شاہد احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی

مولوی عبدالحق

    مولوی عبدالحق

     

    دامان دِلّی میں ایک قصبہ ہے ہاپڑ۔ اس کی دو چیزیں مشہور ہیں، پاپڑ اور مولوی عبدالحق ...... پاپڑ ہر شہر میں بنتے ہیں مگر جو مزہ ہاپڑ کے پاپڑ میں تھا کسی اور جگہ کے پاپڑ میں نہیں تھا۔ عبدالحق بھی بے شمار پیدا ہوئے مگر مولوی عبدالحق کا جواب آج تک نہ ہوسکا

    اگر چہ شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی

    مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی

     میرے والد کے پاس اُردو کے اکثر رسالے آتے تھے، انہیں میں ایک رسالہ ’’اُردو‘‘ بھی تھا جس کے ایڈیٹر عبدالحق تھے۔ میں اس زمانے میں سکول میں پڑھتا تھا۔ فارسی اور اُردوابا مجھے خود پڑھاتے تھے۔ اس لیے عمر کے لحاظ سے اُردو کی زیادہ ہی چیٹک مجھے ہوگئی تھی ۔ میں کالج کی ابتدائی جماعتوں میں تھا کہ اسی رسالہ اُردو میں ’’ڈپٹی نذیراحمد کی کہانی، کچھ ان کی کچھ میری زبانی‘‘ کے عنوان سے مرزا فرحت اللہ بیگ کا مضمون چھپا۔ میری چڑھتی جوانی تھی اور مزاج کی افراد بھی جذباتی تھی۔ وہ محبت اور خلوص تو دکھائی نہیں دیا جو اس مضمون کے لفظ لفظ سے ٹپکتا تھا۔ ہاں وہ ایک ایک بات نشتر بن کر دل میں چبھ گئی جس سے مولوی نذیر احمد کی سبکی ہوتی تھی۔ چھٹیوں میں جب میں دِلّی گیا تو ابا پر فالج کا حملہ ہو چکا تھا اور وہ لکھنے پڑھنے سے معذور ہو چکے تھے۔ میں نے اپنے بڑے بھائی منذر احمد سے اس مضمون کا ذکر کیا۔ وہ اس وقت قانون پڑھ رہے تھے۔ میں نے کہا: ” بھائی ، اس مرزا اور مولوی پر اہانت کا مقدمہ دائر کر دو‘‘ بھائی سنجیدہ اور بردبار آدمی ہیں ...... بولے: ” تم نے شاید اس مضمون کو رواروی میں پڑھا ہے ، جزوی طور پر   بعض باتیں اس میں یقیناً قابل اعتراض ہیں مگر پورے مضمون کے تاثر میں ان کی شدت باقی نہیں رہتی ۔ دادا ابا کے بارے میں جو باتیں   نے لکھی ہیں، بہت کچھ صحیح ہیں۔   البتہ زیب داستان کے لیے کہیں کہیں مبالغے سے بھی کام لیا ہے ۔ تم اس مضمون کو دوبارہ ٹھنڈے دل سے پڑھو اور اس نظر سے پڑھو کہ یہ  تمہارے دادا کی کہانی نہیں ہے، ڈپٹی نذیراحمد کی کہانی ہے‘‘ ۔ میں نے اس مضمون کو پھر پڑھا۔ واقع میں اتنا نا گوار نہیں گزرا اورپھر کچھ عرصے بعد پڑھا تو مرزا فرحت اللہ بیگ سے غائبانہ انس ہو گیا اور جب میں نےجنوری ۱۹۳۰ ء میں’’ ساقی‘‘ جاری کیا تو مرزا صاحب سے خط و کتابت بھی شروع ہوگئی اور وہ ’’ساقی‘‘ کے لیے مضامین بھی بھیجنے لگے۔ یوں فرحت اللہ بیگ کے سلسلے میں مولوی عبدالحق صاحب کو میں نے پہلی بار جانا پہچانا ۔

      ۱۹۳۰ ء کے بعد میں کئی دفعہ حیدر آباد گیا مگر مولوی صاحب سے شرف ملاقات حاصل نہ کر سکا ۔ مولوی صاحب اورنگ آباد میں رہتے تھے اور انجمن کا دفتر بھی وہیں تھا۔ایک بات پر مجھے بڑاا چنبھا  ہوتا تھا کہ غیر ملکی (غیر حیدر آبادی ) ہوتے ہوئے بھی مولوی عبدالحق اتنی طویل مدت تک حیدر آباد میں کیسے جمے رہے؟ ان کے پیش رومحسن الملک، وقارالملک ،مولوی نذیر احمد اور مولوی صاحب کے ہم عصر مولوی ظفر علی خاں اور مولانا عبدالماجد دریا بادی اور خبرنہیں کون کون اس ریاست میں اپنے قدم نہیں جما سکے اور کتنے ہی بڑے آدمیوں کو خارج البلد کیا گیا ۔ مگر مولوی صاحب تھے کہ ڈٹے ہوئے  تھے، اور ترقی کرتے جارہے تھے ۔ معلوم ہوا کہ مولوی صاحب نے اپنی مدافعت میں وہی ہتھیار استعمال کیے ہیں جو ملکی لوگ حملہ کرنے میں استعمال کرتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت سے حیدر آباد کے تمام بڑے لوگوں کو اپنی مٹھی میں کر لیا تھا اور وزیراعظم حیدری کے تو ناک کے بال بن گئے تھے مگر مولوی صاحب صرف اپنا بچاؤ ہی نہیں کرتےرہے، انہوں نے ریاست کے بڑے بڑے کام کیے۔ انجمن ترقی اُردو کو اتنا فروغ دیا کہ انجمن سارے ہندوستان کے لیے اُردو کا مرکز بن گئی ۔ عثمانیہ یونیورٹی کا منصوبہ مولوی صاحب ہی نے بنایا تھا۔ جب یہ اُردو یونیورسٹی بنی تو اس کے لیے دارالترجمہ قائم کیا جس میں اعلیٰ قابلیت کے مترجم جمع کیے۔ اس دارالترجمہ نے تمام علوم وفنون کو اُردو میں منتقل کر دیا۔ اور یہ مولوی صاحب ہی کا کارنامہ ہے کہ انہوں نے دنیا کو دکھایا کہ اُردو بھی کامیاب ذریعہ تعلیم بن سکتی ہے۔ دارالترجمہ کے پہلے ناظم مولوی صاحب ہی تھے۔ جب ان کی دوسری مصروفیات بڑھیں تو منشی ذکاء اللہ دہلوی کے صاحب زادے مولوی عنایت اللہ دہلوی کو مولوی صاحب نے اپنا جانشین مقرر کیا۔ مولوی صاحب کی طرح یہ صاحب بھی علی گڑھ کے ابتدائی گریجویٹ تھے۔ مولوی صاحب کی طرح انہوں نے بھی سرسید کی آنکھیں دیکھی تھیں اور کاموں میں ان کا ہاتھ بٹایا تھا۔ ترجمہ بہت عمدہ کرتے۔ تھے۔ اتنا عمدہ کہ ایک خط میں سرسید نے منشی ذکاء الله کو لکھا کہ’’ تمہارا لڑکا تم سے اچھا ترجمہ کرتا ہے‘‘۔

