شاہد احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی

مولانا صلاح الدین احمد

    مولانا صلاح الدین احمد

    (١)

    بتیس تینتیس برس پہلے کا ذکر ہے کہ میں ایک دفعہ لا ہور گیا تو منصور احمد مرحوم سے ملنے کمرشل بلڈنگ مال روڈ پر گیا۔ منصور احمد اس وقت ’ ہمایوں‘‘ کی ادارت سے علیحدہ ہو چکے تھے اور مولانا تاجور نجیب آبادی سے ” ادبی دنیا‘ ‘ لے چکے تھے ۔’ ’ ہمایوں‘‘ کی تمام تر ادارتی ذمہ داری مولا نا حامد علی خاں نے سنبھال لی تھی ۔ مولانا تاجور نے ۱۹۲۹ ء میں بڑے سائز پر ” ادبی دنیا‘ ‘ شائع کر کے ادبی رسائل میں دھوم مچادی تھی ۔ یہ زمانہ ’ نیرنگ خیال ‘ ‘اور ’ ’عالمگیر‘‘ کے شباب کا زمانہ تھا۔ مگر ’ ’ادبی دنیا‘ ‘ اس شان سے نکلا کہ ان جمے جمائے پر چوں کے چراغ جھلملانے لگے۔’ ’ ادبی دنیا‘ ‘ کے ادارے میں پہلا نام مولانا تاجور کا تھا اور دوسرا پنڈت میلا رام وفا کا ( جو عرف عام میں طوطا رام بے وفا کہلاتے تھے مولانا تاجور ’’ادبی دنیا‘‘ کے اجراء سے پہلے ’’مخزن‘ ‘ اور ’ ’ہمایوں‘‘ کے ایڈیٹر رہ چکے تھے ۔لہٰذا منجھے ہوئے ایڈیٹر تھے اور ان کی دھاک بندھی ہوئی تھی ۔’ ’ ادبی دنیا‘ ‘ نکلا اور دو ایک چھلانگیں لگا کر سب سے آگے نکل گیا مگر جو بہت تیز دوڑتے ہیں ، وہ ہانپ بھی جلدی جاتے ہیں ۔’’ادبی دنیا ‘ ‘کے عروج کا زمانہ طول نہ پکڑ سکا۔ مولانا تاجور ایک مقامی کالج میں پڑھاتے تھے اور ایک بہت بڑے تاجر کتب عطر چند کپور کے ہاں کتابیں لکھنے اور لکھوانے کا کام بھی کرتے تھے ۔’’ادبی دنیا‘ ‘ کا کام انہوں نے میلا رام وفا اور دو ایک ادھ کچرے ادیبوں پر چھوڑ دیا۔ نتیجہ یہ کہ پرچہ گرنے لگا تو تاجورصاحب نے منصور احمد سے اس کا سودا کر لیا۔ منصور احمد مرحوم صرف ایڈیٹر ہی نہیں تھے ، ادیب بھی تھے اور اچھی شہرت کے ادیب تھے۔ انہوں نے ’’ادبی دنیا‘‘ کی ڈوبتی ناؤ کو پھر تیرا دیا بلکہ پرچے کی سنجیدگی اور بردباری میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ یہی وہ زمانہ تھا کہ میری مرحوم سے پہلی اور آخری ملاقات ہوئی۔ دھان پان سے خاموش طبیعت کے آدمی تھے۔ یہیں ایک اور صاحب کو بھی دیکھا جو منصور احمد کے دوست اور رفیق کار تھے۔ ان کا نام صلاح الدین احمد تھا۔ صاحب ایک اور پرچہ بھی نکالتے تھے ،یاد نہیں رہا اس کا کیا نام تھا۔ نام اس کا بھی دنیاہی پر تھا۔ پرچہ غیر معروف ، ایڈیٹر غیر معروف ۔ اس لیے علیک سلیک کے علاوہ ان سے اور کوئی بات نہیں ہوئی۔ بات منصور احمد سے بھی کچھ زیادہ نہیں ہوئی ۔مگر اس مختصر ملاقات نے بھی منصور احمد کے لیے میرے دل میں جگہ بنا دی اور کچھ ہی دنوں میں مجھے ان سے اس درجہ شیفتگی ہوگئی کہ میں نے ان کے نام پر اپنے ایک بچے کا نام منصور احمد رکھا۔ انہوں نے ’’ادبی دنیا‘‘ کو چار چاند لگا دیئے تھے۔ مگر انہیں زمانے کی نظر لگ گئی اور یہ منحوس  خبر سننے میں آئی کہ منصور احمد کو دق ہوگئی ۔ اس زمانے میں اس موذی مرض کا کوئی علاج نہیں تھا۔ منصوراحمد گھل گھل کر مر گئے اور ’’ادبی دنیا‘‘ بھی ان کے ساتھ دم توڑنے لگا۔ عجب اتفاق ہے کہ میرا لڑکا منصور احمد بھی ایک سال کا ہو کر اللہ کو پیارا ہوگیا۔ پھر سنا کہ اشتہارات کی ایک کمپنی نے ’’ادبی دنیا‘‘ کو لے لیا اور صلاح الدین احمد کو اس کا ایڈیٹر مقرر کیا ہے۔ پرچہ   اسی آن بان سے شائع ہونے لگا۔

    صلاح الدین احمد صاحب اس وقت تک بالکل گم نام تھے مگر ان کا سلیقہ، پرچے کی ترتیب و تہذیب سے ٹپکتا تھا۔ انہوں نے اپنی مدد کے لیے میراجی کو شریکِ ادارت کرلیا تھا۔ کچھ تو اپنے عجیب وغریب نام کی وجہ سے اور کچھ اپنی عجیب تر منظومات کے باعث میراجی شہرت کے پر لگا کر اڑنے لگے ۔ صلاح الدین احمد حصہ  نثر کی نگرانی کرتے تھے اور میرا جی حصہ نظم کی ۔ میراجی پھر بہت اچھی نثری لکھنے لگے تھے، مگر صلاح الدین احمد صرف ادارتی نوٹ لکھتے تھے۔ سالہا سال تک انہوں نے کوئی مضمون نہیں لکھا۔

    مجھے جو عقیدت ’’ادبی دنیا‘‘ سے تھی ، وہ جاری رہی اور میں ’’ادبی دنیا‘ ‘ کے اشتہارات ’ ’ساقی‘ ‘ میں شائع کرتا رہا اور طلب کر نے پر بھی تبادلہ میں ’’ساقی‘‘ کا اشتہار نہیں بھیجتا تھا اور جب ’ ’ادبی دنیا‘‘ کے کسی خاص نمبر پر ریو یولکھتا یا اس کا تذکرہ کرتا تو اسے ’’اُردو کا سب سے بڑار سالہ‘‘ کہتا تھا۔ پھر میں نے ’’ادبی دنیا‘ ‘ کے لیے مضامین بھی لکھنے شروع کر دیئے تھے ۔اس دور میں جو میں لا ہور گیا تو ’’ادبی دنیا‘ ‘ کے دفتر بھی پہنچا۔ دفتر مال روڈ ہی پر اور آگے منتقل ہو گیا تھا۔ جب صلاح الدین احمد سے ملاقات ہوئی تو بڑی محبت سے گلے ملے اور ان کی گفتگو کا آغاز میری توصیف سے ہوا۔ میں شرمندہ ہورہا تھا اور صلاح الدین احمد صاحب مسکراتے اور ہنستے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ’’صاحب، آپ ’’ادبی دنیا‘ ‘ کے اشتہارات شائع کر دیتے ہیں اور ہمیں اپنا اشتہار نہیں بھیجتے ۔ آپ ہمارے لیے مضامین لکھتے ہیں اور معاوضہ نہیں لیتے ،عجیب بات ہے‘‘ یہ کہہ کر مختصر ہنسی ہنستے  ۔ میں ٹالنے کے لیے ’’چوں کہ چناں چہ‘‘ کی باتیں کرتا مگر وہ خندہ ٔدنداں نما کے ساتھ موضوع کو بدلنے نہ دیتے ۔ دراصل اس زمانے میں لاہور سے ایک سے بڑھ کر ایک رسالہ شائع ہو رہا تھا۔ ہمایوں ، نیرنگ خیال، عالمگیر، خیالستان، شاہکار..... سبھی باون گزے تھے۔ جتنے یہ بڑے تھے، اتنی ہی ان میں بڑی رقابتیں تھیں۔ دنیائے ادب میں انہوں نے چھوٹی چھوٹی خودمختار ریاستیں بنالی تھیں ۔ ان ریاستوں میں باہمی خوش گواری نہیں تھی بلکہ تناتنی یا بے تعلقی رہتی تھی ۔ ہر رسالے نے اپنے مضمون نگاروں کا ایک مخصوص حلقہ بنا رکھا تھا۔ ایک رسالے کے مضمون نگار عموماً دوسرے رسالے میں نہیں لکھتے تھے، یا شاید مدیروں نے اپنے مضمون نگاروں سے حلف وفاداری لے رکھا تھا کہ کسی اور پرچے میں نہیں لکھیں گے ۔ چناں چہ سالک ، امتیاز علی تاج ، پطرس ، تاثیر، ایم اسلم ، قاضی عبدالغفار اور حفیظ جالندھری ’ ’نیرنگ خیال‘ ‘ ہی میں لکھا کرتے تھے ۔صلاح الدین احمد صاحب کی خوش مزاجی اور سلیقہ شعاری نے بھی اپنے گردنئے اور اچھے ادیبوں کا ایک حلقہ بنا لیا تھا۔ ان میں کرشن چندر، بیدی، عاشق بٹالوی، اوپندر ناتھ اشک، حفیظ ہوشیار پوری اور حلقہ ارباب ذوق کے اُبھرتے ہوئے ادیب اور شاعر شریک تھے۔

