مولانا نیاز فتح پوری
مولانا نیاز فتح پوری
٢٤ مئی (١٩٦٦ء) کو صبح کی خبروں میں ریڈیو پاکستان نے یہ غم ناک خبر سنائی کہ اردو کے مشہور نقاد اور ادیب نیاز فتح پوری کا انتقال ہو گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
نیاز صاحب کی سناؤنی سن کر مجھے تعجب نہیں ہوا مگر ہاں دل پر غم و اندوہ کا ہجوم ہو گیا۔ تعجب یوں نہیں ہوا کہ نیاز صاحب کئی مہینے سے علیل تھے۔ معلوم ہوا کہ ان کے منہ میں کچھ تکلیف ہو گئی ہے۔ اس وقت خیال ہوا تھا کہ شاید نقلی بتیسی کی کسی خرابی کی وجہ سے یہ تکلیف ہو گئی ہو گی مگر پھر یاد آیا کہ نیاز صاحب نے کبھی نقلی بتیسی لگائی ہی نہیں۔ میں نے ان سے پوپلے منہ کو دیکھ کر خود ان سے ایک دعوت میں پوچھا تھا کہ ’’آپ اپنا چوکا کیوں نہیں بنوا لیتے؟‘‘ میرے اس بدتمیزی کے سوال پر انہوں نے متبسم ہو کر فرمایا تھا کہ ’’ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میرے منہ میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ اس میں بتیسی لگائی جائے‘‘۔ میں نے سوچا کہ جیسے نیاز صاحب کی ہر بات میں ایک انوکھا پن ہوتا ہے، یہ بھی ایک انوکھی بات ہے کہ نقلی دانت ان کے منہ میں نہیں سما سکتے۔ پھر میں نے کھانے کے دوران میں مولانا کی طرف دیکھا تو وہ بغیر کسی زحمت کے کھانا کھا رہے تھے۔
ہاں تو نیاز صاحب کے انتقال کی خبر سن کر مجھے تعجب نہیں ہوا کیوں کہ بعد میں ان کی تکلیف کے بارے میں ڈاکٹروں کی متفقہ رائے یہ ہو گئی تھی کہ یہ کینسر ہے۔ میں تو اسی دن مایوس ہو گیا تھا کہ اب مولاناکی زندگی کے دن شمار ہو چکے ہیں۔ بہت جئیں گے تو سال چھ مہینے اور ہوا بھی یہی۔ مثل مشہور ہے کہ جب تک سانس تب تک آس۔ مولانا کے کینسر کوریڈیم سے جلانے کا علاج کیا گیا ، کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کوبالٹ سے علاج ہوا، افاقہ نہیں ہوا ۔
مرض بڑھتا گیا ، جوں جوں دوا کی
پھر معالجوں نے آپریشن تجویز کیا اور مولانا اس تکلیف کو بھی گوارا کر نے کے لیے تیار ہو گئے۔ آپریشن ہو گیا اور نیاز صاحب اچھے ہونے شروع ہو گئے۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ میرا اندیشہ علط نکلا۔ مولانا پھر لکھنے پڑھنے بھی لگے اور ان کی افسردگی بھی دور ہو چلی تھی کہ مرض پھر عود کر آیا۔ بیچ میں صحت کا جو تھوڑا ساوقفہ آیا تھا وہ گویا مولانا نے سنبھالا لیا تھا۔ اب کے جو مرض بڑھنا شروع ہوا تو جان لے کر ہی ٹلا۔ مجھے سب سے زیادہ افسوس اس کا ہے کہ مولانا کا آخری دیدار نہیں کر سکا میں خود تین مہینہ سے قید بستر میں تھا اور چلنے پھرنے سے معذور۔
