علامہ راشد الخیری
علامہ راشد الخیری
(١)
دِلّی کے ایک ممتاز مولویوں کے خاندان سے مولانا کا تعلق تھا۔ والد حیدر آباد دکن میں ملازم تھے اور بیوی بچوں سے بے پرواہ ۔ مولانا کو ان کی اماں نے پالا اور میٹرک تک تعلیم دلائی..... ددھیال میں سب عالم اور واعظ تھے۔ مولانا نے بھی ابتدا میں وعظ کہنا شروع کیا تھا، مگر بعد میں ایک مقامی سرکاری دفتر میں ملازمت کر لی تھی۔ مولا نا بچپن ہی سے بڑے غیور تھے۔ اس لیے ابتدائی عمر عسرت میں بسر ہوئی۔ لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے تھا۔ شروع کے مضامین اپنے پھو پھا مولوی نذیر احمد دہلوی کو دکھائے اور ان سے اصلاح لی۔ جب مخزن نکلا تو اس میں ان کے مضامین شائع ہونے لگے اور دنیائے ادب میں مشہور ہونے لگے ۔ سر عبدالقادر دہلی آ گئے تو ان سے مولانا کے روابط بڑھ گئے اور جب وہ بیرسٹری کے لیے انگلستان گئے تو ادارت کے فرائض مولانا کو سونپ گئے ۔ اسی زمانے میں مولانا نے لکھنے کی مشق بڑھائی۔ اس زمانے میں کم پیسوں میں دائمی حقوق خرید کر دِلّی کے بعض ناشر کتابیں چھاپا کرتے تھے۔ انہی میں سے ایک سے مولانا کو بھی کچھ تعلقِ خاطر تھا۔ مولانا نے اپنی ابتدائی تصانیف ان صاحب کے ہاتھ اونے پونے بیچیں ۔ ہوتا یہ کہ جب کبھی مولانا کو کچھ روپے کی ضرورت ہوتی ، دو چار دن میں ایک ناول لکھ کر بیچ ڈالتے ۔ مولانا نے پچاس پچاس روپے میں اپنی بعض کتابوں کاحق تصنیف بیچ ڈالا تھا۔ عجب بے نیاز طبیعت پائی تھی ۔ سستی فروخت کا یہ سلسلہ اس وقت ختم ہوا، جب واحدی صاحب نے مولانا سے کتا بیں معقول معاوضے پرلکھوانی شروع کیں ۔مولا نا اس زمانے میں ضرورت کے تحت لکھتے تھے ۔اب ان سے ،اگر ان کی کوئی ضرورت اٹکی نہ ہو تو ، کیسے لکھوایا جائے ؟ واحدی صاحب نے ان سے دو تین گھنٹے روزانہ لکھتے رہنے کا معاہدہ کیا۔مولا نا گھر سے آتے تو واحدی صاحب ان کی ضرورت کی سب چیزوں کے ساتھ انہیں ایک کوٹھڑی میں بند کر دیتے اور مولا نا دو تین گھنٹے لکھ کر پسینے میں شرابور باہر نکلتے ۔ اس طرح صبحِ زندگی ،شامِ زندگی ، وغیرہ لکھی گئیں ۔اس عرصے میں مولانا نے اپنا پرچہ ’’عصمت‘‘ خواتین کے لیے جاری کر دیا تھا ۔ مولانا نے سرکاری دفتر کی ملازمت چھوڑ دی تھی ۔ گھر کا خرچ قلم چلا کر مہیا کرتے تھے ۔ پھر وہ زمانہ آیا کہ ان کے بڑے صاحب زادے رازق الخیری صاحب نے ’’عصمت‘‘ مرتب کرنے اور عصمت بک ڈپو قائم کرنے میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کیا اور رازق صاحب کی محنت ہی سے ادارۂ عصمت نے وہ فروغ پایا کہ آخری عمر میں مولا نا دِلّی کے اچھے خاصے رئیس آدمی سمجھے جاتے تھے ۔