     مولوی عبدالحق صاحب نے شادی ساری عمر نہیں کیا۔ یہ بھی سنا تھا کہ ایک دفعہ گھر والوں نے گونتھ گانتھ  کر کے ان کی شادی کر دی تھی تو مولوی صاحب نے حیدرآباد واپس پہنچ کر طلاق نامہ بھیج دیا تھا۔ اصل میں ان کی شادی تو اُردو سے ہو چکی تھی اور اُردو سے انہیں  اتنی محبت تھی کہ وہ اس پر سوکن لا نانہیں چاہتے تھے۔ ساری عمر اُردوہی کی خدمت میں گزار دی ۔ اگر وہ بیوی بچوں کے بکھیڑوں میں الجھ جاتے تو آج اُردو کو وہ مقام حاصل نہ ہوتا جو اسے حاصل ہے۔ اُردو سے ان کے شد یدعشق کا اظہار اس وقت ہوا جب گاندھی جی نے ہندوستانی کا اشقلہ چھوڑا۔ جب گاندھی جی سے مولوی صاحب نے ہندوستانی کی وضاحت چاہی تو انہوں نے کہا: ’’ہندی اتھوا ہندوستانی‘‘ یعنی  وہ ہندی جو آگے چل کر ہندوستانی بن جائے گی ۔ مولوی صاحب نے گاندھی جی کو بتایا کہ ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جو زبان بولی اور سمجھی  جاتی ہے، وہ اُردو ہے،اور یہی زبان ہندوستانی ہے۔ مگر گاندھی جی ہندی سا ہتھیاسمیلن کے بھرّے   میں آئے ہوئے تھے۔ بولے:” اُردو مسلمانوں کی زبان ہے، قرآن کے حروف میں لکھی جاتی   ہے۔ مسلمان چاہیں تو اسے بڑھائیں اور زندہ رکھیں‘‘ ہندوستان کے سب سے بڑے لیڈر کی زبان سے جب ہٹ دھرمی کی یہ باتیں مولوی صاحب نے سنیں تو مولوی صاحب کو بھی حرارہ آ گیا ۔ گاندھی جی کو خوب آڑے ہاتھوں لینے کے بعد بتایا کہ اُردو نہ تو مسلمانوں کی زبان ہے اور نہ قرآن کے حروف میں لکھی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی زبانیں تو عربی اور فارسی ہیں ۔ قرآن خط نسخ میں لکھا جاتا ہے، اُردو نستعلیق میں۔ مگر گاندھی جی بھی ڈھٹائی سے اپنی بات پر جمے رہے اور ہندی اتھوا ہندوستانی کی رٹ لگاتے رہے۔ مولوی صاحب نے اورنگ آباد پہنچ کر ایک طویل بیان شائع کر کے تمام اخباروں اور رسالوں کو بھیج  دیا۔ اس بیان نے سارے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا۔ بات تھی سچی بہت سے ہندوؤں نے بھی ساتھ دیا اور گاندھی جی کی تھڑی تھڑی ہونے گی۔ مگر بڑے آدمیوں کا کچھ نہیں بگڑتا اور گاندھی جی کو تو ان کی قوم نے مہاتما بنا رکھا تھا، پھر لالوں کے لال ہو گئے ۔ دھوبی بیٹا چاند سا، سیٹی پٹاخ۔

    جب گاندھی جی اُردو کی جان کے لاگو ہو گئے اور ہندوستانی کی آڑ میں ہندی کو ہندوستان کی قومی زبان بنانے پر تل گئے تو مولوی صاحب نے انجمن کا صدر دفتر اورنگ آباد سے دِلّی منتقل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ مولوی صاحب دِلّی آئے اور دریا گنج  میں ڈاکٹر انصاری کی کوٹھی کرایہ پر لے لی۔ اس وقت دریا گنج   میں سب سے بڑی کوٹھی ڈاکٹر انصاری ہی کی تھی۔ یہ بڑی تاریخی کوٹھی تھی۔ جب تک ڈاکٹر انصاری زندہ رہے اس کوٹھی میں کانگریس کے تمام بڑے لیڈر جمع ہو کر مشورے کرتے رہے۔ اس کوٹھی کو مولوی صاحب نے اُردو کا گڑھ بنایا اور انجمن کا دفتر اس میں منتقل کردیا۔ دِلّی والوں نے مولوی صاحب کا شان دار استقبال کیا اور ایک جلوس کی شکل میں انہیں سٹیشن سے کوٹھی تک لائے ۔ یہ جگہ بھی انجمن کے دفتر کے لیے عارضی تھی۔ مولوی صاحب نے نئی دہلی میں ایک پرسکون مقام پر بہت وسیع زمین کے لیے درخواست دے دی تھی ۔ بعد میں یہ زمین انہیں مل گئی تھی ۔ اس پر انجمن کی ایک شان دار عمارت بنوانے کا ارادہ تھا مگر انجمن کے پاس اتنا رو پیہ   نہیں تھا کہ عمارت بنوالیتی۔مولوی صاحب نے اس کے لیے چندہ جمع کرنا شروع کر دیا تھامگر یہ منصو بہ پورا نہ ہو سکا اور ۱۹۴۷ ء کی غارت گری شروع ہوگئی ۔

