شاہد احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی

فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

     

    کوئی تیس  سال پہلے کا ذکر ہے کہ دِلّی میں سجادظہیر ایک دفعہ آئے تو ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی معرفت مجھ سے ملنے کے خواہش مند ہوئے۔ کتاب ’’انگارے “ شائع ہو کر ضبط ہو چکی تھی ۔ یہ ساجھے کی ایک باؤلی ہنڈیا تھی ، جوادب کے چوراہے پر پھوٹی تھی ۔ اس کے ایک ساجھی سجاد ظہیر بھی تھے ۔اس لیے میں ان کے نام سے خوب واقف تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے اپنے گھر چائے پر بلایا اور سجاد ظہیر سے ملوایا۔ بہت ہوش مند آدمی نکلے ۔لندن میں کئی سال رہ کر واپس آئے تھے۔ نہایت سنجیدہ اور بردبار، ہنستے بھی تھے تو خندہ دنداں نما سے آگے نہیں بڑھتے تھے۔ انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین دِلّی میں قائم کرنے کی تجویز پیش کی ، اور اس انجمن کے مقاصد بیان کیے۔ ڈاکٹر صاحب نے از راہ مہربانی مجھے اس کام کے لیے سب سے زیادہ موزوں قرار دیا ۔ شاید اس وجہ سے کہ اس وقت ’ ’ساقی‘ ‘   کا سورج چڑھتا چلا جارہا تھا۔ میں نے کہا:’’اگر ترقی پسندی اسی کا نام ہے کہ ادب کو زندگی کا آئینہ دار بنایا جائے ، تو ٹھیک ہے ۔ انجمن قائم ہو جائے گی‘‘ اور انجمن انصار ناصری اور فضل حق قریشی کی مدد سے قائم ہوگئی ۔ دِلّی کے تقریباً سبھی بڑے ادیب، اُردو اور ہندی کے، اس کے جلسوں میں شریک ہونے لگے اور مضامین پڑھنے لگے۔ جلسے باری باری مختلف گھروں میں ہوتے تھے۔ کبھی میرے ہاں ، کبھی ناصری صاحب کے ہاں،کبھی خیری صاحب کے ہاں اور کبھی جنندر کمار کے ہاں ۔ ایک ایسا ہی جلسہ چاندنی چوک میں نیل کے کڑے کے پہلو میں ڈاکٹر شوکت انصاری کے بالا خانے میں ہوا۔ یہ ڈاکٹر صاحب مشہور کا نگریسی لیڈر ڈاکٹر انصاری کے بہت قریبی عزیز تھے اور انھی کی طرح گاڑھے کے کپڑے پہنا کرتے تھے۔ حالاں کہ برسوں پیرس میں رہ کر آئے تھی اس جلسے میں ایک طرف ایک ایسے صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے جن سے ہم میں سے کوئی واقف نہیں تھا۔ ہماری انجمن کے دو ایک جلسوں کے بعد ہر جلسے میں دو ایک نئے آدمی آنے لگے تھے۔ پہلے تو ہم انہیں ادیب یا شاعر ہی سمجھتے رہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سی ، آئی ، ڈی والے ہوتے ہیں۔ اگلی دفعہ میں نے انہیں جلسے میں سے نکال دیا اور ان کے محکمے  کے افسر عبدالرحمٰن صاحب نے شکایت کی۔ وہ ایک ہی گرگِ باراں دیدہ تھے، بولے:’’آپ کوروس سے کتنی رقم ملتی ہے؟‘‘ میں نے کہا:’’ کچھ بھی نہیں‘‘ بولے:’’ تو پھر آپ ان کمیونسٹوں میں کیسے پھنس گئے ؟‘‘ میں نے کہا:”روس یا کمیونسٹوں سے اس انجمن کا کوئی  تعلق نہیں ہے‘‘۔ بولے: ’’آپ شریف آدمی ہیں اور آپ کا ریکارڈ بالکل صاف ہے، بہتر ہے کہ آپ اس سے الگ ہو جائیں یا کوئی اور انجمن بنالیں ورنہ آپ مصیبت میں پھنس جائیں گے‘‘۔ میں نے گھر آ کر سجاد ظہیر  کو پوری روداد لکھی اور پوچھا کہ ’’اگر کل کلاں کو میں قید ہوگیا تو آپ میری کیا مدد کرسکیں گے؟‘‘ جواب آیا’’ ہم کسی قسم کی مدد نہیں کرسکیں گے‘‘۔ ان کے اس خلوص سے میں اتنا خوش ہوا کہ میں نے دِلّی کی انجمن فوراً بند کر دی اور اس کی بجائے ’’انجمن تہذیب ادب‘‘ قائم کر دی۔ میں نے اپنی پیش روانجمن سے کہیں بڑھ چڑھ کر کام کیا اور اس کے جلسوں میں سی آئی ڈی کے لوگ بھی نہیں آتے تھے۔