    ’’ہمایوں‘‘ کے لکھنے والوں میں فلک پیما، نیرنگ، آزاد انصاری، جوش ملیح آبادی اور فياض محمود تھے۔ خود میاں بشیر احمد سوائے اپنے پرچے کے کسی اور پرچے میں نہیں لکھتےتھے۔ یوں لا ہور چھوٹے چھوٹے ادبی جزیروں میں بٹا ہوا تھا۔ ایک رسالے کا اشتہار بالعموم دوسرے رسالے میں نہیں چھاپا جاتا تھا اور نہ کسی تقریب میں دوسرے حلقے کے ادیبوں کو مدعو کیا جاتا تھا۔

     جنوری ۱۹۳۰ ء میں دِلّی سے ’’ساقی‘‘ کل تو بڑی جدوجہد اور کش مکش کے بعداس نے ان سب حلقوں سے تعلقات استوار کیے۔ بے تعلقی کے حصاروں میں رخنے ڈالے۔ دوسرے پر چوں کے اشتہارات بھی شائع کیے اور بلا امتیاز ان پر چوں کے لیے مضامین بھی لکھے۔ اس روش پر صلاح الدین احمد کو بڑا اچنبھا ہوا اور اسی لیے وہ ٹوٹ کر ملے اور اس ملاقات کے بعد حلقے اور حصاربھی رفتہ رفتہ ٹوٹ گئے۔

    صلاح الدین احمد صاحب کی شخصیت بڑی من موہنی تھی۔ وہ ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے اور باتیں کرنے میں بھی مسکراتے جاتے تھے۔ دہرے ڈیل ڈول کے بھاری بھرکم آدمی تھے۔ بمبئی والوں کی سی کالی کرسٹی کیپ ،ہنستی پیشانی ، غلافی آنکھیں خوش دلی سے نیم وا كتاراسی ناک، کترواں موچھیں ، لبوں پر خلوص کی مسکراہٹ، گول چہرہ، کھلتا ہوا رنگ، اچھا نکلتا ہواقد ، سوٹ پہنتے تھے۔ تھے تو گریجوایٹ ،مگر انہیں انگریزی بولتے نہیں سنا بلکہ گفتگو میں بھی کیا مجال جو کوئی انگریزی لفظ آجائے۔ اُردو کے عاشق تھے۔ اپنے رسالے میں برابر اعلان کرتے رہے۔ اُردو پڑھو، اُردولکھو، اُردو بولو، یوں تو پنجاب کےسبھی ادیب اُردو کے فدائی ہیں اور زبان کے معاملے میں اہل زبان سے بھی الجھتے سلجھتے رہے ہیں مگر میں نے یہ تماشا بھی بہت دیکھا ہے کہ جب اُردو کے دو پنجابی ادیب آپس میں ملتے ہیں، تو بلا تکلف اُردوکو بالائے طاق رکھ کر فوراً پنجابی میں بات چیت کرنے لگتے ہیں ، اوروں کا تو ذکر ہی کیا ، علامہ اقبال بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھے ۔ مگر ایک تو صلاح الدین احمد اور دوسرے حامد علی خاں ، دوادیب ایسے دیکھے جو پنجاب کے معزز خانوادوں سے تعلق رکھتے ہوئے بھی ہمیشہ اُردو ہی بولا کرتے تھے بلکہ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے گھروں میں بھی اُردو ہی بولی جاتی تھی ۔ جبھی تو ان کی زبان بھی چغلی نہیں کھاتی تھی اور اہل زبان کی طرح فرفر اُردو بولنے لگتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض دفعہ مجھے ان کی خوش گفتاری پر رشک آنے لگا تھا۔ لکھنے کوتو سینکڑوں اکتسابی زبان والے اچھی سے اچھی زبان لکھ لیتے ہیں ،مگر بولنا ٹیڑھی کھیر ہے۔

    مولا نا صلاح الدین احمد وضع قطع سے تو بالکل ایک اپ ٹو ڈیٹ جنٹلمین دکھائی دیتے تھے مگر کہلاتے ”مولا نا‘‘ تھے۔ سب انہیں مولا نا کہہ کر ہی مخاطب کرتے تھے اور جب میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے بھی مولا نا کہہ کر ہی مخاطب کیا۔ میں نے دل میں کہا: ”ولی را ولی می شناسد، شاید میں بھی مولا نا ہی ہوں‘‘۔ لہٰذا آخری ملاقات تک’’ من تر ا حاجی بگویم، تو مرا حاجی بگو‘‘ پر ہماراعمل رہا۔ وہ مجھے مولانا کہتے رہے اور میں انہیں مولا نا کہتارہا۔

     پہلی ملاقات کے دوسرے دن شام کو مولانا نے اپنے دفتر میں میرے اعزاز میں پر تکلف عصرانہ کا اہتمام کیا۔ اس میں اپنے تمام مقامی لکھنے والوں کو بلایا اور سب سے مجھے متعارف کرایا۔ مولانا کے اس خلوص نے مجھے اور بھی ان کا گرویدہ کر دیا۔اسی پارٹی میں کرشن چندر بیدی، اشک ، شیر محمد اختر ، عاشق بٹالوی اور کئی اور ادبیوں سے ملاقات ہوئی اور ان سے تعلق خاطر قائم ہوا۔ اس واقعہ سے میری تو عزت افزائی ہوئی ہی مگر مولانا کی وسیع القلبی بھی ظاہر ہوئی ۔ ورنہ اس زمانے میں یہ رواج تھا کہ رسالوں کے ایڈیٹر اپنے مخصوص لکھنے والوں سے بالمشافہ ملوانا تو کیسا، ان کے پتے تک نہیں بتاتےتھے۔