     یہ منصوبہ یوں اور بھی پورا نہ ہو سکا کہ سر اکبر حیدری جب تک حیدر آباد کے وزیراعظم رہے انجمن کو ریاست کی طرف سے سالانہ امدادملتی رہی۔ سرا کبر حیدری کے بعد نواب چھتاری وزیر اعظم بنے ۔ ان کے عہد میں بھی ریاستی امداد بے چون و چرا جاری رہی مگر جب سر مرزا اسماعیل بر سر ِاقتدار آئے تو انہوں نے انجمن کی امدادروک دی ۔ یہ صاحب تھے تو مسلمان مگر انگریزوں اور ہندوؤں کے پٹھے تھے ۔ پھر مولوی صاحب کے دِلّی منتقل ہوتے ہی دکن کے چند مقامی بااثر لوگوں نے انجمن کے خلاف تحریک شروع کر دی تھی اور اپنی ایک ڈیڑھ اینٹ کی انجمن بنا کر ملکی اور غیر ملکی آگ کو بھڑ کا نا شروع کر دیا تھا۔ سر مرزا نے مخالف گروہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بھی انجمن کی امداد بند کر دی تھی۔ مولوی صاحب آسانی سے شکست مان لینے والے آدمی نہیں تھے ۔ انہوں نے فوراً ایک کانفرنس بلائی اور سرمرزا کی اس حرکت کو متفقہ طور پر غلط قرار دیا گیا۔اس کے ایک اجلاس میں میَں بھی شریک ہوا تھا اور مولوی صاحب نے اسی اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ ” میں اپنا کل اثاثہ انجمن کی نذر کرتا ہوں ‘‘۔ اس وقت معلوم ہوا تھا کہ یہ اثاثہ  پانچ لاکھ کا تھا۔

    مولوی صاحب نے ایک کل ہند کانفرنس علی گڑھ میں بھی کی تھی جس میں سر راس مسعود بھی شریک ہوئے تھے ۔ میں نے راس مسعود کو پہلی اور آخری بار اسی کانفرنس میں دیکھا تھا۔ بڑے قد آور دیو ہیکل آدمی تھے مگر بھدے بھونڈے نہیں لگتے تھے ۔ ذہانت ان کے چہرے سے ٹپکتی تھی اور وجاہت ان کی پیشوائی کرتی تھی ۔ ایک اجلاس ختم ہوا تو مولوی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے ہال میں سے باہر آئے۔ مولوی صاحب میانہ قد کے آدمی تھے مگر راس مسعود کے پہلو میں بونے نظر آرہے تھے ۔مولوی صاحب   ان سے اس طرح باتیں کر رہے تھے جیسے کوئی اپنے سے بہت چھوٹے سے باتیں کرتا ہے۔ یہی مولوی صاحب تو تھے جنہوں نے دیکھا تھا کہ سرسید اپنے پوتے راس مسعود کو بہلا کر سلانے کے لیے لوری دے رہے تھے اور اس منظر کو دیکھ کر ہنستے ہوئے باہر بھاگ گئے تھے۔

    اُردو، ہندی اور ہندوستانی کی بحث کسی طرح طے نہ ہوسکی اور ہوتی بھی کیسے؟ گاندھی جی جیسے مہاتما دھرم نگل کر کہنے لگے تھے کہ میں جو زبان بولتا ہوں ، وہی ہندوستانی ہے ۔مولوی صاحب نے ان کے جواب میں کہنا شروع کر دیا تھا کہ میں جو زبان بولتا ہوں یہی ہندوستانی ہے ۔ رہی ہندی ، تو ہندی کے اتنے الفاظ نہیں ہیں جتنے کہ اردو میں ۔ آخر یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ ہندوستانی اس زبان کو موسوم کیا جائے جو عام طور پر بولی جاتی ہے اور جو دیو نا گری اور اُردو رسم الخط ، دونوں میں لکھی جائے ۔ لطف کی بات یہ تھی کہ پنڈت جواہر لال نہرو جب تقریر کرتے تھے تو فصیح و بلیغ اُردو میں ، اور ا چانک  جب انہیں خیال آ جا تا تھا تو ایک آدھ لفظ ہندی کا بھی بول جاتے تھے۔آل انڈیا ریڈیو پر جب تقریر نشر کرتے تھے تو ان کا مسودہ اُردو میں لکھا ہوا ہوتا تھا۔ رہے گاندھی جی ، تو انہیں نہ تو ہندی آتی تھی اور نہ اُردو ۔ایک دفعہ’’تیج‘‘ اخبار کے ایڈیٹر نے ان سے اپنے اخبار کی کسی خاص اشاعت کے لیے مضمون مانگا تو گاندھی جی نے اُردو میں انہیں خط لکھا: ” بھائی دیش بندھو، جانو کہ میں سوکھ گیا ہوں‘‘ اس خط کاعکس اخبار میں شائع کیا گیا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ روشنائی میں سے مکوڑا نکال کر کسی نے کاغذ پر پھینک دیا ہے۔