مولانا نے نامساعد حالات میں ہوش سنبھالا تھا اور بڑی صعوبتیں برداشت کی تھیں ان کا دل بہت کمزور تھا۔ ذرا سے غم سے بھر آتا ، ذرا سے دکھ پر ( چاہے پرایا ہی کیوں نہ ہو ) تڑپ اُٹھتا تھا۔ مسلمان عورتوں کے حقوق کے لیے ساری عمر لڑتے رہے اور اپنی زندگی میں مشن کو کامیاب ہوتے دیکھا۔ دل کی اس کمزوری نے انہیں مصورِغم بنایا۔اُردو ادب میں ان سے زیادہ دردناک ٹریجڈی اور کسی نے نہیں لکھی ۔لوگ طنز یہ انہیں ’’رونے رلانے کے استاد‘‘ کہتے تھے۔ایک صاحب نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ مسلمان عورتوں کو دق ہونے کے جو اسباب ہیں، ان میں سے ایک سبب مولانا راشد الخیری کی کتابیں بھی ہیں مگر وہ شاید یہ بھول گئے کہ مولانا نے عورتوں کو اس لمبی بیماری سے چھڑایا جس میں مردوں نے انہیں مبتلا کر رکھا تھا ۔
مولانا نے ایک کتاب بڑے احترام واہتمام سے لکھی ہے ۔ یہ کتاب ہے ” آمنہ کا لال ‘‘مولا نا عاشقِ رسول ﷺ تھے ۔ یہ کتاب بڑی محنت وعقیدت سے بھی لکھی گئی ہے ۔ مولانا روزانہ اس کے لکھنے سے پہلے غسل فرماتے ، اجلے کپڑے پہنتے ، خوشبو لگاتے ،مصلیٰ بچھاتے ، نماز پڑھتے ، اگر بتیاں اور لوبان سلگاتے ، پھر لکھنے بیٹھتے۔ ان کی باقی سب کتا بیں اور مضامین قلم برداشتہ لکھے گئے ہیں۔
مولا نا رانڈ ، بیواؤں ،یتیموں اور غریب رشتہ داروں کی روپے پیسے سے مدد کرتے رہتے تھے اور اس خاموشی کے ساتھ کہ اس ہاتھ کی خبر اس ہاتھ کو نہ ہوتی تھی ۔ ان کے انتقال کے بعد معلوم ہوا کہ غریبوں اور مسکینوں کا کتنا بڑا حلقہ ان کے سہارے پل رہا تھا۔
مولانا کو بد زبانی یا بد کلامی کرتے ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ ہم نے انہیں کبھی غصہ آتے بھی نہیں دیکھا۔ اپنے عزیزوں کے لیے بے قرار رہتے۔ایک ایک کے گھر جا کر خیریت معلوم کرتے ۔ بیوی بچوں پر تو جان ہی چھڑ کتے تھے ۔اب سے دور میاں صادق الخیری کوموتی جھرہ ہوا تو دیوانہ واران کے پلنگ کے چکر کاٹتے رہتے ۔ راتوں کو پٹی کے پاس بیٹھے رہتے ۔ بچوں سے بڑی خوش مزاجی سے پیش آتے بلکہ اکثر ان سے ہنسی مذاق کی باتیں بھی کرتے ۔ ہم عمر بے تکلف دوستوں سے وہ چھوٹ کا مذاق ہوتا کہ الہٰی تو بہ، بالخصوص قاضی سرفراز حسین اور خواجہ فضل احمد شیدا ہے ۔
علامہ راشد الخیری بڑے صابر و ضابط آدمی تھے ۔ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو ہمیشہ یہی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے گویا مرض بہت معمولی ہے اور طبیعت ٹھیک ہے۔ انتقال سے چند روز پہلے دِلّی کے ایک ماہر امراض سینہ نے معائنہ کے بعد نہایت بھونڈے پن سے اعلان کر دیا کہ پھیپھڑے کا کینسر ہے اور مریض کے بچنے کی کوئی اُمید نہیں ۔ مولا نا اس کی ضرورت سے زیادہ صاف گوئی پر برافروختہ ہو گئے ۔ بولے: ”ڈاکٹر صاحب میں جانتا ہوں کہ میں مر رہا ہوں ،اس کا اعلان کرنا ہی کیا ضرور تھا ‘‘ انہیں اس سے رنج پہنچا کہ بیوی بچے ہراساں اور نا اُمید ہو گئے۔ انہیں اس کا شدید احساس تھا کہ تیمار دار سخت پریشان ہیں ۔ ڈاکٹر کے اعلان نے ان کی پریشانی میں مایوسی بھی شامل کر دی۔ آخری وقت میں بھی مولا نا کا احساسِ ظرافت زندہ تھا۔ ڈاکٹر کے جانے کے تھوڑی دیر بعد مولانا کے بھانجے حاجی محمد میاں بخاری آگئے ۔ ہم قدرے سادہ لوح آدمی ہیں۔ جارج پنجم کا انتقال انہی دنوں ہوا تھا۔ مولانا سے حاجی جی بولے :’’بادشاہ کے تخت پرتواب بادشاہ کا لڑکا ہی بیٹھے گا‘‘۔
مولانا نے نحیف آواز میں فرمایا: ’’نہیں تمہارے حق میں وصیت کر گئے ہیں‘‘ اور سب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
(٢)
اللہ اللہ کیسی شبھ گھڑی تھی وہ، جب میاں اِبی کی اماں بی بی رشید الزماں نے اپنے اکلوتے بیٹے سے کہا تھا کہ’’ بیٹا تم کہانیاں لکھا کرو‘‘ اور کم عمر میاں اِبی نے حیرانی سے اماں کا منہ تکتے ہوئے کہا تھا ’’مگر اماں بی مجھے تو کہانی لکھنی نہیں آتی‘‘ اماں نے نہایت شفقت سے فرمایا’’ بیٹا میں سناؤں گی تمہیں کہانیاں، تم بس یہ کرنا کہ انہیں لکھ کر چھپوادیا کرنا‘‘ یہ کہہ کر کنبے ہی کا ایک واقعہ سنایا کہ سوتیلی ماں نے کم سن بچوں پر کیسے کیسے ظلم ڈھا رکھے تھے ۔ میاں اِبی نے اس کہانی کو ذرا بنا سنوار کر لکھا اور یہ کہانی ’’مخزن‘‘ میں چھپ گئی۔ اس پہلی کامیابی پر ماں بیٹے دونوں بہت خوش ہوئے ۔ بس اس کے بعد میاں اِبی کا ہیاؤ کھل گیا اور انہوں نے باقاعدہ مضامین اور کہانیاں لکھنی شروع کر دیں۔ یہ واقعہ اب سے ساٹھ ستر سال پہلے کا ہے۔ یہ میاں اِبی دِلّی کے ایک معزز مولویوں کے خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ چھٹپن ہی میں ان کے والد عبدالواجد صاحب کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کی والدہ بڑی صابر اور غیور خاتون تھیں۔ خاندان کے بزرگوں نے بہت چاہا کہ ان کا نکاحِ ثانی کر دیں، مگر انہوں نے منظور نہیں کیا اور پہاڑ سی جوانی سسرال میں اپنے دو بچوں کے ساتھ کاٹ دی۔ جب میاں اِبی سیانے ہوئے اور کما نے دھمانے لگے تو ان غیرت مند بی بی نے سسرال سے بہت دور شہر کے دوسرے حصے میں اپنا ایک کھنڈلا بنالیا اورتنگی ترشی سے بسر اوقات کرتی رہیں۔ اسی تنگ دستی میں انہوں نے سلیقہ مندی سے اپنی بیٹی کی شادی بھی کی اور بہو بھی بیاہ کر لائیں اور یہ دونوں شادیاں اس پیمانے پر کیں کہ سسرال والوں کو ان پر انگلی اُٹھانے کا موقع نہیں ملا۔