     مولانا ادب کا بڑا پاکیزه ذوق رکھتے تھے۔ اگرکسی مضمون میں ذرا بھی فخش کا شائبہ ہوتا یا عریانی کی جھلک ہوتی تو اسے شائع نہ کرتے۔ اس وضع احتیاط میں پہلا نمبر’’ہمایوں‘‘ کا تھا کہ بوسے کا لفظ ’’ہمایوں‘‘ میں نہیں چھپ سکتا تھا۔ مولانا اتنے متشددتو نہیں تھے لیکن کچھ زیادہ ہی محتاط تھے۔ ترقی پسند تحریک نے ہمارے ادیبوں کوکھل کھیلنے کی راه سجھا دی تھی۔ ’’انگارے‘‘  کیا ضبط ہوئی کہ اس نے اور آگ لگا دی اور اسی طرز کے افسانے لکھنا فیشن میں داخل ہو گیا جنسی معاملات کوتفصیل سے بیان کرنا ترقی پسندی کی علامت ٹھہری۔ لہٰذا نئے لکھنے والے تو سب بہک کر ادھر ہی کو ڈھل گئے۔ بہت کم ادیب ایسے رہ گئے جنہوں نے سلامت روی کی چال نہیں چھوڑی۔ یہی وہ افراتفری کا زمانہ تھا کہ مولانا نے کرشن چندر اور بیدی جیسے ادیبوں کو دریافت کیا اور ان سے مضامین لکھوا لکھوا کر انہیں بھاری بھرکم ادیب بنا دیا۔ مولانا سالہا سال تک ادبی دنیا شائع کرتے رہے مگر انہوں نے سوائے ادارتی نوٹوں کے نہ تو اپنے رسالے میں کوئی قابل ذکر مضمون لکھا اور نہ کسی اور رسالے میں۔  دو چار کتابوں کے پیش لفظ انہوں نے ضرور لکھے تھے، جن میں سے ایک ان کے عزیز دوست عاشق بٹالوی کے افسانوں کے مجموعے ”شاخسار‘‘ پر تھا اور ایک عصمت چغتائی کے افسانوں کے مجموعے ’’کلیاں‘‘ پر۔ انہی کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کی نظر بھی گہری ہے اور عبارت بھی سلیس اور رواں لکھتے ہیں۔ مولانا اس وقت تک ادیب سے زیادہ ادیب گر تھے پھر قیام پاکستان سے چند سال پہلے انہوں نے ’’کہنے کی با تیں“ کے عنوان سے رسالوں کے بعض مضامین کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا۔ یہ گویا جدید ترین ادب کا جائزہ ہوتا تھا۔ اس سلسلے میں آگے چل کر انہوں نے ’’ساقی‘‘ کے ایک مضمون پر کڑی تنقید کی، جو مجھے اس لیے ناگوار گزری کہ میں اتنا ثقہ مذاق نہیں رکھتا تھا جتنا کہ مولا نا ،یا میں اتنا محتاط نہیں تھا جتنے کہ مولا نا ۔ میں نے ’’ساقی‘‘ میں اس کا جواب لکھا اور شروع اس فقرے سے کیا کہ مولا نا جو’’ کہنے کی باتیں‘‘ ہر مہینے لکھتے ہیں، وہ دراصل ’’نہ کہنے کی باتیں‘‘ ہوتی ہیں۔ اس مضمون میں میَں کسی قدر بدلحاظی  بھی کر گیا تھا۔ مولانا بڑے ظرف کے آدمی تھے۔ مجھے فوراً معذرت کا خط لکھا اور لکھا کہ آج  سے یہ سلسلہ ہی بند کر دیا گیا ہے۔ مجھے اپنی بدتمیزی پر افسوس ہوا اور میں نے مولانا سے معافی چاہی۔ مگر’’ کہنے کی با تیں‘‘ پھر نہیں چھپیں اور جب اس واقعہ کے بعد مولانا سے ملاقات ہوئی تو ان کے طرز تپاک میں کوئی فرق میں نے محسوس نہیں کیا۔’’از خورداں خطاواز بزرگاں عطا ‘‘مولا نا مجھ سے پانچ سال بڑے تھے۔ مجھ پر آخر تک شفقت فرماتے رہے۔

    جب دِلّی سے اجڑ کر میں ستمبر ۱۹۴٧ ء کے تیسرے ہفتے میں لاہور پہنچا تو اپنی ادبی برادری والوں سے ملنے کی جستجو ہوئی ۔ معلوم ہوا کہ مولانا کا گھر ہندوؤں کے محلے میں تھا جب اس محلے میں آگ لگی تو ان کا گھر بھی جل گیا۔ وہ تو خیر ہوئی کہ مولانا کے لواحقین سب شملہ میں تھے، ورنہ اس آتش زدگی میں خبر نہیں، ان پر کیا گزرتی؟ مگر وہ سب کے سب شملے میں پھنس گئے تھے۔ مولانا بے حد پریشان تھا، مگر اللہ نے بڑا فضل کیا کہ ان کے مال پر ٹلی۔ جا نیں سب کی بچ گئیں، مکان جل گیا تھا گھر والے شملے میں پھنسے ہوئے تھے۔ ’’ادبی دنیا‘‘ بند ہو گیا تھا مگر مولانا کے اندازِ تکلم میں مسکراہٹ اس وقت بھی شامل تھی۔

    قیام پاکستان سے پہلے مولانا کی حیثیت ایک اچھے ایڈیٹر اور صاحبِ نظر نقاد کی تھی ۔ ادیب یا مصنف یا تو انہوں نے بننا نہیں چاہا یا شاید وہ یہ چاہتے تھے کہ اس میدان میں جب آئیں تو کسی سے پیچھے نہ ر ہیں ۔ وہ صف اول کے ایڈیٹر تھے، غالباً  انہوں نے پسند نہیں کیا کہ تیسری یا دوسری صف کے ادیبوں میں ان کا شمار ہو کیوں کہ ایک دفعہ ساکھ بگڑ جانے کے بعد اس کا سنورنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ جو ادیب زیادہ لکھتا ہو، وہ اچھا بھی لکھتا ہو۔ مولانا نے بڑی دانش مندی سے کام لیا کہ محض اپنا شوق پورا کرنے کے لیے حصول شہرت کے لیے کچھ نہیں لکھا اور جب وہ اس میدان میں آئے تو اس شان کے ساتھ کہ سب سے بازی لے گئے۔ اس وقت وہ پیاس کے پیٹے میں آچکے تھے گویا ان کے شیب سے ان کے قلم کا شباب شروع ہوامگر جس منزل تک پہنچنے کے لیے ادیب ساری ساری عمر خامہ فرسائی کرتے ہیں اور پھر بھی نہیں پہنچ پاتے، مولانا نے ایک ہی جست میں اس منزل کو جالیا۔

    اب جو مولا نا ہمارے سامنے آئے تو ان کا رنگ روپ ہی بدلا ہوا تھا۔ وہ اپنے ساتھ ایک نہایت حسین و دل نشین طرز بیان لائے تھے۔ اس انداز گل فشانی پرشمس العلما محمد حسین آزاد کا سایہ تھا۔ مولانا کو پروفیسر آزاد کی تحریروں سے والہانہ شیفتگی تھی اور ہونی بھی چاہیے تھی، کیوں کہ آج بھی اردو کے سب سے بڑےانشاء پرداز آزاد ہی ہیں مگر آزاد کی مرصع کاری کی پیروی کرنا جوئے شیر کا لانا ہے۔ اس صدی میں تو کسی کو حوصلہ ہوا نہیں ۔ آزاد کی برسی ہر سال ان کے پوتے آغا محمد باقر لاہور میں مناتے ہیں اور ہر برسی میں مولانا صلاح الدین احمد ،آزاد کے کسی نہ کسی پہلو پر آزادہی کے انداز میں مضمون لکھ کر سناتے رہے ہیں۔ یوں آزاد کا طرز ِ تحریر مولانا کے کھٹ میں اتر گیا اور اس میں مولانانے اپنے قلب و نظر کی خاص ودیعتیں شامل کر کے اپنا ایک خوش رنگ و خوش آہنگ اسلوب مرتب کر لیا۔ اس مد میں مولانا نے جو کچھ لکھا، آنکھوں سے لگانے اور دل میں سمانے کے لائق ہے۔

    اب سے کوئی دس سال پہلے پاکستان کے ادبی رسائل کی بے قدری و زبوں حالی کے پیش نظر جب مولانا رازق الخیری اور میں نے مل کر انجمن ادبی رسائل پاکستان کی داغ بیل ڈالی تو پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں کے ادبی رسائل کو ہم نے انجمن کا ممبر بنالیا اور سب نے رکنیت اس لیے فوراً قبول کر لی کہ ہم سب کے مسائل ایک سے تھے مگر مولانا صلاح الدین احمد نے رضا مندی ظاہرنہیں کی ۔ اس پر ہمیں تعجب بھی ہوا خیر چند مہینے بعد انجمن کی مجلسِ عاملہ نے طے کیا کہ اس کا باقاعدہ افتتاحی جلسہ لا ہور میں کیا جائے ۔ لہٰذا ہم نے چند کیا اور بارہ ایڈیٹر لا ہور گئے ۔ لاہور میں ہمارے ٹھہر نے اور جلسے کا انتظام لاہور کے ادبی رسائل کے ایڈیٹروں نے کیا تھا۔ ان میں پیش پیش” نقوش‘‘ کے ایڈیٹر محمد  طفیل صاحب تھے۔ شام کو مہمان اور میز بان سب ایک جگہ جمع ہوئے اور جلسے کی تفصیلات طے کی گئیں۔