    گاندھی جی سے ٹکر لینے کے بعد مولوی صاحب اُردو کے قائد اعظم بن گئے تھے اور بابائے اُردو کہلانے لگے تھے ۔ یہ صرف مولوی صاحب ہی تھے جو اُردو کے لیے لڑتے پھرتے تھے اور اُردو کے پروپیگنڈے کے لیے کسی سے ایک پیسہ  طلب نہیں کرتے تھے ۔ ان کے پیر طریقت سرسید احمد خاں سارے ملک میں گھوم پھر کر چندے اگا یا کرتے تھےمگر مولوی صاحب کہا کرتے تھے کہ کسی سے چندہ مانگتے مجھے شرم آتی ہے۔ یہ کام میرے بس کا نہیں ہے۔ چناں چہ سارے اخراجات مولوی صاحب اپنی پنشن سے پورے کرتے تھے۔

    مولوی صاحب خاصے کھرے آدمی تھے۔ وہ کسی سے ملنے جلنے کے قائل نہیں تھے۔ جب وہ دِلّی آ کر رہ پڑے تو انہوں نے کسی سے خود جا کر ملنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اگر کوئی شخص غائبانہ عقیدت کے باعث ان سے ملنے چلا جاتا تو خوش واپس نہ آتا۔ اول تو مولوی صاحب تک اس کی رسائی نہ ہوتی اور باہر ہی باہر یہ کہہ کر اسے ٹال دیا جاتا کہ مولوی صاحب کچھ ضروری کام کر رہے ہیں۔ اس وقت نہیں مل سکتے ۔ یا عقیدت مند شخص اس پایہ  کا ہوتا کہ اسے ٹالا نہ جا سکتا ہو تو مولوی صاحب اس سے مجبوراً مل لیتے مگراس رکھائی سے کہ اپنی طرف سے کوئی بات نہ کرتے۔ لہٰذا ملاقات دو چار ہی منٹ میں ختم ہوجاتی ۔ اگر اسے کوئی معاملے کی بات کرنی ہوتی تو اسے کیفی صاحب اور ہاشمی فرید آبادی صاحب کے پاس بھیج  کر اپنا پیچھا چھڑا لیتے ۔ اس عادت کی وجہ سے مولوی صاحب بدمزاج اورمغرور سمجھے جانے لگے تھے۔ مولوی صاحب کا می آدمی تھے، ملنے جلنےسے ان کے کام میں حرج ہوتا تھا۔ اگر وہ رکاوٹ نہ ڈالتے تو ملنے جلنے ہی کے ہو کر رہ جاتے۔ مولوی صاحب دِلّی آکر خاصے پرانے ہو گئے تھے مگر میں ان سے ملنے نہیں گیا۔ کچھ اس وجہ سے بھی کہ میں ان کے کُھرّے پن کی کہانیاں سن چکا تھا۔ اسی اثنا میں ایک دن مولوی صاحب کا پیغام پہنچا کہ رات کا کھانا میرے ساتھ کھایئے۔ جو صاحب یہ پیغام لائے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ ’’آج کیا جاتی دنیا مولوی صاحب نے دیکھی کہ یاد فر مایا ؟‘‘ انہوں نے ہنس کر بتایا کہ ’’مسٹر فضل احمد کریم فضلی آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مولوی صاحب سے کہا کہ شاہد صاحب سے ملنا چاہتا ہوں، انہیں بلوائیے‘‘۔ فضلی  صاحب سے میرا ربط قائم ہو چکا تھا اور وہ ’’ساقی‘‘ کے لیے کچھ نہ کچھ بھیجتے رہتےتھے۔ میں نے کہا: ’’میں ضرور آؤں گا‘‘ وقت مقررہ پر میں ا نجمن کے دفتر پہنچا۔ صحن میں کرسیاں دائرے کی شکل میں لگی ہوئی تھیں ۔ پندرہ سولہ حضرات بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں پہنچا تو کسی نے پذیرائی نہیں کی ۔ میں خاموشی سے کیفی صاحب کے پاس ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔ کیفی صاحب سے میری یاداللہ تھی ،ان سے گاہے گاہے بات کرتا رہا۔ سامنے مولوی صاحب اور فضلی صاحب بیٹھے ہوئے تھے ۔ مگر ان دونوں میں سے ایک بھی مجھے نہیں پہچانتا تھا ۔ میں نے فضلی صاحب کو یوں پہچان لیا کہ ان کی تصویر دیکھ چکا تھا۔ قاعدہ ہے کہ میزبان اپنے مہمانوں کا خیر مقدم کرتا ہے اور ہر مہمان کا تعارف بھی کرا تا ہے مگر یہاں یہ کچھ نہیں تھا۔ طبیعت کو یہ کس مپرسی بہت اکھری ۔ تقر یباً ایک گھنٹے تک باتیں ہوتی ر ہیں اور فضلی صاحب کا کلام سنایا گیا۔ اس کے بعد اطلاع آئی کہ کھانا لگ گیا ہے۔ مولوی صاحب کھڑے ہو گئے اور بولے:’’چلیے کھانا تیار ہے‘‘۔ مہمان اٹھ کھڑے ہوئے اور کمرے کی طرف چلنے لگے۔ میں نے باہر کا رُخ کیا اور مولوی صاحب کی نظر بچا کر کھسکنے کا ارادہ کیا۔ ادھر کیفی صاحب کھٹکے اور ادھر مولوی صاحب نے بھی تاڑ لیا۔ کیفی صاحب نے پوچھا:’’ادھر آپ کہاں جارہے ہیں؟ ادھر چلیے‘‘ میں نے کہا:’’ جب مولوی صاحب مجھے جانتے ہی نہیں تو مجھے بلانا کیا ضرور تھا‘‘ اتنے ہی میں مولوی صاحب بھی آ پہنچے۔ کیفی صاحب نے کہا: ’’یہ شاہد احمد صاحب ہیں ، ڈپٹی نذیراحمد کے پوتے‘‘ مولوی صاحب نے مسکرا کر میری کمر میں ہاتھ ڈال دیا اور بولے:’’ آیئے‘‘ اور اسی طرح مجھے کمرے میں لے جا کر فضلی صاحب کے سامنے کھڑا کر دیا اور بولے: ” لیجیے، یہ ہیں آپ کے شاہد صاحب ‘‘فضلی صاحب بڑی گرم جوشی سے گلے ملے اور بولے:’’ آپ تو کافی دیر کے آئے ہوئے ہیں‘‘۔ میں نے کہا :’’ جی ہاں ،مگر آپ تک رسائی حاصل نہ کر سکا‘‘۔ بات آئی گئی ہوگئی اور سب نے ہنسی خوشی کھانا کھایا۔ فضلی صاحب نے میرے گھر کا پتہ پوچھا اور وہ ایک دن بعد مجھ سے ملنے تشریف لائے اور مجھے اپنا اور بھی گرویدہ کر گئے ۔ مولوی صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات تھی، مگر نہ انہوں نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے ان سے ۔اس کے بعد بھی بیسیوں دفعہ ان سے آمنا سامنا ہوا مگر جم کر گفتگوان سے کبھی نہیں ہوئی۔ میرا نام تک ان کو یادنہیں رہتا تھا۔ کسی سے پوچھ لیا کرتے تھے کہ ڈپٹی نذیراحمد کا پوتا آیا ہے یا نہیں ۔