    ہاں تو ڈاکٹر شوکت انصاری کے ہاں جلسے میں جو ایک اجنبی شخص نظر آیا تو میں نے ڈاکٹر صاحب کے قریب جا کر پوچھا: ” یہ کون ہے؟‘‘ ڈاکٹر صاحب کسی قدر حیران اور شرمندہ ہوکر بولے :” آپ انہیں نہیں جانتے؟ فیض احمد فیض  ہیں ، اسلامیہ کالج امرت سر میں پروفیسر ہیں‘‘ میں پھر بھی نہیں سمجھا اور اپنی لا علمی  چھپانے کے لیے خاموش ہورہا۔ جلسہ شروع ہوا ڈاکٹر صاحب نے صدارت کی، مضامین پڑھے گئے، ان پر گفتگو ہوئی،نظمیں پڑھی گئیں، واہ واہ ہوگئی ۔ آخر میں جناب صدر نے فیض صاحب سے کلام سنانے کی درخواست کی۔ انہوں نے از راه انکساری نہیں نکڑ کی۔ مگر جب انہوں نے اپنی ایک نظم سنائی تو ہم سب کے کان کھڑے ہوئے اور دیدے پھٹے کہ یہ پربین شاعراب تک کہاں چھپا رہا؟ پھر تو چاروں طرف سے ایک اور، ایک اور کی آوازیں آنے لگی ۔ ہم سب ان کا کلام سن کر بہت خوش ہوئے اور وقت رخصت میں نے فیض صاحب سے ہاتھ ملایا اور ان کی تعریف کی۔

    یہ فیض صاحب سے میری پہلی ملاقات تھی۔

    اس کے بعد ، بلکہ تین چار سال بعد لاہور میں مشہور ادیب ایم اسلم صاحب کے مکان پر ڈاکٹر تاثیر مرحوم کے ساتھ فیض صاحب سے دوسری ملاقات ہوئی۔ وہ کم گوآدمی ہیں اور مجھے بھی زیادہ بولنے کی عادت نہیں ہے۔ لہٰذا سلام دعا اور مزاج پرسی سے آگے بات نہ چلی ۔ ان کے چلے جانے کے بعد اسلم صاحب نے بتایا کہ ڈاکٹر تاثیر کی میم صاحب کے ساتھ جو ان کی ایک بہن آئی تھیں، ان سے فیض صاحب کی شادی ہوگئی ہے۔ لہٰذا فیض اور تاثیر اب ہم زلف ہو گئے ہیں۔