آپ ےمجھے بھی یہ ’’میاں اِبی‘‘ کون تھے؟ یہ تھے عبدالراشد، جو ’’مخزن‘‘ میں مولوی عبدالراشد کے نام سے آئے۔ اس کے بعد عبدالراشد الخیری اور پھر صرف راشد الخیری کے نام سے مضامین اور کتابیں لکھتے رہے اور اب دنیا انہیں علامہ راشد الخیری کے نام سے جانتی ہے۔
علامہ مرحوم کا تعلق چوں کہ جید مولویوں کے خاندان سے تھا۔ اس لیے مذہبی ماحول میں انہوں نے ہوش سنبھالا۔ تجویز یہ تھی کہ یہ بھی اپنے پرکھوں کی طرح وعظ کہنے اور تبلیغ کرنے کے لیے وقف ہو جائیں۔ لہٰذا اسی نقطۂ نظر سے ان کی تربیت ان کے دادا، دادی اور والدہ نے کی۔ علامہ مرحوم نے آغاز جوانی میں وعظ کہنا شروع بھی کر دیا تھا، آواز اونچی اور گرج دار تھی۔ اس لیے سامعین کو متاثر کرلیتے تھے مگر وہ پیشہ ور واعظ نہیں بننا چاہتے تھے۔ باپ کا سایہ کم عمری ہی میں سر سے اُٹھ گیا تھا۔ دادا بہت امیر آدمی تھے مگر ان کی امارت سے انہیں کوئی فائدہ پہنچنے کی صورت باقی نہیں رہی تھی۔ دادا کی موجودگی میں بیٹے کے مر جانے سے شرعاً وہ محروم الارث ہو گئے تھے۔ لہٰذا مولانا چاہتے تھے کہ جلد از جلدخود کمانے کے لائق ہو جا ئیں ۔ طبیعت کا رجحان لکھنے لکھانے کی طرف تھا۔ لہٰذامیٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد مضامین لکھتے رہے اور نوکریاں کرتے رہے۔ نوکری سے بھی رغبت نہیں تھی، اس لیے افسروں سے نہیں بنتی تھی اور نوکریوں کو جوتیوں کی طرح بدلتے رہتے تھے اور نوکریاں تھیں کہ ان کی جوتیوں سے لگی پھرتی تھیں۔ ادھر چھوڑی ادھر ملی۔ جب لاہور سے منتقل ہو کر ’’مخزن‘‘ دِلّی آیا تو شیخ عبدالقادر صاحب نے مولانا کو اپنا دست ِ راست بنا لیا۔ شیخ صاحب ہی کے اصرار پر انہوں نے ناول نگاری شروع کی اور اپنا پہلا ناول لکھ کر اپنے پھوپھا اور استاد ڈپٹی نذیر احمد کی خدمت میں بغرضِ اصلاح پیش کیا۔ خبر نہیں اس ناول میں کیا تھا کہ ڈپٹی صاحب ناراض ہوئے اور تاکید کی کہ اگر ناول لکھنا چاہتے ہو تو ایسے لکھو جیسے میں لکھتا ہوں۔ مولانا نے اس ناول کا مسودہ ضائع کر دیا اور ڈپٹی صاحب کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد ناول ’’صالحات‘‘ لکھا۔ اسے دیکھ کر ڈپٹی صاحب خوش ہو گئے اور انہوں نے فرمایا کہ ’’اگر مجھے یقین کامل نہ ہوتا تو میں کہتا کہ ’’صالحات‘‘ میری لکھی ہوئی ہے اور مسودہ چوری ہو گیا۔