     مولوی صاحب بڑے نفیس مزاج آدمی تھے، عمدہ اور قیتی کپڑا پہنتے تھے۔ شیروانی ، ترکی ٹوپی اور ایک برا پاجامہ ۔ ساری عمران کا یہی لباس رہا۔ سوٹ پہنے ہوئے نہ تو کبھی نہیں دیکھا اور نہ کوئی تصویر ہی ایسی دیکھی جس میں سوٹ پہنے ہوں ۔ کھانا اچھا کھاتے تھے اور ایک ہی وقت میں کئی قسم کا ہوتا تھا۔ پھل بھی ضرور ہوتے تھے ان کے مقربین میں سے ایک صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ بمبئی میں کسی رئیس نے مولوی صاحب کی دعوت کی ۔میزبان کو معلوم تھا کہ مولوی صاحب کھانے کے بعد موسم کا پھل ضرور کھاتے ہیں۔ لہٰذا کھا ناختم ہو جانے کے بعد میزبان نے آواز لگائی ” فروٹ لاؤ‘‘ تو ملازمین نے ڈشوں میں گنڈیریاں لا کر رکھ دیں۔ مولوی صاحب متبسم ہوئے مگر اپنے میزبان کا دل رکھنے کے لیے ایک آدھ گنڈیری لے لی۔ وہاں سے رخصت ہونے کے بعد مولوی صاحب اپنے ساتھیوں سے پوچھتے رہے اور ہنستے رہے کہ ’’کہو تم نے کتنے فٹ پھل کھایا؟ اور تم نے کے گز پھل نوش جاں فرمایا ؟‘‘ ۔

     مولوی صاحب کھانے کے وقت کے تمام آداب کا خیال رکھتے تھے۔ لقمہ بہت بڑا نہ ہو، کھانے میں چپڑ چپڑ کی آواز نہ ہو، سنے ہوئے  ہاتھ سے پانی نہ پیتے ، زیادہ عجلت سے نہ کھاتے ، زور سے ڈکار نہ لیتے وغیرہ۔ ایک بھلے آدمی کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے لگے ۔مولوی صاحب نے استکراہ کے ساتھ ان کی طرف دیکھا اور جب وہ اپنی انگلیاں چاٹ چکے تو اپنا ہاتھ بھی ان کی طرف بڑھا دیا۔ بولے:’’بسم اللہ‘‘ اس پر سب ہنس پڑے اور اس غریب پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ ایک اور صاحب تھے جنہیں مولوی صاحب نے چائے پر بلایا تھا ۔ چائے آئی تو اس کے ساتھ کچھ فینسی بسکٹ بھی تھے ۔ ان صاحب نے چائے میں بسکٹ ڈبو ڈبو کر کھانا شروع کیا۔مولوی صاحب ایک دم سے لاحول پڑھ کر کھڑے ہو گئے ۔ مہمان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ مولوی صاحب نے ناراضگی سے کہا۔’’لندن میں تین سال تک تم جھک مارتے رہے، یہ بسکٹ چائے میں ڈبو کر کھانے کے ہیں؟‘‘ یہ کہہ کر الگ جا بیٹھے اور چائے کو پھر ہاتھ نہ لگایا ، مجھے جب بھی مولوی صاحب کے عصرانوں میں شریک ہونے کا موقع ملاتو میں ان سے دور بیٹھتا تھا اور ہمیشہ مجھے یہ دونوں واقعات یاد آ جاتے تھے۔

