شاہد احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی

کرشن چندر

    کرشن چندر

    تیس سال سے زیادہ ہی ہو گئے کہ ’’ادبی دنیا‘‘ اور ’’ہمایوں‘‘ میں ایک نئے ادیب نے افسانے لکھنے شروع کیے۔ ان افسانوں کا انداز اتنا دل کش ہوتا تھا کہ پڑھنے والے ان کے لیے چشم براہ رہنے لگے۔ یہ افسانہ نگار تھا..... کرشن چندر جس نے اپنے پہلے افسانے ہی سے ہر دل عزیز ی حاصل کر لی تھی۔ یہ شرف کسی کسی ہی کو نصیب ہوتا ہے۔

    قبول خاطر و لطف سخن خداد داد است

    قیام پاکستان سے پہلے دِلّی، لاہور گھر آنگن تھا۔ رات کو کھانا وانا کھا کر فرنٹیئر میل میں جا سوئے اور صبح جو آنکھ کھلی تو لاہور۔ دِلّی کے بعد سب سے زیادہ دخل میری زندگی میں لاہور ہی کو رہا ہے۔ تعلیمی اعتبار سے لاہور اس زمانے میں ہندوستان میں وہی حیثیت رکھتا تھا جو ولایت میں کیمبرج یا آکسفورڈ۔ اس وقت فیشن کے لحاظ سے لاہور کو ہندوستان کا پیریں سمجھا جاتا تھا اور واقعی میں شام ہوتے ہی لاہور کی مال پر قد آدم قیامتیں برپا ہو جاتی تھیں۔ ایلو! میں بھی بہک کر کہاں سے کہاں جا پہنچا۔

    ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا

    بات پہنچی تری جوانی تک

     ہاں تو اس لاہور میں میری کالج کی تعلیم کے چار سال گزرے۔ پھر چند سال بعد جب میں نے ’’ساقی‘‘ شائع کرنا شروع کیا تو لاہور کے سال میں کئی کئی پھیرے ہوتے تھے۔ لاہور کی علمی و ادبی زندگی اپنے عروج پرتھی۔ رسالوں میں نیرنگِ خیال، عالم گیر،ہمایوں،  ادبی دنیا اور شاہکار اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ یہ شہر ادب کی منڈی اور ادیبوں کی کھان تھا۔ اس شہر میں دو چار نہیں ، دس بیس  نہیں ، سینکڑوں شاعر اور ادیب رہتے تھے۔ اگر میں صرف ان کے نام گنانا شروع کر دوں تو کئی صفحے  بھر جائیں گے۔ اس زمانے کو ہر لحاظ سے لاہور کا سنہرا زمانہ کہنا چاہیے ۔ لاہور کی وہ طرفگی اس کے بے مثل بسنے والوں کے باعث تھی۔ وہ لوگ ہم سے رخصت ہوئے اور اس شہر کی شان و شوکت بہت کچھ اپنے ساتھ لے گئے۔

    وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں

    اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

     دوسری عالم گیر جنگ سے چند سال پہلے اس لاہور میں لکھنے والوں کی ایک اور کھیپ آئی جس میں میراجی ، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور اوپندر ناتھ اشک ایک دم سے چمک اُٹھے ۔ علامہ تاجور سے ’’ادبی دنیا‘‘ مولانا صلاح الدین احمد نے خرید لیا تھا۔ مولانا کی مقناطیسی شخصیت کے گرد نئے ادیبوں اور شاعروں کا ایک حلقہ اسی طرح بن گیا تھا جیسے چاند کے گرد ہالہ۔ مولانا خودصاحبِ طرز ادیب تھے مگر بہت کم لکھتے تھے۔ ہاں بہت بڑے ادیب گر تھے۔ نئے لکھنے والوں کی تلاش میں رہتے تھے اور جس میں ذرا بھی جان دیکھتے، لکھنے میں اس کی راہ نمائی کرتے اور اس کے مضامین کی اصلاح کر کے ’’ادبی دنیا ‘‘میں چھاپتے۔ ’’ ادبی دنیا‘‘  میں کسی کے مضمون کے چھپ جانے کا یہ مطلب تھا کہ وہ لکھنے والامستند ادیب بن گیا۔ مولانا کی خوش مزاری اور ان کی مونچھوں میں چھپی ہوئی دائمی مسکراہٹ نئے لکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ مولانا بڑی محبت وخلوص سے انہیں ادب و انشاء کے نکات سمجھاتے اور الٹی ان کی خاطر تواضع کرتے۔ اس موانست کے باوجود مولانا کی شخصیت میں کوئی ایسی بات تھی کہ کسی کی مجال نہ تھی کہ ان سے بے تکلف ہو جائے۔ مولانا انہیں ایک ’’محترم فاصلے‘‘ پر رکھنا خوب جانتے تھے۔ لہٰذا سبھی مولانا کا ادب کرتے اور انہیں اپنا شفیق بزرگ سمجھتے تھے۔