    اگلے دن صبح ہی صبح میں اور مولا نا رازق الخیری مولا نا صلاح الدین احمد کے گھر پہنچ گئے ۔ دروازہ بند تھا ۔ کنڈی کھٹکھٹائی ، جواب ندارد، پھر کھٹکھٹائی دور سے آواز آئی ۔ ذرا ٹھہر و،ٹھہر گئے ۔ چند منٹ بعد دروازہ کھلا تو صلاح الدین احمد صاحب گھبرائے ہوئے برآمد ہوئے اور ہمیں دیکھ کر اور بھی گھبرا گئے ۔ ان کا سر اور دھڑ پانی میں تر بتر تھا۔ صرف پاجامہ پہنے ازار بند باندھے چلے آئے تھے۔ جھجک کر بولے : ” آپ حضرات ہیں، میں سمجھا دودھ والا ہے۔ معاف فرمائیے ابھی حاضر ہوا‘‘۔ اور مولا نا بغلی ڈوب کر غائب ہو گئے ہم اپنی جگہ پر شرمندہ ہور ہے تھے کہ ایک شریف آدمی کے گھر صبح ہی صبح کیوں بے اطلاع جادھمکے۔ اتنی دیر میں مولا نا کرتا پہن کر آگئے اور بولے:’’ آیئے! اندر تشریف لایئے‘‘۔ پہلو میں ایک کمرہ تھا جس میں انہوں نے ہمیں بٹھایا اور ناشتہ کو پوچھا۔ ہم نے کہا: ” ناشتہ سے ہم فارغ ہو چکے ہیں، آپ سے دو باتیں کرنی تھیں اس لیے حاضر ہو گئے ‘‘۔ بولے " فرمائیے‘‘۔ خیری صاحب نے کہا: ’’ ایک تو یہ بتائیے کہ آپ انجمن   کے ممبر کیوں نہیں بنے ؟ اور دوسرے یہ کہ آپ ہمارے جلسے میں شریک کیوں نہیں ہو رہے؟“۔ مولانا نے چہرے پر مسکراہٹ پھیلا کر کہا:”مولانا! میں کسی انجمن کا ممبر نہیں بنتا۔ ویسے میں آپ کے ساتھ ہوں ، دیکھیے میں نے جلسے کے لیے دور یزولیوشن لکھے ہیں جو میرے ہی نام سے پیش کیے جائیں گے‘‘۔

     ہم نے مولانا سے مزید سوالات کرنا مناسب نہیں سمجھا کیوں کہ مولا نا بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے تھے اور پھر اپنے فیصلے پر جم جاتے تھے۔ہمیں جلسہ گاہ میں پہنچنا تھا۔ اس لیے اس مختصرسی ملاقات کے بعد ہم نے مولانا سے اجازت چاہی۔

     مولا نا بہت ہی خودار آدمی تھے ۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ جو انجمن بنی ہے اس لیے بنی ہے کہ ادبی رسائل کے حقوق کے تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے کچھ سرکاری امداد ملنےلگے اور جب اسے امداد ملنے لگے گی تو آگے چل کر اس میں جھگڑے بھی بہت پڑیں گے۔ مولانا دنگے فساد سے دور رہتے تھے۔ اپنی ۳۵ سالہ ادبی زندگی میں وہ ایک دفعہ بھی کسی سے نہیں الجھے۔ خاموشی سے اپنا کام کیے جاتے تھے۔ سرکاری امداد قبول کرنے کے وہ سخت مخالف تھے۔ جب انہوں نے پنجاب اکیڈی بنائی تو انہیں بڑی آسانی سے پچیس تیس ہزار روپے سالانہ کی سرکاری امدادمل سکتی تھی مگر وہ اپنا گھر لٹاتے رہے اور انہوں نے کبھی ایک پیسہ بھی کسی سے بطور امد ا قبول نہیں کیا۔ مولانا اپنے منصوبے خود بناتے تھے اور انہیں اپنی مرضی سے پورا کرتے تھے۔ کسی طرف سے دخل در معقولات وہ پسند نہیں کرتے تھے۔ دو ایک سال ہوئے کہ انہوں نے ایک ادارے اُردو فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالی تھی اور بڑے پنانے پر اُردو مطبوعات کا کام کرنا چاہتے تھے اور یقیناً وہ ان تمام اداروں سے کہیں زیادہ اور بہتر کام کرتے جنہیں لاکھوں روپے سالانہ کی امدادحکومت سےمل رہی تھی۔ انجمن ادبی رسائل پاکستان نے حکومت سے سالانہ امداد حاصل کرنے کا کبھی خیال بھی نہیں کیا کیوں کہ اس انجمن کا کام صرف ادبی رسائل کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے اور اس میں کچھ خرچ نہیں ہوتا۔ اگر کچھ خرچ ہوتا بھی ہے تو اس کے اراکین خودہی اخراجات کو پورا کر لیتے ہیں مگر مولانا کی حد سے بڑھی ہوئی احتیاط نے اس پربھی انہیں رکنیت قبول کرنے کی اجازت نہیں دی اور یہ بھی واقعہ ہے کہ جب دو سال پہلے انجمن کا سالانہ جلسہ لاہور میں ہوا تو اس کی ایک ادبی نشست میں جس کی صدارت جسٹس جان نے کی تھی، مولانا نے ایک نہایت پرمغز اور دلآویز مضمون پڑھا تھا۔ یوں انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا کہ ممبر  نہ ہونے کے باوجود وہ ہمارے شریک کار رہے۔

    انجمن کئی سال سے اس کوشش میں ہے کہ بعض ان مدیران رسائل کے وظائف مقرر ہو جا ئیں جنہوں نے ساری عمر خدمت ادب میں گزار دی اور اب ان کی صحت بھی جواب دے رہی ہے اور مالی حالت بھی اچھی نہیں رہی ہے جتنی بھی حکومتیں اب تک پاکستان میں برسراقتدار آئیں ، ان کے ورزاء اور وزارت کے سیکرٹریوں کی خدمت میں انجمن کے وفود حاضر ہو کر محضر پیش کرتے رہے مگر عجیب اتفاق ہے جب کام بننے پر آیا تو حکومت بدل گئی جن معمر مدیروں کے لیے جد و جہد کی جارہی ہے ان میں سے بلا استثنیٰ    سبھی نے شرط لگائی ہے کہ یہ وظائف بطور خیرات قبول نہیں کیے جائیں گے ، بلکہ انہیں اگر حسنِ خدمات کا صلہ موسوم کیا جائے گا تو قابل قبول ہوں گے اور یہ بھی اس لیے کہ حکومت ہماری اپنی ہے، کسی غیر ملک کی نہیں ہے مگر وظائف کی فہرست میں جب مولانا کا نام شامل کرنے کی اجازت چاہی گئی تو وہ اس قد رگھبرائے اور برہم ہوئے جیسے ان سے خط غلامی لکھوایا جا رہا ہو۔ بولے: ” میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میرا نام ہرگز پیش نہ کر یں میں نے آج تک کسی قسم کی سرکاری امداد قبول نہیں کی ہے ۔ مجھے معاف رکھا جائے۔‘‘

     میں تو مولانا کی طبیعت سے کسی قدر واقف تھا اس لیے ان کی برہمی پر تعجب نہیں ہوا، مگر انجمن کے صدرمولا نا رازق الخیری حیرت اور شرمندگی سے ان کا منہ تکنے لگے۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ مولا نا اس تجویز کو سن کر خوش ہو جائیں گے مگر وہاں الٹی آنتیں گلے پڑ گئیں۔ قدری کر لی مگر مولا نا قائل نہیں ہوئے اور ہم اپنا سا منہ لے کر ان کے دفتر سے چلے آئے ۔مولا نا رازق الخیری نے زینے سے اترنے کے بعد خالص دِلّی والوں کے لہجے میں کہا :’’ بس بھئی ، کہہ چکے؟ ‘‘میں نے کہا.....’’ جی ہاں ! یہ  طائر ِلا ہوتی ہے‘‘۔

    قیامِ پاکستان کے بعد اُردو کے فدائی لاہور میں گنتی کے رہ گئے تھے ،ان میں سے بھی نئے حالات نے بہت سوں کو ہتھیار ڈال دینے پر مجبور کر دیا تھا ۔ ان شکست خوردہ ادیبوں میں سالک ، مہر اور امتیاز علی تاج جیسے قد آور لوگ بھی شریک تھے۔ سالک اور مہر نے اخبار ’’انقلاب ‘ ‘بند کر کے کتابیں لکھنی شروع کر دیں تھیں ۔ تاج صاحب’’تہذیب نسواں‘‘ اور ’’پھول‘ ‘ سے کنارہ کر کے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے تھے اور بعد میں کچھ اور سرکاری کاموں میں مبتلا ہو گئے ۔میاں بشیر احمد نے پے در پے کئی ایڈیٹر بدلے مگر’ ’ ہمایوں‘‘ کا معیار بھی گرتا گیا اور اشاعت بھی ، یہاں تک کہ مایوس ہو کر انہوں نے ’’ہمایوں‘‘بند کر دیا۔