    جب دوسری عالم گیر جنگ نے زور پکڑا تو یہ عجب کایا پلٹ ہوئی کہ ہمارے بعض ادیب، جوفرنگی  حکومت کے سخت مخالف تھے ،فوجی دفتروں میں اعلیٰ عہدے حاصل کرنےکے لیے ایک دم سے چولا بدل کر حکومت کے وفادار ہو گئے ۔ سب سے پہلے مجید ملک فوجی وردی پہنے نئی دِلّی میں دکھائی دیے مجھے تو جھٹکا سا لگا مگر وہاں آنکھ پر میل بھی نہیں تھا۔ ان کے بعد ڈاکٹر تاثیر ایک فوجی دفتر کے ڈپٹی ڈائر یکٹر بن کر آ گئے ۔ انہیں دیکھ کر اور بھی زیادہ افسوس ہوا۔ کیوں کہ یہ تو کھدر کا کرتا اور کھد رکا پاجامہ پہنا کرتے تھے۔ ان کے بعد فیض صاحب دکھائی دیئے۔ کپتان کی وردی پہنے ہوئے ۔ حد یہ کہ کچھ دنوں بعد چراغ حسن حسرت بھی وردی پہنے ایک قومی اخبار کی ایڈ یٹری کرنے لگے۔ ایک صاحب تھے عارف آل انڈیا ریڈیو میں، انہوں نے بھی ریڈیو چھوڑ کر وردی پہن  لی ۔ ایک اور صاحب تھے بدر، وہ بھی وردی میں دکھائی دینے لگے۔ حد یہ کہ ن م راشد بھی ریڈیو چھوڑ کر وردی پوش ہو گئے ۔ وردی میں سب سے بے ہنگم حسرت مرحوم اپنے بے ڈول جسم اور فٹ بھر آگے چلنے والی توند کی وجہ سے لگتے تھے۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے وردی کو نہیں بلکہ وردی نے انہیں پہن لیا ہے اور سب سے زیادہ افسوس فیض صاحب کو دیکھ کر ہوتا تھا کہ یہ  شریف آدمی کس چکر میں پھنس گیا ؟ اس وقت روایت یہ مشہور تھی کہ تاثیر نے فیض کو پھانسا ہے تا کہ وہ فخر یہ یہ نہ کہہ سکے کہ دیکھو میں نے خطِ غلامی نہیں لکھا۔ مرحوم سے یہ کچھ بعید بھی نہیں تھا کہ:

    ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے

    کہہ کر دوسروں کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبے۔

    جنگ کے زمانے میں دِلّی میں ادیبوں کی اچھی خاصی کھیپ آ گئی تھی ۔ احمد شاہ بخاری (پطرس ) ریڈیو میں پہلے سے موجود تھے ۔ انہوں نے اپنے گر د اد یبوں کا خاصہ بڑا حلقہ قائم کر لیا تھا۔ ن م راشد ، شوکت تھانوی ، انصار ناصری ،عشرت رحمانی ، غلام عباس، محمود نظامی ، بہزاد لکھنوی تو جنگ سے پہلے ہی ریڈیو میں آچکے تھے۔ جنگ کے زمانے میں چراغ حسن حسرت ، ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری ،منٹو، میرا جی، اوپندر ناتھ اشک، راجندرسنگھ بیدی ، حامد علی خاں اور کرشن چندر بھی ریڈیو میں آ گئے ۔ فوجی دفتروں میں مجید ملک ، تاثیر، فیض اور بد ر آ گئے تھے ۔ سونگ پبلسٹی میں حفیظ جالندھری تھے اور پولی ٹیکنک میں حمید احمد خاں ، پطرس کے اشارے پر ایک اونچے درجے کا ادبی حلقہ نئی دہلی میں بنایا گیا اور اس کے جلسےکبھی پطرس کی کوٹھی پر اور کبھی تاثیر کے بنگلے پر ہونے لگے۔ مجھے بھی خبر نہیں کیوں یا دفر مالیا جا تا تھا۔ پطرس اگر واقعی دل سے کسی کی عزت کرتے تھے تو وہ پروفیسر مرزا محمد سعید تھے جن سے انہوں نے ایک زمانے میں پڑھا تھا ۔ ان کی بے اندازہ علمیت کے پطرس قائل تھے اور اکثر  ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔ حلقے کے پہلے جلسے میں مرزا صاحب بھی شریک ہوئے تھے۔ محمود نظامی نے ’’اُردو شاعری میں عورت‘‘ کے عنوان سے مضمون پڑھا اس پر گفتگو ہوئی اور کوئی بات ایسی نکلی کہ اس پر پطرس نے مرزا صاحب کو متوجہ کیا ۔ مرزا صاحب دو چار لفظ بول کر خاموش ہو گئے ۔ پطرس نے فیض صاحب کو اشارہ کیا اور خبر نہیں کہ انہوں نے دانستہ یا نادانستہ آغاز کلام اس فقرے سے کیا کہ ’’یہ تو مرزا صاحب آپ جانتے ہی ہیں کہ یونان کی تہذیب روما کی تہذیب سے قدیم تر ہے‘‘ اتنا سننا تھا کہ مرزاصاحب کو جلال آ گیا۔ چمک کر بولے ”جی ہاں ، میں جانتا ہوں اور اس سے بھی زیادہ جانتا ہوں‘‘ اور پھر جوان کے علم کے سمندر میں طوفان آیا ہے ، تو انہوں نے آدھ گھنٹے میں قدیم تاریخ کو کھنگال کر رکھ دیا۔ بخاری صاحب زیرلب مسکرا مسکرا کر فیض صاحب کی طرف دیکھتے رہے، جن کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور جا رہا تھا۔ پطرس نے چپکے سے میز پر چائے کا سامان لگوایا اور مرزا صاحب کا لیکچر ختم ہوتے ہی اعلان کر دیا کہ ’’آئیے حضرات چائے ٹھنڈی ہورہی ہے“ فیض صاحب کی طرح ہم سب کو بھی مرزا صاحب کی تقریر میں مزا آ گیا اور ہمیں اندازہ ہو گیا کہ پطرس جو عزت مرزا صاحب کی کرتے ہیں، واقعی مرزا صاحب اس کے مستحق ہیں۔ اس ایک جلسے کے بعد مرزا صاحب پھر کسی جلسے میں شریک نہیں ہوئے ۔ ان جلسوں میں فیض صاحب کا کلام اکثر سننے میں آ جا تا تھا۔ ایک دفعہ دِلّی کے ٹاؤن ہال میں ایک بہت بڑا مشاعرہ ہوا تھا۔ جس کی صدارت پطرس نے کی تھی ۔ اس میں فیض صاحب نے ’’برفاب سے جسم‘‘ والی نظم سنائی تھی ۔ایک صاحب جو میرے برابر میں بیٹھے ہوئے تھے، مجھ سے پوچھنے لگے کہ ’’برف سے جسم تو ہوتے تھے، یہ برفاب سے جسم کیا ہوتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’ جو برف جیسے نہیں بلکہ بے کے پاخ جیسے ہوتے ہیں‘‘، ’’لاحول ولاقوۃ ، یہ بھی کوئی بات ہوئی ؟“ میں نے انہیں اور جلانے کے لیے کہا:’’ بات تو ہوئی جولطف برفابی میں ہے وہ برف میں کہاں ۔ستر سال پہلے غالب بھی تو کہہ گئے ہیں ! ’’خس خانہ و برفاب کہاں سے لاؤں؟ ، کوئی تو بات ہے جو انہوں نے برف نہیں باندھا، برفاب باندھ گئے‘‘۔ ناراض ہوکر منہ پھیر لیا۔