    مولانا کی ادارت میں ’’ادبی دنیا‘‘ اپنے عروج پر تھا کہ حسب معمول میں ایک سال لاہور گیا ۔مولا نا کو خبر ہوئی تو مجھے اپنے دفتر میں شام کی چا ۓ پر بلایا۔مولانا سے تنہائی میں خوب کھل کر باتیں کرنے کے ارادے سے جب میں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں ان کے احباب کا ایک خاصا بڑا مجمع لگا ہوا ہے ۔مولانا نے فرداً فردا ًسب کا مجھ سے تعارف کرایا۔ جب انہوں نے کرشن چندر کا نام لیا تو میرا دل زور سے دھڑ کا اور میں نے بڑی گرم جوشی سے ان سے ہاتھ ملایا۔ یہ کرشن چندر میرے تصور کے کرشن چندر سے بہت مختلف نکلے ۔ میں سمجھ رہا تھا کہ چھ فٹے لمبے تڑنگے بڑے چرب زبان جوان ہوں گے مگر وہ کسی قدر پستہ قد اور خاموش آدمی تھے۔ چہرے سے سنجیدگی اور بردباری ٹپکتی تھی ۔ بولتے کم تھے مگر دوسروں کی باتوں پر مسکراتے اور ہنستے زیادہ تھے ۔ پہلی ملاقات میں ان سے بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ واپس دِلّی آنے کے بعد ان سے خط و کتابت کا سلسلہ قائم ہو گیا اور انہوں نے ’’ساقی‘‘ کے لیے ایک افسانہ’’ نیلی شلوار‘‘ بھی بھیجا۔ خطوں سے بہت مخلص آدمی معلوم ہوتے تھے اور بعد میں میَں نے انہیں سر تا پا اخلاص پایا ۔

    جب دوسری عالم گیر جنگ چھٹری تو کئی ادبیوں کی قسمت کھلی ۔ وہ یوں کہ آل انڈیا ریڈیو کو بڑے پیمانے پر پرو پیگنڈہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ ۱۹۴۰ ء کے بعد ایک ایک کر کے کئی بڑے ادیب اس خدمت کو انجام دینے کے لیے آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے ۔ان میں وہ حضرات بھی شامل تھے جو کھلم کھلا کمیونسٹ تھے اور وہ بھی جو فرنگی راج کے شدید مخالف تھے اور بعض نے تو حد ہی کر دی کہ جھٹ کینچلی بدل کر فوج میں بھرتی ہو گئے ۔ مجید ملک ،ڈاکٹر تاثیر، فیض احمد فیض ، ن م راشد ، عارف ، چراغ حسن حسرت اور بدرالدین بدر ، کرنل ، میجر اور کپتان بن گئے ۔ ریڈیو کی ملازمت قبول کرنے والوں میں کرشن چندر، بیدی، سعادت حسن منٹو، اوپندر ناتھ اشک، محمود نظامی ، انصار ناصری، شوکت تھانوی،سر یندر ناتھ چٹوپادھیا ( سروجنی نائیڈو کے بھائی)  ڈاکٹر اختر حسین رائےپوری، ڈاکٹر محمودحسین، راز مراد آبادی ، حامد علی خاں اور میرا جی تھے۔ احمد شاہ بخاری (پطرس) تو ڈائریکٹر جنرل ہی تھے۔ ان میں سے دو ایک کے سوا باقی سب دِلّی ہی میں تھے۔ اسی زمانے میں مجھے ان سب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا پیسے کی فراوانی نے بڑے بڑوں کے جھال کھول دیے تھے۔ سیر کی ہنڈیا میں سواسیر پڑ گیا تھا ،نتیجہ معلوم !

    مگر جنہوں نے اپنی سنجیدگی اور بردباری کو نہیں چھوڑا، اور اپنی اگلی روش ہی پر قائم رہے ان میں سے ایک کرشن چندر تھے ۔ دِلّی آتے ہی وہ ایک شام کو کتب خانہ علم وادب اردو بازار میں مجھ سے ملنے آئے ۔ جس تکلف سے پہلے دن ملے تھے، آخری دن تک اسی تکلف سے ملتے رہے۔ ساتھ اُٹھنا بیٹھنا بہت رہا۔ میں ان کے ہاں اور وہ میرے ہاں کھانے میں اکثر شریک ہوتے رہے لیکن تکلف کی حد برابر قائم رہی۔ وہ لیے دیے رہتے تھے اورکم گو تھے۔ ان میں ایک وقار تھا جو ان کی عزت کرنے پرمجبور کرتا تھا۔ خفيف الحرکتی اور اوچھا پن ان میں نام کو نہیں تھا۔ ان کے ملنے کا انداز بے غرضانہ اور مخلصانہ تھا اور وں کی زبانی ان کے بارے میں بری بری باتیں سنیں ۔ اس کان سنیں اس کان اڑائیں ۔ یار کی یاری سے غرض، یار کے فعلوں سے کیا کام؟ نفیس انگریزی لباس پہنتے تھے ۔ دھوتی پہنے  انہیں کبھی نہیں دیکھا۔ نہ ان کے افسانوں میں سے بوئے پوری کچوری آتی تھی اور نہ خودان میں سے۔