    حامد علی خاں صاحب نے’’الحمرا‘‘ جاری کیا تھا، بہت سارا نقصان بھر نے کے بعد بند کرنا پڑا۔ ’’نیرنگِ خیال‘‘ کے ایڈیٹر حکیم محمد یوسف حسن صاحب اپنا پر چہ لا ہور سے پنڈی لے گئے اور جب اس کے چلنے کی کوئی راہ نہ نکلی تو اسے بند کر کے حکمت کے ہو رہے۔ ’’عالمگیر‘‘ کے ایڈیٹر حافظ محمد عالم صاحب کا انتقال ہو گیا اور ان کے ساتھ ان کا پر چہ بھی مر گیا۔ اس مرا مری میں بڑے بڑوں کے جی چھوٹ رہے تھے مگر مولا نا صلاح الدین احمد ڈٹے ہوئے تھے ۔ جب بھی انہیں موقع ملتا’’ادبی دنیا‘‘  کا ایک پر چہ چھاپ دیتے ۔ یوں کئی سال تک ان کا پرچہ گنڈے دار نکلتا رہا اور اسی افراتفری میں انہوں نے پنجاب اکیڈمی قائم کر کے کتابیں چھاپنی شروع کر دیں۔

     مولا نا اپنے پرانے رفیق کار ” میرا جی‘‘ کی کتابیں چھاپنا چاہتے تھے ۔ ایک تو اس وجہ سے کہ بمبئی میں میرا جی کا انتقال ہو گیا تھا اور مولانا ان کی یادگار اس طرح قائم کرنا چاہتے تھے کہ انہوں نے جو کچھ لکھا تھا اسے کتابی صورت میں محفوظ کر دیں ۔ دوسرے یہ کہ میراجی کے مرنے سے ان کی بیوہ نابینا والدہ مالی مشکلات میں مبتلا ہوگئی تھیں ۔مولانا نے مجھے اس سلسلے میں خط لکھا کہ میراجی کی کتابیں چھاپ کر ان کی رائلٹی ان کی والدہ کو دینا چاہتے ہیں ۔ میرے پاس میرا جی کی چار کتابوں کے حقوق اشاعت تھے میں نے ان سے دست برداری لکھ کر مولانا کو بھیج دی۔مولا نا بہت خوش ہوئے اور مجھے طویل خط شکریہ کا لکھا۔ میرا جی کے نثری مضامین کا انتخاب مولانا نے ایک ضخیم کتاب کی صورت میں چھاپ دیا تھا ۔ افسوس کہ ان کے منظومات کے مجموعے شائع کرنے کی نوبت نہ آئی۔

     یوں تو مولا نالڑائی بھڑائی سے بہت دور رہتے تھے اور کبھی کسی سے ان کی معاصرانہ چشمک نہیں ہوئی مگر وہ تھے بڑے دبنگ آدمی ۔ کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ صدر ایوب نے جب پنجابی میں تقریر کی تو مولانا نے انہیں بر ملا ٹوک دیا کہ انہیں قومی زبان اُردو میں تقریر کرنی چاہیے تھی اور اس پر بھی توجہ دلائی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سے لفظ اسلامی کیوں ساقط کیا گیا؟

    صدر ایوب مولانا کی اس جرأت مندانہ تنقید سے ناخوش نہیں ہوئے جیسا کہ ان کے اس پیغام سے ظاہر ہوتا ہے جو انہوں نے مولانا کے انتقال پر دیا۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ ہم میں سے کتنے ہمت رکھتے ہیں کہ صدرِ پاکستان کو اس بے باکی سے ٹوک دیں؟

    آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی

    اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

     اپنی زندگی کے آخری چند سالوں میں مولانا کے دل میں یہ سما گئی تھی کہ وہ ۶۳ سال کی عمر میں مرجائیں گے ۔اس کی تصدیق یوں ہوئی کہ ابن انشاء صاحب نے کراچی سے اپنے ادارے کا کچھ کام مولانا کو سال ڈیڑھ سال پہلے بھیجا تھا۔ مولانا نے کم فرصتی کا عذر کر کے کام لوٹا دیا تھا اور انشا ءصاحب کو بتایا کہ چوں کہ ان کے اب وجد ۶۳ سال کی عمر میں انتقال کرتے رہے ہیں لہٰذا انہیں بھی ۶۳ سال کی عمر میں مر جانا ہے اور اس عمر کو پہنچنے میں کچھ زیادہ عرصہ باقی نہیں رہا۔ یہ بات انشاء صاحب نے مجھے بتائی تھی اور جب میں پچھلے سال لاہور گیا تو حامد علی خاں صاحب سے برسبیلِ تذکرہ مولانا کے اس وہم کا بھی ذکر آیا۔ حامد صاحب نے فرمایا یہ واقعہ صحیح ہے اس لیے وہ اپنے تمام کام جلدی جلدی سمیٹ رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنی ساری پونجی اپنے ادارے ’’اُردو فاؤنڈیشن‘‘ کے لیے وقف کر دی تھی اور ’’ادبی دنیا‘‘ کو ایک نئے انداز سے نکالنا شروع کر دیا تھا۔ تین سو صفحے کا پر چہ اب انہوں نے ایک روپے میں دینا شروع کر دیا تھا۔ حالاں کہ اصولاً اس کی قیمت تین روپے ہونی چاہیے تھی ۔اخبار فروشوں کو میشن وغیرہ دینے کے بعد نو آنے کا پڑتا تھا۔ لہذا’’ادبی دنیا‘‘ کی دھوم مچ گئی اور ہر اشاعت کے بعد اس کی تعداد دگنی ہوتی چلی گئی ۔ یعنی نقصان بھی دو گنا ہوتا چلا گیا۔ ہم تو یہ کہتے تھے کہ یہ صریحاً خودکشی ہے ۔مولانا نے موم بتی کو دونوں سروں سے جلا دیا ہے اور مولانا یہ سمجھتے تھے کہ ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ اسی صورت میں پر چہ خودکفیل ہو جائے گا۔ وہ فرماتے تھے کہ ’’میں اپنی اولاد کے فرائض   سے سبک دوش ہو چکا ہوں۔ میرا ایک مکان اور رہ گیا ہے، میں اسے بھی بیچ کر اس تجربے میں لگا ڈالوں گا ۔ ۶۳ سال کی حداب قریب آ چکی ہے۔ اپنے سامنے ہی ’’ادبی دنیا‘‘ کی بنیادیں استوار کر دینا چاہتا ہوں‘‘ اور اگر مولا نا کوموت فرصت دیتی تو یقیناً وہ اپنے تجربے میں کامیاب بھی ہو جاتے ۔ مگر ۶۳ سال پورے ہو گئے اورمولا نا کا اندیشہ پورا ہوا۔

    ۱۰ جون کو’’نقوش‘‘ کی سویں اشاعت’’ آپ بیتی نمبر‘‘ کی تقریب میں جب میں اپنا مضمون پڑھ رہا تھا تو اچا نک میری نظر اُٹھی تو میں نے دیکھا کہ سامعین کی دوسری صف میں مولا نا بھی بیٹھے ہوئے ہیں میں جب اپنا مضمون ختم کر کے واپس آیا تو میری جگہ پر کوئی مہربان بیٹھے ہوئے تھے۔ اس لیے مجھے تقریباً سب سے پیچھے جا کر بیٹھنا پڑا۔ وہاں سے پھر میں نے مولا نا کو دیکھا۔ بالکل ویسے ہی تھے جیسے تیں سال پہلے تھے صرف مونچھیں کھچڑی ہوگئی تھیں ۔ میں نے سوچا کہ جلسہ ختم ہوگا تو میں مولانا سے لپٹ جاؤں گا۔ مجھے ان سے ملے دس سال ہو گئے تھے مگر جب جلسہ ختم ہوا تو اس جلسے کے منتظم عشرت رحمانی صاحب نے مجھے لے جا کر وزیر ِتعلیم مغربی پاکستان کے پاس بٹھا دیا اور جب میں وہاں سے اُٹھا تو مولا نا جا چکے تھے ۔ میں نے سوچا کہ کل دفتر جا کر مولانا سے مل لوں گا مگر اگلے دن میں کچھ اور کاموں میں پھنس گیا اور شام کی گاڑی سے کراچی واپس روانہ ہو گیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہی مولانا کا آخری دیدار ہے۔ اس کے چوتھے دن ریڈیو نے یہ منحوس خبر سنائی کہ مولا نا کا انتقال ہو گیا ۔ان کی عمر ۶۳ سال کی تھی ۔