مولانا نیاز فتح پوری کی ادبی زندگی کا آغاز اس صدی کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ وہ سرعبدالقادر کے ’’مخزن‘‘ کے لیے مضامین لکھتے تھے اور چوں کہ ایک طرز خاص کے لکھنے والے تھے اس لیے عبدالقادر صاحب ان کے مضامین کو ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے۔ اس وقت یعنی اب سے کوئی ساٹھ سال پہلے نیاز صاحب شعر بھی کہتے تھے اور ان کی اکثر نظمیں بھی مخزن میں شائع ہوتی تھیں۔ ان کی طبیعت روایتی عزل گوئی سے نفور تھی۔ خوب سے خوب تر کی جستجو میں ایک سے ایک اچھی نظم کہتے تھے۔ ان کی نثر میں بھی شاعرانہ عنصر بہت نمایاں تھا اور ان کے فقروں میں وہی لطف آتا تھا جو ایک اچھا شعر سن کر حاصل ہوتا ہے۔ نیاز صاحب کی ابتدائی تعلیم اسی انداز پر ہوئی تھی جو قدیم مسلمان شرفاء کا دستور تھا۔ یعنی عربی، فارسی کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم بھی انہیں ملی۔گھر کا ماحول بھی مذہبی تھا اور غالباً اسی کا اثر تھا کہ جوان ہونے پر نیاز صاحب کے چہرے پر ایڈورڈ فیشن کی ڈاڑھی تھی اسی ڈاڑھی کی وجہ سے وہ ’’مولانا‘‘ کہلائے۔ آگے چل کر جب ڈاڑھی غائب ہو گئی تو ’’علامہ‘‘ کہلانے لگے۔
نیاز صاحب نے سکول میں انگریزی بھی پڑھی تھی مگر حالات کچھ ایسے تھے کہ کالج کی تعلیم حاصل نہ کر سکے اور سب انسپکٹر پولیس ہو گئے مگر ملازمت کی قید و بند انہیں گوارا نہ ہوئی اور نوکری چھوڑ چھاڑ ہمیشہ کے لیے ادب کے ہو رہے۔
١٩١٣ء میں آگرہ سے شاہ دلگیر نے ماہنامہ ’’نقاد‘‘ جاری کیا۔ اس کے مخصوص لکھنے والوں میں مہدی افادی اور نیاز فتح پوری تھے۔ خود شاہ دلگیر اچھے شاعر اور بہت اچھے نثر نگار تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ایک اچھا فقرہ لکھنے کے لیے ہمارے بعض اہل قلم کئی کئی دن الفاظ کی تلاش میں گزار دیتے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا کہ نیاز صاحب ٹیگور سے متاثر ہونے شروع ہوئے اور ’’گیتا نجلی‘‘ کا ترجمہ انہوں نے ’’عرضِ نغمہ‘‘ کے نام سے کیا۔ یہی ترجمہ ہمارے ان شاعرانہ ادب پاروں کی بنیاد ہے جنہیں ’’ادبِ لطیف‘‘ کا نام دیا گیا۔ نیاز صاحب آسکر وائلڈ سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ بالخصوص اس کی نثری نظموں سے۔ نیاز صاحب کی البیلی نثر کا تتبع تو بھلا کون کر سکتا تھا۔ ہاں نقالی میں ایک جم غفیر نے لکھنا شروع کر دیا۔
ہر بو الہوس نے حسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوہ ٔاہل نظر گئی
وہ مٹی پلید کی ان نقالوں نے ادبِ لطیف کی کہ لوگ اس کے نام سے گھن کھانے لگے۔ نقاد چند سال چل کر بند ہو گیا مگر اپنی ایک روایت چھوڑ گیا۔