    ریڈیو کے افسر کرشن چندر سے کچھ  خوش نہیں تھے ۔ کیوں کہ انہیں چاپلوسی اور خوشامد کرنی نہیں آتی تھی۔ انہیں اپنے کام سے کام تھا۔ دفتری فرائض وہ پوری جاں فشانی سے انجام دیتے تھے۔ اس کے بعد افسروں سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا۔ دوستوں کے ساتھ اپنا جی بہلاتے تھے اور اپنے آپ میں مگن رہتے تھے۔ ان کے اس طرزعمل سے اوپر والوں کو یہ بدگمانی ہو چلی تھی کہ کرشن چندر بہت مغرور آدمی ہے۔ ہم نے اسے ریڈیو میں جگہ  دی ہے اور یہ ہمیں کو گھاس نہیں ڈالتا۔ ہمارے متوسلین تو ہم سے ملنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں اور کرشن چندر ہے کہ ہم سے دور ہی دور رہتا ہے۔ افسروں کی اس شکایت کا علم کرشن چندر کوبھی ہو گیا تھا مگر انہوں نے اس کا کوئی اثرنہیں لیا۔ کسی نے اگر انہیں جتایا بھی تو انہوں نے صاف جواب دےدیا کہ میرا ان سے ملنے کو جی نہیں چاہتا تو میں ان سے کیوں ملوں؟ نتیجہ یہ کہ ان کے بعض خوشامدی ساتھیوں کو ترقی مل گئی اور کرشن چندر پروگرام اسسٹنٹ کے پروگرام اسسٹنٹ ہی رہے۔

    ایک دفعہ ان کے ہم چشموں نے انہیں بہت سمجھایا بجھایا کہ پطرس ڈائریکٹر جنرل ہی نہیں ہے، بہت بڑا ادیب اور ادبیوں کا قدردان بھی ہے، اگر تم ان سے مل کر دو باتیں کر لو تو اس میں کیا حرج ہے؟ وہ اچھے آدمی ہیں، سب سے اچھی طرح پیش آتے ہیں۔ تم سے مل کر خوش ہوں گے اور تم بھی ان سے مل کر خوش ہو گے۔ لوگوں نے ناحق انہیں ہوابنا رکھا ہے ۔ تم جا کر تو دیکھو۔ غرض یاروں نے گونتھ گانتھ کے کرشن چندر کو آمادہ کر لیا اور ایک دن کئی زینے طے کر کے کرشن چندر ڈائریکٹر جنرل کے کمرے کے آگے جا کھڑے ہوئے۔ چپراسی کے ہاتھ اپنے نام کی پر چی اندر بھیجی ۔ فوراً بلا لیے گئے ۔ جا کر آداب عرض کیا اور کھڑے رہے۔

    پطرس ( کرسی کی طرف اشارہ کر کے) ’’تشریف رکھیے‘‘۔

     کرشن چندر:’’جی ‘‘( بیٹھ گئے)۔

    (خاموشی)

    پطرس: ’’ فرمایئے؟“۔

    کرشن چندر:’’جی ..... جی   آپ.....آپ بڑے اچھے ہیں‘‘۔

     پطرس(مسکرا کر): ’’میں آپ کی بات سمجھ گیا، ٹھیک ہے‘‘۔

     کرشن چندر ( کھڑے ہوتے ہوئے): ’’اجازت ہے؟‘‘۔

     پطرس:’’ ضرور،ضرور‘‘۔

    ملاقات ختم ہوگئی ۔ کرشن چندر باہر آئے تو جیسے ان پر سو جوتے پڑ گئے ہوں۔ لڑکھڑاتے ہوئے زینے پر سے اترے۔ احباب ان کے منتظر ہی تھے، ٹوٹ پڑے ۔ ’’کیا ہوا..... کیا ہوا؟“ ناراض ہو کر بولے۔ ’’ہوتا کیا؟ کہا تھا کہ مجھے مت بھیجو مگر آپ لوگ مانے نہیں‘‘۔ پوچھا: ”آخر ہوا کیا؟‘‘..... بولے: ’’یہ ہوا!“ سب نے قہقہے لگانے شروع کردیئے ۔کرشن چندربھی کھسیانی ہنسی ہنسنے لگے۔

    کرشن چندر نے اپنے افسانوں کے باعث بہت جلد شہرت حاصل کر لی تھی مگر انہیں نہ تو اپنی شہرت کی پروا تھی اور نہ مقبولیت کا زعم ۔ ان کی کسی بات سے یہ ظاہر ہی نہیں ہوتا تھا کہ انہیں اپنی بڑائی کا پندار ہے۔ باتیں بھولی بھولی کرتے اور نظریں جھکائے رہتے۔ ان کی تحریر جتنی  جان دار ہوتی تھی، ان کی گفتگو اتنی ہی بے جان ہوتی تھی۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ مگر بات چیت میں مغربی مصنفین کے حوالے دے کر سننے والوں کو مرعوب نہیں کرتے تھے۔ ان کی آواز نیچی اور لہجہ متین ہوتا تھا۔ جو بات کہنی ہوتی، سیدھے سبھاؤ کہہ دیتے۔ میں نے ان کی زبان سے عربی یا فارسی کا کوئی مشکل لفظ کبھی نہیں سنا۔ اُردو بولتے تھے تو اُردو ہی بولتے تھے۔ اس میں انگریزی نہیں ملاتے تھے اور یہ بھی عجیب بات تھی کہ کئی سال کی یکجائی کے باوجود انہیں انگریزی بولتے کبھی نہیں دیکھا۔ حالاں کہ وہ انگریزی ہی کے ایم اے تھے اور انہوں نے لاہور کے فورمن کرسچین کالج میں پڑھا تھا جس کے پروفیسر امریکن تھے۔ مگر لکھنے کے معاملے میں انگریزی بھی اتنی ہی خوب صورت لکھتے تھے جیسی کہ اُردو۔