    ( ۲ )

    بعض پیارے جو ہم سے رخصت ہو چکے ہیں ، جب ان کا خیال آتا ہے تو دھیان میں دھنک سی نکل جاتی ہے ۔ کسی کسی کا تصور بندھتا ہے تو خوشبو سے مشام جاں معطر ہو جاتا ہے، کبھی کلیاں چٹکنے لگتی ہیں، کبھی پھول کھلنے لگتے ہیں ۔ مگر مولا نا صلاح الدین احمدیاد آتے ہیں تو ذہن  کے افق پر چاند کھیت کرتا ہے اور ٹھنڈی چاندنی پھیلتی چلی جاتی ہے۔ اپنی زندگی میں مولا نا چودہویں کا چاند بن کر ادب کے آسمان پر چمکے اور مرے تو اپنے پیچھے ایک ایسی کہکشاں چھوڑ گئے جوان کے نام کو رہتی دنیا تک پائندہ و تابندہ رکھے گی۔

    مولانا کو بچپن ہی سے ادب کی چیٹک تھی۔ جب وہ سکول میں پڑھتے تھے تو اپنے جیب خرچ سے پیسے بچا کر انہوں نے ایک رسالہ نکالا تھا جس میں خود لکھتے تھے اور اپنے سکول کے دوستوں سے لکھواتے تھے جب پیسے ختم ہو گئے تو رسالہ بھی بند ہو گیا مگر ادب کی لگن باقی رہی اور اس دبی ہوئی خواہش کی تکمیل اس وقت ہوئی جب کئی سال بعد مولانا تاجور نجیب آبادی سے انہوں نے ’’ادبی دنیا‘‘ کو خرید لیا۔

    مولا نا ایک آسودہ حال خاندان کے فرد تھے۔ یہ خاندان زوال دِلّی کے زمانے میں دِلّی چھوڑ کر لاہور آ گیا تھا۔ مولانا کے والد مولوی احمد بخش عربی، فارسی اور اُردو کے بہت بڑے عالم اور چیفس کالج  میں فارسی کے استاد تھے۔ مشرقی زبانوں سے انہیں بچپن ہی میں شیفتگی ہوگئی تھی اور خاندان کے پنجاب منتقل ہو جانے کے باوجود ان کے گھر میں اُردو ہی بولی جاتی تھی۔ اس خاندان کے افراد ملازمت پیشہ تھے اور انگریزوں کی حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر مامور تھے۔ مولانا کے بڑے بھائی ضیاء الدین احمد جو مولانا سے کئی سال بڑے تھے ۔ سندھ میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس تھے۔ ان کی خواہش بھی کہ مولا نا بھی فارغ التحصیل ہونے کے بعد پولیس سروس میں آجائیں مگر مولا نا ملازمت کے بندھنوں سے آزادرہنا چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر دیا تھا۔ اسی میں اللہ تعالیٰ نے اچھی خاصی برکت دے دی تھی مگر جس کو ادب کی چاٹ لگ جائے، وہ کسی اور کام کا نہیں رہتا۔ چناں چہ جب ”ادبی دنیا‘‘ کو مولانا تاجور نے بند کرنے کا ارادہ کرلیا تو مولانا مرحوم نے اسے خرید لیا لاہور ہی میں ایک اور صاحب تھے منصور احمد۔ یہ  صاحب مولانا کے پرانے ہم جماعت اور دوست تھے۔ ان کا تعلق مولانا ظفر علی خاں کے خاندان سے تھا۔ انہیں بھی ادب کا چسکا شروع ہی سے تھا۔ بی اے پاس کرنے کے بعد ’’ ہمایوں‘‘ کے ایڈیٹر ہو گئے تھے۔ کئی سال تک وہ ’’ہمایوں‘‘  کو چلانے کے بعد خرابی صحت کی بناپر ’’ہمایوں‘‘ کی ادارت حامد علی خان صاحب کو سونپ کر علیحدہ ہو گئے۔ منصور احمد  تجربہ کار اور نیک نام ایڈیٹر  تھے۔ صلاح الدین احمد صاحب نے اپنے رفیق دیرینہ  کو اس پر آمادہ کر لیا کہ ’’ادبی دنیا‘‘ کا بارِ ادارت اٹھانے میں ان کے شر یک ہو جائیں ۔ صلاح الدین احمد کو اس وقت تک کوئی نہیں جانتا تھا ۔ منصور احمد کو سب جانتے تھے، ان کی ساکھ بھی تھی۔ اس سے ’’ادبی دنیا‘‘ کو دوبارہ جمانے میں بڑی مددملی ۔ صلاح الدین احمد صاحب اچھے منتظم بھی تھے۔ رسالے کا کام انہوں نے بہت با قاعدگی سے شروع کیا۔ منصور احمد نے پرچے کی ترتیب اپنے ذمے لے لی۔ ان کے چھوٹے بھائی مظفر احمد نے حساب کتاب سنبھالا۔ ایف ایم ساقی نے اشتہارات مہیا کرنے کا ذمہ لیا۔ مولانا تاجور کے زمانے میں بھی شعبہ اشتہارات انہی کے سپرد تھا۔ صلاح الدین احمد صاحب نے انتظامی شعبہ بھی سنبھالا اور ادارت میں بھی ہاتھ بٹایا۔ دفتر کے مختلف کام کرنے کے لیے چار اور آدمی رکھے گئے۔ مال روڈ پر دفتر آ گیا۔ پرچہ بڑے طمطراق سے نکلنے لگا اور چند مہینوں ہی میں اپنے ہم عصر رسالوں میں مقام پیدا کر لیا۔ ’’ادبی دنیا‘‘ سائز میں تمام ادبی پرچوں سے بڑا تھا اور اس کی ظاہری وضع قطع بھی بہت خوشنما تھی۔ نئے لکھنے والے ادباء اس کے لیے مضامین بھیجتے تھے اور اس میں چھپ جانا اپنے لیے قابل فخر بات سمجھتے تھے۔ رفتہ رفتہ  تقریباً سارے ہی اچھے لکھنے والے ’’ادبی دنیا‘‘ میں جمع ہو گئے ۔ اس کھیپ میں میر اجی بھی آئے۔ کرشن چندر، بیدی اور اشک بھی۔ انہیں ’’ادبی دنیا‘‘ سے شہرت ملی اور ’’ادبی دنیا‘‘  کو ان سے فروغ ملا۔ مولانا صلاح الدین احمد کی مقناطیسی شخصیت نے انہیں اپنا گرویدہ بنا لیا اور اچھے لکھنے والوں کا ایک حلقہ ’’ ادبی دنیا‘‘ کومل گیا۔ مولانا ان نے لکھنے والوں کو ہمیشہ جتاتے رہتے تھے کہ ادب میں پاکیزگی کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے اور اخلاقی قدروں کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے ۔ مولانا نے انہیں یہ بھی بتایا کہ اچھی چیزیں لکھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ کلاسیکی ادب سے اپنا ناتا نہ توڑا جائے ۔ اکثر ایسا بھی ہوا کہ بعض بہت اچھے مضامین محض اس لیے ’’ادبی دنیا‘‘ میں جگہ نہ پاسکے کہ ان میں فحاشی یا عریانی کا جزو شامل تھا۔ مولا نا اس معاملے میں بہت سخت گیر تھے ۔ خوش اسلوبی سے مضامین لوٹا دیتے ۔ مجھے یادنہیں کہ منٹو کا کوئی مضمون’’ادبی دنیا‘ میں بھی چھپاہو۔

    منصور احمد کے مرض نے دق کی صورت اختیار کر لی اور بہت تھوڑے عرصے بعد ہی اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ یہ وقت صلاح الدین احمد صاحب کے لیے بڑا آزمائش کا تھا۔ مگر وہ محنتی آدمی تھے ، اس صدمے کو جھیل گئے اور منصور احمد کی کمی کو انہوں نے محسوس نہیں ہونے دیا۔ چناں چہ ’’ادبی دنیا‘‘ اسی شان سے نکلتا رہا۔

    میرا جی نے اپنے زمانہ ملازمت میں دوسری زبانوں کے مشہور شعرا پر بہت کام کے مضامین لکھے۔ بودلیران کا محبوب ومثالی شاعر تھا۔اس کی شخصیت کا زیاد ہ حصہ میراجی نے اپنے کردار میں سمولیا تھا۔ جب محمود نظامی نے میرا جی کو آل انڈیا ریڈیو میں دِلّی بلوالیا تو مولا نا تنہا ادارتی فرائض انجام دینے لگے ۔