    حیدرآباد میں مولوی صاحب بہت بڑی کوٹھی میں اکیلے رہتے تھے، صرف ایک آدمی ان کے ساتھ بطور میر ِانتظام رہتا تھا۔ اتنی بڑی ڈھنڈار کوٹھی میں مولوی صاحب اکیلے ہی رہتے تھے ۔ مگر کھانا عموماً ا کیلے نہیں کھاتے تھے ۔ دو چار دوست شام کی چائے  اور رات کے کھانے پر ضرور بلائے  جاتے تھے اور یہ وہ لوگ ہوتے تھے جن سے مولوی   صاحب کھل کر باتیں اور مذاق کر سکتے تھے۔ یوں تو مولوی صاحب بہت لیے دیے رہتے   تھے ۔ کم بولتے تھے اور کوئی بات ہنستے بولے تھے ۔ پطرس نے ایک دفعہ بتایا کہ مولوی صاحب جب کھل جاتے تو غضب کے زندہ دل ہو جاتے تھے اور ’’پھکڑ لڑنے میں تو مولوی صاحب کا جواب ہی نہیں ہے‘‘ کہاں تک گھٹے گھٹے رہتے؟ وہ بھی تو آخر انسان ہی تھے ۔ سرا کبر حیدری تو مولوی صاحب کو چھیٹر تے تھے اور جب مولوی صاحب انہیں جوتیوں پر دھر لیتے تو خوب ہنستے ۔ دتاتریہ کیفی سے بھی مولوی صاحب کے دیرینہ تعلقات تھے ۔ کیفی صاحب مولوی صاحب سے کوئی آٹھ دس سال بڑے تھے مگر دونوں میں بڑی دوستی اور بے تکلفی تھی۔ جب عثمانیہ یو نیورسٹی میں اُردو کے پروفیسر کی جگہ نکلی تو مولوی صاحب نے کیفی کو اس جگہ پر لانے کی کوشش کی مگر ملکیوں نے اخباروں اور پوسٹروں کے ذریعے قیامت بر پا کر دی اور کیفی صاحب کا تقرر اس جگہ پر نہیں ہوسکا لہٰذا مولوی صاحب جب تک حیدرآباد میں رہے ،اُردو کے پروفیسر بھی رہے۔ جب مولوی صاحب دِلّی آ گئے تو کیفی صاحب ان کے رفیقِ کار ہو گئے اور انجمن کے دفتر ہی میں رہنے لگے۔ مولوی صاحب اکثر دوروں پر رہتے تھے اور کیفی صاحب ہی انجمن کے تمام کاموں کی نگرانی کرتے تھے ۔ مولوی صاحب کے ایک اور پرانے دوست اور رفیق کار ہاشمی فریدآبادی صاحب تھے۔ یہ دونوں حضرات بھی پاکستان بننے کے بعد کراچی چلے آئے تھے اور یہاں  انجمن کا دفتر قائم کر کے کام کرنے لگے تھے مگر ۱۹۴۷ ء کے آشوب میں انجمن بھی دھڑی دھڑی کر کے لُٹی ۔ وہ تو خدا جانے بڑی خیر کی کہ مولوی صاحب اس وقت دِلّی میں نہیں تھے ورنہ وہ ہرگز انجمن کو نہ چھوڑتے اور انجمن کے چوکیدار اور اس کے بیوی بچوں کی طرح مولوی صاحب بھی قتل کردیے جاتے ۔ کیفی صاحب کراچی میں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد دِلّی واپس چلے گئے تھے تا کہ انجمن کو وہاں سنبھال لیں مگر وہاں کیا رکھا تھا؟ لاکھوں روپوں کی کتابیں اور نایاب لائبریری کے پرزے سارے دریا گنج  میں اڑتے پھر رہے تھے۔ بہر حال انجمن ترقی اُردو برائے نام کیفی صاحب کے دم کے ساتھ قائم رہی ۔ کیفی صاحب کی عمر نوے سے اوپر ہو چکی تھی۔ ہاتھ پاؤں جواب دے رہے تھے، بصارت زائل ہورہی تھی، مگر اُردو کے لیے موت کو ٹالتے رہے۔ جب لال قلعہ کے دربار خاص میں جشن عام ہوا تو پنڈت جی کو تخت شاہی پر بٹھایا گیا تو کیفی صاحب نے وہیں اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا اور ناراض ہو کر چلے آئے ۔ زندگی کے باقی دن انہوں نے بڑی تکلیف میں بسر کیے۔ ایک دفعہ انہیں ان کی سالگرہ پرعقیدت مندوں نے ایک بڑی رقم کی تھیلی  پیش کی تو انہوں نے وہ سارارو پیہ  انجمن کو دے دیا۔ پنڈت کیفی نے ۹٦ سال کی عمر پائی اور آخر دم تک اُردو کے لیے لڑتے رہے۔ مولوی صاحب کو چھیڑنے کے لیے کیفی صاحب کہا کرتے تھے:’’ مسلمان کبھی اچھی اُردولکھ ہی نہیں سکتا‘‘۔

    مولوی صاحب کو پاکستان آنے کے بعد چین نصیب نہیں ہوا۔ یہاں عجب افراتفری تھی ۔ جلد جلد حکومتیں بدل رہی تھیں ۔ سب کو اپنی اپنی لگی ہوئی تھی ، اُردو کو بھلا کون پوچھتا؟ اُردو کے خلاف ایک باقاعدہ تحریک چل رہی تھی کہ اُردو پاکستان کے کسی خطے کی زبان نہیں ہے۔ اس لیے یہاں کی قومی زبان اُردو نہیں ہونی چاہیے ۔ اس نازک وقت میں اگر اہل پنجاب یہ کہہ کر سامنے نہ آ جاتے کہ ہماری زبان اُردو ہے تو آج اُردو صرف مہاجروں کی زبان بن کر رہ جاتی ۔ ادھر قائداعظم نے اعلان کر دیا کہ ’’پاکستان کی قومی زبان اُردو اور صرف اُردو ہوگی‘‘ اس وقت تو مخالفین کا دف مر گیا مگر قائداعظم پاکستان بننے کے ایک سال بعد اللہ کو پیارے ہو گئے اور اُردو کا معاملہ پھر کھٹائی میں پڑ گیا۔ یہاں تک کہ محمدعلی بوگر اوز یر اعظم بن گئے اور انہوں نے اپنی خیر منانے کے لیے دو قومی زبانوں کی تجویز پیش کی اور تو کسی میں ہمت کیا تھی کہ حکومت سے ٹکر لے ۔مولوی صاحب ہی برہم ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔مولوی صاحب کی للکار پر لاکھوں فدائی ان کے گرد جمع ہو گئے اور جس دن اسمبلی کے اجلاس میں بوگرا کی تجویز پیش ہونے والی تھی ، مولوی صاحب اس ضعیفی اور کمزوری کے عالم میں انجمن کے دفتر سے پیدل روانہ ہوئے ۔ ان کے ساتھ لاکھوں کا مجمع تھا۔ اسمبلی پہنچے تو ہمارے حکام اور قانون ساز مولوی صاحب اور ان کے ساتھ اتنا بڑا مجمع دیکھ کرسٹ پٹا گئے ۔ پولیس کے دستے لاٹھیاں لیے کھڑے تھے، اشک آور گیس کا بھی انتظام تھا اور گولی چلانے والے دستوں کا بھی ۔ مجمع اس قدر مشتعل تھا کہ اگر پولیس ذرا بھی حرکت میں آتی تو غدر مچ جاتا اور یہ آگ کراچی سے پھیل کر سارے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ۔ بوگرا نے بڑی دانش مندی سے کام لیا کہ خود آ کر مولوی صاحب کو اپنے ساتھ اندر لے گئے اور مولوی صاحب سے وعدہ کیا کہ قومی زبان کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائے گا۔ مولوی صاحب کو نا چار وہاں سے لوٹنا پڑامگر وہ حکومت کے ہتھ کنڈوں سے خوب واقف تھے ، نامطمئن واپس آئے اور جب جذبات میں ہیجان نہ رہا تو اعلان کر دیا کہ پاکستان کی قومی زبانیں دو ہوں گی ۔ اُردو اور بنگالی ۔ اس کے بعد مولوی صاحب نے بہت کچھ سنا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتاہے۔