    کرشن چندر نام ونمود سے گھبراتے تھے۔ وہ شہرت سے بھاگتے تھے اور شہرت ان کے پیچھے بھاگتی تھی ۔ نمود سے گریزاں ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ جب ۱۹۴۲ ء میں دوسری عالم گیر  جنگ زور پکڑ رہی تھی اور جاپان نے برما پر قبضہ کرنے کے بعد کلکتہ پربھی دوچاربم گرادیے تو کرشن چندر کے دل میں یہ آئی کہ اب واقعی ہندوستان کے سب ادیبوں کو اپنی پالیسی بدل دینی چاہیے ۔ اب تک تو انگریز دشمنی تھی اور ہندوستانی جرمنی اور جاپان کی پیش قدمیوں پر دل ہی دل میں خوش ہوتے تھے۔ مثل مشہور ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ! لیکن  جاپان کی جارحانہ حرکت نے باور کرا دیا کہ یہاں معاملہ برعکس ہے، یعنی  دشمن کا دشمن بھی دشمن! لہٰذا ہماری خیر اسی میں ہے کہ سب کو اپنا دشمن سمجھیں اور صرف اپنی خیر منائیں۔

    ایک دن کرشن چندر نے بڑی راز داری سے مجھ سے کہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ ہندوستان کے تمام زبانوں کے معروف ادیبوں کا ایک کنوشن دِلّی میں بلایا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ موجودہ حالات میں پورے ہندوستان کے ادب کا رُخ کیا ہونا چاہیے ۔ پھر ہمیں چند ضروری قراردادیں منظور کرانی ہوں گی۔ میں نے کہا:”تو یہ جلسہ ضرور بلانا چاہیے ۔ آپ پیشوائی کیجیے ، ہم آپ کے ساتھ ہیں‘‘۔ بولے : ’’نہیں ، کنوینر آپ ہوں گے اور وات سیان‘۔ میں نے پوچھا: ’’یہ وات سیان کون صاحب ہیں؟ کیا مد راسی ہیں؟‘‘ کہا: ’’ہندی کے بہت بڑے ادیب ہیں‘‘ میں نے کہا:’’ کنوینر تو آپ کو ہونا چاہیے ۔ آپ کو اُردو والے بھی جانتے ہیں اور ہندی والے بھی‘‘ بولے: ’’مگر آپ غیر جانب دار ادیب ہیں اور ایڈیٹر ہیں، اور دِلّی ہی کے رہنے والے ہیں اور حکومت کے ملازم بھی نہیں ہیں ۔ اس کام کے لیے آپ سے موزوں آدمی ہمیں اور کوئی نہیں مل سکتا‘‘ اپنی تعریف سن کرسبھی پھول جاتے ہیں، میں بھی پھول گیا اور جھٹ رضامند ہو گیا۔ ایک ہفتے ہی میں کنونشن کا پروگرام چھپ کر آگیا، اور دعوت نامے بھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اخراجات کے لیے روپیہ کہاں سے آیا؟ کسی کو کیا دیا ؟ سارے کام سدھ کیسے ہوتے چلے گئے؟ دو ہفتے بعد بھانت بھانت کے مہمان ادیب آنے شروع ہو گئے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہیں کہاں ٹھہرایا گیا۔ سو سے کیا کم ہوں گے۔ بیشتر اپنے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرے تھے۔ ہارڈنگ لائبریری کے ہال میں دو دن تک شان دار جلسہ ہوا۔ دھواں دھار تقریر یں ہوئیں، پیپر پڑھے گئے اور قراردادیں منظور کی گئیں میں نے کوئی کام نہیں کیا۔ سب کام بغیر کسی پریشانی کے ہوتے چلے گئے ۔ سب نے مجھے جلسے کی کامیابی کی مبارکباد دی۔ میں دل ہی دل میں شرمندہ ہو رہا تھا کہ کرشن چندر کی محنت کا پھل مجھے مل رہا ہے۔ کرشن چندر کھلے جاتے تھے اور میری تعریف کے پل باندھے جاتے تھے۔ مجھ پر گھڑوں پانی پڑ تا رہا اور میں کھسیانی ہنسی ہنستا رہا۔ بعد میں میَں نے کرشن چندر سے کہا کہ ’’آپ نے اس جلسہ کی کامیابی اور نیک نامی کا سہرا میرے سر باندھ دیا۔ سارا کام تو آپ نے کیا اور نام میرا ہو گیا‘ ‘ ۔   مسکرا کر بولے: ’’سب ٹھیک ہے، اس کا ذکر کسی سے نہ کیجیے‘‘ اور میں نے آج تک اس کا ذکر کسی سے نہیں کیا تھا ،مگر اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس راز کو افشا کر دوں تا کہ حق حق دار کو پہنچ جائے ۔