    مولانا بے حد شریف النفس انسان تھے۔ رسالے والوں کی برادری میں اکثر آپس میں جھڑپیں ہو جایا کرتی ہیں ۔ مگر ’’ادبی دنیا‘‘ کبھی کسی لڑائی بھڑائی میں مبتلا نہ ہوا۔ حالاں کہ لاہور اس زمانے میں ادبی جدال کا مرکز بنا ہوا تھا۔ مولانا عبدالمجید سالک اپنے ’’ افکار وحوادث ‘‘میں یو پی والوں سے الجھتے سلجھتے رہتے تھے ۔ حفیظ جالندھری اور مولانا تا جور کی چلتی رہتی تھی ۔ نیاز مندان لا ہور نے اپنا محاذ بنا رکھا تھا لیکن مولا نا ان سب مناقشوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی ان سب سے الگ رہے اور خاموشی سے اپنا کام کرتے رہے ۔لہٰذاوہ اپنے سب معاصرین سے بازی لے گئے ۔صرف ایک دفعہ ایسا ہوا کہ رسائل کے جائزے کے سلسلے میں مولانا نے ’’ساقی‘‘ کے کسی مضمون پر کچھ لکھ دیا تھا۔ مجھے مولانا کا یہ تھوڑ اسا لکھنا بھی بہت برا لگا تھا اور میں نے جواب میں کچھ باتیں ایسی لکھ دی تھیں جو گستاخی کی حد کو پہنچ گئی تھیں ۔مولانا نے یہ کیا کہ ”ادبی دنیا‘‘  میں یہ سلسلہ ہی اڑا دیا اور مجھے اس کے منقطع کرنے کی اطلاع دی مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا اور میں نے فوراً معذرت کا خط لکھا مگر مولانا نے وہ سلسلہ دوبارہ جاری نہیں کیا۔اتنا صلح کُل مدیر میں نے کوئی اور نہیں دیکھا۔ تحمل اور بردباری مولا نا میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ نئے مضمون نگار ان کے دفتر میں پہنچ کر انہیں بہت ستاتے تھے۔ بعض بحث کرنے لگتے تھے، مگر مولانا کی تیوری پر بل تک نہ آتا تھا۔ بڑی نرمی اور خوش اسلوبی سے ان کے مضامین کے نقائص انہیں سمجھا دیتے تھے اور انہیں مطمئن کر کے رخصت کرتے تھے۔ بڑے دل گردے کا کام ہے۔ اپنی تو کیفیت یہ تھی کہ بحث کسی سے نہیں کی بس کہہ دیا کہ مضمون ٹھیک نہیں ہے، نہیں چھپ سکتا اور اگر کسی نے بحث کی تو اسے چراندی باتیں کر کے بھگا دیا۔

     کوئی تیس سال پہلے مولانا سے میری پہلی ملاقات ہوئی تو ٹوٹ کر گلے ملے۔ کہلاتے مولا نا تھے مگر نکلے اپ ٹو ڈیٹ جنٹلمین ۔ پورا سوٹ مع نکٹائی کے زیب تن تھا۔ سروقد ،کھلی پیشانی ، غلافی آنکھیں ، سواسی ناک، کترواں مونچھیں ، منڈھی ہوئی ڈاڑھی ، لبوں پر مسکراہٹ ، چہرے پر ذہانت کا نور ، بڑی دل کش شخصیت تھی مولانا کی ۔اس پران کا حسنِ اخلاق سونے پر سہا گہ مجھ سے پانچ چھ سال بڑے تھے مگر پہلی ملاقات میں ہم عمروں کی طرح گھل مل گئے ۔ مولانا کی وضع مغربی تھی مگر ان کا دل خالصتاً مشرقی تھا۔ بہت خوش ہوئے اور بہت خوش کیا۔اگلے دن شام کو دفتر ہی میں چائے پر بلایا تو ادبی دنیا کے تقریباً سبھی مقامی مضمون نگار موجود تھے ۔ اکثر سے ملاقات پہلے ہو چکی تھی ۔ کرشن چندر، بیدی ، اشک ، عاشق بٹالوی اور دیوند رستیارتھی سے یہیں تعارف ہوا۔ اس واقعہ سے بھی مولانا کی وسیع القلمی کا اظہار ہوتا ہے ورنہ ہماری برادری میں اپنے مخصوص مضمون نگاروں سے ملانا تو کیسا ،ان کے پتے تک دوسرے ایڈیٹروں کو نہیں بتائے جاتے ۔

     مولانا بڑے صبر و ضبط کے آدمی تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے لاہور کے متعلق ہندوؤں کا خیال تھا کہ لا ہور ہندوستان میں آئے گا ۔اس لیے ہندولا ہور میں جمع رہے۔ خنجر زنی کی وارداتوں کے بعد آتش زنی کے واقعات ہونے لگے۔ ان ہی میں مولانا کا گھر بھی جل گیا۔ میں جب دِلّی سے اُجڑ کر لاہور پہنچا تو ایک دن سر ِراہ ملاقات ہوگئی۔ مولانا مجھے دیکھ کر اپنی پریشانیاں بھول گئے ۔ بے حد متاسف ہوئے ۔ بار بار پرسشِ احوال فرماتے تھے اور ان کے چہرے پر ایک غم ناک مسکراہٹ پھیل جاتی تھی۔ میں نے انہیں اطمینان دلایا کہ رہنے کو گھر مل گیا ہے، جان بچی لاکھوں پائے ۔ بعد میں مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ مولانا پرتو خود پیغمبری وقت پڑا ہوا ہے ۔ اس کے برعکس اسی افراتفری کے زمانے میں ایک اور ادبی رسالے کے ایڈیٹر انارکلی میں ملے تو بڑے زور کا قہقہ لگا کر انہوں نے فرمایا: ’’اچھا! آپ بھی آگئے اب تو زبان کی ذمہ داری بھی ہم پرآن پڑی‘‘۔ میں نے زہر خند کے ساتھ ان کو جواب دیا کہ آپ زبان کی طرف سے پریشان نہ ہوں، زبان تو وہاں ہے جہاں ہم ہیں‘‘۔ اس پر انہوں نے اور بھی ڈھٹائی سے قہقہہ لگایا اور چل دیے۔

    مولانا کے کچھ اپنے اصول تھے۔ ادھر کی دنیا چاہے اُدھر ہو جائے مگر مولانا اپنے اصول سے نہیں پھرتے تھے۔ انہوں نے یہ طے کر لیا تھا کہ کسی حکومت سے مالی امدادنہیں لیں گے۔ پاکستان بن جانے کے بعد بھی وہ اسی اصول پر قائم رہے۔ مولا نا چا ہتے تو قیام ِپاکستان کے بعد انہیں نہایت اعلیٰ درجے کی ایک کوٹھی لاہور کے فیشن اہل علاقے میں الاٹ ہو جاتی کسی بہت بڑے ہندو اخبار کا دفتر انہیں مفت مل جا تا ۔کسی بڑے پبلشر کا پورا چھاپہ خانہ کوڑیوں کے مول مل جاتا مگر ان کی غیرت و دیانت نے اسے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے ساری عمر محنت سے اپنی روٹی کمائی۔ اس لیے انہوں نے مفت کی دولت کو ٹھکرا دیا ۔ اسی مال روڈ پر حالات سدھر جانے کے بعد ایک کمرہ کرایہ پر لیا اور اللہ کا نام لے کر پھر اپنا کام شروع کردیا ۔ ’’ادبی دنیا‘‘ کے ساتھ ساتھ اب مولانا نے سستی کتابیں چھاپنے کا پروگرام بھی بنایا تھا۔ اپنے ادارے کا نام انہوں نے ’’اکا دمی پنجاب‘‘ رکھا اور کئی سستی کتابیں چھاپیں۔ سستی سے مراد یہ ہے کہ لاگت پر بہت کم منافع رکھ کر کتاب کی قیمت مقرر کی ۔ ورنہ دوسرے پبلشر لاگت کے مقابلے میں کتاب کی قیمت تین اور چار گنی تک رکھتے ہیں ۔ مولانا نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ستی اور عمدہ کتابوں کی یہ سکیم خاصی کا میاب رہی۔ پاکستان بننے کے بعد مولانا کوئی امیر آدمی نہیں رہ گئے تھے۔ اس سستے کاروبار میں انہوں نے کئی ضخیم کتابیں بھی چھاپیں۔ مثلاً دیوان شیفتہ  ، حیات جاوید ،میراجی کے نثری مضامین کا مجموعہ اور ڈاکٹر وزیر آغا کی کتاب ”اُردو ادب میں طنز و مزاح‘‘۔