    مولوی صاحب نے جب انجمن کو جمالیا تو اسی عمارت کے ایک حصے میں اُردو کالج بھی کھول دیا۔ اس کا لج میں تمام مضامین اُردو میں پڑھائے  جانے لگے ۔مولوی صاحب نے اس کالج کو وزارت تعلیم سے تسلیم کر الیا اور یہ بات منظور کر لی گئی کہ امتحان کے پر چوں کے جوابات اُردو میں دیے جاسکتے ہیں ۔اس کالج کے نتائج نے ثابت کر دیا کہ اُردو کو اگر ذریعہ تعلیم بنایا جائے توانگریزی ذریعہ تعلیم سے بہتر نتائج نکل سکتے ہیں۔ کالج   کے کامیاب تجربے کے بعد مولوی صاحب کو اُردو یو نیو رسٹی قائم کرنے کی لگن لگ گئی تھی ۔ کراچی کا اگر ایک سرمایہ دار بھی ہمت کر جا تا تو یو نیورسٹی  بن جاتی مگر ہمارے سرمایہ دار بھی حکومت کا رُخ دیکھ کر چلتے ہیں۔حکومت اس تبدیلی کے خلاف تھی لہٰذا مولوی صاحب کی یہ آرزو پوری نہ ہوسکی ۔

    اسی اثنا میں یہ ہوا کہ مولوی صاحب کی صحت خراب رہنے لگی ۔ جب مولوی صاحب نے نئے انتظام کے تحت انجمن کے کارکنوں کے اختیارات میں تبدیلی کی تو بعض پرانے کارکن انجمن سے علیحدہ ہوگئے ۔ نئے کارکنوں نے مولوی صاحب کو تو خوش رکھا مگر اندر ہی اندر انجمن کومُو سنا شروع کر دیا۔ مولوی صاحب میں ایک بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ جب کسی پر اعتمادکر لیتے تھے تو پھر جا ہے ادھر کی دنیا اُدھر ہو جائے ، ان کا فیصلہ اٹل ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی طویل زندگی میں بار ہا اس نوع کے اعتماد سے نقصان اُٹھایا تھا مگران کی یہ کمزوری آخر وقت تک قائم رہی۔ جب انجمن کے انتظامی بورڈ نے دیکھا کہ انجمن گھکھ ہوتی جارہی ہے اور مولوی صاحب کُھکھ کرنے والوں کو مروت میں ، بے گناہ سمجھے جارہے ہیں تو انہوں نے باہمی مشورہ کر کے انجمن کواورانجمن کے کتب خانہ کو سیل کرا دیا۔ اس کارروائی سے مولوی صاحب کو سخت اذیت پہنچی اور انہوں نے ایک کتابچہ’’ انجمن کا المیہ“ شائع کیا۔ یا انجمن  کے عروج و زوال کی ایک درد ناک کہانی تھی جس میں مولوی صاحب نے انتظامی بورڈ کےممبروں کو ظالم اور اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کیا تھامگر حقیقت یہ ہے کہ اگر اس وقت انجمن کو سیل نہ کراد یا جا تا تو جو  کچھ بچ رہا تھا وہ بھی خالصے لگ جا تا ۔مولوی صاحب کے معتمد کو مولوی صاحب کے پاس آنے جانے سے روک دیا گیا تھا تو مولوی صاحب اس مظلوم کے گھر خود جانے لگے تھے! اعتماد ہو تو ایسا ہو۔

    یہ زمانہ مولوی صاحب کے لیے نہایت تکلیف دہ تھا۔ انہوں نے اپنے پرانےرفقائے کارکو ناراض کر کے چلتا کر دیا تھا اور نئے معتمد کے پیچھے اپنی ساکھ بھی گاڑلی تھی۔ ان کے ہمدردوں کو شبہ ہو گیا تھا کہ مولوی صاحب کا دماغی توازن جا تا رہا ہے اور ایک صاحب نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ مولوی صاحب کو ریٹائر ہو جانا چاہیے کیوں کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں مگر مولوی صاحب اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے تھے اورمستعفی نہیں ہوئے ۔ جب مارشل لاء نافذ ہوا اور صدر ایوب بر سراقتدار آئے تو مولوی صاحب نے ان سے اپیل کی ۔صدر ایوب نے تمام باتوں کو نظرانداز کر کے انجمن اور لائبریری کو مولوی صاحب کے حوالے کر دینے کا حکم دے دیا تھا اس سے سوکھے دھانوں میں پانی پڑ گیا اور مولوی صاحب کی زندگی میں دوبارہ روشنی آ گئی ۔