     کرشن چندر بڑے خر چیلے آدمی تھے۔ تنخواہ کے ڈھائی تین سو روپے شاید دس دن بھی نہیں چلتے ہوں گے۔ کتابیں لکھتے تھے یا مرتب کر تے تھے اور لاہور سے ان کی کتا بیں چھپتی رہتی تھیں ۔ان کی آمدنی سے وہ اپنے اخراجات پورے کرتے تھے ۔ ایک دن شام کو کتب خانہ علم و ادب پر آئے ۔ احباب حسب ِمعمول جمع تھے ۔ کرشن چندر عموماً تھوڑی دیر بیٹھ کر چلے جایا کرتے تھے مگر اس دن جمے رہے اور پہلو بدلتے رہے۔ جب دکان بند ہونے لگی اور سب اپنے اپنے گھر جانے لگے تو کرشن چندر نے مجھ سے کہا: ” آپ سے کچھ بات کرنی ہے‘‘ میں نے کہا:’’فرمائیے‘ ‘ ، بولے: ” آپ ان سب سے رخصت ہولیں تو کہیں چلیں ۔ میں ان کے ساتھ ہولیا، انہوں نے ایڈورڈ پارک کا رُخ کیا۔ ہم ٹہلتے ٹہلتے مچھلی والوں میں سے گزر گئے ۔ کرشن چندر جب کچھ نہ بولے تو میں نے کہا: ’’ فرمایئے ، کیا بات ہے؟‘‘ بولے:’’ میں ساقی بک ڈپو کے لیے ایک ناول لکھنا چاہتا ہوں‘ ‘ ۔ میں نے کہا:’’ضرور لکھیے ، اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے؟ “ ہنس کر بولے:’’مگر اس کے لیے مجھے کشمیر جانا ہوگا‘‘ میں نے کہا:’’ تو جائیے‘‘۔ کہا ’’ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس ناول کا کاپی رائٹ مجھ سے لے لیں “ کرشن چندر کو معلوم تھا کہ جب سے ایک معروف ادیب نے اپنی کتاب کی رائلٹی کے سلسلے میں مجھ سے بدگمانی کی تھی، میں نے رائلٹی پر کتابیں چھاپنے سے توبہ کر لی تھی اور دائمی حقوق خرید نے شروع کر دیئے تھے ۔لہٰذا کرشن چندر نے کاپی رائٹ خریدنے کی پیشکش کی تھی ۔ اب گھبرانے کی میری باری تھی کہ اتنا بڑا اور مقبول مصنف نہ جانے کیا ما نگ بیٹھے؟ میں نے اپنی گھبراہٹ کو چھپاتے ہوئے پوچھا کہ’’ آپ کیا قبول کریں گے؟ ‘‘بہت ہچکچاتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’کیا آپ مجھے اس کے لیے ایک ہزار روپے دے دیں گے؟“ میری ساری گھبراہٹ رفو چکر ہوگئی۔ میں نے کہا:’’ مجھے منظور ہے‘‘ پھر انہوں نے بڑی ہمت کر کے کہا: ’’کیا آپ مجھے یہ روپے پیشگی دے دیں گے؟‘‘ میں نے کہا: ’’ہاں دے دوں گا‘‘ بولے:’’ تو جب آپ مجھے یہ رو پیہ دیں گے تو میں کشمیر چلا جاؤں گا اور ایک مہینے میں ناول لکھ لاؤں گا‘‘ میں نے کہا:”روپیہ آپ کو کل مل جائے گا‘‘ بہت خوش ہوئے، بولے:’’ بس تو میں پرسوں چلا جاؤں گا‘‘ پچیس  دن بعدوہ کشمیر سے واپس آ گئے اور مجھے اپنے ناول ’’ شکست‘‘ کا مسودہ دے گئے۔ میں نے حیران ہو کر ان کی طرف دیکھا ’’ کمال کر دیا آپ نے!‘‘ کہنے لگے ’’روپے ختم ہو گئے تھے اس لیے میں کچھ  جلدی واپس آگیا‘‘پچیس دن میں ایک ہزار خرچ کر دینے پر تو مجھے تعجب ہوا ہی تھا، اس سے زیادہ تعجب کرشن چندر کی راست معاملگی اور دیانت داری پر ہوا۔ یہ پہلے ادیب تھے جنہوں نے اپنی بات کا پاس کیا تھا ورنہ یار لوگ بڑے بڑے وعدے کر کے مجھے جھنکاتے ہی رہے۔ ’’شکست‘‘ کے بعد کرشن چندر نے میرے لیے ’’نئے افسانے‘‘ کے نام سے ایک ضخیم مجموعہ مرتب کیا اور اس کے بعد اپنے مختصر مضامین کا مجموعہ ’’ گھونگھٹ میں گوری جلے“ دیا۔ معاملات میں میَں نے انہیں کھرا پایا۔ مول تول نہ انہوں نے کبھی کیا اور نہ میں نے ۔ ان کا مطالبہ بہت معقول ہوتا تھا اس لیے سودے بازی کی نوبت ہی نہ آتی تھی۔