    جنگ ہی کا زمانہ تھا کہ کرشن چندر ایک شام کو کتب خانہ علم وادب پر اُردو بازار میں آئے۔ یہاں مغرب اور عشاء کے درمیان ادیبوں اور شاعروں کا جمگھٹا رہتا تھا۔ جامع مسجد میں جب عشاءکی اذ انیں ہونے لگیں تو ہم سب اپنے اپنے گھر جانے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کرشن چندر مجھے باتوں میں لگا کر ایڈورڈ پارک لے گئے اور بہت پس و پیش کے بعد بولے کہ ’’میں ایک ناول لکھنا چاہتا ہوں، آپ اسے شائع کریں گے؟‘‘ میں نے کہا: "ضرور شائع کروں گا‘‘ بولے:”تو کیاممکن ہے کہ آپ مجھے اس کی قیمت ایک ہزار پیشگی دے دیں؟“ میں نے کہا:’’روپیہ کب چاہیے ؟‘‘ بولے:” جب آپ دے سکیں، میں کشمیر جا کر ایک مہینے میں ناول لکھ لاؤں گا‘‘ اور واقع میں جب ایک مہینے بعد وہ کشمیر سے واپس آئے تو انہوں نے میرے گھر آ کر’’ شکست‘‘ کا مسودہ میرے حوالے کردیا۔ ڈھائی مہینے بعد یہ ناول شائع ہو گیا اور اس کی دھوم مچ گئی۔ ڈاکٹر تاثیر نے ایک فرضی نام سے اس پر تنقید لکھی۔ الٹا اثر ہوا کہ ناول کی شہرت اور بھی زیادہ ہوگئی ۔ اب جسے دیکھیے وہ کہہ رہا ہے کہ میں بھی ناول لکھوں گا۔ اشک نے کہا: ’’میں نے بھی ناول لکھتا شروع کردیا ہے، مگر میں پندرہ سولوں گا‘‘ میں نے کہا:’’ اگر شکست سے بہتر لکھو گے تو پندرہ سو ہی دوں گا‘‘ مگر وہ ناول نہیں لکھا گیا ۔ عصمت چغتائی نے ’’ٹیڑھی لکی‘‘ لکھنا شروع کر دیا۔ منٹو نے ایک ناول دھر گھسیٹا اور خود ہی اسے ناپسند بھی کر دیا۔ سنا کہ ڈاکٹر تاثیر ناول لکھنے کو کہہ رہے ہیں۔ ان سے مل کر دریافت کیا تو کہنے لگے کہ ’’ارادہ تو ہے مگر آپ فیض  لکھوائیے‘‘ فیض صاحب سے ان کے فوجی  دفتر میں ملا، بڑی خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ بولے:’’چھ سو پیشگی دے دیجیے‘‘ میں نے چیک وہیں کے وہیں حوالے کیا۔ حسرت صاحب سے ملاقات ہوئی تو بولے :’’ مولانا یہ آپ نے کیا ناول شائع کیا ہے؟‘‘ میں نے کہا: ”آپ لکھیے نا‘‘ بولے۔”وہ سو روپے پیشگی دے جائیے‘‘  ان کی خدمت میں بھی چیک پیش کر دیا۔ دو تین مہینے بعد فیض صاحب نے رو پیہ  واپس کر دیا کہ ناول نہیں لکھا گیا۔ حسرت صاحب نے نہ ناول دیانہ روپے واپس کیے بلکہ ان روپوں کا کبھی بھول کر بھی ذکر نہیں کیا اور میں نے بھی انہیں اس خوف سے یاد دلا نا مناسب نہیں سمجھا کہ کہیں وہ سچ مچ ناول لکھ ہی نہ دیں ۔ فیض صاحب کی تنہا مثال ہے کہ انہوں نے رو پیہ واپس کر دیا۔ ورنہ کم و بیش پندرہ ہزار رو پیہ ان پیشگیوں میں ڈوبا اور پاکستان آنے کے بعد تو میں نے پبلشنگ کے کام ہی سے تو بہ کر لی۔