پسندیدگی کی سند استاد سے پانے کے بعد مولانا نے ملازمت کو دھتا بتائی اور قلم ہی کے ہو رہے۔ دوست احباب سب اچھے ملے۔ سب سے زیادہ حوصلہ افزائی کرنے والے تو شیخ عبدالقادر ہی تھے۔ ان کے علاوہ شیخ محمد اکرام، مولوی اشرف حسین، شہزادہ مرزا ارشد گورگانی، قاری سرفراز حسین، ان کے علاوہ واحدی صاحب، خواجہ حسن نظامی، عارف ہسوی، آصف علی بیرسٹر، خواجہ فضل احمد شیدا، سبھی اعلیٰ ادبی ذوق کے لوگ تھے۔ واحدی صاحب، جن کا ابھی میں نے نام لیا ہے اور جو حسن اتفاق سے کراچی ہی میں موجود ہیں، عجیب مقناطیسی شخصیت کے بزرگ ہیں۔ کوچہ چیلان میں ان کا دولت کدہ ادیبوں کا مرجع تھا۔ واحدی صاحب ادیب بھی ہیں اور ادیب گر بھی۔ انہوں نے ساری عمر اچھے سے اچھے رسالے نکالے اورادب کی خدمت کے لیے اپنا روپیہ پانی کی طرح بہایا۔ مولانا راشد الخیری کے مزاج میں درویشی کا لا ابالی پن تھا۔ انہیں اس کا احساس نہیں تھا کہ وہ کتنے عظیم المترتبت مصنف بن گئے ہیں۔ لوگ ان کے مضامین اور کتابیں پڑھنے کے لیے چشم براہ رہتے تھے۔ مگر وہ سب سے بے پرواہ صرف اس وقت لکھتے تھے جب ان کا جی چاہتا تھا۔ واحدی صاحب کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے مولانا سے زبردستی لکھوایا۔ وہ اس طرح کہ مولانا کو روزانہ اپنے گھر کے ایک کمرے میں بند کر دیتے اور چند گھنٹے بعد مولانا کو کنڈی کھول کر باہر نکالتے تو مولانا پسینے میں شرابور برآمد ہوتے اور میز پر ٢٥ ۔ ٣٠ صفحات لکھے ہوئے موجود ہوتے۔ غالباً ’’شامِ زندگی‘‘ اسی طرح لکھوائی گئی۔
مولانا نے ١٩٠٩ء میں ماہنامہ ’’عصمت‘‘ جاری کیا اور اس کے دو سال بعد ایک مردانہ پرچہ ’’تمدن‘‘نکالا۔ اس زمانے میں مولانا نے کتابیں کم لکھیں مگر چند سال بعد ان کے خلف اکبر مولا نا رازق الخیری نے’’ عصمت‘‘ کوسنبھال لیا اور’’ تمدن‘‘ کوان کے دوست قاری سرفراز حسین کے صاحب زادے عباس حسین صاحب نے مانگ لیا تو مولا نا مغفور کو کتابیں لکھنے کی فرصت مل گئی اور انہوں نے تابڑ تو ڑ کئی کتابیں لکھ ڈالیں۔ ان کی بڑی صاحب زادی راشدہ بیگم صاحبہ بیاہ کر گنگا پور چلی گئی تھیں ۔مولانا گنگا پور جاتے تو فرصت ہی فرصت ہوتی ۔ یہیں انہوں نے منجملہ اور کتابوں کے ’’آمنہ کالال“ اور’’فاطمہ کا لال‘‘ جیسی بے مثل کتابیں لکھیں ۔ آپا راشدہ کا بیان ہے کہ ابا جان صبح کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ایک کمرے میں اگر بتیاں جلاتے ، ایک طشتری میں پھول بھر کر اپنے پاس رکھ لیتے اور فرش پر مود بانہ بیٹھ کر یہ کتابیں لکھا کرتے تھے۔ جبھی تو یہ دونوں کتابیں سدا بہار ہیں ،اور رہتی دنیا تک مہکتی رہیں گی ۔