خوش در خشید ولے شعلہ مستعجل بود
نقاد کے کچھ عرصہ بعد لکھنے والوں کا ایک حلقہ ’’یاران نجد‘‘ کے نام سے قائم ہوا۔ اس میں من جملہ دیگر اہل قلم حضرات نے نیاز فتح پوری ، دلگیر اکبر آبادی، خلیقی دہلوی، مخمور اکبر آبادی اورل۔ احمد (یعنی لطیف الدین احمد) جیسے جلیل القدر ادیب شامل تھے۔
’’یاران نجد‘‘ ہی کی تحریک پر آگرے سے ماہنامہ ’’نگار‘‘ جاری ہوا جس کے رئیس التحریر نیاز فتح پوری مقرر ہوئے۔ اس بات کو ٤٤۔ ٤٥ سال ہو گئے۔ نیاز صاحب کے قلم کا شباب اور ل۔ احمد کی نگارش لطیف کے جوہر بھی نگار میں کھلنے لگے۔ نگار کے علمی اور ادبی مضامین نے سارے ملک میں دھوم مچا دی۔
نیاز صاحب مولانا ابوالکلام آزاد کے ساتھ بھی کام کر چکے تھے اور مولانا کے طرزِ تحریر سے بھی متاثر ہوئے تھے مگر مولانا کی ادق بلاغت کو سہل الفہم بنا کر نیاز صاحب نے اپنے اسلوب میں ڈھال لیا تھا۔ بات کہنے کا انداز نیاز صاحب کا سب سے جداگانہ تھا۔ پڑھنے والے ان کی نگارشات پڑھنے کے لیے بے قرار رہتے تھے۔ ان کے انداز بیان پر بڑوں نے ہاتھ ڈالا مگر اس کی سادہ پرکاری کسی کے ہاتھ نہ آئی۔ نیاز صاحب اپنے اسلوب تحریر کے خود ہی مخترع بھی تھے اور خود ہی خاتم بھی ۔
نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
نیاز صاحب نے زمانہ شباب ہی میں اپنا ناول ’’شہاب کی سرگزشت‘‘ لکھا تھا۔ جوانوں کے لیے یہ ناول حرز جاں بن گیا تھا۔ دراصل یہ ناول اتنا زیادہ ناول نہیں ہے جتنا کہ ایک ادبی شہ پارہ۔ اس کے فقرے کے فقرے لوگوں کو ازبر تھے۔ نیاز صاحب کے ایک غائبانہ عاشق شہاب کی سرگزشت سنانے بیٹھے تو پوری رات سنا کر ہی اُٹھے۔
’’نگار‘‘ اور نیاز کا یہی زمانۂ عروج تھا کہ نیاز صاحب نے ادبیات سے توجہ کم کرکے مذہبیات سے التفات بڑھانا شروع کر دیا۔ ڈاڑھی ان کے چہرے سے معدوم ہو گئی۔ غالباً یہ ان کا تشکیک کا دور تھا۔ معقولات کی حد سے گزر کر نیاز صاحب نے مضحکہ خیزی کو اپنا شعار بنا لیا۔ اس کے خطرناک نتائج نکلنے ہی تھے۔ ان پر مولویوں کی یلغار ہوئی۔ کفر کے فتوے لگائے گئے اور ان کا ایسا ناطقہ بند کیا کہ ان سے معافی نامہ شائع کرایا گیا۔ ایک دور وہ تھا اور ایک دور لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ نیاز صاحب نہایت پابندی اوقات سے نماز پڑھ رہے ہیں۔
نیاز صاحب کی وفات کی خبر سن کر اتنے بے شمار واقعات یاد آرہے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس کس کو بیان کروں۔ نیاز صاحب ایک جوہرِ قابل تھے۔ انہوں نے بڑی محنت سے اپنی زندگی بنائی تھی اور اپنا وقار قائم کیا تھا۔ وہ شاعر تھے، ان شاء پرداز تھے، صاحب ِ طرز ادیب تھے، نقاد تھے، صحافی تھے، عالم تھے، فاضل تھے اور سب سے بڑھ کر ایک عظیم انسان تھے۔