    رہا کھٹکا نہ چوری کا ، دعا دیتا ہوں رہزن کو

    فوجی خدمت سے سبک دوش ہونے کے بعد فیض صاحب’’امروز‘‘ کے ایڈیٹر ہو گئے ۔ چراغ حسن حسرت بھی اسی دفتر میں آگئے تھے۔ ان حضرات نے اس اخبار کو چار چاند لگا دیے۔ عام اخباروں سے اس کی نمود مختلف تھی ۔خبروں کے علاوہ اس کا ادبی حصہ بھی بڑا جان دار ہوتا تھا۔ یہ اخبار بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہاں تک کہ اردو کے سب اخباروں سے بازی لے گیا۔ انگریزی اخبار ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر بھی فیض صاحب ہی تھے ۔ اُردو کے مضامین تو فیض صاحب کے لکھے ہوئے شاذ ہی دیکھنے میں آئے۔ البتہ انگریزی کے مضامین کئی دفعہ دیکھنے میں آئے ۔ بہت سلجھے ہوئے اور پرمغز ہوتے تھے ۔افسوس ہے کہ فیض صاحب نے نثر لکھنے کی طرف کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا اوراپنی تمام اعلیٰ قابلیت کے باوجود اب تک کوئی مستقل تصنیف پیش نہیں کر سکے اور مجھے انجیل مقدس کا وہ قصہ یاد آ جا تا ہے کہ ایک آقا جب سفر پر جانے لگا تو اپنے تین غلاموں کو ایک ایک سونے کا سکہ دے گیا۔ ایک غلام نے اسے خرچ کر ڈالا ، دوسرے نے اسے زمین میں گاڑ کر دیا اور تیسرے نے اسے کاروبار میں لگا دیا۔ آقا نے سفر سے واپس آ کر پوچھا کر تم نے سکے کا کیا کیا؟ پہلے غلام نے کہا: ”میں نے اسے خرچ کر دیا‘‘ آقا اس پر بہت بگڑا اور اسے سزا دی ، دوسرے نے کہا: ”میں نے اسے زمین میں گاڑ دیا تھا، یہ لیجیے یہ موجود ہے‘‘ آ قا اس سے بھی نا خوش ہوا اور بولا کہ ’’تم نے اسے ضائع نہیں کیا مگر تم نے اس سے فائدہ بھی نہیں اٹھایا، یہ تم نے بہت برا کیا‘‘۔ تیسرے نے سکہ بھی پیش کر دیا اور وہ منافع بھی ، جو کاروبار میں اسے لگانے سے حاصل ہوا تھا۔ آقا اس سے بہت خوش ہوا اس کی ستائش کی اور اسے انعام بھی دیا۔ کاش فیض صاحب بھی اپنے ٹیلنٹ کو بروئے کار لاتے اور دوسروں کو اس سے مستفیض ہونے کا موقع دیتے ۔ سنا ہے کہ ان کا ایک چھوٹا سا مجموعہ  چند مضامین کا کبھی شائع ہوا تھا۔اب تو وہ کہیں دیکھنے میں نہیں آتا اور اکثر لوگوں کو اس کا نام بھی یاد نہیں رہا۔ انگریزی اخبار پاکستان ٹائمنر کی ادارت بھی فیض صاحب ہی کو سونپی گئی تھی ۔اس کے بعد ایک بڑا شان دار ہفتہ وار پر چہ ’’لیل ونہار‘‘ بھی امروز اور پاکستان ٹائمٹر کے ادارے سے شائع ہونا شروع ہوا تھا۔اس کے ایڈیٹر بھی فیض صاحب ہی مقرر کیے گئے تھے مگر ان کا نام شاید برائے نام ہی دے دیا گیا تھا۔ لیل و نہار میں نہ تو فیض صاحب بالالتزام کچھ لکھتے تھے اور نہ انہیں اس پرچے کے دفتر میں کبھی کام کرتے دیکھا۔ ایک اور معروف ادیب و صحافی تھے سبط حسن ، جو اس پرچے کا سارا کام کرتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد سبط حسن کو علیحدہ کر دیا گیا، شاید اس وجہ سے کہ وہ کمیونسٹ مشہور ہو گئے تھے۔ ’’لیل ونہار‘‘ جس تیزی سے بڑھا تھا ، ان کی علیحدگی کے بعد اسی تیزی سے گرنا شروع ہو گیا۔ پروفیسر صوفی تبسم نے اسے بہت سنبھالنے کی کوشش کی مگر ان کا وقفہ ادارت ’’لیل و نہار‘‘ کا سنبھالا ہی ثابت ہوا اور ایک لائق فخر ہفتہ وار جریدہ موت کی آغوش میں جاسویا ۔