    ’’شکست‘‘ شائع ہوئی تو ادبی دنیا میں بھونچال سا آگیا۔ مدتوں بعد ایک اچھے مصنف کا اچھا ناول شائع ہوا تھا۔ کچھ لوگ ’’شکست‘‘ کو دیکھ کر جل گئے اور کچھ رشک و حسد میں گھلنے لگے۔ ڈاکٹر تاثیر نے ایک فرضی نام سے اس پر ایک اوچھی تنقید لکھی۔ منٹو، اشک، فیض احمد فیض اور چراغ حسن حسرت تک ناول لکھنے پرتل گئے ،مگر سب ٹیں ٹیں فش ۔ منٹو نے کہا: ’’میں ضرور لکھوں گا‘‘۔ یہی کہتے کہتے بمبئی چلے گئے۔ اشک نےکہا:”میرا ناول کرشن کے ناول سے بہتر ہوگا ۔ میں دو ہزار لوں گا اور پیشگی لوں گا‘‘ مجھ میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان سے معاملہ کرلیتا۔ لہٰذا یہ ناول بھی نہیں لکھا گیا۔ فیض صاحب نے چھ سوروپے پیشگی لیے اور چھ مہینے بعد لوٹا دیئے کہ ناول لکھنے کی فرصت نہیں مل رہی ۔ حسرت صاحب نے ناول بھی نہیں لکھا اور پیشگی رقم بھی لے کر جنوب مشرقی ایشیا چلے گئے ۔ جنگ ختم ہو جانے کے بعد لاہور اور کراچی میں سالہا سال تک ملتے رہے مگر ناول اور پیشگی کا بھی ذکر تک نہیں کیا۔ پھر اللہ کو پیارے ہو گئے ۔

     ایک زمانہ تھا کہ کالج سے نکلنے کے بعد نوکری کے خواہش مند کو اگر آل انڈ یار یڈ یو میں جگہ مل جاتی تو اُمیدوار اسے اپنی بڑی خوش نصیبی سمجھتا تھا۔ باہر سے ریڈیو کی دنیا نو جوانوں کو پرستان دکھائی دیتی تھی ۔ مگر تھوڑے ہی دنوں میں ان کا یہ حسین خواب ٹوٹ جا تا اور وہ محسوس کرنے لگتے کہ ہم کس دھسن میں آن پھنسے؟ اس سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے رہتے جو نکل گیا اچھا ہی رہا اور بعض تو بہت اچھے رہے ، جیسے آغا محمد اشرف کہ آگے چل کر ’’ہزا یکسے لینسی‘‘ کہلائے مگر یہ دوسری عالم گیر جنگ سے پہلے کا ذکر ہے۔ جنگ کے بعد فلم انڈسٹری بمبئی اور پونا میں چمک اٹھی تھی ،کلکتہ پٹ گیا تھا۔ آغا حشر وہاں سے پہلے چلے آئے تھے آرزو لکھنوی بھی بعد میں آگئے تھے۔ منشی پریم چند جب اپنے چھاپے خانے کی وجہ سے بہت مقروض ہو گئے تو مجبور ہوکر بمبئی کی فلمی دنیا میں چلے گئے تھے مگرمنشی جی اس میں پنپ نہ سکے اور جلد ہی وہاں سے بھاگ نکلے ۔ جوش ملیح آبادی جا کر ڈبلیوزیڈ احمد کی کمپنی میں ملازم ہوگئے ۔ ساغر نظامی بھی وہیں تھے۔ دونوں یہی کہتے تھے کہ مکالمے بھی میں لکھتا ہوں اور گانے بھی۔ خیر، ہمیں اس سے کیا کہ کون لکھتا تھا ؟ ہمارے کہنے کا مقصد تو یہ ہے کہ بڑا بڑا جغادری فلموں کا رُخ کر رہا تھا۔ شاہد لطیف، انجمن ترقی اُردو دِلّی کو چھوڑ کر بامبے ٹاکیز میں چلے گئے تھے۔ ان کے بعد عصمت چغتائی بھی پہنچ گئیں۔احمد عباس پہلے سے وہاں موجود تھے ۔ دِلّی سے منٹو، اشک ،راجہ مہدی علی خاں بھی بمبئی پہنچ گئے اور فلمستان سے وابستہ ہو گئے ۔ان کے بعد کرشن چندر اور مہندرناتھ بھی چلے گئے قیسی رام پوری، ماہر القادری اور بہزاد لکھنوی بھی فلموں کے چکر میں رہے مگر دیر سویر نا کام ہوکر پاکستان آگئے۔ شکیل بدایونی اپنی موزوں اور محتاط طبیعت کی وجہ سے جمے رہے اور کامیاب بھی ہوئے۔ علی سردار جعفری اور خماربھی بمبئی میں تھے۔ نخشب جارچوی کی ایک قوالی نے ان کا مستقبل بنا دیا تھا...... جاں نثار اختر ، میرا جی اور اختر الایمان بھی قسمت آزمائی کو پہنچ گئے تھے اور بھی چند حضرات ہوں گے، جن کے نام اس وقت یاد نہیں آر ہے۔ غرض بمبئی میں ادیبوں اور شاعروں کا اچھا خاصا مجمع ہو گیا تھا۔ علامہ سیماب پاکستان آگئے تھے اور اعجاز صدیقی صاحب اپنا ماہنامہ ’’شاعر‘‘  آگرہ سے بمبئی لے گئے تھے۔ یوں کہنا چاہیے کہ بمبئی میں ادیبوں اور شاعروں کے بھاگ کھل رہے تھے ۔ بلانے کو تو جوبھی بمبئی پہنچ جا تا مجھے ضرور بلا تا مگر شاہد لطیف اور عصمت چغتائی نے جب اپنا گھر جمالیا تو میں نے ایک ہفتہ کے لیے بمبئی جانے کی فرصت نکالی ۔