نیاز صاحب بہت خاموش طبیعت کے آدمی تھے۔ کسی قدر لیے دیے بھی رہتے تھے۔ پہلی ملاقات میں لوگوں کو ان کا بہت غلط اندازہ ہوتا تھا۔ عام طور سے لوگ انہیں مغرور اور مدمغ سمجھتے تھے۔ بعض نوجوان ان کی کتابیں پڑھ کر بڑی عقیدت سے ان سے ملنے جاتے تھے۔ نیاز صاحب ایک مصروف آدمی تھے۔ انہیں ہر وقت پڑھنے لکھنے سے کام رہتا تھا۔ پھر اپنی تعریف سن کر انہیں وحشت ہوتی تھی۔ ملاقاتی صاحب السلام علیکم رسید کرکے مصافحہ کے لیے دونوں ہاتھ بڑھا دیتے۔ نیاز صاحب ہاتھ سے قلم رکھتے، نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھتے اور سخت اکراہ کے ساتھ ہاتھ بڑھاتے۔ وہ صاحب اپنے دونوں ہاتھوں سے بڑی گرمجوشی کے ساتھ ان کے نرم و نازک ہاتھ کو ملتے دلتے اور اس عمل سے فراغت پا کر اپنے دونوں ہاتھ سینےپر مل کر سامنے کرسی پر ڈٹ جاتے۔
’’بڑا اشتیاق تھا آپ سے ملنے کا۔‘‘
نیاز صاحب کہتے ’’جی‘‘ .....اور اپنے کاغذات سنبھالنے لگتے۔ وہ فرماتے ’’آج یہ حسرت پوری ہو گئی‘‘۔
نیاز صاحب کہتے ’’جی‘‘ .....اور اِدھر اُدھر کچھ تلاش کرنے لگتے۔ وہ فرماتے ’’لکھنؤ ایک کام سے آیا تھا، میں نے کہا آپ سے بھی نیاز حاصل کرتا چلوں‘‘۔
نیاز صاحب کہتے ’’جی‘‘ ..... اور اُٹھ کر الماری کی طرف جاتے۔
وہ فرماتے ’’آپ بہت مصروف آدمی ہیں، مجھے اجازت ہے۔‘‘
’’نیاز صاحب کہتے ’’جی‘‘۔
وہ صاحب سلام داغ کر رخصت ہوجاتے اور دل میں کہتے کہ ’’بڑا مغرور آدمی ہے، لاحول ولا قوۃ!‘‘
مگر جن سے نیاز صاحب کی دل کی جواری کھل جاتی ، وہ جانتے ہیں کہ کس قدر خوش اخلاق اور خوش گفتار تھے۔ جب ان کی جان پر بنی ہوتی تھی اس وقت بھی وہ بعض پرانے ملنے والوں کی خاطر پلنگ پر سے اٹھ کر باہر آجاتے تھے۔ بیمار پرسی کرنے والا خود شرمندہ ہوتا ہے کہ اس حالت میں انہیں کیوں تکلیف دی۔ خود شرمندہ ہوتا ہے کہ اس حالت میں انہیں کیوں تکلیف دی۔ خود ہی کہہ دیتا کہ آپ آرام کیجیے۔
نیاز صاحب پرانے عالموں کا آخری نمونہ تھے۔ وہ ہر علم میں تیرے ہوئے تھے۔ معلومات کی Encyclopedia ۔ ساری عمر علم و ادب کی خدمت کی اور فارغ البالی کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ سنا ہے کہ علم و دولت کبھی یک جا نہیں ہوتے۔ نیاز صاحب دولت دنیا سے محروم مگر دولت علم سے مالا مال تھے۔ دولت کا کیا ہے؟ آج ہے کل نہیں، عشق کی طرح علم کی دولت بھی لازوال ہوتی ہے۔ نیاز صاحب کے علمی کارنامے رہتی دنیا تک زندہ و تابندہ رہیں گے ۔
ہرگز نہ میرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما
(١٩٦٦ء)