     فیض صاحب بھی کمیونسٹ مشہور ہو گئے تھے مگر ان کی تخریبی سرگرمیاں کبھی دیکھنے میں نہیں آئیں ۔ وہ تو ایک خاموش اور مرنجاں مرنج قسم کے آدمی تھے اور ہیں ۔ کمیونسٹ ہونے کا کلنک کا ٹیکہ اگر ایک دفعہ کسی کو لگ جائے تو شاید پھر ساری عمر چھٹائے نہیں چھوٹتا۔ غالباً اسی’’داغِ بد نامی‘‘ کی وجہ سے فیض صاحب ’’پاکستان ٹائمز‘‘ سے ، احمد ندیم قاسمی’’ امروز‘‘ سے اور سبطِ حسن ’’لیل و نہار‘‘  سے علیحدہ کر دیے گئے ۔

     جب راولپنڈی کانسپریسی کیس میں بعض بڑے فوجی افسروں کے ساتھ فیض صاحب بھی گرفتار کر لیے گئے تو میری طرح بے شمار لوگوں کو تعجب ہوا کہ یہ شریف آدمی اس مرغے میں کیسے آ گیا ؟ یہ کوئی بہت اونچے درجے کی سیاست ہے جسے معمولی عقل کےلوگ نہیں سمجھ سکتے۔لہذا ہم نے ۔

    رموزِ مملکتِ خویش خسرواں دانند

     کہہ کر صبر کر لیا۔ غالباً  تین ساڑھے تین سال تک فیض صاحب قید و بند میں رہے۔ اس زمانہ میں ان کی بیگم نے مردانہ وار ابتر حالات کا مقابلہ کیا۔ ملازمت کی اوراپنی بچیوں کے معیار زندگی میں فرق نہیں آنے دیا۔ ان کی تعلیم بھی جاری رہی اور ان کے اجلے خرچ بھی چلتے رہے۔ میں نے بیگم فیض کو اخبار کے دفتر میں پیسنے میں شرابور نہایت انہماک سے کام کرتے دیکھا ہے۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں ان کے قریب جا کر انہیں اس حوصلے کی داد دیتا۔ دور سے انہیں دیکھا اور بھاری دل اور بھاری قدموں کے ساتھ چلا آیا۔ بارے یہ ابتلا کا دور بھی ختم ہو گیا اور فیض صاحب بری ہو کر اپنے گھر آگئے ۔ ان کے جیل میں رہنے کا ایک فائدہ فیض صاحب کو ہوا یا نہ ہوا ہو،  ہمیں یہ ہوا کہ ان کی منظومات کے دو مجموعے ’’زنداں نامہ‘‘ اور ’’دستِ صبا‘‘ میں مل گئے۔