    اس سستے کاروبار نے مولانا کوستا ’’ادبی دنیا‘‘ چھاپنے کی راہ سجھائی ۔ رسائل کی عام روش یہ ہے کہ تقریبا ًسوصفحے کی قیمت ایک روپیہ رکھتے ہیں ۔ یعنی رو پیہ سینکڑہ، پانچ سو صفحے  کی قیمت پانچ روپے اور ہزار صفحے کی قیمت دس روپے۔ مگر مولانا نے ’’ادبی دنیا‘‘کے دور جدید میں تین سوصفحے کی قیمت ایک روپیہ رکھی ۔ ایک تو رسالہ ویسے ہی گھاٹے کا سودا ہوتا ہے، اوپر سے مولانا نے قیمت ٣/١   رکھ دی۔ پرچہ تو ایک دم سے چھلانگیں بھرنے لگا مگر اس کے ساتھ گھاٹا بھی چھلانگیں بھرنے لگا۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ مولانا اس نقصان کو کہاں سے پورا کرتے تھے۔ اکلوتا مکان بیچ کر اس تجربے پر لگا دینے کی دھمکی  وہ پہلے ہی دے چکے تھے۔ شاید یہ بھی کر گزرے ہوں گے۔ دراصل رسالوں کا خسارہ تو اشتہاروں سے پورا کیا جاتا ہے یا کتابوں کی فروخت سے ،مولانا نے ان دونوں مدوں کی طرف توجہ دی تھی ۔ سستی کتابوں کا جو تجر بہ انہوں نے کیا تھا وہ کامیاب ہو چکا تھا۔ اشتہارات حاصل کرنے کا بھی انہیں کافی تجربہ تھا کیوں کہ ’’ادبی دنیا‘‘ خریدنےسے پہلے مولانا نے ایک اشتہارات مہیا کرنے والی کمپنی قائم کی گئی۔ پھر ایف،ایم ساقی جیسا اشتہارات کا کام کرنے والا آدمی انہیں ’’ادبی دنیا‘‘ کے ساتھ   مل گیا تھا۔  یہ مسٹر ساقی جب دِلّی میں پہلی دفعہ ملے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو تنخواہ کیا ملتی ہے اور آپ اپنے رسالے کے لیے اشتہارات کتنے کے مہیا کرتے ہیں؟ مسٹر ساقی نے بتایا تھا کہ انہیں تین سو روپے تنخواہ ملتی ہے اور وہ ایک ہزار کے اشتہار لا کر دیتے ہیں اور جب ’’ادبی دنیا‘‘ کا خاص نمبر چھپا تو اس میں تین ہزار کے اشتہارات تھے۔ یہ اس سستےزمانے کا ذکر ہے جب سفید کاغذ کارم چار روپے کا تھا (اب چھتیس روپے کا ملتا ہے) گویا آج کل کے حساب سے ۲۷ ہزار کے اس میں اشتہارات تھے۔ خیر تو مولانا کو اشتہارات کا بھی تجربہ تھا اور اب کتابوں کا تجربہ  بھی ہوگیا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اس نئے اور سستے ’’ ادبی دنیا‘‘ کے لیے واقعی اتنے اشتہارات حاصل کر لیے کہ اُردو کے کسی اور رسالے کو میسر نہ آسکے ۔ مگر میرا اندازہ یہی ہے کہ اشتہارات کی اس کثرت کے باوجود مولانا کونقصان ہی رہتا ہوگا کیوں کہ پرچے کی مانگ روز افزوں تھی اور صورت حال یہ پیدا ہوگئی تھی کہ پرچہ جتنا زیادہ چھپے گا، نقصان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ ہاں اگرعمروفا کرتی تو مولانا مز ید اشتہارات حاصل کر کے اس نقصان کی تلافی کرنے میں بھی ضرور کامیاب ہو جاتے۔ وہ دُھن کےپکے آدمی تھے اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے روز انہ محنت کرتے تھے گھر بار کے فکر سے وہ بے نیاز ہو چکے تھے۔ ان کے دو بچے ماشاء اللہ سی ایس پی افسر ہوگئے تھے اور چھوٹے صاحب زادے میاں فصیح الدین احمد بھی ایم اے پاس کر چکے تھے۔ لہٰذا کام مولانا پر پلا ہوا تھا اور مولانا کا م پر پلے ہوئے تھے۔ لکھنے پڑھنے کے علاوہ ان کا اور کوئی مشغلہ نہیں تھا۔

    قیامِ پاکستان سے پہلے مولانا نے بہت کم لکھا۔ مولانا کلاسیکی ادب پر بہت گہری نظر رکھتے تھے۔ شمس العلما مولانا محمد حسین آزاد کی تحریروں سے انہیں والہانہ شیفتگی ہوگئی تھی اور شاید پروفیسر آزاد کا فیض روحانی ہی تھا کہ مولانا بھی اپنے قلم سے آب حیات ٹپکانے لگے تھے۔ اب وہ دور آ گیا تھا کہ لاہور میں کوئی سر بر آورده ادیب باقی نہیں رہا تھا۔ مولانا مردے از غیب بن کر سامنے آئے اور ادب کے مطلع پر چھا گئے۔ ادبی تقریبوں اور ادبی جلسوں کی صدارت کے لیے مولانا سے زیادہ موزوں شخصیت اب کوئی اور نہیں ملتی تھی۔ مولانا نے سر عبد القادر کی یاد تازہ کر دی۔ اب ادب کے ساتھ ساتھ قوم اور ملک کا درد بھی ان کے دل میں بیدار ہو گیا تھا اور انجمن حمایت ِاسلام کے سالانہ جلسوں میں بھی مولانا کی طلب ہونے کی تھی مگر مولا نا عین اس وقت میں ہم سے جدا ہو گئے جب ہمیں ان کی ضرورت سب سے زیادہ تھی ۔ آخر میں وہی کچھ دہرانا چاہتا ہوں جو میں نے’’ساقی‘‘ میں لکھا تھا کہ:

    ’’مولانا صلاح الدین احمد مدیر’’ ادبی دنیا‘‘  کا ہم سے رخصت ہو جانا اُردو کی بدنصیبی اور ادبار کی علامت ہے۔ مولانا نے جب سے ہوش سنبھالا اُردو کی خدمت کرتے رہے یہاں تک کہ موت کے بے رحم ہاتھ نے ان سے قلم چھین لیا۔ مولوی عبدالحق کے بعد اُردو صلاح الدین احمد ہی کے سایۂ عاطفت میں آگئی تھی۔ مولانا ہی اُردو کے گیسو سنوارتے تھے اور مولانا ہی اُردو کی حمایت میں سینہ سپر ہو جایا کرتے تھے۔ انہوں نے اُردو کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی اور اُردو کے لیے اپنا گھر لٹا دیا تھا۔ ہماری طرح زبانی نہیں، بلکہ واقعی جب مولانا نے ایک روپے میں تین سوصفحے کا ’’ادبی دنیا‘‘ دینا شروع کیا تھا تو استفسار کرنے پر مولانا نے فرمایا تھا کہ میرے پاس اب صرف ایک گھر رہ گیا ہے، میں اسے بھی بیچ کر اس آخری تجربے پر لگا دوں گا‘‘۔

    ’’آخری‘‘ کا لفظ مجھے اس وقت کھٹکا تھا۔ مولانا کو اس کا یقین ہو گیا تھا کہ انہیں اب دوتین سال سے زیادہ جینا نہیں ہے۔ شاید اللہ کے نیک بندوں کو موت کا سایہ نظر آنے لگتا ہے۔ مولا نا واقعی دو تین سال بعد اچانک ہم سے رخصت ہوگئے۔ ان کی طبیعت ناساز تھی مگر اُردو ہی کے کام سے انہیں منٹگمری جانا پڑا اور وہیں موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ مولانا کیاگئے ان کے ساتھ ایک بہت بڑی روایت بھی ختم ہوگئی ۔ مولانا صلاح الدین احمد کے بعد اُردو یتیم ویسیر ہوگئی اور ایک ایک کا منہ تکا کرے گی۔ ایسا جانباز اوع شفیق سردھرا اسے اب کہاں نصیب ہوگا۔

    وہ بات کوہکن کی گئی کوہکن کے ساتھ

    ( ۱۹٦۵ ء)