نہالؔ سیوہاروی
نہالؔ سیوہاروی
ایک دن ایک صاحب ملنے آئے ۔ دبلے پتلے ، سانولا رنگ، عمر تیس سال ، ڈاڑھی مونچھ صاف، چہرے پر ناک ذرا ضرورت سے زیادہ نمایاں ، شیروانی اورعلی گڑھ فیشن کا پاجامہ۔ مسکراتے لجاتے آئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ نہال سیوہاروی ہیں ۔ ان کا کلام کبھی پہلے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا اور نہ کسی سے ان کا نام ہی سنا تھا۔ ’’ساقی‘‘ کے لیے اپنا کلام مجھے دیا۔ میں نے پڑھا، پھر انہیں غور سے دیکھا۔ بڑا جان دار شعر کہتے تھے۔ میں نے کہا: ” شائع ہو جائے گا ‘‘وہ مسکرا کر چلے گئے ۔ ساقی شائع ہوا تو پھر آئے پرچہ لیا اور کچھ کلام دے گئے ۔ پھر انہیں سائل صاحب کے ہاں دیکھا اور مشاعروں میں پڑھتے ہوئے بھی سنا۔ بہت برا پڑھتے تھے ۔ تحت اللفظ پڑھتے تھے مگر کچھ اس طرح ہونٹ چبا کر اور جھلا کر کہ دیکھ کر ہنسی آئے ۔ وفور جوش سے منہ سے تھوک بھی اڑنے لگتا تھا۔ پھر خدا جانے کس کے مشورے سے ترنم سے پڑھنے لگے اور بھی مٹی پلید ہوئی ۔ اس عرصے میں نہال سے خاصا تعلق خاطر ہو گیا تھا اور کھل کر ان سے باتیں ہوتی تھیں ۔ ترقی پسند تو اب پیدا ہوئے ہیں ، نہال ہمیشہ سے ترقی پسند تھا۔ اس کے اشعار میں جوانی کی ترنگ تھی۔ وہ جوش وخروش کا شاعر تھا۔ غزل بھی کہتا تو روایتی بے ہودگی اور نامردی سے پاک۔ نظم میں سوائے جوش ملیح آبادی کے اور کسی کا کلام اس کے آگے نہیں ٹھہرتا تھا۔ جوش صاحب جب دِلّی آ کر رہے اور انہوں نے کلیم جاری کیا تو دِلّی کے ادبی حلقے میں جان پڑ گئی ۔ جوش نہال کے بے حد مداح تھے جس دن نہال ان کے ہاں نہ جاتے ، جوش شام کونہال کے گھر پہنچ جاتے اور انہیں وہاں سے لاتے۔ کتب خانہ علم و ادب شہر کے منجھ میں ہونے کی وجہ سے ادیبوں اور شاعروں کا مرکز بن گیا تھا۔ شام کو سب اپنے اپنے کاموں سے فارغ ہو کر کتب خانے پرپہنچ جاتے ۔ مرزا فہیم بیگ چغتائی کے لطیفے ہوتے، نہال اور تابش کی غزلیں ہوتیں۔ ظفر قر یشی ،صادق الخیری، فضل حق قریشی ، اخلاق احمد ، صلاح الدین اور حبیب اشعرروز کے آنے والوں میں تھے۔ ان میں ادبی گفتگو ہوتی ،نوک جھونک ہوتی، کسی ایک کونقل محفل بنالیا جا تا۔ خوب ہنسی ہوتی، چائے پی جاتی، جی چاہا تو کچھ کھایا بھی جاتا اور دو گھنٹے بعد یہ اجتماع ختم ہو جا تا۔ نہال بڑا مرنجاں مرنج انسان تھا۔ مزاج میں کچھ حسن پرستی بھی تھی اس لیے اکثر نزلہ اسی غریب پر گرتا تھا مگر وہ اللہ کا بندہ ہنستا ہی رہتا۔ ایک دن اپنے سے بھی مٹھی بھر اونچا نوجوان ساتھ لیے ہوئے آئے۔ ہم سمجھے کہ کوئی دوست ہو گا۔ نہال کے ساتھ اس پر بھی دو چار فقرے ہوئے ۔ نہال بہت سٹ پٹائے اور خلافِ معمول جلدی چلے گئے ۔ اگلے دن آئے تو اخلاق احمد نے خبر لی۔ نہال نے بڑی عاجزی سے کہا: ’’میرا بڑالڑکا تھا، میں نے سوچاتم کچھ اور نہ کہہ بیٹھو، اس لیے جلدی چلا گیا‘‘۔
نہال بڑے صبر وضبط کا آدمی تھا۔ اس نے ساری عمر ریلوے کے دفتر میں کلرکی کی ۔ تنگی تُرشی میں عمر بسر کی مگر کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ زمانہ سازی اورمکھن بازی سے اسے نفرت تھی۔ وہ ایک بڑے مشاعرے میں محض اس لیے شریک نہیں ہوئے کہ اس کی صدارت ایک گورنر صاحب کررہے تھے۔ اس مشاعرے سے اسے سو پچاس روپےملنے والے تھے مگر وہ نہ مانا۔ شاہینی صفات کا آدمی تھا۔ افلاس کی وجہ سے ظاہر بینوں نے اسے حقیر جانا۔ وہ ایک خوددار شاعر تھا اور اپنا ڈھول آپ پیٹنے کافن اسے نہیں آتا تھا۔ اس نے زندگی کی سختیوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور زندگی نے اس سے یوں انتقام لیا کہ اسے ہمیشہ مفلس ہی رکھا۔ کماتا دھما تا کڑیل جوان مرا۔ اس کی کمر ٹوٹ گئی اور اس کا دل مر گیا مگر وہ زندگی سے لڑتا ہی رہا۔ اس کی روح لہولہان ہوگئی تھی مگر اس کی پیشانی پرکوئی شکن تک نہیں تھی۔ وہ اسی طرح مسکراتا رہتا تھا، ہنستا تھا اور قہقہے لگاتا تھا ۔ جس طرح اب سے بائیس سال پہلے اور ایک مہینہ ہوا ایک دم سے سنا کہ نہال مر گیا۔ مختصر سی علالت کے بعد اسے ہسپتال میں داخل کیا گیا مگر وہ جاں بر نہ ہوسکا اور زندگی نے آخر اسے قبل از وقت موت کی نیند سلا ہی دیا ۔ ( ۱)
(١) میر باقرعلی ، خواجہ ناصر نذيرفراق ،نواب سائل اور مرزا حیرت سے متعلق خاکوں کے کچھ اجز ۱۹۵٢۱ ء میں اور کچھ ۱۹۵۱ ء میں لکھے گئے ۔ اس مضمون کے باقی تمام خاکے ۱۹۵۸ ء میں قلم بند ہوئے۔