     دِلّی سے روانہ ہونے سے پہلے میں نے ایک تارشاہد لطیف کو اور دوسرا کرشن چندرکو دے دیا تھا کہ میں فلاں تاریخ کو فلاں گاڑی سے پہنچ رہا ہوں ۔ قیام شاہد لطیف کے یہاں ہوگا۔ جب میں بمبئی سٹیشن پر اتر اتو کوئی نظر نہیں آیا طبیعت سخت مکدر ہوئی ۔ جی میں یہی آئی کہ اگلی گاڑی سے دِلّی لوٹ جانا چاہیے ۔ میں ویٹنگ روم کا رُخ کر رہا تھا کہ ایک دم سے مہندر ناتھ آ کر لپٹ گئے.... ’’ارے آپ کہاں جارہے ہیں؟ بھائی نے مجھے بھیجا ہے آپ کو لینے کے لیے‘‘ اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ، میں ان کے ساتھ ہولیا۔ کرشن چندر نے اندھیری میں بہت بڑی کوٹھی لے رکھی تھی ۔ گھر پر وہ میرے منتظر تھے۔ ہم بغل گیر ہوئے ۔ مزاج پرسی کے بعد پہلی بات میں نے یہی کہی کہ شاہد لطیف سٹیشن پر لینے نہیں آئے ، اس لیے میں مہندر ناتھ کے ساتھ آپ کے ہاں آ گیا۔ کرشن چندر نے کہا:’’اگر شاہد لطیف آ بھی جاتے ، تب بھی مہندر آپ کو یہیں لاتا‘ ‘ شام کا وقت تھا ، چائے آ گئی ۔ ابھی ختم نہیں ہونے پائی تھی کہ شاہد لطیف آگئے ۔ گھبراہٹ اور ندامت سے بولے۔ ’’مجھے سٹیشن پہنچنے میں دیر ہوگئی ۔ چلیے ، نیچے ٹیکسی کھڑی ہے ’’ کرشن چندر کچھ بولنے کو ہوئے تو میں نے کہا: ’’ آج تو میں ان کا مہمان ہوں ، کیوں کہ یہ مجھے اپنے گھر لے آئے ہیں ۔ ان کی اجازت سے کل میں آپ کے ہاں آ جاؤں گا‘ ‘ ۔ شاہد لطیف نے بہت اصرار کیا مگر میں ان کے ساتھ نہیں گیا۔ اس رات دیر تک کرشن چندر اور مہندر ناتھ سے باتیں ہوتی رہیں۔ کرشن چند رفلموں میں کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہوئے ۔ کہانیاں اور مکالے لکھے، پروڈیوسر بنے ، ڈائر یکٹر بھی بنے مگر قدراول کی کوئی چیز پیش نہیں کر سکے ۔ کرتے بھی کیسے؟ اپنی مرضی تو چلتی نہیں تھی جو سیٹھ پیسہ لگاتا تھا اس کے اشاروں پر چلنا پڑتا تھا۔ فلمی دنیا میں کرشن چندر ریڈیو سے دس گنا زیادہ کھاتے تھے مگر روپے پیسے کو انہوں نے ہاتھ کے میل سے زیادہ کبھی نہ سمجھا۔ ادھر آیا، ادھر اڑایا۔ ایسے متوکل بندے بھی کم دیکھنے میں آتے ہیں ۔ فطرتاً وہ نشاطی تھے۔ ’’کھاؤ، پیو، موج کرو کیوں کہ کل ہمیں مرنا ہے‘‘ پر ان کا عمل تھا مگر خلوصِ نیت کی برکت بھی کچھ ایسی تھی کہ کبھی انہیں تہی دست نہیں دیکھا اور نہ کبھی یہ سنا کہ وہ کسی کے قرض دار ہیں۔ سدا دس پانچ  کو کھلا کر کھاتے تھے۔ مذہب ان کے لیے نہ تو رکاوٹ تھا اور نہ سفارش۔ نام کے ہندو تھے۔ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی سب سے یکساں ملتے تھے۔