    بے روزگاری کے زمانے میں فیض صاحب نے ایک فلم کے مکا لمے وغیرہ لکھے تھے اور اس پر بین الاقوامی انعام ملا تھا۔ مگرفلم سازی اورفلم بازی سے کسی بھلے آدمی کو کیا سروکار ؟ فیض صاحب دراصل تعلیمی سلسلے کے آدمی تھے مگر کسی یونیورسٹی نے کوئی پیشکش نہیں کی ۔ شاید اہل اختیار ان کے کلنک کے ٹیکے سے ڈرتے تھے۔ بارے جب لاہور میں آرٹ کونسل کی شاخ قائم ہوئی تو فیض صاحب اس کے سیکرٹری مقرر ہو گئے ۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انہیں  لینن پرائز دینے کا اعلان روس نے کیا۔ یہ تقر یباً وہی زمانہ تھا جب پاسٹر ناک کو اس کی کتاب ڈاکٹر زیواگو پر نوبل پرائز دیے جانے کا اعلان ہوا تھا اور حکومت روس نے اس بوڑھے مصنف کی آدر کتے سے بد تر کر دی تھی۔ اب اسی کمیونزم کے منبع سے فیض صاحب کو انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا! سب نے دم سادھ لیا کہ اللہ خیر کرے، دیکھیے اب کیا گل کھلتا ہے؟ مگر حکومت پاکستان نے اس غیر ملکی اعزاز پر روس  کی طرح تنگ دلی کا مظاہرہ نہیں کیا اور شکر ہے کہ ہمارےاندیشے غلط ثابت ہوئے۔ جب فیض صاحب انعام لینے کے لیے روس جانے لگے تو کراچی ٹھہر تے ہوئے گئے ۔پاکستان رائٹرز گلڈ نے آرٹس کونسل میں ان کے اعزاز میں ایک بہت بڑا جلسہ کیا۔ اس جلسے کی صدارت کا فخر مجھے حاصل ہوا ۔ منجملہ اور باتوں کے میں نے اپنی صدارتی تقریر میں اپنی حکومت سے شکوہ کیا کہ فیض صاحب کو اپنی حکومت سے اب تک کوئی انعام یا اعزاز نہیں ملا اور سات سمندر پار کے ایک بہت بڑے ملک نے انہیں امن کے اتنے بڑے انعام کا مستحق سمجھا۔ شاید ہمارے ملک میں زندہ ادبیوں کی قدردانی کا دستورنہیں ہے جبھی تو پاکستان کا سب سے ہر دل عزیز شاعرمحرومِ التفات ہے ۔ مگر فیض صاحب نے قیامِ امن کے لیے جو جد و جہد کی ،اس کا علم ہمیں نہ ہو سکا۔

    جب فیض صاحب روس روانہ ہو گئے تو یہاں افواہ اڑنی شروع ہوگئی کہ واپس آتے ہی وہ گرفتار ہو جائیں گے لیکن ایسا کوئی جارحانہ اقدام نہیں کیا گیا اور فیض صاحب شاد و بامراد واپس آ گئے ۔

     روس سے واپسی کے کچھ عرصہ بعد سنا کہ فیض صاحب لندن چلے گئے ہیں اور پاکستانی کلچر پر مواد جمع کر کے کتاب لکھیں گے۔طویل عرصے تک وہ لندن میں رہے اور یہاں واپس آ کر بھی انہیں خاصی مدت گزرگئی مگر وہ کتاب اب تک شائع نہیں ہوئی۔ شایدان کی شاعرانہ سہل انگاری مانع ہے، یا شاید دیر آید درست آید ۔

     سال ڈیڑھ سال پہلے سنا تھا کہ فیض صاحب کراچی یو نیورسٹی میں انگریزی کے صدر شعبہ بنائے جارہے ہیں ۔اس خبر سے خوشی ہوئی تھی کہ یہ جگہ ان کے لیے موزوں بھی تھی اور خود یونیورسٹی کے لیے بھی لائقِ فخر ،مگر پروفیسر احمدعلی کی طرح فیض صاحب کو بھی ارباب بست و کشاد نے مناسب نہیں سمجھا۔ مگر جو جو ہر قابل ہوتے ہیں انہیں قدردان مل ہی جاتے ہیں۔ اب وہ ایک بہت بڑے مشاہرے پر ہارون کالج کراچی کے پرنسپل ہیں ۔ ہر چیز اپنی اصل کی طرف رجوع ہوتی ہے ۔ فیض صاحب تعلیمی سلسلے کے آدمی تھے ، پھر تعلیمی سلسلے ہی میں آ گئے، حق بہ حق دار رسید ۔

    (١٩٦٥ء)