مولانا کے پہلو میں ایک چوٹ کھایا ہوا دل تھا۔ چھوٹی سی عمر میں باپ کے سائے سے محروم ہوئے ۔ ماں کی عمر رنڈاپے میں کٹی۔ ددھیال کی محتاجی اور تنگ دستی میں مبتلا رہے۔ امیر دادا کے ورثے میں سے غریب پوتے کو کچھ نہ ملا۔ خلافِ مزاج نوکریاں کرنی پڑیں ۔ ددھیال بھی امیر اور ننھیال بھی امیر، مگر خود پردیس میں چھوٹی تنخواہ کے نوکر ۔ بیوہ ماں اور چھوٹی بہن کا ساتھ ، پریشانیوں کے ہجوم میں زندگی کے ابتدائی سال گزرے ۔ غم ان کے گھٹ میں اتر گیا تھا یہی غم ان کی تحریروں میں بھی رچ گیا تھا اور حزن نگاری ان کے لیے مخصوص ہوگئی مگر کس بلا کا غم اور کس غضب کا حزن تھا کہ ہم نے لوگوں کو ان کی کتابیں پڑھ کر دھاروں روتے دیکھا۔ ان کے اس انداز تحریر کی وجہ سے خواجہ حسن نظامی نے مولانا کے نام سے پہلے’’ غم ادا‘‘ لکھنا شروع کر دیا تھا اور بھیا احسان نے انہیں ’’ مصورِ غم ‘‘ کا خطاب دیا تھا اور یہ خطاب اس درجہ موزوں ثابت ہوا کہ مولانا کے نام کا جز ولا ینفک بن گیا۔
شیخ عبدالقادر اور واحدی صاحب کے بعد تیسرا نمبر رازق الخیری صاحب کا ہے بلکہ سب سے اہم رول ( Role ) موخر الذکر ہی کا ہے کہ انہوں نے کتابت ، طباعت و اشاعت وغیرہ کے چھکندنوں سے علامہ مرحوم کو فارغ کر دیا اور محنت و دیانت داری سے عصمت کو اتنا فروغ دیا کہ اس کی اشاعت دیکھتے ہی دیکھتے دس گنی ہوگئی ۔ علامہ اطمینان قلب سے کتابیں لکھتے رہے اور مولا نا خاص اہتمام سے انہیں چھاپتے رہے۔ اس دھندے میں اتنی برکت ہوئی کہ روپے کی ریل پیل اور گھر میں لہر بہر ہوگئی اور جب علامہ ۱۹۳۶ ء میں ہم سے رخصت ہوئے تو اچھے خاصے رئیسوں میں ان کا شمار ہوتا تھا ۔
مولانا رازق الخیری نے’’ عصمت‘‘ کے علاوہ دو اور رسالوں ” بنات‘‘ اور..... ” جو ہر نسواں‘‘ کو بھی بام ِترقی پر پہنچا دیا اور سینکڑوں کتابیں بھی چھاپ ڈالیں مگر ایک ضروری کام رہا جا تا تھا۔ اس کا خیال انہیں علامہ مرحوم کی وفات ہی کے بعد سے ستارہا تھا۔ مولا نا اپنے والد ِمرحوم کی سوانح عمری ایک نئے انداز سے لکھنا چاہتے تھے ۔اس کے لیے انہوں نے اسی وقت سے مواد جمع کرنا شروع کر دیا تھا مگر ۱۹۴۷ ء کے آشوب میں ان کے بیش بہا مسودات ضائع ہو گئے اور کراچی جانے کے بعد حالات نے انہیں سنبھلنے نہیں دیا۔ یہاں تک کہ اب چند سال سے مولانا کی طبیعت خراب رہنے لگی اور انہیں محسوس ہوا کہ اس فرض کو مزید ملتوی نہیں کیا جاسکتا۔لہٰذا دن رات ایک کر کے انہوں نے علامہ مرحوم کی سوانح عمری سال ڈیڑھ سال میں تیار کر لی۔اس کی اشاعت کے لیے انہیں جو ہفت خواں طے کرنے پڑے، ان کی ایک الگ داستان ہے جس کے بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔ بہر حال اللہ نے یہ مشکل بھی آسان کی اور مولا نا اپنے فرض سے ادا ہوئے۔
یہ سوانح عمری’’عصمت‘‘ کی ۵۶ ویں سالگرہ پر ’’عصمت‘‘ کے ایک خاص نمبر کی صورت میں شائع ہوگئی ہے۔مولا نا کا کارنامہ آپ کے سامنے ہے ۔ ملاحظہ فرمایئے اوراس محنت کی داد دیجیے۔
نامِ نیکِ رفتگاں ضائع مکُن
تا بماند نامِ نیکت برقرار
( ۱۹٦۵ ء)