    پھر وہ وقت آگیا کہ انسان، انسان کے خون کا پیاسا ہو گیا۔ جنگل کا قانون نافذ ہو گیا اور انسان درندہ بن گیا۔ ریلیں کٹنے لگیں اور تاراور ڈاک کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا۔کسی کو کسی کی خبر نہ رہی اور ایک دن ایک ملٹری کا ٹرک ہمارے گھر پر آ گیا اور ہم بھر اپرا گھر ایک پناہ گزیں رشتہ دار کو سونپ کر ٹرک میں سوار ہو گئے ۔ شام کے بڑھتے ہوئے اندھیرے میں اس ٹرک نے ہمیں پرانے قلعہ میں اُتار دیا۔ یہاں اسی  ہزار آدمی پہلے سے موجود تھے۔ چپہ بھر زمین صاف کر کے ہم بھی بیٹھ گئے۔ کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ اندھی قسمت کے ہاتھوں ہم کھلونا بنے ہوئے تھے۔ پرانے قلعے میں تین دن محبوس  رہنے کے بعد ہمیں ایک ٹرک میں بھر کر نظام الدین کے ریلوے سٹیشن پر لے جایا گیا اور ریل کے ڈبے میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس دیا گیا۔ صبح چھ بجے سے رات ایک بجے تک جو جہاں بیٹھا تھا، وہاں سے ہل نہ سکا ۔ رات کے ایک بجے ایک جھٹکے کے ساتھ ریل رک گئی ۔ اندر بھی اندھیرا تھا اور باہر بھی۔ پھر تڑ تڑ گولیاں چلنے کی آواز آئی اور ایک شور برپا ہوا کہ حملہ ہو گیا۔ ڈبے کی ساری کھڑکیاں چڑھ گئیں ۔ گرمی اور حبس کے مارے دم نکلا جاتا تھا مگر باہر گولیاں برس رہی تھیں۔ ایک گھنٹہ تک ہم نے اپنی موت کا انتظار کیا، مگر زندگی باقی تھی، بچ گئے ۔ آدھی ریل  حملہ آوروں نے بالکل صاف کر دی تھی۔ خدا خدا کر کے تیسرے دن لاہور پہنچے۔ مواصلات کے تمام سلسلے ٹوٹ چکے تھے۔ دِلّی   کے ایک اخبار نے ریل کے کٹنے اور میرے لا پتہ ہو جانے ، میرے اور میرے پورے خاندان کے ’’شہید‘‘ ہو جانے کی خبر چھاپ دی۔ وہ اخبار کوئی اپنے ساتھ لاہور لے آیا اور اس کے حوالے سے اور اخباروں میں بھی یہ خبر چھپ گئی۔ ایک اخبار کا تراشا میرے پاس اب تک محفوظ ہے۔ وہ یہ ہے:

    ایڈیٹر’’ساقی‘‘  کا سانحہ ارتحال

    ’’آہ !شاہد احمد دہلوی!“

    لاہور۔ ٤ نومبر، اخبار عصر جدید نے اطلاع دی ہے کہ یہ  خبر نہایت افسوس کے ساتھ سنی گئی کہ دہلی کے مشہور ماہنامہ ’’ساقی‘‘ کے ایڈیٹر شاہد احمد دہلوی شہید کر دیے گئے۔انا الله وانا اليہ راجعون ۔ آپ مع اہل وعیال دہلی سے پناہ گزین سپیشل ٹرین میں لاہور جا رہے تھے کہ گاڑی پر حملہ ہوا۔ جس میں آپ بھی راہی عدم ہوئے۔ آپ کی موت سے اُردو ادب کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔ ہمیں آپ کے پس ماندگان سے دِلّی ہمدردی ہے اور ہماری دعا ہے کہ خدا انہیں صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔

    یہی خبر جب بمبئی پہنچی تو میرے احباب بہت رنجیدہ ہوئے اور کرشن چندر نے ایک تعزیتی جلسہ کیا جس میں وہ سب کچھ ہوا جو ایسے جلسوں میں ہوتا ہے۔ کرشن چندر نے دوستی کا حق ادا کر دیا اور جب انہیں معلوم ہوا کہ میں زندہ ہوں اور وہ خبر غلط تھی تو انہوں نے مجھے ایک بڑامحبت بھرا خط لکھا اور بمبئی   میں ایک ایک سے کہتے پھرے کہ شاہد احمد زنده ہیں، شاہد احمد زندہ ہیں۔

    دوست تو بہت ملتے ہیں مگر مخلص دوست کم ہی ملتے ہیں ۔ میری پوری ساٹھ سال کی زندگی میں مجھے دو تین سے زیادہ مخلص دوست نہیں ملے۔ ان میں سے ایک کرشن چندر ہیں ۔خدا نہیں خوش رکھے۔ وہ بہت بڑے افسانہ نگار تو ہیں ہی، بہت بڑے انسان بھی تو ہیں۔

    ( ۱۹٦٧ ء)