     مولوی صاحب انجمن کے اتنے شدید عاشق تھے کہ انہوں نے کسی اور کوانجمن کے معاملات میں دخل دینے نہیں دیا۔ انہیں شاید یہ اندیشہ رہتا تھا کہ کوئی اور انجمن پر قابض ہو کر انہیں بے دخل نہ کر دے ۔ وہ اگر چاہتے تو اپنے سامنے ہی انجمن اور اُردو کا کام کرنے والوں کی ایک بہت بڑی جماعت تیار کر جاتے جوان کے بعد دائرۃ المعارف اعظم گڑھ کی طرح بہت مفید علمی کام بھی کرتی رہتی اور شبلی کی طرح مولوی صاحب کے بھی بیسیوں نام لیوا اس وقت موجود ہوتے ۔ انجمن کی موجودگی ہی میں ترقی اُردو بورڈ کا قائم ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ انجمن ناکارہ ہوگئی ۔مولوی صاحب نے ۲۵ ۔ ۳۰ سال پہلے اُردو کی ایک بہت بڑی اور جامع لغت کا منصو بہ بنایا تھا اور حکومت حیدر آباد نے اس کام کے لیے کئی ہزار روپے سالانہ کی امداد بھی دینی شروع کر دی تھی ۔ اس لغت کا سارا کام مولوی صاحب نے مولوی احتشام الدین حقی دہلوی کو سونپ دیا تھا ۔ یہ صاحب اٹھارہ گھنٹے روزانہ لغت کا کام کرتے تھے ، اور اس محنت و جاں فشانی سے کہ پورا ترقی اُردو بورڈ مع اپنے وسیع وسائل کے نہیں کر رہا۔ حقی صاحب کو مولوی صاحب پانچ سوروپے ماہانہ دیتے تھے مگر حقی صاحب پیسے کے لیے کام نہیں کرتے تھے ، کام کے لیے کام کرتے تھے اور جب وہ کام میں منہمک ہوتے تھے تو انہیں دین دنیا کی خبر تک نہیں رہتی تھی ۔ان کی بیگم  بار بار دروازے کے قریب آکر کہتی تھیں’’ کھانا کھا لیجیے‘‘ اور حقی صاحب ’’اچھا ‘‘کہتے اور بھول جاتے ۔ یہ تماشہ  میں نے حیدرآباد میں بھی دیکھا اور دِلّی میں بھی ۔ دِلّی میں جب انجمن کی امداد کم ہوئی تو مولوی صاحب نے حقی صاحب کے پانچ سو کے بدلے ڈھائی سو روپے کر دیے گئے تھے مگر حقی صاحب کے کام کرنے کے انداز میں فرق نہ آیا۔ اب ان کا بڑھاپا بھی آگیا تھا اور صحت خراب رہنے لگی تھی مگر وہ دھن کے پکے تھے اور جب تک جاگتے رہتے تھے، کام کیے جاتے تھے اور جب انجمن کی امداد بند ہوگئی تو مولوی صاحب نے حقی صاحب سے کہہ دیا کہ کام بند کر دو تمہیں تنخواہ نہیں ملے گی مگرحقی صاحب عمربھر  کی اس عادت کو کیسے چھوڑ سکتے تھے؟ اور اب تو صرف آنکھوں کی سوئیاں رہ گئی تھی۔ لہٰذا بےتنخواہ ہی کام کرتے رہے۔ ادھر وہ اپنا کام ختم کررہے تھے اور ان کی زندگی ختم ہو رہی تھی ۔ لغت کے آخری حصے کی نظر ثانی کررہے تھے کہ اعصابی نظام نے جواب دے دیا۔ چند روز ہسپتال میں رہ کر اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ ان کے صاحب زادے شان الحق حقی  نے تمام مسودات مولوی صاحب کے حوالے کر دیے تھے۔ پھر خبر نہیں وہ مسودات کہاں گئے۔

    آں دفتر راگا ؤ خوردو گاؤ را قصاب برد

    مولوی صاحب بہت با قاعدہ عادتوں کے مالک تھے۔صبح کی چہل قدمی سے رات کی مشی  تک ان کا روزانہ ایک ہی سا پروگرام ہوتا تھا۔ راتوں کو جاگتے نہیں تھے۔ نیند پوری لیتے تھے اور صبح تازہ دم اُٹھتے تھے ۔ نوے سے اوپر ہو گئے تھے مگر صحت اچھی تھی۔ ہمارا اندازہ تھا کہ سو پار کر جائیں گے مگر ابھی سو میں پانچ چھ سال باقی تھے کہ بیمار رہنے لگے۔ مرض صحیح  تشخیص نہیں ہوتا تھا۔ خیال تھا کہ ہاضمہ کی شکایت ہوگی جو کراچی میں عام ہے مگر جب مرض بڑھتا گیا تو ہسپتال میں داخل ہو گئے ،افاقہ نہیں ہوا۔

    صدر ایوب کو مولوی صاحب کی علالت کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے پنڈی بلوا کر سب سے بڑے ہسپتال میں داخل کرادیا۔ وہاں مولوی صاحب کا مرض کینسر تشخیص ہوا۔لا علاج مرض کا علاج ہی کیا؟ جب زندگی سے مایوسی ہوگئی تو مولوی صاحب کو کراچی کے نیول ہسپتال میں بھیج دیا گیا۔ یہاں پہنچے تو مرض اتنا بڑھ چکا تھا کہ مولوی صاحب اکثر بے ہوش رہنے لگے۔ جب انہیں ہوش آتا تھا تو کچھ بولنا چاہتے تھے مگر نقاہت اتنی کہ سرگوشی سنائی نہیں دیتی تھی ۔ صرف دو لفظ کبھی کبھی قریب رہنے والوں نے سنے:’’ انجمن اور اُردو‘‘۔ ( ۱۹٦٤ ء)