ بڑی سنجیدگی سے بولے:’’ نہیں واقعی میرا بڑالڑکا تھا۔ پی، اے، ایف میں نوکر ہے‘‘ مجھے پھر بھی یقین نہیں آیا۔ اتنے میں عشرت رحمانی آگئے ۔ میں نے ان سے پوچھا: ’’ان کا کوئی لڑکا ان سے بھی بڑا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا:’’قدمی بڑا ہے، آپ ان کی عمر کیا سمجھتے ہیں؟ ..... مجھ سے، آپ سے، بڑے ہیں یہ حضرت پچاس سے اوپر ہیں ۔ ۳۰_۳۲ سال کا تو لڑکا ہی ہے‘‘۔ اس وقت شوکت صاحب کی صحت اتنی اچھی تھی کہ چالیس سے زیادہ کے نظر نہ آتے تھے۔ بال خوب گھنے اور کالے تھے۔ سفید بال نہ تو سر میں تھے نہ مونچھوں میں، چہرے پرکوئی جھری نہیں تھی اور نہ آنکھوں کے کونوں میں ’’کوے کے پاؤں‘‘دس بارہ سال بعدیعنی ۱۹۶۱ ء میں بالکل ایسے ہی تھے۔ عمر کے ساتھ مزاج میں بردباری اور سنجیدگی آجایا کرتی ہے مگر شوکت صاحب کی بات چیت کا انداز بالکل نہیں بدلا تھا۔ جوانی کا وہی چلبلا پن قائم تھا، بلکہ مسخرا پن کچھ بڑھ ہی گیا تھا۔ مارچ ۱۹٦۱ ء کے آخر میں پاکستان سے بھارت جو خیر سگالی کا ثقافتی وفد گیا تھا اس میں لاہور سے امرت سر تک اور امرت سر سے دِلّی تک ذوالفقار بخاری ، سید محمد جعفری ،شوکت تھانوی اور میں، ہم چاروں ایک ہی ڈبے میں تھے۔ بالعموم بخاری صاحب اپنی بذلہ بھی اور چرب زبانی سے سب کو دبالیا کرتے ہیں، مگر اس سفر میں شوکت تھانوی نے سب کا ناطقہ بند کر دیا تھا۔
پان کے خرچ کے علاوہ شوکت صاحب اپنے لباس پر بھی روپیہ صرف کرنے پر مجبور تھے۔ وہ روزانہ ایک جوڑا بد لتے تھے اور ٹیپ ٹاپ سے رہتے تھے۔ بعد میں سوٹ بھی سلوا لیے تھے۔ وہ اس راز کو اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ آدمی کی عزت اس کے کپڑوں سے ہوتی ہے۔ جیسے الغربہ خواہ مخواہ مرد معقول ہوتا ہے اسی طرح بڑھیا لباس والا خواہ مخواه معزز سمجھا جاتا ہے۔ مجھے اس کا بڑا تلخ تجر بہ ہو چکا ہے۔ ایک دفعہ میرے پرانے ہم جماعت اور بے تکلف دوست ممتاز حسین صاحب نے مجھے کہلوا بھیجا کہ کسی دن شام کو٥بجے میرے دفتر آجاؤ ،ضروری باتیں کرنی ہیں ۔ممتاز صاحب اس وقت سیکرٹری فنانس تھے۔ میں سیدھے سبھاؤ ان کے دفتر وقتِ مقررہ پر پہنچ گیا۔ ان کا چپراسی مرغِ زریں بنا باہر کھڑا تھا۔ میں نے پر چے پر اپنا نام لکھ کر اسے دیا کہ صاحب کو دے آئیے۔اس نے بڑی بے مہری سے میری طرف دیکھا اور بولا’’ بنچ پر بیٹھ جاؤ ،صاحب کام کر رہے ہیں‘‘ میں بیٹھ گیا۔ وہ بھی تھوڑی دیر بعد آ کر مجھ سے ذرا ہٹ کر اسی بنچ پر آ بیٹھا۔ دس منٹ گزر گئے ، اس نے مجھ سے بات کرنی بھی گوارا نہ کیا۔ میں نے کہا: ’’آپ جا کر میراپر چہ تو دے آیئے، مناسب سمجھیں گے تو بلالیں گے‘‘ بولا” اندر کسی بڑے افسر کے ساتھ ضروری کام کر رہے ہیں، ابھی ٹھہرو‘‘ ٹھہرے رہے۔ جب پھر کچھ وقت گزرلیا تو میں نے کہا:’’صاحب نے مجھے بلایا ہے، میں اپنے کسی کام سے نہیں آیا ہوں۔ آپ اطلاع تو کر دیجیے‘‘ وہ میری چٹ لے کر اندر چلا گیا اور وہاں سے چائے کے خالی برتن لے کر باہر نکلا۔ میری چٹ اس کے ہاتھ ہی میں تھی۔ برتن لیے چلا گیا۔ مجھ سے کچھ نہ بولا ۔ جب واپس آیا تو آکر خاموش بنچ پر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا:’’چٹ نہیں دی؟“اس نے ’’نہیں‘‘ کہہ کر منہ پھیر لیا۔ میں جلتا رہا، بھلستا رہا۔ پون گھنٹے بعد جب ممتاز صاحب اپنے معزز مہمان کو رخصت کرنے دروازے پر آئے تو اچانک ان کی نظر مجھ پر پڑی۔ چونک کر بولے:” ارے! آپ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں؟‘‘ میں نے کہا’’ جی ہاں، پون گھنٹے سے اور آئندہ آپ مجھے کبھی اپنے دفتر نہ بلائیں میں آنے والے پر لعنت بھیجتا ہوں‘‘ وہ ’’آیئے آیئے‘‘ کہہ کر گلے میں ہاتھ ڈال کر مجھے اپنے ساتھ کمرے میں لے گئے ۔ بولے ” آپ اندر کیوں نہ آ گئے ؟‘‘ میں نے کہا: ’’وہ جو باہر ایک کتا کھڑا ہے اسے میں نے چٹ دے دی تھی مگر اس نے اندر نہیں پہنچائی، کیا آپ کے ہاں بھی اندر اطلاع پہنچانے کے دس پانچ روپے دیے جاتے ہیں؟‘‘ ہنس کر کہنے لگے’’نہیں، ایسا تو نہیں ہوتا‘‘ پھر میرے بگڑے ہوئے تیور دیکھ کر بولے۔ ”آپ چائے پئیں گے، کچھ کھائیں گے؟‘‘ اور بغیر میرے جواب کا انتظار کیے گھنٹی بجا کر اپنے مرغ زریں کو بلایا اور کہا:’’چائے لاؤ‘‘ پھر خود ہی کہنے لگے ’’بھائی کیا پوچھتے ہو ان چپڑاسیوں کی حالت ، بس کچھ کہنے کا مقام نہیں ہے‘‘۔ میں نے کہا: ’’جناب اس کی گرم شیروانی میری شیروانی سے دگنی قیمت کی ہے۔ میرے پاؤں میں چھ روپے کی جوتی ہے، وہ تیسں روپے کا شو پہنے ہوئے ہے، بھلا وہ مجھے کیوں خاطر میں لاتا۔ سمجھا ہو گا کوئی غرض مند مہاجر، صاحب سے کچھ مانگنے آیا ہوگا‘‘ ممتاز صاحب شرمندہ ہو کر بولے: ”نہیں بھائی نہیں ، تم مجھے معاف کردو‘‘۔
تو شوکت صاحب ہمیشہ دیسی یا ولایتی عمدہ لباس پہنا کرتے تھے۔ ورنہ انہیں بھی ایسے ہی حادثات سے دوچار ہونا پڑتا۔ مثل مشہور ہے ”الناس باللباس‘‘ یہ کوئی آج کا دستور نہیں ہے، قدامت سے یہی چلا آتا ہے ۔ شیخ سعدی کو دعوت میں داخل ہونے سے دربان نے روک دیا تھا۔ جب وہ جبہ قبہ پہن کر آئے تو عزت و تکریم کے ساتھ انہیں اندر پہنچایا گیا۔ جب کھانا سامنے آیا تو حضرت نے شوربے میں اپنی آستین ڈالتے ہوئے فرمایا ” پہلے تو کھا‘‘ لوگوں نے کہا: ”حضور یہ کیا، حضور یہ کیا‘‘، فرمایا ’’اسی نے تو مجھےکھانے تک پہنچایا ہے‘‘۔ سچ ہے لوگ ظاہرکو دیکھتے ہیں، باطن کو ہیں۔ لہٰذا مرزا ظاہردار بیگ بننے ہی میں عزت ہے۔
شوکت صاحب میں ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ شاعروں کے ساتھ اور او نچی سوسائٹی میں رہنے کے با وجود شراب نہیں پیتے تھے۔ آئے دن غیرملکی سفارت خانوں میں کاک ٹیکل پارٹیاں ہوتی رہتی ہیں بلکہ ہمارے ’’بڑے آدمیوں‘‘ نے بھی اسے اپنی شان امارت میں داخل کرلیا ہے کہ جب ان کے ہاں معزز مہمان‘‘ آرہے ہوں تو ایک ’’بار‘‘ کا بھی اپنے ہاں اہتمام کریں ۔ مفت کی توقاضی کو بھی حلال ہے۔ مگر ان ’’قاضی جی‘‘ نے اسے ہمیشہ حرام ہی سمجھا۔ ورنہ ایسے موقعوں پر میں نے ایسے ایسے ثقہ لوگوں کو چسکی لگاتے دیکھا ہے کہ بس دیکھ کر طبیعت خوش ہوئی۔
عورتوں کے باب میں بھی شوکت صاحب ندیدے نہیں تھے بلکہ خواتین سے ملنے میں بڑی احتیاط ملحوظ رکھتے تھے۔ یہ نہیں کہ ہمارے بعض شاعروں کی طرح جس عورت سے بھی تعارف ہوا، چھوٹتے ہی سمجھ لیا کہ پہلی ہی نظر میں وہ ان پر عاشق ہوگئی اور لگے اس کی فرضی داستانیں سنانے ۔ شاید اس وضعِ احتیاط کی وجہ ہو کہ شوکت صاحب کی شادی تو جوانی ہی میں ہوگئی تھی۔ انہی کی بے تکلف گفتگو سے معلوم ہوا تھا کہ کبھی اوائل شباب میں’’ جنگلی جئی بھی بولیا کرتے تھے‘‘ مگر اس کا انہیں لپکانہیں پڑا تھا۔ وہ ایک طرح دار جوان تھے وہ اگر بگڑ نا چاہتے تو خوب پیٹ بھر کر بگڑتے ،مگر اللہ نے انہیں اس خرابی سے محفوظ رکھا ..... وہ بھی کسی حد تک!
( ۱۹٦۳ ء)